Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۴(کتاب الطہارۃ)
14 - 2323
فاعترضہ الامام الاجل الشیخ عبدالعزیز ثم الامام قوام الدین الکاکی ثم الامام اکمل الدین البابرتی ثم الامام المحقق علی الاطلاق بوجھین(عـہ۱) قال فی الفتح علی عبارۃ الھدایۃ المذکورۃ قولہ (عـہ۲) لان غالب الرأی کالمتحقق مع قولہ فی وجہ ظاھر الروایۃ ان العجز ثابت حقیقۃ فلایزول حکمہ الابیقین مثلہ انہ منظور فیہ بان التیمم فی العمرانات وفی الفلاۃ اذااخبر بقرب الماء اوغلب علی ظنہ بغیرذلک لایجوز قبل الطلب اعتبارالغالب الظن کالیقین یقتضی انہ لوتیقن وجود الماء فی اٰخر الوقت لزمہ التأخیرعلی ظاھر الروایۃ لکن المصرح بہ خلافہ علی ماتقدم اول الباب انہ اذاکان بینہ وبین الماء میل جاز التیمم من غیرتفصیل وفی الخلاصۃ المسافر اذاکان علی تیقن من وجود الماء اوغالب ظنہ علی ذلک فی اٰخر الوقت فتیمم فی اول الوقت وصلی ان کان بینہ وبین الماء مقدار میل جاز وان کان اقل ولکن یخاف الفوت لایتیمم ۱؎ اھ
اس پر امام اجل شیخ عبدالعزیز ،پھر امام قوام الدین کاکی ،پھر امام اکمل الدین بابرتی ،پھر امام محقق علی الاطلاق نے دو وجہوں سے اعتراض کیاہے ۔فتح القدیرمیں ہدایہ کی مذکورہ عبارت پریہ کلام ہے :''ان کاقول :''اس لئے کہ غالب رائے، متحقق کی طرح ہے، ظاہر الروایہ کی وجہ میں ان کے اس قول کے ساتھ کہ ''عجز حقیقۃً ثابت ہے تو اس کا حکم ویسے ہی یقین کے بغیرزائل نہ ہوگا'' باوجودیکہ ایک تو اس میں یہی کلام ہے کہ غالب ظن کو یقین کی طرح ماننے کے باعث پانی تلاش کرنے سے پہلے آبادیوں میں تیمم جائز نہیں اسی طرح بیابانوں میں بھی جبکہ اسے یہ بتایا گیا ہوکہ قریب میں پانی ہے یا کسی اور طرح اسے پانی کا غلبہ ظن ہوا ہو (دوسرے یہ کہ ان کا وہ قول) اس کا مقتضی ہے کہ اگر اسے یقین ہوکہ آخر وقت میں پانی مل جائے گا تو ظاہر الروایہ کے مطابق اسے نماز مؤخر کرنا لازم ہے لیکن اس کے برخلاف جیسا کہ اول باب میں گزرا یہ تصریح موجود کہ جب اس کے اور پانی کے درمیان ایک میل کا فاصلہ ہو تو تیمم جائز ہے اس میں کوئی تفصیل نہیں اور خلاصہ میں ہے کہ مسافر کو جب آخر وقت میں پانی ملنے کا یقین یا غلبہ ظن ہو پھر بھی وہ اول وقت میں تیمم کرکے نماز پڑھ لے تو اگر اس کے اور پانی کے درمیان ایک میل کا فاصلہ ہو تو جائز ہے۔ اور اگر کم ہو لیکن نماز فوت ہونے کا اندیشہ ہو تو تیمم نہ کرے'' اھ
 (۱؎ فتح القدیر   باب التیمم    نوریہ رضویہ سکھّر    ۱/۱۲۰)
 (عـہ۱) التعلیل یرد علیہ الوجھان وعلی الحکم الوجہ الاول فقط کماسیاتی ۱۲ منہ غفرلہ (م)

