Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۴(کتاب الطہارۃ)
13 - 2323
اقول: ولربی الحمد علی الخبیرسقطت÷ وفی القیاس غلطت÷ فرق عظیم بین المسألتین القرب والعطاء کلاھما مانع عن التیمم لحصول القدرۃ بھما فان الشرع المطھر جعل ماکان دون میل کالذی بیدہ والالجاز لمن بیتہ علی شط البحر التیمم اذالم یجد الماء فی بیتہ کماتقدم فی نمرۃ ۹۱ عن العنایۃ والظن الغالب فی العمل کالعلم ومع علم المانع لامساغ للتیمم بیدان القریب لماکان مقدورا حقیقۃ شرعا فی الحال کماعلمت کان ظن القرب ظن انہ مقدور الاٰن وانہ حاصل بحضرتہ فی اعتبار الشرع المطھر وھھنا ظن الوفاء ظن انہ سیحصل مع العلم القطعی بانہ غیرحاصل فی الحال فذلک علم ان المانع موجود وھذا علم انہ سیحدث ان وفی توقع حدوث المانع لایمنع التیمم۔
اقول: (جواباً میں کہوں گا) اور میرے رب ہی کیلئے حمد ہے باخبر سے سوال کیا اور قیاس میں غلطی کی۔ دونوں مسئلوں میں عظیم فرق ہے قربِ آب اور عطائے آب دونوں ہی تیمم سے مانع ہیں کیونکہ دونوں سے قدرت حاصل ہوجاتی ہے۔ اس لئے کہ جو پانی ایک میل سے کم دُوری پر ہو شرع مطہر نے اسے اس پانی کی طرح قرار دیا ہے جو ہاتھ میں موجود ہو۔ ورنہ سمندر کے کنارے جس کا گھر ہو اس کیلئے یہ جائز ہوتا کہ گھر میں پانی نہ پائے تو تیمم کرلے جیسا کہ نمبر۹۱ میں عنایہ کے حوالہ سے گزرا۔ اور ظنّ غالب حق عمل میں یقین کی حیثیت رکھتا ہے۔ اور مانع کا یقین ہوتے ہوئے تیمم کی کوئی گنجائش نہیں۔ مگر یہ ہے کہ آب قریب چونکہ ازرُوئے شرع فی الحال حقیقۃً مقدور ہے جیسا کہ معلوم ہوا تو قرب کا گمان اس امر کا گمان ہے کہ پانی اِس وقت مقدور ہے اور وہ شرع مطہر کے اعتبار میں اس کے پاس حاصل ہے اور یہاں وفائے وعدہ کا گمان اس بات کا گمان ہے کہ پانی آئندہ حاصل ہوگا۔ ساتھ ہی اس بات کا قطعی علم ہے کہ وہ فی الحال حاصل نہیں۔ تو اس بات کا علم ہے کہ مانع موجود ہے۔ اور یہ اس بات کا کہ مانع پیدا ہوگا اگر اس نے وعدہ وفا کردیا اور مانع کے پیدا ہونے کی توقع تیمم سے مانع نہیں۔ (ت)
وھذا ماقدمت فی الظفر لقول زفر انہ اذا ادرک الوقت فاراد الصلاۃ لاینھی عنھاولاینظر الا الی حالتہ الراھنۃ وقلت قبلہ فیہ ان الطاعۃ بحسب الاستطاعۃ قال ربنا تبارک و تعالٰی
فاتقوا اللّٰہ مااستطعتم ۱؎
ولاینظر الا الی الحالۃ الراھنۃ واستشھدت علیہ بمسألۃ الراجی ھذہ ان لیس علیہ التأخیروبمسألۃ الدر  امرہ الطبیب بالاستلقاء الخ وستأتی عن البنایۃ سبع مسائل ومن زیاداتنا سبع اُخر تشھد لھذا ومن ذلک مامر فی نمرۃ۹۰ من مسألۃ عار وُعدثو بالہ ان یصلی عاریا ولاینتظر ھذا ھو مذھب امام المذھب رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ،
