Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۴(کتاب الطہارۃ)
120 - 2323
مسئلہ ۲۲۷ و ۲۲۸: مسئولہ معرفت آدم جی سیٹھ مقیم بر دردولت اعلحٰضرت قبلہ۔    شنبہ یکم شعبان ۱۳۳۴ھ

(۱) عورت بعد پیشاب کلوخ لے یا صرف پانی سے استنجا کرے۔

(۲) بعد پیشاب حالت کلوخ میں سلام کرنا یا سلام کا جواب یا کلوخ کرتے ہوئے کو سلام کرنا کیسا ہے؟
الجواب

(۱) دونوں کا جمع کرنا افضل ہے اور اس کے حق میں کلوخ سے کپڑا بہتر ہے۔

(۲) نہ اُس پر سلام کیا جائے نہ وہ سلام کرے اور نہ جواب دے واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۹: ازمقام بھوٹا بھوٹی بسورٹولانڈ ملک افریقہ مرسلہ حاجی اسمٰعیل میاں صاحب حنفی قادری ابن امیر میاں    ۲۳ صفر ۱۳۳۲ھ

مسلمان کو کھڑے ہوکر پیشاب کرنا جائز ہے یا نہیں۔ زید کہتا ہے بلند مکان پر جائز ہے۔
الجواب :کھڑے ہوکر پیشاب کرنا مکروہ سنّتِ نصارٰی ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے:
من الجفاء ان یبول الرجل قائما ۱؎
بے ادبی وبدتہذیبی ہے یہ کہ آدمی کھڑے ہوکر پیشاب کرے۔ رواہ البزار بسند صحیح عن بریدۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ (اسے بزار نے بسند صحیح حضرت بریدہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔ ت) اس کی پُوری تحقیق مع ازالہ اوہام ہمارے فتاوٰی میں ہے واللہ تعالٰی اعلم۔
 (۱؎ کشف الاستار عن زوائد البزار    باب مانہی عنہ فی الصلوٰۃ حدیث ۵۴۷    موسسۃ الرسالۃ بیروت ۱/۲۶۶)
سوال دوم۲۳۰: بعد فراغت جائے ضرور کے کاغذ سے استنجا پاک کرنا جائز ہے یا نہیں۔ زید کہتا ہے ریل گاڑی میں درست ہے۔
الجواب : کاغذ سے استنجا کرنا مکروہ وممنوع وسنّتِ نصارٰی ہے کاغذ کی تعظیم کا حکم ہے اگرچہ سادہ ہو، اور لکھا ہوا ہو تو بدرجہ  اولٰی۔ دُرمختار میں ہے کرہ تحریما بشیئ محترم ۲؎ (کسی قابلِ احترام چیز کے ساتھ (استنجا) مکروہ تحریمی ہے۔ ت)
(۲؎ درمختار  فصل الاستنجاء   مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۱/۵۶)
ردالمحتار میں ہے: یدخل فیہ الورق قال فی السراج قیل انہ ورق الکتابۃ وقیل ورق الشجر وایھما کان فانہ مکروہ اھ واقرہ فی البحر وغیرہ والعلۃ فی ورق الشجر کونہ علفا للدواب اونعومتہ فیکون ملوثا غیر مزیل وکذا ورق الکتابۃ لصقالتہ وتقومہ ولہ احترام ایضا لکونہ الۃ لکتابۃ العلم ولذا عللہ فی التاترخانیۃ بان تعظیمہ من ادب الدین ونقلوا عندنا ان للحروف حرمۃ ولومقطعۃ وذکر بعض القراء ان حروف الھجاء قراٰن انزلت علی ھود علیہ الصلوٰۃ والسلام ۱؎۔
اس میں کاغذ بھی داخل ہے سراج میں فرمایا کہا گیا ہے کہ وہ کتابت کا ورق (کاغذ) ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے درخت کا ورق (پتّا) مراد ہے جو بھی ہو مکروہ ہے اھ بحرالرائق وغیرہ میں بھی اسے برقرار رکھا گیا ہے درخت کے پتّے (مکروہ ہونے کی) علّت اس کا جانوروں کے لئے چارہ ہونا یا اس کی نرمی ہے پس یہ ملوث کرنے والا ہے (نجاست کو) دُور کرنیوالا نہیں اسی طرح کاغذ، صاف اور قیمتی ہونے کی وجہ سے مکروہ تحریمی ہے، نیز وہ قابلِ احترام ہے کیونکہ وہ کتابت علم کا آلہ ہے اسی لئے تتارخانیہ میں اس کی علت یوں بیان کی ہے کہ اس کی تعظیم آداب دین سے ہے (فقہاءِ کرام) نے نقل کیا ہے کہ ہمارے نزدیک حروف کی عزّت ہے اگرچہ وہ کٹے ہوئے ہوں بعض قراء نے فرمایا کہ حروفِ تہجی بھی قرآن ہیں جو حضرت ہُود علیہ السلام پر نازل ہوئے۔ (ت)

