Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۴(کتاب الطہارۃ)
16 - 2323
وثانیا: بل فی(۲)الرابع التنصیص علی خلافہ حیث فرض الکلام فیمااذاجُھل القرب والبعد ثم جعلہ علی الرجاء بقولہ اما لوغلب علی ظنہ ذلک الخ والعجب(۳)انکم حولتم ھذا الذی ھو ابین مخالفۃ لذلک الحمل الٰی غلبۃ ظن القرب وسبحٰن اللّٰہ اذاغلب علٰی ظنہ القرب کیف یقال لم یعلم ان المسافۃ قریبۃ اوبعیدۃ فان الظن الغالب علم۔
ثانیا: بلکہ چوتھے محمل میں تو اس کے برخلاف تصریح موجود ہے اس طرح کہ اس میں کلام اس صورت میں فرض کیا گیا ہے جب قُرب وبُعد کچھ معلوم نہ ہو پھر اس کو امید پر اپنی اس عبارت سے منطبق کیا ہے ''امالوغلب علی ظنہ ذلک الخ'' (لیکن اگر اس کو اِس کا غلبہ ظن ہو الخ) حیرت ہےکہ یہ جو اس حمل کے مخالف ہونے پر سب سے زیادہ روشن وواضح ہے اُسے آپ نے قُرب کے غلبہ ظن کی جانب پھیر  دیا۔ سبحان اللہ! جب اسے قرب کا غلبہ ظن ہوگا تو یہ کیسے کہا جائےگا کہ اسے علم نہیں کہ مسافت قریب ہے یا بعید۔ ظن غالب تو علم ہے۔ (ت)
فان قیل بل العلم ھنا بمعنی الیقین فَرَضَ نفیہ واَثبت الظن لتکون خلافیۃ بین النادرۃ المعتبرۃ ایاہ والظاھرۃ الملغیۃ لہ الشارطۃ للیقین القطعی فالحاصل انہ اذالم یتیقن القرب والبعد لکن غلب علی ظنہ القرب کان کیقین القرب علی النادرۃ وفرقت الظاھرۃ فجوزت التیمم فی ظن القرب ومنعتہ عند الیقین۔
اگر یہ کہا جائے کہ نہیں یہاں علم بمعنی یقین ہے۔ یقین کی نفی فرض کی ہے اور ظن کا اثبات تاکہ یہ اختلافی مسئلہ ہوسکے روایت نادرہ کے درمیان جو ظن کا اعتبار کرتی ہے اور روایت ظاہرہ کے درمیان جو ظن کو بیکار قرار دیتی ہے اور یقین قطعی کی شرط لگاتی ہے تو حاصل یہ ہُوا کہ جب قُرب وبُعد کا یقین نہ ہو لیکن قُرب کا غالب گمان ہو تو یہ روایت نادرہ پر یقین قُرب ہی کی طرح ہوگا اور روایتِ ظاہرہ نے دونوں میں فرق رکھا ہے کہ قرب کے ظن کی صورت میں تیمم کو جائز قرار دیا اور یقین کی صورت میں ممنوع رکھا۔ (ت)
اقول: ففیم یقول بقی(عـہ)وجہ اٰخر فان ھذا ھوالمحمل الاول الذی جعل فیہ الیقین وفاقیا والظن خلافیا۔
اقول: (میں کہوں گا) پھر کس کے بارے میں وہ فرمارہے ہیں ''بقی وجہ اٰخر'' (ایک صورت رہ گئی۔ یہی تو وہ پہلا محمل ہے جس میں یقین کو اتفاقی اور ظن کو اختلافی قرار دیا ہے۔ (ت)
 (عـہ) فان قلت فکیف تفرق انت بین المحامل اقول الاولان علی فرض بعد المسافۃ کمااشار الیہ فی الاول والفرق بینھما بجعل الیقین وفاقیااوخلافیاوالثالث بفرض قربھا والرابع بفرض انہ لایعلم قربا ولابعدا ۱۲ منہ غفرلہ (م)
اگر یہ سوال ہُوا کہ پھر ان محملوں میں کیسے فرض کیا جائےگا اقول پہلے دونوں محمل بُعد مسافت کے مفروضہ پر ہیں جیسا کہ محمل اول میں اس طرف اشارہ کیا ہے۔ اور ان دونوں میں یقین کو اتفاقی اور اختلافی رکھنے سے فرق ہوگا۔ تیسرا محمل قرب مسافت کے مفروضہ پر ہے او ر چوتھا محمل یہ فرض کرکے ہے کہ وہ نہ قریب ہونا جانتا ہے نہ دُور ہونا ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