یہی بات میں رسالہ ''الظفر لقول زفر'' میں بیان کرچکا ہُوں کہ جب وقت ہوگیا اور اس نے نماز ادا کرنی چاہی تو اسے اس سے روکا نہ جائےگا اور صرف اس کی موجودہ حالت دیکھی جائے گی۔ اس سے پہلے اس رسالہ میں مَیں نے لکھا ہے کہ ''طاعت، حسبِ استطاعت ہوتی ہے۔ ہمارے رب تبارک وتعالٰی کا ارشاد ہے۔ تو تم خدا سے ڈرو جتنی تمہیں استطاعت ہو اور موجودہ حالت ہی دیکھی جائے گی۔ اس پر میں نے پانی کی امید رکھنے والے کے اس مسئلہ سے استشہاد بھی کیا ہے کہ اس پر نماز مؤخر کرنا لازم نہیں۔ اور درمختار کے اس مسئلہ سے کہ طبیب نے اسے چِت لیٹنے کا مشورہ دیا الخ۔ عنقریب بنایہ کے حوالہ سے سات مسائل آرہے ہیں۔ اور ہمارے اضافہ سے سات اور، وہ سب اس پر شاہد ہیں۔ اسی میں سے وہ مسئلہ بھی ہے جو نمبر۹۰ میں گزرا کہ کوئی برہنہ بدن ہے جس سے کپڑے کا وعدہ کیا گیا ہے اس کیلئے برہنہ نماز ادا کرنا اور انتظار نہ کرنا، جائز ہے۔ یہی امام مذہب رضی اللہ تعالٰی عنہ کا مذہب ہے۔
	۱؎ القرآن        ۶۴/۱۶
والاٰن رأیت فی الغنیۃ فی مسألۃ الراجی نفسھا (یستحب ان یؤخر) ولولم یفعل وتیمم وصلی جاز لانہ اداھا بحسب قدرتہ لموجودۃ عند انعقاد سببھا وھو مااتصل بہ الاداء ۲؎ اھ
اور اب میں نے غنیہ میں خود امید آب والے کا مسئلہ دیکھا جو اس طرح ہے: (تاخیرمستحب ہے) اور اگر نہ کی اور تیمم کرکے نماز پڑھ لی تو جائز ہے اس لئے کہ اس نے اپنی اس قدرت کے مطابق نماز ادا کی جو سبب نماز کے انعقاد کے وقت موجود تھی اور سبب نماز وہ وقت ہے جس سے متصل نماز ادا ہوئی اھ
 (۲؎ غنیۃ المستملی    فصل فی التیمم        مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور    ص۷۴)
ثم بنعمۃ ربی ولہ الحمد رأیت بعد قلیل من الحین لامام الاجل اباالبرکات النسفی رحمہ اللّٰہ تعالٰی فی الکافی فرّق بعین ما وفقنی ربی من انہ این الحاصل مما سیحصل کماسأذکر نصہ ان شاء اللّٰہ تعالٰی وللّٰہ الحمد فی الاولی والاخری ھذا ماکان یتخالج صدری فی مسألۃ الوعد۔
پھر بَانعامِ ربانی اور اس کا شکر ہے۔ تھوڑے دنوں بعد میں نے دیکھا کہ امام اجل ابو البرکات نسفی رحمہ اللہ تعالٰی نے کافی میں بعینہٖ وہی فرق بیان کیا ہے جس کی میرے رب نے مجھے توفیق دی کہ کہاں وہ جو حاصل ہے اور کہاں وہ جو آئندہ حاصل ہوگا۔ جیسا کہ ان کی عبارت عنقریب ذکر کروں گا اگر خدائے برتر کی مشیت ہوئی۔ اور خدا ہی کیلئے حمد ہے دنیا وآخرت میں۔ یہ وہ باتیں ہیں جو مسئلہ وعد سے متعلق میرے دل میں خلجان کررہی تھیں۔ (ت)
وامّا مسألۃ الرّجاء وما عللھا بہ فی الھدایۃ،
اب مسئلہ امید اور ہدایہ میں بیان شد ہ اس کی تعلیل پر ۱؎کلام کیاجاتاہے ۔
۱؎ امید کی صورت میں روایت نادرہ میں یہ حکم ہے کہ نماز مؤخر کرنا واجب ہے جس کی تعلیل ہدایہ میں یہ ہے کہ ''غالب رائے متحقق کی طرح ہے'' یعنی غلبہ ظن کو حق عمل میں یقین کی حیثیت حاصل ہے۔ اور ظاہر الروایہ میں اس کا حکم یہ ہے کہ تاخیرصرف مستحب ہے واجب نہیں، ہدایہ میں اس کی تعلیل یہ ہے کہ ''عجز حقیقۃً ثابت ہے تو ویسے ہی یقین کے بغیراس کا حکم زائل نہ ہوگا'' مسئلہ وعد پر کلام کے شروع میں یہ باتیں گزر چکی ہیں ۱۲محمد احمد مصباحی
Flag Counter