Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۴(کتاب الطہارۃ)
15 - 2323
والرابع: ان النادرۃ فیما اذاجہل الفصل وتقریرہ دلیلھا ان للتیمم مبیحا ومانعا اماالمبیح فالعلم ببعد المسافۃ واما المانع فالعلم بانہ یجد الماء فی اٰخر الوقت والمبیح ھھنا غیر  معلوم بالفرض والمانع لوکان متیقنا لم یجز لہ التیمم قطعا للامن من الفوات وھھنا ھو مظنون والمظنون کالمتیقن فلایجوز ایضا وجب التاخیر  وحاصل جواب الظاھر ان للتیمم مصححا ومانعا فالمصحح العجز عن الماء وھو حاصل قطعا لان الماء معدوم حقیقۃ والمانع العلم بوجدانہ فی اٰخر الوقت وھو غیر  متیقن وان کان مظنونا فلایعارض المتتیقن وردہ بان فیہ تمحلا لتقیید اطلاق الروایات بقید لا اشارت الیہ فی کلام احد من الفریقین وھو الجھل بحال المسافۃ قربا وبعدا ولانہ بعید الانفہام من العبارۃ وبانہ یلزم ان ظاھر الروایۃ فرقت ھھنا بین الظن والیقین مع انھا سوت بینھما فی مسألتی القرب والبعد فلایجوز مع ظن القرب ویجوز مع ظن البعد کالعلم فی الفصلین فبقی الاشکال علی کل حال ھذا توضیح کلامہ رحمہ اللّٰہ تعالٰی وقد علمت ان الکلام رحمہ اللّٰہ تعالٰی وقد علمت ان الکلام علی کل وجہ انمایتوجہ الٰی تعلیل ظاھر الروایۃ ففیہ الاشکال یتوجہ الٰی تعلیل ظاھر الروایۃ ففیہ الاشکال کماسلکہ الامام الکمال÷
محمل چہارم: روایت نادرہ اس صورت سے متعلق ہے جب اسے فاصلہ معلوم نہ ہو۔ اس کی دلیل کی تقریر  یہ ہے کہ تیمم کو ایک چیز مباح کرنے والی ہے اور ایک چیز ممنوع کرنے والی ہے۔ مبیح یہ ہے کہ بُعد مسافت کا علم ہو۔ مانع یہ ہے کہ اس بات کا علم ہو کہ آخر وقت میں پانی مل جائےگا اور فرض کیا گیا ہے کہ مبیح (یعنی بعد مسافت) یہاں نامعلوم ہے۔ اور مانع اگر متیقن ہو تو قطعاً اس کیلئے تیمم جائز نہ ہوگا اس لئے کہ فوت نماز کا اندیشہ نہیں اور یہاں مانع متیقن نہیں مظنون ہے۔ مظنون بھی متیقن ہی کی طرح ہے تو بھی تیمم کا جواز نہیں اور نماز مؤخر کرنا واجب ہے۔ اور ظاہر الروایۃ کے جواب کا حاصل یہ ہے کہ ایک چیز تیمم کو صحیح قرار دینے والی ہے اور ایک چیز تیمم کو ممنوع کرنے والی ہے ۔ مصحح یہ ہے کہ پانی سے عاجز ہو۔ اور یہ قطعاً حاصل ہے اس لئے کہ پانی حقیقۃً معدوم ہے۔ اور مانع یہ ہے کہ آخر وقت میں پانی ملنے کا علم ہو اور یہ یقینی نہیں اگرچہ مظنون ہے تو یہ متیقن کے معارض نہ ہوگا۔ اس پر رَد یہ ہے کہ اس میں تلف ہے اس لئے کہ اس میں اطلاق روایات کی ایسی قید سے تقیید ہے جسکا  فریقین میں سے کسی کے کلام میں کوئی اشارہ بھی نہیں۔ اور وہ یہ قید ہے کہ مسافت کے قرب وبُعد کی حالت کا پتا نہ ہو۔ اور اس لئے بھی کہ عبارت سے یہ سمجھ میں آنا بہت بعید ہے۔ اس پر دوسرا رَد یہ بھی ہے کہ یہ اعتراض لازم آئےگا کہ ظاہر الروایہ نے یہاں تو ظن ویقین کے درمیان فرق رکھا باوجودیکہ ان دونوں کے درمیان قرب و بُعد کے مسئلوں میں برادری رکھی کہ قُرب کا ظن ہو تو جائز نہیں اور بعد کا ظن ہو تو جائز ہے ویسے ہی جیسے کہ دونوں صورتوں میں علم ویقین کا حکم ہے۔ تو اشکال بہرحال باقی رہا۔ یہ شیخ عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالیٰ کے کلام کی توضیح ہے۔ اور یہ معلوم ہوچکا کہ ہر وجہ پر کلام ظاہر الروایہ کی تعلیل کی جانب ہی متوجہ ہے کیونکہ اشکال اسی میں ہے۔ جیسا کہ اسی راہ پر امام کمال الدین ابن الہام چلے ہیں۔
وذکرالامام العینی فی البنایۃ کلام العنایۃ ھذا برمتہ (عــہ)غیرانہ غیر  قول الامام البخاری اما لوغلب علی ظنہ ذلک فکذٰلک عندھما بقولہ اما لوغلب علی ظنہ عدم بعد المسافۃ فذلک عندھما ۱؎ اھ فجعل المشار الیہ قرب المسافۃ۔
 امام عینی نے بنایہ میں عنایہ کا یہ کلام مکمل ذکر کیا۔ صرف یہ فرق ہے کہ امام عبدالعزیز بخاری کی عبارت ''امالوغلب علی ظنہ ذلک فکذلک عندھما (اگر اسے اس پر غلبہ ظن ہو تو بھی شیخین کے نزدیک یہی حکم ہے) کو بدل کر یہ لکھ دیا ''اما لوغلب علی ظنہ عدم بعد المسافۃ فذلک عندھما'' (اگر اسے مسافت بعید نہ ہونے کا غلبہ ظن ہو تو بھی شیخین کے یہاں یہی حکم ہے۔ ت) اس تبدیلی سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے امام بخاری کی عبارت میں لفظ ''ذلک کا اشارہ ''قرب مسافت'' کی جانب سمجھا۔ (ت)
 (عــہ)وجعلہ ملخصہ مع انہ لم یخرم منہ شیاا وکأنہ رحمہ اللّٰہ تعالی اراد تلخیصہ ثم بدالہ الاستیفاء ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)

اور انہوں نے اسے اس کا ملخص قرار دیا باوجودیکہ اس میں سے کچھ بھی کم نہ کیا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امام عینی رحمہ اللہ تعالیٰ کا پہلے تلخیص کا ارادہ تھا پھر یہ خیال ہوا کہ پورا کلام ہی بیان کردیں۔ (ت)
 (۱؎ البنایہ المعروف عینی شرح ہدایہ    باب التیمم    المکتبۃ الامدادیۃ مکۃ المکرمہ    ۱/۳۲۷)
اقول:  وھو(۱) باطل قطعا فان عندظن القرب یجب التاخیر  اجماعا طفحت بذلک کتب المذھب لانھا روایۃ نادرۃ والمذھب خلافھا بل الاشارۃ الٰی وجود الماء فی اٰخر الوقت انہ ان غلب ھذا علی ظنہ فکذلک عندھما کمالایخفی وقد(۲) اوضحہ بقولہ فی جواب الظاھر لایزول الابیقین مثلہ وھو التیقن بوجود الماء فی اٰخر الوقت ۱؎ اھ