اور ریل کا عذر صرف زید ہی کو لاحق ہوتا ہے اور مسلمانوں کو کیوں نہیں ہوتا، کیا ڈھیلے یا پرانا کپڑا نہیں رکھ سکتے، ہاں سنّتِ نصارٰی کا اتباع منظور ہو تو یہ قلب کا مرض ہے دواچاہئے واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۱: از قصبہ واساواڑ ضلع کاٹھیا واڑ مرسلہ سید احمد صاحب پیش امام     ۲۴ ربیع الاول ۱۳۳۶ھ

ایک شخص نے بعد پیشاب کلوخ لیا اور استنجا کرنا بھُول گیا بعد اس کے نماز اداکرلی یا ادائیگی نماز یا بعد نماز یاد آیا کہ میں استنجا بھُول گیا، نماز ہوگئی یا اعادہ کرنا چاہئے۔
الجواب؛ اگر پیشاب روپے بھر سے زیادہ جگہ میں نہ پھیلا تھا تو صرف ڈھیلا طہارت کیلئے کافی ہے نماز ہوگئی اور اگر روپے بھر سے زائد جگہ میں پھیل گیا تھا تو ڈھیلے سے طہارت نہیں ہوسکتی پانی سے دھونا فرض ہے اگر نماز میں یاد آئے فوراً جُدا ہوجائے اور استنجا کرے اور مستحب یہ ہے کہ اس کے بعد وضوء بھی پھر کرے اور نماز پھر پڑھے اور اگر نماز کے بعد یا د آیا تو اب استنجاء کر کے دوبارہ پڑھے واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۲: از موضع چُپڑا ڈاک خانہ باسی ضلع پورینہ مرسلہ کلیم الدّین    ۲۵ ربیع الاول ۱۳۳۶ھ

پیشاب کرکے اُسی جلسہ میں بغیر کلوخ کے استنجا کرنا صرف پانی سے درست ہے یا نہیں؟ یا کلوخ سے لینا شرط ہے۔ بعض علماء فرماتے ہیں کہ رسول مقبول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بغیر کلوخ کے صرف پانی سے استنجا اُسی جلسہ میں کرتے تھے ہم لوگوں کے واسطے کیوں ناجائز ہوگا؟
الجواب:  ناجائز نہیں ہے صرف افضل ہے کہ ڈھیلے کے بعد پانی ہو اور بغیر ڈھلے کے اُسی جلسہ میں ہوتو اقویا کے لئے جن کو قطرہ آنے کا اندیشہ نہ ہو یا جن کو قطرہ حرارت سے آتا اور پانی سے بند ہوجاتا ہو ان کے لئے کوئی حرج نہیں ورنہ ناجائز ہے کہ استبرا واجب ہے یعنی وہ فعل کرنا کہ اطمینان ہوجائے کہ اب قطرہ نہ آئے گا واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۳: از کاٹھیاوار گونڈل مرسلہ سیٹھ عبدالستار صاحب قادری برکاتی رضوی۹جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ

یہاں مسجد جامع میں پیشاب خانے اس طرح بنے ہوئے ہیں کہ استنجے کے وقت آدمی کا رُخ مشرق اور پُشت مغرب کی طرف ہوتی ہے یہ کیسا ہے باجود چند علماء کے منع کرنے کے بھی اہل محلہ بے پرواہی کرکے ایسے پیشاب خانے بدلنے کی کوشش نہیں کرتے ان کے حق میں کیا حکم ہے، نیز اُس شخص کے لئے جو ہمیشہ ان پیشاب خانوں میں مشرق کی طرف مُنہ اور مغرب کی طرف پشت کرکے پیشاب وغیرہ کرتا ہو اس کی امامت جائز ہے یا نہیں؟
الجواب: پیشاب کے وقت مُنہ نہ قبلہ کو ہونا جائز ہے نہ پشت، جو لوگ ایسا کریں خطاکار ہیں مہتممین مسجد یا اہلِ محلّہ پر واجب ہے کہ اُن کا رُخ جنوباً شمالاً کریں اور جب تک ایسا نہ ہو پیشاب کرنے والوں پر لازم ہے کہ رُخ بدل کر بیٹھیں ممکن ہے کہ جو لوگ واقف ہوں وہ ایسا ہی کرتے ہوں مسلمان پر نیک گمان چاہئے صرف اتنی وجہ سے اُن کی امامت ناجائز نہیں کہی جاسکتی واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۴:مسئولہ شاہ محمد از دار العلوم منظر اسلام

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید دروقت خشک کردن استنجا برعمرو سلام علیک گفت آیا عمروکہ استنجا خشک میکند جواب سلام زید رابدہد یانہ واگر دہدچہ گناہ ست واگر گناہ ست دلیل چیست۔

زید نے استنجا خشک کرتے وقت عمرو کو سلام کیا، کیا عمرو، جو استنجا خشک کررہا ہے زید کے سلام کا جواب دے یا نہ؟ اگر دے تو گناہ ہے اور اگر گناہ ہے تو اس کی دلیل کیا ہے؟ (ت)
الجواب: اوبیچنان ست کہ بہ کسے ہنگام کمیزاندا ختنش سلام کنی کہ خشک کردن نمود مگر بسبب بقائے قطرات بول واللہ تعالٰی اعلم۔

وہ ایسے ہی ہے جیسے کہ تم کسی کو پیشاب کرتے وقت سلام کہو کیونکہ خشک کرنا اسی وقت ہوتا ہے جب پیشاب کے قطرے باقی ہوں۔ (ت)
مسئلہ ۲۳۵: از چوہرکوٹ بارکھان ملک بلوچستان مرسلہ قادر بخش صاحب    ۱۴ ربیع الاول شریف ۱۳۳۷ھ

