Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۴(کتاب الطہارۃ)
121 - 2323
مسئلہ ۲۳۷: از رنگون مرسلہ سیٹھ عبدالستار ابن اسمٰعیل صاحب رضوی    ۸ شعبان ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بعد استنجا لینے پیشاب کرنے کے بجائے کلوخ کے وقت ضرورت جاذب (انگریزی ساخت کا بلاٹنگ) کا استعمال کرسکتے ہیں یا نہیں؟
الجواب: کاغذ سے استنجا سنّتِ نصارٰی ہے اور شرعاً منع ہے جبکہ قابلِ کتابت یا قیمتی ہو۔ اور ایسا نہ بھی ہو تو بلاضرورت سنّتِ نصرانی سے بچنا ضرور ہے۔ ردالمحتار میں ہے:
کرہ تحریما بشیئ محترم یدخل فیہ الورق قیل انہ ورق الکتابۃ وقیل ورق الشجر وایھما کان فانہ مکروہ اھ ورق الکتابۃ لہ احترام لکونہ اٰلۃ لکتابۃ العلم ولذا عللہ فی التاترخانیۃ بان تعظیمہ من ادب الدین واذاکانت العلۃ کونہ اٰلۃ للکتابتہ یوخذ منھا عدم الکراھۃ فیما لایصلح لھا اذاکان قالعا للنجاسۃ غیر متقوم کماقدمنا منجوازہ بالخرق البوالی ۱؎۔
 (۱؎ ردالمحتار    فصل الاستنجاء        مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۱/۲۲۷)
کسی قابلِ احترام چیز کے ساتھ استنجاء کرنا مکروہ تحریمی ہے اور اس میں ورق بھی داخل ہے کہا گیا ہے کہ اس سے لکھنے کا کاغذ مراد ہے اور کسی نے کہا اس سے مراد درخت کا پتّا ہے، ان میں سے جو بھی ہو مکروہ ہے اھ۔ کتابت کا کاغذ اس لئے قابلِ عزّت ہے کہ وہ کتابتِ علم کا آلہ ہے اسی لئے تتارخانیہ میں اس کی علّت یہ بیان کی ہے کہ اس کی تعظیم آدابِ دین سے ہے اور جب اس کی علّت یہ ہوکہ وہ آلہ کتابت ہے تو اس کانتیجہ یہ ہوا کہ اگر کاغذ تحریر کی صلاحیت نہ رکھتا ہو اور نجاست کو زائل کرنے والا ہو اور قیمتی بھی نہ ہو تو اسکے استعمال میں کوئی کراہت نہیں جیسا کہ اس سے پہلے ہم نے پُرانے کپڑے کے ٹکڑوں سے استنجاء کا جواز بیان کیا ہے۔ (ت)
پیشاب کے لئے خالی پانی بھی کافی ہے اگر کوئی عذر نہ ہو۔ ردالمحتار میں ہے:
الجمع بین الماء و الحجر افضل ویلیہ فی الفضل الاقتصار علی الماء ویلیہ الاقتصار علی الحجر وتحصل السنۃ بالکل وان تفاوت الفضل کما افادہ فی الامداد وغیرہ ۲؎۔
پانی اور پتھّر کو جمع کرنا افضل ہے صرف پانی پر اکتفاء کرنے میں بھی فضیلت ہے اور صرف پتھروں سے استنجا کرنا بھی باعثِ فضیلت ہے ہر ایک سے سنت پر عمل ہوجاتا ہے اگرچہ فضیلت میں فرق ہے جیسا کہ الامداد وغیرہ میں بیان کیا ہے (ت)
(۲؎ ردالمحتار    فصل الاستنجاء        مطبوعہ مجتبائی دہلی         ۱/۲۲۶)
پُرانا کپڑا بھی کافی ہے، زمین یا دیوار سے صاف کردینا بھی کافی ہے وفیہ عن امیر المؤمنین الفاروق الاعظم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ (اس سلسلے میں حضرت امیرالمؤمنین فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے حدیث مروی ہے۔ ت) ہاں کوئی صورت میسر نہ ہو تو جاذب سے بھی طہارت ہوجائیگی جبکہ نجاست کو درہم بھر سے زیادہ جگہ میں پھیلائے بغیر جذب کرلے واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۸: از شہر کہنہ مسئولہ محمد ظہور صاحب    ۱۱ شوال ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ استنجا چھوٹا خواہ بڑا باوجود دستیاب ہونے مٹی کے ڈھیلے کے محض پانی سے کرنے والے کی نسبت کیا حکم ہے؟