تعلیل پر دونوں وجہوں سے اعتراض ہوتا ہے اور حکم پر صرف وجہ اوّل سے اعتراض ہوتا ہے جیسا کہ آرہا ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)

(عـہ۲)قولہ قولہ مبتدء خبرہ یقتضی وقولہ مع انہ منظور فیہ متعلق بقولہ یقتضی اقول والمقصود الایراد علی وجہ ظاھر الروایۃ وانما اشرک معہ تعلیل الروایۃ النادرۃ لان النظر الاول یبتنی علی ان ظاھر الروایۃ لم یعتبرہ فھما نظران حاصل الاول کیف قلتم لایزول الابیقین مثلہ ولم تجعلوا غالب الرأی کالمحقق مع انکم اعتبرتموہ فی مسألتی العمرانات و الفلاۃ وحاصل الثانی ان قولکم ھذا یقتضی ان لوتیقن وجدان الماء فی اٰخر الوقت لم یجزلہ التیمم لانہ معارض اذن بیقین مثلہ مع ان المصرح بہ خلافہ ۱۲ منہ غفرلہ (م)

ان کی عبارت میں ''قولہ'' (ان کا قول) مبتدا ہے۔ اس کی خبر ہے ''یقتضی'' (مقتضی ہے) اور ان کی عبارت ''مع انہ منظور فیہ'' (باوجودیکہ اس میں کلام ہے) ان کی عبارت ''یقتضی'' سے متعلق ہے اقول مقصد ظاہر الروایۃ کی وجہ پر اعتراض کرنا ہے۔ اس کے ساتھ روایت نادرہ کی تعلیل کو اس لئے شریک کرلیا کہ پہلا اعتراض اس پر مبنی ہے کہ ظاہر الروایہ نے اس کا اعتبار نہ کیا تو یہ دو اعتراض ہوئے۔ پہلے کا حاصل یہ ہے کہ آپ نے کیسے کہا کہ ویسے ہی یقین کے بغیرزائل نہ ہوگا اور آپ نے غالب رائے متحقق کی طرح کیوں نہ قرار دیا جب کہ آبادیوں اور بیابانوں کے دونوں مسئلوں میں آپ نے اس کو مانا ہے اور دوسرے اعتراض کا حاصل یہ ہے کہ آپ کا یہ قول اس کا مقتضی ہے کہ اگر اسے آخر وقت میں پانی ملنے کا یقین ہو تو اس کیلئے تیمم جائز نہ ہو کیونکہ ایسی صورت میں ویسا ہی یقین اس کے معارض مل گیا حالانکہ تصریح اس کے برخلاف موجود ہے۔ (ت)
وقد فصلہ اتم تفصیل الامام الاجل البخاری ونقل کلامہ فی العنایۃ والدرایۃ وھذا لفظ الاکمل قال قولہ لان غالب الرأی کالمتحقق قال الشیخ عبدالعزیز ھذا التعلیل مشکل لانہ یقتضی ان یجب التأخیرعند التحقق فی اٰخر الوقت مع بعد المسافۃ فی الروایات الظاھرۃ لیصح مقیسا علیہ ولیس کذلک فانہ ذکر فی اول الباب ان من کان خارج المصر یجوزلہ التیمم اذاکان بینہ وبین الماء میل اواکثر ،