اقول:  جبکہ یہ خیال قطعا باطل ہے اس لئے کہ اگر قُرب مسافت کا گمان ہو تو بالاجماع نماز مؤخر کرنا واجب ہے اس بیان سے کتبِ مذہب بھری ہُوئی ہیں ایسا نہیں کہ یہ کوئی نادر روایت ہے اور اصل مذہب اس کے برخلاف ہے۔ صحیح یہ ہے کہ ''ذٰلک'' کا اشارہ وجود الماء فی اٰخر الوقت (آخر وقت میں پانی کی دستیابی) کی طرف ہے کہ اگر اسے اس کا غلبہ ظن ہو تو بھی شیخین کے نزدیک یہی حکم ہے یہ کچھ پوشیدہ نہیں۔ اور اسے انہوں نے جواب ظاہر الروایہ کے تحت اپنی اس عبارت میں واضح بھی کردیا ہے کہ ''ویسے ہی یقین کے بغیر  زائل نہ ہوگا اور آخر وقت میں پانی کی دستیابی کا یقین ہے'' ۔
 ( ۱؎ عینی شرح الہدایہ    باب التیمم    المکتبۃ الامدادیۃ مکۃ المکرمہ    ۱/۳۲۷)
فھذا ھو الذی شرط الظاھر تیقنہ علی مایقتضیہ تعلیل الھدایۃ واکتفت النادرۃ بغلبتہ علی الظن فکان ھو المشار الیہ بقولہ ان غلب علی ظنہ ذلک فاعلم ذلک ثم قال اعنی الامام العینی وقد ذکر ھذا کلہ صاحب الدرایۃ ایضا ناقلا عن شیخہ والعجب من الشیخ (یرید الامام البخاری) حیث لم یذکر وجہ التخلص منہ مع کونہ من المحققین الکبار وکذا صاحب الدرایۃ والاکمل ذکرا ھذا وسکتا علیہ فنقول وباللّٰہ التوفیق نذکر وجہً ینحل منہ ھذا الاشکال وھو انہ یعتبررجاء الماء وعدم رجائہ باسباب اُخر غیر  بعد المسافۃ اوقربھا وھو(۱) ان یکون فی السماء غیم رطب وغلب علی ظنہ انہ یمطر ویقدر علی الماء فی اٰخر الوقت فانہ یستحب لہ التأخیر  فی ظاھر الروایۃ ویجب علیہ فی غیر  روایۃ الاصول کمالوتحقق بوجود الماء او(۲) یکون الماء بعیدا لکن ارسل من یستقی لہ وغلب علی ظنہ حضور من ارسلہ فی اٰخر الوقت بامارات ظھرت لہ او(۳) کان الماء فی بئر ولم تکن لہ اٰلۃ الاستقاء لکن غلب علی ظنہ وجدانہ فی اٰخر الوقت او(۴) کان الماء بقرب منہ ولم یعلم مکانہ وجود ثمن یشتری بہ الماء ۱؎۔
یہی وہ بات ہے جس کا یقین ہونے کی شرط ظاہر الروایہ میں تعلیل ہدایہ کے اقتضا کے مطابق پائی گئی اور روایت نادرہ میں صرف غلبہ ظن پر اکتفا ہُوئی تو ان کی عبارت ''ان غلب علی ظنہ ذلک'' (اگر اسے ''اس کا'' غلبہ ظن ہو) میں اشارہ اسی کی طرف ہوا۔ یہ معلوم رہنا چاہے۔ پھر امام عینی لکھتے ہیں: ''یہ سب صاحبِ درایہ نے بھی اپنے شیخ سے نقل کرتے ہوئے بیان کیا ہے۔ اور شیخ یعنی امام بخاری پر تعجب ہے کہ انہوں نے اس اشکال سے چھٹکارے کی صورت بیان نہ کی، حالانکہ وہ کبار محققین میں شامل ہیں۔ اس طرح صاحبِ درایہ اور اکمل الدین نے بھی اسے ذکر کیا اور اس پر سکوت ہی اختیار کیا۔ تو اب ہم کہتے ہیں او رخدا ہی سے توفیق ہے ہم ایسی صورت بیان کرتے ہیں جس سے یہ اشکال حل ہوجائے۔ وہ یہ کہ پانی کی امید اور عدمِ اُمید مسافت کے قُرب وبُعد کے علاہ کچھ اور اسباب سے بھی ہوتی ہے۔ مثلاً: (۱) یہ کہ آسمان میں ابرِ تر ہو اور اسے غالب گمان ہو کہ بارش ہوگی اور آخر وقت میں وہ پانی پر قادر ہوجائےگا۔ تو اس کے لئے ظاہر الروایہ میں نماز مؤخر کرنا مستحب ہے اور غیر  روایتِ اصول میں واجب ہے جیسے پانی ملنے کے یقین کی صورت میں واجب ہے۔ (۲) پانی دُور ہو لیکن کسی ایسے شخص کو بھیجا ہے جو اس کیلئے پانی بھر لائے اور اسے غالب گمان ہے کہ جسے بھیجا ہے وہ آخر وقت میں حاضر ہوجائےگا۔ اس کی کچھ ایسی علامات ہیں جو اس پر ظاہر ہیں۔ (۳) پانی کنویں کے اندر ہے۔ اس کے پاس نکالنے کا سامان نہیں لیکن غالب گمان ہے کہ آخر وقت میں مل جائے گا۔ (۴) پانی قریب ہی ہے مگر اسے اس کی جگہ معلوم نہیں ایسے ثمن کا وجود جس سے پانی خریدے۔ (ت)
 (۱ ؎ عینی شرح الہدایہ    باب التیمم    المکتبۃ الامدادیۃ مکۃ المکرمہ    ۱/۳۲۸)
 (اقول:  ھکذا فی نسخۃ الطبع السقیمۃ وفیہ سقط وکان العبارۃ ھکذاولم یعلم مکانہ لایستطیع طلبہ فی کل جھۃ لما بہ من ضعف ولوعلم مکانہ لامکنہ الذھاب الی جھۃ معینۃ وقدذھب الی جھۃ مثلا فلم یجدہ فرجع وھو حسیر  وغلب علی ظنہ انہ یلحقہ فی اٰخر الوقت من یخبرہ اویاتیہ بہ اوکان الماء یباع ولاثمن عندہ ولاغلب علی ظنہ وجود ثمن یشتری بہ الماء فی اٰخر الوقت اونحو ذلک ممایؤدی ھذا المعنی فلتراجع نسخۃ اٰخری قال)اوعندہ مایعدللعطش وغلب علی ظنہ وجود ماء اٰخرغیرمشغول بالحاجۃ الاصلیۃ او کان الماء عند اللصوص اوالسباع اومن یخاف منہ علی نفسہ اومالہ وغلب علی ظنہ زوال المانع اٰخر الوقت وقس علی ھذا اسبابا اُخر ۱؎۔
 (اقول : طباعت کے سقیم نسخہ میں اسی طرح ہے۔ اس میں کچھ چھُوٹ گیا ہے۔ خیال ہے کہ عبارت اس طرح ہوگی ''اور اسے اس کی جگہ معلوم نہیں۔ اور چونکہ اسے ضعف لاحق ہے اس لئے ہر طرف تلاش نہیں کرسکتا۔ اگر اسے پانی کی جگہ معلوم ہوتی تو ایک معین سمت جاسکتا تھا ایک طرف (مثلاً) گیا بھی مگر اسے ملا نہیں،تھک کر لَوٹ آیا اور اسے غالب گمان ہے کہ آخر وقت میں ایسا شخص آجائے گا جو پانی کی جگہ بتادے یا پانی لے آئے۔ یا پانی فروخت ہورہا ہے اور اس کے پاس دام نہیں اور غالب گمان ہے کہ آخر وقت میں ثمن مل جائے گا جس سے پانی خریدے گا'' یا ایسی ہی کچھ اور عبارت جس سے یہ معنی ادا ہوسکے تو کسی دوسرے نسخہ کی مراجعت کرنی چاہے آگے فرماتے ہیں)اس کے پاس پیاس دُور کرنے کیلئے پانی رکھا ہُوا ہے اور غالب گمان ہے کہ آخر وقت میں دوسرا پانی مل جائے گا جو حاجتِ اصلیہ سے زائد ہوگا پانی ایسی جگہ ہے جہاں چور یا درندے ہیں یا ایسا آدمی ہے جس سے اس کو اپنی جان یا مال کے لئے خطرہ ہے اور غالب گمان ہے کہ آخر وقت میں مانع دُور ہوجائے گا۔ اسی پر دُوسرے اسباب کا قیاس کرلو۔ (ت)
 (۱؎عینی شرح الھدایہ     باب التیمم     المکتبۃ الامدادیہ مکۃ المکرمۃ        ۱/۳۲۸)
