| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۴(کتاب الطہارۃ) |
وفی الھدایۃ وعن ابی حنیفۃ وابی یوسف رضی اللّٰہ تعالٰی عنھما فی غیرروایۃ الاصول ان التأخیرحتم لان غالب الرأی کالمتحقق وجہ الظاھر ان العجز ثابت حقیقۃ فلایزول حکمہ الابیقین مثلہ ۲؎ اھ
ہدایہ میں ہے: ''امام ابوحنیفہ اور امام ابویوسف رضی اللہ تعالٰی عنہماسے غیرروایت اصول میں مروی ہے کہ مؤخّر کرنا لازم ہے اس لئے کہ غالب گمان، متحقق کی طرح ہے۔ ظاہر روایت کی وجہ یہ ہے کہ عجز حقیقۃً ثابت ہے تو اس کا حکم ویسے ہی یقین کے بغیرزائل نہ ہوگا اھ''۔
( ۲؎ الہدایہ باب التیمم مکتبہ عربیہ کراچی ۱/۳۶)
وعزاہ فی الحلیۃ لھا ولغیرھا والمسألۃ معلومۃ دوّارۃ فی المتون والشروح والفتاوی وھی تعطی قطعا ان رجاء القدرۃ فی الماٰل لایرفع العجز فی الحال باجماع اصحابنا فی روایات الاصول فیجب ان لایعد قادرا بالوعد وانما یؤمر بالانتظار استحبابا ان وقع الوعد قبل الصلاۃ وان وعد بعدھا لم یبطل صلاۃ صحت بیقین کمالوحصل لہ رجاء الوجدان آخر الوقت بعد ماصلی فان مالا یمنع التیمم وجودہ لایرفعہ حدوثہ حین حدث فضلا عماسبق اما الفرق بان القدرۃ علی الماء تثبت بالاباحۃ اجماعا فیجب الانتظار بخلاف غیرہ کثوب ودلو فلاتثبت عند الامام فیستحب وعندھما نعم فیجب فاقول الوعد لیس اباحۃ فی الحال بل ایراث رجائھا فی الماٰل فبون بین بین قولہ اعطیب وقولہ ساعطی۔
حلیہ میں اس پر ہدایہ اور دوسری کتاب کا بھی حوالہ دیا ہے۔ اور یہ مسئلہ معلوم ومعروف ہے متون، شروح اور فتاوٰی میں کثرت سے گردش کرنے والا ہے، اور اس سے قطعی طور پر یہ پتا چلتا ہے کہ مستبل میں قدرت کی امید، حال میں پائے جانے والے عجز کو ختم نہیں کرتی۔ اس پر روایات اصول میں ہمارے اصحاب کا اجماع ہے۔ تو ضروری ہے کہ وعدہ کی وجہ سے اسے قادر نہ شمار کیا جائے، صرف استحباباً اسے انتظار کا حکم دیا جائےگا اگر قبل نماز وعدہ ہُوا،اور اگر بعد نماز وعدہ ہُوا تو یہ ایک ایسی نماز کو باطل نہیں کرسکتا جو بالیقین صحیح ادا ہوئی جیسے اس صورت میں جب کہ ادائے نماز کے بعد آخر وقت میں اسے پانی ملنے کی امید پیدا ہوئی اس لئے کہ جس چیز کی موجودگی تیمم سے مانع نہیں ہوتی اس کا حدوث بوقت حدوث بھی تیمم کو ختم نہیں کرسکتا بوقت سابق ختم کرنا تو درکنار۔یہ فرق کہ پانی پر قدرت بالاجماع اباحت سے ثابت ہوجاتی ہے تو اس کا انتظار واجب ہے، دوسری چیز جیسے کپڑے اور ڈول کا یہ حال نہیں اس میں امام صاحب کے نزدیک اباحت سے قدرت ثابت نہیں ہوتی تو انتظار صرف مستحب ہے اور صاحبین کے نزدیک اس میں بھی قدرت ثابت ہوتی ہے تو انتظار واجب ہے (اس پر مجھے کلام ہے) فاقول وعدہ فی الحال اباحت نہیں بلکہ اس سے صرف آئندہ زمانہ میں امید پیدا ہوتی ہے۔ کسی کے یہ کہنے میں کہ ''میں نے دیا'' اور یہ کہنے میں کہ ''آئندہ دوں گا'' کھُلا ہوا فرق ہے۔ (ت)