چہ می فرماند علمائے دین دریں مسئلہ کہ شخص راعادت است کہ چوں ذکرادمی شپلد برسرآں بول برآید دمی ایستد رواں نمی گردداگر نمی شپلد برسرآں بول نمودار نشود آیا دریں صورت وضو اس شکستہ شودیانہ اگر دریں حالت وضو بشکند آیا صاحب عذر شودیانہ یا حکم است کہ اونہ شپلدونہ وسواس کند ہرگاہ کہ بول آید وضو بکند ہرچہ بگنجد بفرمایند اگر ایں عادت بود اووضو نمی کرد نمازہا خواندہ است آیا جملہ نماز باز گرداند یا معاف ست بیاعث حرج بسیار ازیں سوال بے ادبی معاف فرمایند۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص کی عادت ہے جب اس کا آلہ تناسل حرکت میں آتا ہے تو پیشاب اس کے (آلہ تناسل) کے سر کے اوپر آکر ٹھہر جاتا ہے جاری نہیں ہوتا اور اگر حرکت نہ کرے تو اس کے اوپر پیشاب ظاہر نہیں ہوتا کیا اس صورت میں اس کا وضو ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں، اگر اس حالت میں وضو ٹوٹ جائے تو کیا وہ معذور شمار ہوگا یا نہ؟ یا اسے نہ اچھلنے والے کا حکم دیاجائے اور کسی قسم کا وسوسہ نہ کرے جب پیشاب نکلے تو وضو کرے جو کچھ آنجناب فرمائیں۔ اور اگر اس کی یہ عادت تھی اور وضو کیے بغیر نمازیں پڑھتا رہا تو کیا تمام نمازیں لوٹائے یا زیادہ حرج کے باعث معاف ہے۔ سوال کرنے پر بے ادبی سے معاف فرمائیں۔ (ت)
الجواب :کمیزتا آنکہ برلب عضو برنیاید وضو بجائے خودست نماز ہاکہ ایں چناں گزاردہ ست بے خلل ست فشردن عضو پس ازبول سنّت بیش نیست اگر میداندکہ ہربارکہ می فشرد چیزے برمی آید ومنقطع نمی شود واگر نفشرد برنیاید آنگاہ اور افشردن بکار نیست ہمچناں وضو کردہ نماز گزار دو وسوسہ رابدل رانہ ندہد واللہ تعالٰی اعلم۔
پیشاب جب تک عضو کے کنارے پر نہ آئے وضو قائم ہے جو نمازیں اس حال میں پڑھی ہیں ان میں کوئی خرابی نہیں۔ پیشاب کے بعد عضو کو جھاڑنا صرف سنت ہے اس سے زیادہ (فرض یا واجب) نہیں، اگر سمجھتا ہوکہ جب بھی جھاڑے گا کچھ نہ کچھ باہر آئے گا اور پیشاب ختم نہیں ہوگا اور اگر نہیں جھاڑے گا تو نہیں آئے گا اس صورت میں جھاڑنے کی ضرورت نہیں۔ اسی طرح وضوکرکے نماز پڑھے اور دل میں کسی قسم کے وسوسہ کو جگہ نہ دے واللہ تعالٰی اعلم (ت)
مسئلہ ۲۳۶: شہر بریلی (دارالعلوم) منظر الاسلام مسئولہ مولوی حشمت علی صاحب طالب علم دارالعلوم مذکور	 ۹ ربیع الآخر ۱۳۳۷ھ۔

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک مسجد کا صحن اس طرح پر ہے کہ نصف حوض کے داہنے بائیں صحن مسجد ہے اور نصف کے اردگرد صرف زمین مقام الف میں اُس کے سیڑھیاں ہیں زید کو مرض ہے کہ اگر ڈھیلا لے کر فوراً علی الاتصال پانی سے استنجا پاک نہ کرے تو قطرہ آجاتا ہے اب وہ استنجا کرتا ہوا آیا ہے پانی حوض میں بہت نیچا ہوگیا ہے اور اِدھر اُدھر لوٹوں میں وضو کا بچا ہوا پانی رکھا ہے وہ مقام ب سے فصیل فصیل مقام الف تک ہاتھ میں درحالیکہ (درحالیکہ رضائی یا چادر وغیرہ اوڑھے ہو) جاکر پانی لاسکتا ہے یا نہیں۔نقشہ یہ ہے۔
4_7.jpg
الجواب: جبکہ حوض کی فصیل ہی پر گیا اور چادر اوڑھے ہے صحنِ مسجد میں قدم نہ رکھا، یوں جاکر پانی لے آیا اور غسل خانہ میں استنجا کیا تو اصلا کسی قسم کا حرج نہیں حوض وفصیل حوض مسجد سے خارج ہے ولہذا اس پر وضو واذان بلاکراہت جائز ہے واللہ تعالٰی اعلم
Flag Counter