وفی الخلاصۃ وعامۃ النسخ المسافر اذاکان علی تیقن من وجود الماء فی اٰخر الوقت اوغالب ظنہ ذلک جاز لہ التیمم اذاکان بینہ وبین الماء میل اواکثر وان کان اقل لایجوز وان خاف فوت الصلاۃ فلوحمل ھذا یعنی التعلیل علی ان المراد ان التیمم لایجوز فی المتحقق فی غیرروایۃ الاصول فالحق بہ غالب الظن فی ھذہ الروایۃ لم یستقم ایضالانہ علل وجہ ظاھر الروایۃ بان العجز ثابت حقیقۃ فلایزول حکمہ الابیقین مثلہ وذلک یقتضی ان حکم العجزوھوجوازالتیمم یزول عندالتیقن بوجود الماء فی ظاھرالروایۃ ولیس کذلک علی مابیناولوحمل علی ان ھذا فیما اذاکان بینہ وبین ذلک الموضع اقل من میل لم یستقم ایضا لانہ لافرق فی تعلیل ظاھر الروایۃ بین غلبۃ الظن والیقین فیما اذاکانت المسافۃ اقل من میل فی عدم جواز التیمم کما انہ لافرق بینھما فیما اذاکانت المسافۃ اکثر من میل فی جواز التیمم ،وقدصرح فی اٰخر ھذا الباب انہ اذاغلب علی ظنہ ان بقربہ ماء لایجوز التیمم کمالوتیقن بذلک فعلم انہ مشکل بقی وجہ اٰخر وھو ان یحمل ھذا علٰی مااذالم یعلم ان المسافۃ قریبۃ اوبعیدۃ فلوثبت انہ تیقن بوجود الماء فی اٰخر الوقت فقدامن الفوات ولمالم یثبت بعد المسافۃ لتشکیک فیہ لم یثبت جواز التیمم فیجب التاخیرامالوغلب علی ظنہ ذلک وکذلک عندھما فی غیرروایۃ الاصول لان الغالب کالمتحقق وفی ظاھر الروایۃ لایجب التاخیرلان العجز ثابت لعدم الماء حقیقۃ وحکم ھذاالعجز وھو جواز التیمم لایزول الابیقین مثلہ وھو التیقن بوجود الماء فی اٰخر الوقت ولم یوجد فلایجب التاخیرولکن ھذا الوجہ لایخلوعن تمحل ویلزم علیہ انہ فرق ھھنابین غلبۃ الظن والیقین فی ظاھر الروایۃ ولم یفرق بینھما فیما اذاغلب علی ظنہ ان بقربہ ماء فی عدم جواز التیمم ولافیما اذاکانت المسافۃ بعیدۃ فی جواز التیمم کمابیناقال فالاظھربقاء الاشکال ۱؎ اھ ضمیرقال الی الامام البخاری وقد اقرہ العلامتان الکاکی والبابرتی رحم اللّٰہ الجمیع ورحمنا بھم اٰمین۔
امام اجل عبدالعزیز بخاری نے اس کی بھرپور تفصیل فرمائی ہے اور ان کا کلام عنایہ اور درایہ میں نقل ہوا ہے۔ عنایہ اکمل الدین بابرتی کے الفاظ یہ ہیں: ان کا قول ''اس لئے کہ غالب رائے متحقق کی طرح ہے''۔ اس پر شیخ عبدالعزیز نے فرمایا:اس تعلیل میں اشکال ہے اس لئے کہ اس کا اقتضا یہ ہے کہ آخر وقت میں یقین کی صورت میں بُعد مسافت کے باوجود ظاہر روایات میں مؤخر کرنا واجب ہوتا کہ وہ مقیس علیہ ہوسکے حالانکہ ایسا حکم نہیں۔ اس لئے کہ شروع باب میں وہ بتاچکے ہیں کہ ''جو بیرونِ شہر ہو اس کیلئے تیمم جائز ہے جب کہ اس کے اور پانی کے درمیان ایک میل یا زیادہ کا فاصلہ ہو'' اور خلاصہ وعامہ کتب میں ہے کہ ''مسافر کو جب آخر وقت میں پانی ملنے کا یقین یا غالب گمان ہو تو اس کیلئے تیمم جائز ہے جبکہ اس کے اور پانی کے درمیان ایک میل یا زیادہ کا فاصلہ ہو اور اگر اس سے کم فاصلہ ہو تو تیمم جائز نہیں اگرچہ نماز فوت ہوجانے کا اندیشہ ہو''۔ تو اگر اس کا یعنی تعلیل کا محمل یہ ہو کہ ''مراد یہ ہے کہ غیر روایت اصول میں چونکہ بصورت تحقق بھی تیمم جائز نہیں اس لئے اس روایت میں غالب ظن کو بھی اس سے ملحق کردیا گاے'' تو بھی بات نہیں بنتی۔ اس لئے کہ ظاہر روایت کی انہوں نے علت یہ بتائی ہے کہ ''عجز حقیقۃً ثابت ہے تو ویسے ہی یقین کے بغیرزائل نہ ہوگا''۔ یہ تعلیل اس کی مقتضی ہے کہ ظاہر الروایۃ میں حکم عجز جواز تیمم پانی ملنے کے یقین کے وقت زائل ہوجائے۔ حالانکہ ایسا نہیں جیسا کہ ہم بتاچکے۔ اور اگر اس کا محمل یہ ہو کہ ''یہ اس صورت میں ہے جب اس کے اور اس جگہ کے درمیان ایک میل سے کم فاصلہ ہو'' تو بھی بات نہیں بنتی۔ اس لئے کہ تعلیل ظاہر الروایۃ میں ایک میل سے کم فاصلہ ہونے کی صورت میں، تیمم ناجائز ہونے کے معاملہ میں غلبہ ظن اور یقین کے درمیان کوئی فرق نہیں جیسے کہ ان دونوں کے درمیان ایک میل سے زیادہ مسافت ہونے کی صورت میں تیمم جائز ہونے کے معاملہ میں کوئی فرق نہیں۔ وہ خود اس باب کے آخر میں صراحت کرچکے ہیں کہ جب اسے قریب میں پانی ہونے کا غلبہ ظن ہو تو تیمم جائز نہیں جیسے اگر اس کا یقین ہو تو تیمم جائز نہیں معلوم ہوا کہ یہ تعلیل اشکال رکھتی ہے۔ ایک صورت اور رہ گئی وہ یہ کہ اس کا محمل وہ صورت ہو جب اسے یہ معلوم نہ ہو کہ مسافت قریب ہے یا بعید تو اگر یہ ثابت ہو کہ اسے آخر وقت میں پانی ملنے کا یقین ہے تو نماز کے فوت ہونے سے اس کو بے خوفی حاصل ہوگئی اور شک کی وجہ سے جب بُعدِ مسافت ثابت نہیں تو جواز تیمم بھی ثابت نہیں، تو نماز مؤخر کرنا واجب ہے۔ لیکن اگر اُس کو اِس کا غلبہ ظن ہو تو بھی غیرروایت اصول میں شیخین کے نزدیک یہی حکم ہے اس لئے کہ پانی نہ ہونے کی وجہ سے عجز حقیقۃً ثابت ہے اور اِس عجز کاحکم جواز تیمم ویسے ہی یقین کے بغیرزائل نہ ہوگا۔ اور وہ یہ ہے کہ آخر وقت میں پانی ملنے کا یقین ہو اور یقین نہ پایا گیا تو تاخیرواجب نہیں لیکن یہ صورت تکلّف سے خالی نہیں اور اس پر یہ اعتراض لازم آئے گا کہ ظاہر الروایہ میں انہوں نے یہاں غلبہ ظن اور یقین کے درمیان فرق کیا اور ان دونوں کے درمیان عدم جواز تیمم میں اس صورت میں فرق نہ کیا جب اسے قریب میں پانی ہونے کا غلبہ ظن ہو نہ ہی جواز تیمم میں اُس صورت میں فرق کیا جب مسافت بعید ہو جیسا کہ ہم نے بیان کیا۔ فرمایا: ''تو اظہر یہی ہے کہ اشکال باقی ہے'' اھ ''فرمایا'' کی ضمیرامام بخاری کیلئے ہے۔ اس کلام کو علّامہ کاکی اور علامہ بابرتی نے بھی برقرار رکھا۔ خدا ان سب حضرات پر رحمت فرمائے اور ان کی برکت سے ہم پر بھی رحمت فرمائے۔ الٰہی! قبول فرما۔ (ت)