وثالثا:(۱) بل قدنص فی الاول ایضا علی خلافہ اذقال یقتضی ان یجب التاخیرعند التحقق فی اٰخرالوقت مع بعدالمسافۃ فی الروایات الظاھرۃ الخ فافصح ان الکلام عند بعد المسافۃ فکیف یکون مبنی الرجاء قربھا وان تنزلنایکن الکلام مطلقایشمل القرب والبعد والالم یکن لقولہ مع بعدالمسافۃ مساغ وعلی الکل یبطل ان المرادخصوص الرجاء لاجل القرب۔
ثالثا: بلکہ محمل اول میں بھی اس کے برخلاف تصریح موجود ہے کہ وہ فرماتے ہیں: ''یہ اس کا مقتضی ہے کہ ظاہر روایات پر بُعدِ مسافت کے باوجود آخر وقت میں یقین کی صورت میں تاخیر  واجب ہو''۔ اس میں صاف بتادیا کہ بُعدِ مسافت کی صورت میں کلام ہے پھر قرب مسافت امید کا مبنی کیسے ہوگا؟ اگر ہم تنزّل اختیار کریں تو کلام مطلق ہوکر قُرب وبُعد دونوں کو شامل ہوگا ورنہ ان کے الفاظ ''مع بعد المسافۃ'' (بُعدِ مسافت کے باوجود) کی کوئی گنجائش نہ نکل سکے گی بہرصورت یہ باطل ہے کہ خاص وہی امید مراد ہے جو قربِ مسافت کے باعث ہو۔ (ت)
ورابعا: بل(۲)الثانی ایضاشاھد علی بطلانہ فانہ قدّرفیہ ان النادرۃ ھی التی تمنع التیمم فی الظن والیقین والظاھرۃ تخالفھافیھمالوکان ھذا لاجل قرب المسافۃ کان المعنی ان الروایۃ الظاھرۃ تجیزالتیمم وانکان الماء قریبا بالیقین وھذا لایتفوہ بہ عاقل فکیف یجوزلھذا الامام الجلیل الذی قدقلتم انہ من المحققین الکبار ان یدخلہ فی المحامل۔
رابعا :بلکہ محمل دوم بھی اس کے بطلان پر شاہد ہے۔اس لئے کہ اس میں انہوں نے یہ فرض کیا ہے کہ روایتِ نادرہ ہی ظن ویقین دونوں میں مانع تیمم ہے اور روایتِ ظاہر دونوں میں اس کے برخلاف ہے اگر یہ قُرب مسافت کی وجہ سے ہوتا تو معنی یہ ہوتا کہ روایت ظاھرہ تیمم کو جائز قرار دیتی ہے اگرچہ پانی یقیناً قریب ہو۔ یہ تو کوئی ہوشمند نہیں بول سکتا پھر امام جلیل کیلئے یہ کیسے ممکن ہوگا جن کے بارے میں آپ فرماچکے کہ وہ کبارِ محققین میں سے ہیں یہ کیسے ممکن ہوگا کہ اسے محملوں میں داخل فرمائیں۔ (ت)
وخامسا:یا(۳)للعجب لم یقنع بجعلہ محملا بل ردہ بان ذلک یقتضی ان جواز التیمم یزول عند التیقن ولیس کذلک فقد ادعی ان التیمم جائز مع تیقن القرب وھل ثم شیئ افسد منہ۔
خامسا: یا للعجب!اسے محمل بتانے ہی پر قناعت نہ کی بلکہ اس کی تردید اس طرح فرمائی کہ اس کا اقتضا یہ ہے کہ یقین کی صورت میں جوازِ تیمم ختم ہوجائے حالانکہ ایسا نہیں یہ کہہ کر انہوں نے یہ دعوٰی کردیا کہ یقین قُرب کے باوجود تیمم جائز ہے۔ کیا وہاں کوئی چیز فساد میں اس سے بالاتر بھی ہے؟
وسادسا: یحیلہ(۱)علی مابین وانما بین الجواز عند البعد فکانت الاحالۃ÷ باطلۃ محالۃ÷
سادسا: اس پر حوالہ یہ دے رہے ہیں کہ جیسا کہ بیان ہُوا اور بیان یہ کیا ہے کہ دُوری کی صورت میں جواز ہے تو حوالہ باطل ومحال ہوا۔
وسابعا: بل(۲)فی الثالث ایضااشعارالی خلافہ فانہ جعل موضوع المسألۃ مااذا کان الفصل اقل من میل لااذاظنہ اقل من میل والموضوع ماخوذ مفروض مفروغ عنہ فکیف یختلف فیہ بظن ویقین ویجعل عدمہ محتملا علی احدالوجھین وقدقال لا(۳)فرق فی ظاھر الروایۃ بین الظن والیقین اذاکانت المسافۃ اقل من میل فلوکان المعنی علی ظن القرب اٰل الی انہ لافرق بین الظن والیقین عند الظن وبالجملۃ جمیع محاملہ وکل کلامہ یرد ھذا المعنی الذی ذھب الیہ وھل العلامۃ۔