 (اقول: کأن تکون ظلمۃ یرجو زوالھااووجود فانوس اوھومریض اواشل اومقعداوشیخ کبیر  الی غیرذلک من عوارض یحتاج بھاالٰی من یوضئہ اویستقی لہ وذھب ولدہ اوخادمہ لحاجۃ ویرجوعودہ واٰخر الوقت او تعاودہ حمی نافضۃ ساعۃ اوساعتین لایستطیع معھا الوضوءاوالغسل اوالاستقاء ورجاذھا بھا فی اواخر الوقت اوالماء لغیرہ وھو غائب فی حاجۃ لہ ویظن عطاء ہ وعودہ فی اٰخر الوقت او لایجد الجنب او المحدثۃ سترا عن حضار سیغیبون اولایستطیع الذھاب للاستقاء لاجل مال اوولد ویرجو حضور حافظ اوالماء فی المسجد ویرجو الجنب ان وجد فی اٰخر الوقت من یاتیہ بہ فھی سبعۃ مع سبعۃ ویؤید الکل ماھومنصوص صریحامن امام المذھب ان من وعدبدلواورشاء لایجب علیہ الانتظار وقدمر فی نمرۃ۹۰ قال العینی)والمصنف رحمہ اللّٰہ تعالٰی لم یقیدالرجاء وعدمہ ببعد المسافۃ وقربھابل اطلق فوجب حملہ علی وجہ لایرد علیہ الاشکال ولیس فی کلامہ اشعاربماقید الشیخ حتی یرد علیہ من الاشکال مالامخلص لہ ۱؎ اھ۔
 (اقول:  مثلاً یہ کہ تاریکی ہو جس کے چھٹ جانے یاکوئی فانوس مل جانے کی امید ہو بیمار ہے یا ہاتھ شل ہے یا لنجھا ہے یا سِن رسیدہ بوڑھا ہے۔ ایسے ہی اور عوارض جن کی وجہ سے اس کو ایسے شخص کی ضرورت ہے جو وضو کرادے یا اس کیلئے پانی نکال دے اور اس کا فرزند یاخدمت گار کسی کام سے گیا ہُوا ہے۔ آخر وقت میں اس کی واپسی کی امید ہے۔ باری سے گھنٹہ دو گھنٹہ جاڑاآتا ہے جس کے ہوتے ہُوئے وضو یا غسل نہیں کرسکتا۔امید ہے کہ اواخر وقت میں جاتا رہے گا پانی دُوسرے کا ہے وہ اپنے کسی کام سے غائب ہے۔ گمان ہے کہ آخر وقت میں واپس آجائے گا اور پانی دے دے گا جنب کو یا بے وضو عورت کو حاضرین سے آڑ نہیں مل رہی ہے اور آخر وقت میں یہ لوگ چلے جائیں گے مال یا اولاد کی وجہ سے پانی لانے کیلئے جا نہیں سکتا اور امید ہے کہ آخر وقت میں کوئی نگہبان آجائے گا پانی مسجد کے اندر ہے اور جنب کو امید ہے کہ آخر وقت میں کوئی لانے والا مل جائے گا اُن سات کے ساتھ یہ مزید سات۷ صورتیں ہیں سبھی کی تائید اس مسئلہ سے ہورہی ہے جو امام مذہب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے صراحۃً منصوص ہے کہ ''جس سے ڈول یا رسّی کا وعدہ ہُوا اس پر انتظار واجب نہیں۔ یہ مسئلہ نمبر۹۰ میں گزر چکا۔ آگے علامہ عینی فرماتے ہیں:) ''مصنف رحمہ اللہ تعالیٰ نے امید وعدمِ امید کو مسافت کے قُرب وبعد سے مقید نہ کیا بلکہ مطلق رکھا تو اسے ایسی صورت پر محمول کرنا واجب ہے جس پر اشکال نہ وارد ہو۔شیخ عبدالعزیز نے جو قید لگائی اس کی مصنف کے کلام میں کوئی نشان دہی تو ہے نہیں کہ ان پر وہ اشکال وارد ہو جس سے کوئی راہ خلاص نہ ہو اھ'' (ت)
 (۱؎ عینی شرح الہدایہ    باب التیمم    ملک سنزفیصل آباد    ۱/۳۲۸)