اما ان الظاھر الوفاء فکان قادرا علی استعمال الماء ظاھرا فاقول الماء معدوم عندہ بعدولاقدرۃ علی المعدوم کیف وقد قال فی البحر فی مسألۃ من نسی الماء فی رحلہ ھذا لانہ لاقدرۃ بدون العلم لان القادر علی الفعل ھو الذی لواراد تحصیلہ یتأتی لہ ذلک ولاتکلیف بدون القدرۃ ۱؎ اھ ومعلوم ان الموعود لہ لیس الامر بیدہ حتی یتأتی لہ تحصیل الوضؤ بارادتہ بل ھو بید الواعد فلم تثبت القدرۃ۔
اب رہی یہ بات کہ ظاہر وفائے وعدہ ہے تو ظاہراً پانی کے استعمال پر قادر ہوا فاقول (تو اس پر میں کہتاہوں کہ)پانی اس کے نزدیک اب بھی معدوم ہے اور معدوم پر قدرت نہیں۔یہ کیسے ہوسکتا ہے جبکہ البحرالرائق میں اپنے خیمہ یا کجاوہ میں رکھا ہُوا پانی بھُول جانے والے کے مسئلہ میں یہ لکھا ہے: ''یہ اس لئے کہ بغیرعلم کے قدرت نہیں اس لئے کہ فعل پر قادر وہی ہے کہ اگر اس فعل کو بروئے ثبوت لاناچاہے تو لاسکے اور قدرت کے بغیرکوئی مکلّف نہیں ہوتا''اھ یہ معلوم ہے کہ جس سے وعدہ کیا گیاہے معاملہ اس کے ہاتھ میں نہیں کہ وہ چاہے تو وضو کرے بلکہ یہ وعدہ کرنے والے کے ہاتھ میں ہے تو قدرت ثابت نہ ہوئی۔ (ت)
(۱؎ البحرالرائق باب التیمم مکتبہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ /۱۶۰)
فان قلت الیس اذا اعطاہ بعد الصلاۃ بلا اباء بطلت فقد عد بالعطاء اللاحق قادرا فی السابق وسیاتی التصریحبہ عن الزیادات وجامع الکرخی والبدائع والحلیۃ انہ ظھر انہ کان قادرا لان البذل بعد الفراغ دلیل البذل قبلہ ۲؎ اھ مع ان الماء کان معدوماعندہ اذذاک والمعدوم غیرمقدور فلم لایجعل قادرابالوعدوان کان الماء معدوما عندہ بعد بل ھذا اولی لانہ علی شرف الحصول امامامضی فلایمکن ان یجعل غیرالحاصل فیہ حاصلا۔
اگر یہ سوال ہوکہ کیا ایسا نہیں کہ جب بعد نماز اسے بلا انکار دے دے تو نماز باطل ہوگئی، اس سے ظاہر ہوا کہ بعد میں دینے سے سابق میں اس کو قادر شمار کیا گیا۔ اس کی تصریح زیادات، جامع کرخی، بدائع اور حلیہ کے حوالوں سے آرہی ہے کہ ''ظاہر ہوگیا کہ وہ قادر تھا اس لئے کہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد دے دینااس بات کی دلیل ہے کہ پہلے بھی دے دیتا''۔ اھ۔ باوجودیکہ پانی اس وقت اس کے پاس معدوم تھا اور معدوم مقدور نہیں۔ تو وعدے کی وجہ سے بھی اس کو قادر کیوں نہ قرار دیا جائے اگرچہ اس کے پاس پانی اب بھی معدوم ہے۔ بلکہ یہبدرجہ اَولٰی ہوگا اس لئے کہ وہ آئندہ حصول کی راہ میں ہے اور جو زمانہ گزر چکا اس میں تو غیرحاصل کو حاصل بنانا ممکن ہی نہیں۔ (ت)