الجواب خلاف افضل ہے خصوصاً بڑا استنجاء واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۹: ازِ بیکانیر  مارواڑ  محلہ مہاوتان مرسلہ قاضی قمرالدین صاحب    ۹ ربیع الاول ۱۳۳۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ پائخانہ میں تھوکنا کیسا ہے کہ اس کی ممانعت ہے کہ وہاں نہ تھوکے، بینوا توجروا۔
الجواب: ہاں پاخانے میں تھوکنے کی ممانعت ہے کہ مسلمان کا مُنہ قرآن عظیم کا راستہ ہے وہ اس سے ذکرِ الٰہی کرتا ہے تو اس کا لعاب ناپاک جگہ پر ڈالنا بیجا ہے، ردالمحتار میں ہے
:لایبزق فی البول ۱؎ اھ قلت والدلیل اعم کماعلمت۔
پیشاب میں نہ تھوکا جائے اھ میں کہتا ہوں اور دلیل عام ہے جیسا کہ تم جانتے ہو (ت)
 (۱؎ ردالمحتار    مطلب فی الفرق بین الاستبراء والاستنقاء والاستننجاء    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۲۵۴)
البتہ وہاں کی دیوار وغیرہ جہاں نجاست نہ ہو اس پر تھوکنے میں حرج نہیں واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۰: از بنارس محلہ اودھوپورہ مرسلہ محمد بشیر الدین بن محمد قاسم صاحب    ۱۶ ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ خطیب کو خطبہ پڑھتے وقت شک معلوم ہوا کہ مجھ کو قطرہ اُتر آیا اور خطبہ اس نے آلہ تناسل کو ہاتھ سے چھُوا تو کُچھ تری معلوم نہ ہوئی تو اس نے وضو نہ کیا اور اس شک کی حالت میں نمازِ جمعہ پڑھادی چونکہ اُس کو شک تھا کیونکہ ایسا واقعہ اس سے قبل کئی مرتبہ اس کو ہوچکا تھا مگر اور مرتبہ وضو کرلیتا تھا اس مرتبہ اُس نے وضو نہ کیا تو بعدِ نمازِ جمعہ جب اکثر لوگ چلے گئے تو اس نے آلہ تناسل کو دیکھا تو اوپر سے کچھ تری معلوم نہ ہوئی تو اُس نے دُودھ دوہنے کی طرح دوہا تو ذراسی تری معلوم ہوئی تو اب لوگوں کی نماز ہوئی یا نہیں اگر نہیں ہوئی تو اس میں کیا کرنا چاہئے یہ بھی نہیں معلوم کہ نمازِ جمعہ میں کتنے لوگ اور کہاں کہاں کے آدمی تھے خطیب بہت گھبرایا ہے اور اُس کی نجات کی کیا صورت ہوسکتی ہے کہ خدا کے پاس رہائی ہو اور شریعتِ مطہرہ کیا حکم اس میں دیتی ہے، بینوا توجروا۔
الجواب: صورتِ مذکورہ میں نہ وضو گیا نہ نماز میں خلل آیا نہ کسی کو اطلاع دینے کی حاجت نہ وسوسہ پر عمل کی اجازت۔ حدیث میں ارشاد ہواہے کہ شیطان دھوکا دینے کے لئے تھوک دیتا ہے جس سے تری کا شبہہ ہوتا ہے۔ جب ہاتھ سے دیکھ لیا تری نہ تھی پھر دغدغہ کا کیا محل رہا، بعد نماز دیر کے بعد جب اکثر لوگ چلے گئے اگر دیکھنے سے تری نظر بھی آئی تو اس سے ختم شدہ نماز پر کچھ اثر نہیں ہوسکتا فان الحادث یضاف لاقرب اوقاتہ (نوپید (نجاست) کو قریب وقت کی طرف منسوب کیا جائے گا۔ ت) نہ کہ اُس وقت نیز تری نہ پائی دودھ کی طرح دوہنے سے اگر کچھ نکلی تو وہ یقینا ابھی نکلی اب اس وقت وضو گیا نہ کہ پہلے سے جاتا رہا۔ امام عبداللہ بن مبارک رضی اللہ تعالٰی عنہ شاگرد جلیل سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ جب حالت ایسے یقین کی ہوکہ تم قسم کھاکر کہہ سکو کہ وضو نہ رہا اُس وقت سے اعتبار کیا جائے گا اور جب تک شک ہو جس پر قسم نہ کھاسکو وضو برقرار ہے امام اجل ابراہیم نخعی استاذ الاستاذ سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہم فرماتے ہیں: ''شیطان کے وسوسے پر عمل نہ کرو اگر وہ زیادہ پریشان کرے تو اس سے کہے میں بے وضو ہی پڑھوں گا تیری نہ سُنوں گا، یوں وہ خبیث باز آتا ہے اور اُس کی سنو تو اور زیادہ پریشان کرتا ہے''۔ ہاں اگر یہ حالت ہوتی کہ قطرے اُترنے کا ظن غالب ہوگیا تھا اور وضو نہ رہنے پر یقین فقہی ہوچکا تھا پھر دانستہ نماز پڑھادی تو ضرور نماز نہ ہوتی اور سخت سے سخت گناہِ کبیرہ ہوتا اور عذاب شدید عظیم کا استحقاق ہوتا اور تمام مقتدیوں کو اطلاع دینی فرض ہوتی زبانی یا خط بھیج کر۔ اور جو غیر معروف رہے اُن کے لئے متعدد جُمعوں جماعتوں میں اعلان کرنا ہوتا کہ فلاں جمعہ کی نماز باطل تھی ظہر کی قضا پڑھو۔ لیکن مسلمان سے اس کی توقع بہت بعید ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۱: از بلند شہر قریب جامع مسجد مرسلہ رحمت اللہ صاحب    ۵ ربیع الآخر شریف ۱۳۳۸ھ

علمائے دین اس مسئلہ میں کیا ارشاد فرماتے ہیں کہ ایک امام صاحب کو یہ عارضہ ہے کہ دو تین مہینے جبکہ سردی پڑتی ہے تو اُن کو سردی سے قطرہ آجاتا ہے اور خصوصاً استنجا پاک کرکے اور دوسرے کپڑے سے خشک کرکے بھی یہی گمان رہتا ہے کہ قطرہ آگیا اور جب دیکھتے ہیں تو قطرہ نہیں اور کبھی کبھی آبھی جاتا ہے اور امام صاحب کو نماز میں بھی اکثر یہ گمان گزر جاتا ہے کہ قطرہ آگیا ہے اور نہیں آتا تو وہ اگر نیچے ایک پاک تہمدٍ نماز پڑھنے پڑھانے کے وقت یا پاک لنگرولنگوٹ رکھ لیں تو نماز ہوگی یا نہیں اور حقیقت میں اس طرح قطرہ بھی نہیں آتا ہے اور اطمینان بھی رہتا ہے کیونکہ گرمائی رہتی ہے اور گرمائی سے واقعی قطرہ بھی نہیں آتا۔ بینوا توجروا۔
الجواب جبکہ لنگریا لنگوٹ سے قطرہ بند ہوجاتا ہے تو ان کا باندھنا واجب ہے۔ بحر میں ہے:
متی قدر علی ردالسیلان برباط اوحشو وجب ردہ ۱؎۔
جب (کپڑا وغیرہ) باندھنے یا کوئی زائد چیز رکھنے کے ذریعے جریان کو روکنے پر قادر ہوتو روکنا واجب ہے۔ (ت)
 (۱؎ البحرالرائق        باب الحیض    مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی پاکستان    ۱/۲۱۶)
مسئلہ ۲۴۲: از سہسوان ضلع بدایوں مسئولہ سید پرورش علی صاحب    یکم ذی القعدہ ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ پیشاب کرکے رفع کراہت کے واسطے اُس پر چند بار پانی بہاکر اُسی وقت اُسی جگہ صرف پانی سے استنجا کیا ہے؟
الجواب: زمین اگر پختہ یا سخت ہو جس پر تین بار پانی بہادینے سے ظن غالب ہوکہ نجاست کو بہالے گیا تو اُسی وقت وہیں پانی سے استنجا کرنے میں حرج نہیں واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۳: از مقام بسوہ اسٹیشن تعلق ملکاپور ضلع بلڈانہ برار مدرسہ اسلامی بسوہ اسٹیشن مسئولہ سراج الدین ۱۳رمضان ۱۳۳۵ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ چکنی مٹی سے کپڑے خراب ہونے کے سبب اینٹ پختہ سے استنجا صاف کرنا، بعد اینٹ کے ٹکڑے جس سے استنجا صاف کیا گیا وہ کسی صورت سے پاک ہوکر پھر استنجا صاف کرنے کے کام میں آسکتی ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا۔