اقول:  رحم اللّٰہ الامام البدر÷ورحمنا بہ فی کل ورد وصدر÷ قد انتفعنابماافاد من الفروع فیما قدمنا ان لانظر الا الی الحالۃ الراھنۃ وکفٰی بہ شبھۃ علی مسألۃ الوعد اما(۱)ما رام من حل الاشکال فھیھات بیان ذلک انہ حیث تکررذکرالمسافۃ فی کلام الامام البخاری ذھب وھل العلامۃ الی انہ جعل موضوع الخلافیۃ بین الظاھرۃ والنادرۃ مااذا کان الرجاء لاجل قرب المسافۃ ولذاوضع مکان اسم الاشارۃ فی کلامہ عدم بعد المسافۃ واذ قد علم ان علی ھذا التقدیر÷ لامخلص من اشکال الام النحریر÷ کماصرح بہ اٰخر التحریر÷ عطف العنان الی ابداء صوریکون فیھاالرجاء لالاجل قرب الماء وظن انھا تخلص عن جالاشکال ولاصحۃ لشیئ من ذٰلک
اقول:  خدا امام بدر الدین عینی پر رحمت فرمائے اور ان کی برکت سے ہم پر بھی ہر حاضری وواپسی میں رحمت فرمائے۔انہوں نے سابقاً جن جزئیات کا افادہ فرمایا اس سے ہمیں یہ فائدہ ملا کہ صرف حالت موجودہ پر نظر کی جائے گی۔ مسئلہ وعد پر شبہہ کیلئے یہی کافی ہے۔ اشکال کا حل جوان کا مقصود تھا وہ تو بہت دُور ہے۔ اس کا بیان یہ ہے کہ امام بخاری کے کلام میں مسافت کا ذکر بار بار آیا اس سے علامہ عینی کا خیال اس طرف چلا گیا کہ انہوں نے روایت ظاہر ہ ونادرہ کے درمیان مسئلہ خلافیہ کا موضوع اس صورت کو قرار دیا ہے جب مسافت کے قُرب کی وجہ سے امید پیدا ہوئی ہو۔ اسی لئے امام بخاری کے کلام میں جو اسم اشارہ تھا اس کی جگہ علامہ عینی نے ''عدم بعد المسافۃ'' (مسافت کا دُور نہ ہونا) رکھ دیا۔ پھر جب انہیں پتاچلا کہ اس تقدیر  پر اس امام ماہر کے اشکال سے چھٹکارا نہیں جیسا کہ خود آخر تحریر  میں اس کی تصریح کی ہے تو عنانِ کلام کچھ ایسی صورتیں پیش کرنے کی جانب موڑی جن میں امید، قُربِ آب کی وجہ سے نہ ہواور یہ خیال فرمایا کہ یہ صورتیں اس اشکال سے خلاصی عطا کردیں گی حالانکہ ان دو خیالوں میں سے ایک بھی صحیح نہیں۔ (ت)
اما الاول اعنی جعل الامام الخلافیۃ ماذکر۔
پہلا خیال امام موصوف کا امر مذکور کو اختلافی قرار دینا۔
فاقول اوّلا:  ذکر(۱)الامام البخاری لہ اربعۃ محامل لیس فی شیئ منھا مایعطی ان المراد الرجاء لقرب الماء الا الثالث المفروض فیہ القرب فدلّ ان البواقی لیست علی فرضہ فکیف یکون الرجاء لاجل القرب ھو المراد مطلقا۔
فاقول:  (اس پر میں کہتا ہوں) اولا امام بخاری نے اس کے چار محمل بیان کئے ان میں سے کسی میں کوئی ایسی بات نہیں جس سے یہ معلوم ہو کہ قربِ آب کی وجہ سے امید مراد ہے مگر صرف تیسرا محمل جس میں قرب فرض کیا گیا ہے اس سے پتا چلا کہ باقی محملوں میں یہ مفروض نہیں تو کیوں کر صرف امید بوجہ قرب مطلقاً مراد ہوگی۔ (ت)
Flag Counter