(۲؎ البدائع الصنائع باب التیمم مکتبہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱/۴۹)
اقول: وباللّٰہ التوفیق لیست القدرۃ المانعۃ للتیمم بمعنی الاستطاعۃ فانھا لاتکون قبل الفعل وان کان الماء بکفہ بل(۱) بمعنی سلامۃ الاسباب والاٰلات بحیث لایبقی شیئ ممایتوقف علیہ تحصیل الماء خارجا عن قبضتہ فیکون قادرا بمعنی ان تحصیلہ بیدہ ویشترط مع ذلک عدم الحرج فمن بعد الماء عنہ میلا وھو قادر علی المشی فقد سلمت لہ الاسباب وعد عاجزا للحرج ثم غالب الظن کالیقین الاتری ان من ظن قرب الماء عدقادرا علیہ مع انہ لایعلمہ حقیقۃ والظن ربما یخطی اذاعلمت ھذا فمن اُعطی لاحقا حصل لہ الظن علی العطاء سابقالو سأل فثبت ظنا وھو کالثبوت یقیناانہ کان قادرا اذذاک علی تحصیل الماء بالسؤال فکان قادرا علی الماء لان القدرۃ الحسیۃ بالعطاء وماکان بینہ وبینالعطاء الا السؤال کماظھر بالبذل اللاحق بالسؤال وان کان بدون سؤال فبالاولی وقد کان السؤال بیدہ وترکہ عالما بالماء عندہ فکان کمن یکون علی راس البئر وفیھا ماء وبیدہ الدلو والرشاد وھو قادر علی الاستقاء فترک وتیمم وبالجملۃ ظھر بالبذل اللاحق انہ لواراد تحصیلہ سابقا لتأتی لہ لعدم توقفہ الاعلی سؤالہ المقدورلہ وھذاھو معنی القدرۃ بخلاف الموعودلہ فان التوقف ھھنا علی الوفاء ولیس الوفاء بیدہ فقد ظھر الفرق والحمدللّٰہ ربّ العٰلمین۔
میں اس کے جواب میں کہوں گا اور خدا ہی سے توفیق ہے، وہ قدرت جو تیمم سے مانع ہے بمعنی استطاعت نہیں۔ اس لئے کہ یہ تو فعل سے پہلے ہوتی ہی نہیں اگرچہ پانی اس کی ہتھیلی میں ہی کیوں نہ ہو۔ بلکہ یہ قدرت بمعنی سلامتِ اسباب وآلات ہے اس طرح کہ جتنی چیزوں پر تحصیل آب موقوف ہے ان میں سے کوئی بھی اس کے قبضہ سے باہر نہ رہ جائے تو وہ قادر ہوگا اس معنی میں کہ اس کی تحصیل اس کے ہاتھ میں ہے۔ اُس کے ساتھ یہ شرط بھی ہوگی کہ حرج نہ ہو کیونکہ پانی جس سے ایک میل دُور ہے اور اسے چلنے کی قدرت بھی ہے تو اس کیلئے سلامت اسباب تو موجود ہے پھر بھی حرج کے باعث اسے عاجز شمار کیا گیا۔ یہ بھی ملحوظ رہے کہ غالب ظن، یقین کی طرح ہے۔ دیکھیے جسے پانی قریب ہونے کا ظن ہو اسے پانی پر قادر شمار کیا گیا ہے حالانکہ حقیقۃً اسے پانی کا علم نہیں۔ اور ظن تو بارہا غلط بھی ہوتا ہے۔ جب یہ سب معلوم ہوگیا تو اب دیکھئے جسے بعد میں پانی دے دیاگیا اسے یہ گمان حاصل ہوا کہ اگر مانگتا تو وہ پہلے بھی دے دیتا تو ظناً ثبوت ہوا۔ اور یہ یقیناثبوت کی طرح ہے۔ کہ وہ اس وقت کے سوال کے ذریعہ تحصیل آب پر قادر تھا۔ تو وہ پانی پر قادر ہوا اس لئے کہ حسّی قدرت تو دینے ہی سے ہوتی ہے۔ اور اس کے اور دینے کے درمیان صرف سوال ہی کا فاصلہ تھا۔ جیسے اس کا قادر ہونا بعد میں سوال پر دینے سے ظاہر ہوتا ہے اور بغیرسوال دیناہو تو بدرجہ اولٰی۔ اور سوال اس کے ہاتھ میں تھا جسے اس نے ترک کردیا جبکہ جانتا تھا کہ اس کے پاس پانی ہے تو یہ اس شخص کی طرح ہوا جو کسی کُنویں پر ہو جس میں پانی بھی ہے اور اس کے ہاتھ میں ڈول رسّی موجود ہے، پانی کھینچنے پر قدرت بھی ہے مگر اس نے پانی نہ نکالا اور تیمم کرلیا۔ مختصر یہ کہ بعد میں دینے سے ظاہر ہوگیا کہ اگر وہ سابق میں پانی حاصل کرنا چاہتا تو میسر آجاتا کیونکہ وہ صرف اس کے مانگنے پر موقوف تھا اور مانگنا اس کی قدرت میں ضرور تھا۔ یہی قدرت کا معنٰی بھی ہے۔ بخلاف اس شخص کے جس سے پانی کا وعدہ ہوا اس لئے کہ یہاں موقوفی وفا پرر ہے اور وفا اس کے ہاتھ میں نہیں۔ اس بیان سے دونوں میں فرق واضح ہوگیا۔ اور ساری خوبیاں سارے جہانوں کے مالک خدا ہی کیلئے ہیں۔ (ت)
فان قلت الیس قد اوجبوا الطلب وابطلوا الصلاۃ قبلہ فیما اذاکان فی العمرانات اوقربھا مطلقا اوفی الفلاۃ وقد اخبر بقرب الماء اوظنہ بوجہ اٰخر من رؤیۃ خضرۃ وغیرھا کماقدمتہ فی خامس افادات شرح الحد الرضوی واثرت ثمہ عن الحلیۃ ان العلم بقرب الماء قطعا اوظاھراینزلہ منزلۃ کون الماء موجودا بحضرتہ فلایجوز تیممہ کمالایجوز مع وجودہ بحضرتہ ۱؎ اھ فکذلک ھھنا وان کان الماء معدوما ینزلہ ظن الوفاء لانہ ھو الظاھر من المسلم منزلۃ الموجود فلایجوزلہ التیمم۔
اگر یہ سوال ہوکہ کیا ایسا نہیں کہ فقہاء نے پانی تلاش کرنا واجب اور اس سے پہلے ادائے نماز کو باطل قرار دیا ہے جب وہ آبادی یا قربِ آبادی میں ہو تو مطلقاً بیابان میں ہو تو اس وقت جب اسے بتایا گیا ہو کہ پانی قریب ہے یا کسی دوسرے طریقہ مثلاً ہریالی وغیرہ دیکھ کر اسے گمان ہوا ہو جیسا کہ شرح تعریف رضوی کے افادہ پنجم میں اس کا بیان ہوچکا ہے اور وہاں حلیہ سے یہ بھی نقل ہوا ہے کہ ''پانی قریب ہونے کا قطعاً یا ظاہراً علم ہوجائے تو یہ پانی اس کے پاس موجود ہونے کی منزل میں لا اتارتا ہے تو اسے تیمم کرنا جائز نہیں ہوتا جیسے پاس موجود ہونے کی صورت میں جائز نہیں ہوتا'' اھ تو اسی طرح یہاں پانی اگرچہ معدوم ہے ظنِّ وفا اس لئے کہ مسلم سے وہی ظاہر ہے اسے موجود کی منزل میں لااتارے گا تو اس کے لئے تیمم جائز نہ ہوگا۔ (ت)
(۱؎ حلیہ)