الجواب پختہ اینٹ سے استنجا منع ومکروہ ہے اور اُس میں اندیشہ مرض بھی ہے جس ڈھیلے وغیرہ سے چھوٹا استنجا کیا گیا ہو بعد خشکی دوبارہ کام میں لاسکتے ہیں واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۴: از مدرسہ منظرِ اسلام بریلی مسئولہ مولوی عبداللہ بہاری    ۳ شوال ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں ڈھیلے اور پانی سے استنجا کرنے پر قطرہ پیشاب کا ہمیشہ آجاتا ہے ایسی صورت میں کیا حکم ہے۔ بینوا توجروا۔
الجواب:  اگر پانی سے استنجا کرنے پر قطرہ آتا ہے تو صرف ڈھیلے سے استنجا کرے اگر پیشاب روپے بھر سے زائد جگہ میں نہ پھَیلا ہوتو ڈھیلے ہی سے پاک ہوجائے گا اور اگر ڈھیلے سے استنجا پر قطرہ آتا ہے اور پانی سے بند ہوجاتا ہے تو پانی سے استنجا ضرور ہے اور اگر دونوں طرح آتا ہے تو انتظار کرنا اور وہ تدبیريں بجالانا جن سے قطرہ رکے واجب ہے اور اگر کسی طرح نہ رُکے اور ایک نماز کا وقت اول سے آخر تک گزر جائے کہ وضو کرکے فرض پڑھنے کی مہلت نہ پائے تو وہ معذور ہے جب تک نماز کے ہروقت میں کم ازکم ایک بار آتا رہے گا اُسے وضو تازہ کرلینا کافی ہوگا واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۵ تا ۲۴۷:از کاٹھیاواڑ مسئولہ حسین ولد قاسم مہتمم مدرسہ اسلامیہ باٹوہ شب۔    ۱۷ ذی الحجہ ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ:

(۱) کیا استقبال واستدبار قبلہ بوقت پیشاب پائخانہ جائز ہے۔

(۲) کیا استقبال واستدبار جنوب وشمال بوقت پیشاب وپاخانہ مرخص ہے اگر مرخص ہے تو استقبال بسوئے شمال افضل ہے یا بجنوب۔

(۳) دربارہ استقبال شمال عوام بلکہ دانستہ حضرات چہ میگوئیاں کرتے ہیں کہ بیت المقدس انبیاء علیہم السلام کا قبلہ خصوصاً سرورِ انبیاء سرتاجِ اصفیاء روحی فداہ کاقبلہ بھی بیت المقدس ہی تھا اور وہ واقع بہ شمال ہے اور روضہ شیخ سید عبدالقادر گیلانی قدس سرہ العزیز بھی بسوئے شمال ہے لہذا استقبالِ شمالی میں کمال درجہ کی بے ادبی ہے تو کیا یہ ہر دومقاماتِ اقدس واقع بہ شمال ہیں اور استقبال شمال میں کوئی ممانعت شرع میں پائی جاتی ہے؟ بینوا توجروا۔
الجواب: (۱) پاخانہ پیشاب کے وقت قبلہ معظمہ کا استقبال واستدبار دونوں ناجائز ہیں واللہ تعالٰی اعلم۔

(۲) شمال جنوب کی کوئی تخصیص نہیں قبلہ کو نہ مُنہ ہو نہ پیٹھ پھر جس طرف بھی بیٹھے جائز ہے واللہ تعالٰی اعلم۔