سابعا: بلکہ محمل سوم میں بھی اس کے خلاف کی نشان دہی موجود ہے اس لئے کہ انہوں نے مسئلہ کا موضوع اس صورت کو بنایا،جب فاصلہ ایک میل سے کم ہو اس صورت کو نہیں جب اس کا گمان ایک میل سے کم کا ہو اور موضوع پُوری گفتگو میں ماخوذ مفروض ہوتا ہے اس پر بحث سے فراغ رہتا ہے پھر اس میں ظن ویقین کا اختلاف کیسے کریں گے اور ایک صورت میں اس کے عدم کو محتمل کیسے بنائیں گے؟۔ جب کہ یہ فرماچکے ہیں کہ مسافت ایک میل سے کم ہونے کی صورت میں ظاہر الروایہ میں ظن ویقین کے درمیان کوئی فرق نہیں تو اگر ظن قرب کی بنیاد پر معنی لیا جائے تو مآل یہ ہوگا کہ ظن کی صورت میں ظن ویقین کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ مختصر یہ کہ امام موصوف کے سبھی محمل اور ان کا پُورا کلام اس معنی کی تردید کررہا ہے جس کی طرف علامہ کا خیال گیا۔ (ت)
واما الثانی اعنی زعم المخلص منہ علی ماابدی۔
خیال دوم پیش کردہ صورتوں کے ذریعہ اشکال سے چھٹکارا۔
فاقول: لا ولا(۴)نصف مخلص فان الحاصل علی ھذا ان النادرۃ توجب التیمم عند ظن وجدان الماء فی اٰخر الوقت لاھد من الاسباب المذکورۃ المغایرۃ لقرب الماء والظاھرۃ تقول لاعبرۃ بغلبۃ الظن بوجد انہ بھاانما العبرۃ للیقین بہ وھو مورد کلا الایرادین کماکان فانھم نصوا ان ظن القرب یمنع التیمم فقد اعتبروا الظن ثمہ فکیف الغوہ ھنا ونصوا(۱)ان عندبعدالماء میلا یجوزلہ التیمم من دون تفصیل مع القطع بانہ ربما یتیقن ببلوغہ الماء فی اٰخرالوقت فلم یعتبروا الیقین ثمہ فکیف اعتبروہ ھنا فثبت ان سعیہ رحمہ اللّٰہ تعالٰی ھذالم یرجع الٰی طائل÷ وتعجبہ من اولئک الجلۃ الٰی نفسہ الکریمۃ اٰئل÷
فاقول:(اس پر میں کہتاہوں)نہیں آدھاچھٹکارابھی نہیں ہوتا۔اس لیے کہ اس طورپرحاصل یہ ہواکہ روایت نادرہ قرب آب کے علاوہ مذکورہ اسباب میں سے کسی ایک کی وجہ سے آخر وقت میں پانی ملنے کا گمان ہونے کی صورت میں تیمم واجب کرتی ہے اور روایت ظاہرہ یہ بتاتی ہے کہ ان اسباب کی وجہ سے پانی ملنے کے غلبہ ظن کاکوئی اعتبار نہیں۔اعتبار تو صرف اس یقین کا ہے کہ پانی مل جائےگا اس حاصل پر دونوں اعتراض جیسے پہلے وارد ہورہے تھے اب بھی وارد ہیں  (۱) اس لئے کہ ان حضرات نے نص فرمایا ہے کہ قرب آب کا ظن مانع تیمم ہے تو انہوں نے وہاں ظن کا اعتبار کیا پھر یہاں اسے کیسے بیکار قرار دیا؟ اور ان حضرات نے تصریح فرمائی ہے کہ پانی ایک میل دُور ہو تو تیمم جائز ہے۔ اس میں کوئی تفریق وتفصیل نہ فرمائی۔ باوجودیکہ یہ قطعی امر ہے کہ بعض اوقات اسے یقین ہوگا کہ وہ آخر وقت میں پانی تک پہنچ جائے گا۔ تو وہاں ان حضرات نے یقین کا اعتبار نہ کیا پھر یہاں کیسے اعتبار کرلیا۔ تو ثابت ہوا کہ علامہ رحمہ اللہ تعالٰی کی یہ کاوش کچھ سُود مند نہ ہوسکی اور ان بزرگوں پر انہوں نے جس تعجب کا اظہار فرمایا وہ خود ان کی ذاتِ گرامی پر عائد ہوتا ہے۔ (ت)
Flag Counter