 (۱؎ العنایۃ مع فتح القدیر   باب التیمم    مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۱/۱۲۰)
واقول:  انما وجہ الکلام الٰی ظاھر الروایۃ وتعلیلھا وصرفہ الشیخ اجلالالھا الی الروایۃ النادرۃ ودلیلھا وجعل لھا اربعۃ محامل وردالکل وانا ارید تلخیصہ مع الایضاح فقد خفی علی بعض اجلۃ الکبراء ۔
واقول:  کلام کا  رخ ظاہر الروایۃ اور اس کی تعلیل کی جانب ہی ہے مگر شیخ نے اس کی عظمت کے پیش نظر رخ روایت نادرہ اور اس کی دلیل کی طرف پھیردیا ہے۔ اور اس کے چار محمل نکالے  ساتھ ہی ہر ایک کو رد بھی کردیا میں اس کلام کی تلخیص کرنا چاہتا ہوں، ساتھ ہی توضیع بھی، کیونکہ یہ بعض جلیل بزرگوں پر واضح نہ ہوسکتا۔ (ت)
فاقول وباللّٰہ التوفیق جعل محملہ الاول تقدیران وجوب التاخیرعند تیقن الوجدان فی اٰخر الوقت متفق علیہ بین الروایات الظاھرۃ والنادرۃ انما الخلاف عندالظن فقاستہ النادرۃ علی الوفاقیۃ وردہ ببطلان ھذا التقدیرللتنصیص المتواتر علی جواز التیمم اذا بعد الماء میلا۔
فاقول: (تو میں کہتا ہوں) اور خدا ہی سے توفیق ہے: محمل اول: پہلا محمل اس تقدیرکو قرار دیا کہ آخر وقت میں پانی ملنے کا یقین ہوتو تاخیرنماز کے وجوب پر ظاہر ونادر سبھی روایات متفق ہیں۔ اختلاف صرف ظن کی صورت میں ہے تو روایت نادرہ میں صورت ظن کا قیاس اُس صورت پر ہے جو متفق علیہ ہے۔ اور اس کا رد یوں کیا کہ یہ ماننا ہی غلط ہے (کہ جب بھی آخر وقت میں پانی ملنے کا یقین ہو تو بالاتفاق تاخیرواجب ہے) اس لئے کہ اس کی متواتر تصریح آئی ہے کہ پانی ایک میل دُور ہونے کی صورت میں تیمم جائز ہے۔
اقول؛ ای وربما یتیقن فیہ الوجدان فی اٰخر الوقت فان المیل یقطع بسیرالوسط فی اقل من نصف ساعۃ ووقت الصبح والمغرب اوسع من ضعف ذلک فضلا عن سائر الاوقات۔
اقول:  کہنا یہ چاہتے ہیں کہ اس صورت میں بارہا ایسا بھی ہوگا کہ اسے آخر وقت میں پانی مل جانے کا یقین ہے اس لئے کہ ایک میل کا فاصلہ متوسط رفتار سے آدھ گھنٹہ سے کم میں طے ہوجاتا ہے جبکہ فجر ومغرب کا بھی وقت اس کے دوگنا سے زیادہ ہے دیگر اوقات کا تو اور بھی زیادہ ہوگا۔ (ت)
والثانی :ان فی کلیھما الاختلاف والحقت النادرۃ احد المختلفین بالاٰخر اقول وھو من ابعد المحامل اذلایبقی علی ھذا تعلیلا بل ایضاحا لخلافیۃ باخرٰی کعادۃ(۱)الامام الربانی محمد فی کتبہ وردہ بان جواب الظاھر اذن بالفرق بین الظن فلایجوز فیہ التیمم والیقین فیجوز وقد علم بطلانہ اقول ویمکن ان یجعل رداللالحاق فقط وان کان بعیدا کذلک المحمل۔
محمل دوم: دونوں ہی میں اختلاف ہے اور روایت نادرہ نے ایک اختلافی کو دوسرے اختلافی سے لاحق کردیا اقول یہ سب سے بعید تر محمل ہے اس لئے کہ پھر یہ تعلیل نہ رہ جائے گی بلکہ ایک اختلافی مسئلہ کی دوسرے اختلافی مسئلہ سے توضیح ہوگی جیسا کہ امام ربانی محمد بن الحسن کا اپنی تصانیف میں طریقہ ہے۔ اس پر رد یہ ہے کہ پھر ظاہر الروایہ کا جواب یہ ہوگا کہ ظن ویقین میں فرق ہے۔ ظن کی صورت میں تیمم جائز نہیں اور یقین کی صورت میں جائز ہے حالانکہ اس فرق کا بطلان معلوم ہوچکا ہے۔ اقول اسے صرف الحاق کارد بھی قرار دیا جاسکتا ہے اگرچہ یہ بھی اسی جمحمل کی طرح بعید ہے۔ (ت)
والثالث: ان النادرۃ انما توجب التاخیرعند ظن الوجدان فیما اذاکان الفصل اقل من میل اقول معناہ ان علم الماء قریبا لایجوزلہ التیمم ان ظن وجدانہ والابأن ضاق الوقت جازکما ھو قول زفر وردہ بان المذھب انما فرق بالقرب والبعد دون غلبۃ ظن الوجدان والیقین کمایعطیہ ماذکرہ فی وجہ الظاھر فان کان الفصل میلا اواکثر جاز مطلقا والا لا مطلقا وبان المذھب بطلان التیمم عند ظن القرب کماصرح بہ اٰخر ھذا الباب فکیف یجیزہ مع العلم بالقرب لعدم التیقن بالوجدان ولیس معناہ ان یظن الوجدان لظنہ الماء اقرب من میل فان کونہ اقرب مفروض علی ھذا المحمل وسیاتی ایضاحہ۔
محمل سوم: پانی ملنے کا گمان ہونے کی صورت میں روایت نادرہ تاخیرنماز کو اس وقت لازم کرتی ہے جب ایک میل سے کم فاصلہ ہو۔ اقول اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر اسے علم ہوکہ پانی قریب ہے تو اگر اسے یہ گمان ہوکہ وقتِ نماز کے اندر پانی مل جائے گا۔ تو تیمم جائز نہیں اور اگر یہ گمان نہ ہو اس طرح کہ وقت تنگ ہوچکا ہو توتیمم جائز ہے جیسا کہ یہ امام زفر کا قول ہے۔ اس پر رد یہ ہے کہ مذہب میں صرف قُرب وبعد کی تفریق ہے پانی ملنے کے غلبہ ظن ویقین میں تفریق نہیں جیسا کہ یہ اس سے معلوم ہورہا ہے جو ظاہر الروایہ کی وجہ میں ذکر کیا کہ اگر فاصلہ ایک میل یا زیادہ ہو تو مطلقاً تیمم جائز ہے ورنہ مطلقاً جائز نہیں۔ دُوسرا رد یہ ہے کہ مذہب یہ ہے کہ پانی قریب ہونے کا گمان ہو توتیمم باطل ہے جیسا کہ اس باب کے آخر میں اس کی تصریح فرمائی ہے پھر قریب ہونے کا علم ہونے کے باوجود اس وجہ سے تیمم کیسے جائز کہہ دیں گے کہ وقت میں پانی ملنے کا یقین نہیں۔ یہ معنی نہیں کہ ایک میل سے کم ہونے کے گمان کی وجہ سے اسے پانی مل جانے کا گمان ہو اس لئے کہ اس محمل میں ایک میل سے کم ہونا تو فرض ہی کیا گیا ہے اس کی مزید توضیح بھی آرہی ہے۔ (ت)
Flag Counter