(۳) نہ بیت المقدس یہاں سے ٹھیک شمال کو ہے نہ بغداد شریف، بلکہ دونوں یہاں سے جانبِ مغرب ہی ہیں اگرچہ شمال کو قدرے جھُکے ہوئے اور شریعت پر زیادت کی اجازت نہیں اور اگر اُن لوگوں کا کہنا فرض کرلیا جائے کہ وہ جانبِ شمال ہی ہیں تو فقط استقبال ہی بے ادبی نہیں بلکہ استدبار بھی۔ اب مشرق یا مغرب کو منہ کرنا تو یوں منع ہوا کہ کعبہ معظمہ کو منہ یا پیٹھ ہوگی اور جنوب وشمال کویوں منع ہواکہ بیت المقدس یا بغداد شریف کو رُویا پشت ہوگی تو قضائے حاجت کے وقت کسی طرف منہ کرنے کی اجازت نہ رہی۔ یہ کیونکر ممکن۔ ہر جہت کا حکم اُس کے دونوں پہلوؤں میں ۴۵، ۴۵ درجے تک رہتا ہے جس طرح نماز میں استقبالِ قبلہ، تو تمام آفاق کا احاطہ ہوگیا اور قضائے حاجت کی کوئی صورت نہ رہی۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۶: از ادھ نگلہ ڈاکخانہ اچھنیرہ ضلع آگرہ مسئولہ جناب محمد صادق علی خان صاحب    رمضان ۱۳۳۰ھ

بچّوں کے گلے میں بچّوں کے ماں باپ بچّوں کی حفاظت کے لئے چھوٹی حمائل شریف ٹین کے تعویذ میں اور اُوپر اُس کے کپڑا پاک چڑھا کر ڈالتے ہیں غرض بہت احتیاط سے یہ کام ہوتا ہے یا فقط ایک دو آیت، بچّے پاخانے میں جاتے ہیں طرح طرح کی بے ادبیاں ظہور میں آتی ہیں یہ کام شرع میں جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا۔
الجواب تعویذ موم جامعہ وغیرہ کرکے غلاف جُداگانہ میں رکھ کر بچّوں کے گلے میں ڈالنا جائز ہے اگر چہ اُس میں بعض آیاتِ قرآنیہ ہوں اور اس احتیاط کے ساتھ پاخانے میں لے جانا بھی جائز ہے، ہاں افضل احتراز ہے، درمختار میں ہے:
رقیۃ فی غلاف متجاف لم یکرہ دخولالخلاء بہ والاحتراز افضل ۱؎
غلاف میں لپٹے ہوئے تعویذ کے ساتھ بیت الخلاء میں داخل ہونا مکروہ نہیں البتہ بچنا افضل ہے (ت)
 (۱؎ دُرمختار    کتاب الطہارۃ     مطبوعہ مجتبائی دہلی   ۱/۳۴)
ردالمحتار میں ہے: الظاھر ان المراد بھامایسمونہ الاٰن بالھیکل والحمائل المشتمل علی الاٰیات القراٰنیۃ فاذاکان غلافہ منفصلا عنہ کالمشمع ونحوہ جاز دخول الخلاء بہ ومسہ وحملہ للجنب ۲؎۔
ظاہر یہ ہے کہ اس سے مراد وہ چیز ہے جسے آج کل ہیکل یا حمائل کہتے ہیں اور وہ آیاتِ قرآنیہ پر مشتمل ہوتی ہے جب اس کا غلاف الگ ہو جیسے موم جامعہ وغیرہ تو اس کے ساتھ بھی بیت الخلا میں داخل ہونا جائز ہے، نیزجنبی آدمی کا اسے ہاتھ لگانا اور اٹھانا بھی جائز ہے۔ (ت)
 ( ۲؎ ردالمحتار ، مطلب یطلق الدعاء علٰی مایشتمل الثناء ، مطبوعہ مجتبائی دہلی، ۱/۱۳۱)
بے ادبیوں کی احتیاط کی جائے پھر یہ امر مانع انتفاع نہیں کہ پہنانے والوں کی نیت تبرک ہے۔
وانما الاعمال بالنیات ۳؎ وقد کتب امیرالمؤمنین عمر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ علی افخاذاھل الصدقۃ حبیس فی سبیل اللّٰہ۔
اعمال (کے ثواب) کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اونٹوں کی رانوں پر لکھا ''اللہ کی راہ میں روکا ہوا''۔ (ت)
(۳؎ صحیح البخاری    باب کیف کان بدء الوحی الٰی رسول اللہ    مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/۲)
اس مقصد کی تفصیل ہمارے رسالہ الحرف الحسن فی الکتابۃ علی الکفن میں ہے مگر تعویذ پر قرآن عظیم ومصحف کریم کا قیاس نہیں ہوسکتا۔

اوّلاً :قرآن مجید اگرچہ دس۱۰ غلافوں میں ہو پاخانے میں لے جانا بلاشبہہ مسلمانوں کی نگاہ میں شنیع اور اُن کے عرف میں بے ادبی ٹھہرے گا اور ادب وتوہین کا مدار عرف پر ہے تعویذ کہ بعض آیات پر مشتمل ہو وہ آیات ضرور قرآن عظیم ہیں مگر اُسے تعویذ کہیں گے نہ قرآن، جیسے کتاب نحوکہ امثلہ قواعد میں آیاتِ قرآنیہ پر مشتمل، اُس کے لئے کتاب نحو ہی کا حکم ہوگا نہ کہ مصحف شریف کا۔ مصحف شریف دارالحرب میں لے جانا منع ہے اور کتاب لے جانے سے کسی نے منع نہ کیا مصحف کے پٹھے کو بے وضو چھونا حرام اور اُس کتاب کے ورق کو بھی چھُونا جائز۔

ثانیاً :اُس کا ٹین میں رکھ کر بند کردینا یا موم جامے یا کپڑے ہی کے غلاف میں سی دینا یہ خود خلافِ شرع ہے کہ اُس کی تلاوت سے منع ہے ائمہ سلف تو غلافِ مصحف شریف میں بند لگانے کو مکروہ جانتے تھے کہ بند باندھنا بظاہر منع کی صورت ہوگا تو یوں ٹین وغیرہ میں رکھ کر ہمیشہ کیلئے سی دینا کہ حقیقۃً منع ہے کس درجہ مکروہ ومورد شنع ہے۔ تبیين الحقائق میں فرمایا:
کان المتقدمون یکرھون شد المصاحف واتخاذ الشَّدِّ لَھا لئلا یکون فی صورۃ المنع فاشبہ الغلق علی باب المسجد ۱؎۔
متقدمین، قرآن پاک کو (کسی چیز میں) بند کردینے اور انہیں بند کرنے کا طریقہ اختیار کرنے کو مکروہ سمجھتے تھے تاکہ (اس سے) روکنے کی صورت نہ پیدا ہو تو اس طرح وہ مسجد کا دروازہ بند کرنے کے مشابہ ہوجائے گا (ت)
 (۱؎ تبیين الحقائق    فصل کرہ استقبال القبلۃ بالفرج الخ    مطبوعہ بولاق مصر    ۱/۱۶۸)
ثالثاً :قرآن عظیم چھوٹی تقطیع پر لکھنا حمائل بنانا شرعاً مکروہ ناپسند ہے، امیر المومنین عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ایک شخص کے پاس قرآن مجید باریک لکھا ہُوا دیکھا اسے مکروہ رکھا اور اس شخص کو مارا اور فرمایا عظموا کتاب  اللّٰہ۔  رواہ ابو عبید فی فضائل القراٰن کتاب اللہ کی عظمت کرو۔(ابو عبید نے اسے فضائل قرآن میں روایت کیا۔ ت)

امیر المومنین علی کرم اللہ وجہہ الکریم مصحف کو چھوٹا بنانا مکروہ رکھتے رواہ عنہ عبدالرزاق فی مصنّفہ وبمعناہ ابوعبید فی فضائلہ (عبدالرزاق نے اسے اپنے مصنّف میں روایت کیا، اور ابوعبید نے فضائل میں اس کا مفہوم نقل کیا ہے۔ ت) اسی طرح ابراہیم نخعی نے اسے مکروہ فرمایا  رواہ ابن ابی داؤد فی المصاحف (ابن داؤد نے اسے مصاحف میں بیان کیا۔ت)
درمختار میں ہے: یکرہ تصغیر مصحف ۵؎
 (قرآن پاک کو چھوٹی تقطیع میں لانا مکروہ ہے۔ ت)
 (۵؎ درمختار    کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع    مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۲/۲۴۵)
ردالمحتار میں ہے: ای تصغیر حجمہ ۶؎
 (یعنی اس کا حجم چھوٹا کرنا۔ ت)
 (۶؎ ردالمحتار        کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع     مصطفی البابی مصر    ۵/۲۴۷)
تو اس قدر چھوٹا بنانا کہ معاذ اللہ ایک کھلونا اور تماشہ ہوکس طرح مقبول ہوسکتا ہے اور وہ جری لوگ یہ فعل مردود نہیں تعویذوں کی خاطر کرتے ہیں اگر مسلمان ان کو تعویذ نہ بنائیں تو کیوں خریدیں اور نہ خریدیں تو وہ کیوں اسے چھاپیں تو ان کا تعویذ بنانا ان کے اُس فعل کا باعث ہے اور اُس کے ترک میں اُس کا انسداد تو اس کا تعویذ بنانا ضرور مستحق الترک ہے اس دلیل کی تفصیل جلیل ہمارے رسالہ الکشف الشافیافی حکم فونوجرافیا میں ہے واللہ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter