| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۴(کتاب الطہارۃ) |
اقول: ای مساس لھذا بسبیۃ الفعل قائما انما ھو وجہ لترکہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم الابعاد المعتادلہ وفی ھذا ذکرہ فی فتح الباری فھذا یحتاج فی تسدیدہ الی ان یضم الیہ ماذکر المارزی والا بطل کما یحتاج ماذکر المارزی فی تاییدہ الی ان یضم الیہ ھذا کمافعلی ابن حجر والا ضعف۔
اقول: یہ بات کھڑے ہوکر پیشاب کرنے کا سبب کیسے بن گئی یہ تو نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے عادت کے مطابق دُور جانے کو چھوڑنے کی وجہ ہے۔ اسے انہوں نے فتح الباری میں ذکر کیا ہے پس یہ اپنی مضبوطی کے لئے اس بات کا محتاج ہے کہ جو کچھ مارزی نے ذکر کیا اسے بھی اس کے ساتھ ملایا جائے ورنہ یہ باطل ہوجائیگا جیسا کہ مارزی کا ذکر کردہ قول اپنی تائید کے لئے اس کے ملانے کا محتاج ہے جیسا کہ ابنِ حجر نے کیا ورنہ وہ کمزور رہ جائیگا۔ (ت)
ہشتم: قال ابوالقاسم عبداللّٰہ بن احمد بن محمود البلخی فی کتابہ المسمی بقبول الاخبار ومعرفۃ الرجال حدیث حذیفۃ ھذا فاحش منکر لانراہ الامن قبل بعض الزنادقۃ قال الامام العینی بعد نقلہ ھذا کلام سوء لایساوی سماعہ وھو فی غایۃ الصحۃ ۱؎ اھ ووقع للقاری عقب ذکر حدیث الحذیفۃ وانہ متفق علیہ قال الشیخ لوصح ھذا الحدیث لکان فیہ غنی عن جمیع ماتقدم لکن ضعفہ الدارقطنی والبھیقی والاظھر انہ فعل ذلک لبیان الجواز نقلہ الابھری ۲؎ اھ۔
ہشتم: ابو القاسم عبداللہ بن احمد بن محمود بلخی نے اپنی کتاب مسمی ''قبول الاخبار ومعرفۃ الرجال'' میں فرمایا کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی یہ روایت قبیح منکر ہے یہ بعض زندیق بیان کرتے ہیں امام عینی اسے نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں یہ بُرا کلام ہے اسے سننا صحیح نہیں جبکہ حدیث بالکل صحیح ہے اھ حضرت ملّا علی قاری روایت حذیفہ ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں یہ متفق علیہ ہے۔ شیخ فرماتے ہیں اگر یہ حدیث صحیح ثابت ہو تو اس میں پہلے بیان سے بے نیازی ہوگی۔ لیکن دارقطنی اور بہیقی نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ زیادہ ظاہر یہ ہے کہ آپ نے بیانِ جواز کے لئے ایسا کیا، اسے ابہری نے نقل کیا اھ (ت)
(۱؎ عمدۃ القاری باب البول قائماً وقاعداً مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ بیروت ۳/۱۳۶) (۲؎ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ باب آداب الخلاء فصل ثانی مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ۱/۳۶۳)
اقول: الشیخ ھو الامام ابن حجر العسقلانی وانما قال ھذا فی حدیث ابی ھریرۃ المار فلاادری ممن وقع ھذا التخلیط من الابھری اومن القاری۔
اقول: شیخ سے مراد امام ابنِ حجر عسقلانی میں اور انہوں نے یہ بات حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی گزشتہ حدیث کے بارے میں کہی ہے، پس میں نہیں جانتا کہ یہ گربڑا کس سے واقع ہوئی، ابہری سے یا ملّا علی قاری سے۔ (ت) اقول : وباللّٰہ التوفیق (میں اللہ تعالٰی کی توفیق سے کہتا ہوں) نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے ایک بار یہ فعل وارد ہُوا اور صحیح حدیث سے ثابت کہ روزِ نزولِ قرآن کریم سے آخر عمر اقدس تک عادتِ کریمہ ہمیشہ بیٹھ ہی کر پیشا ب فرمانے کی تھی اور صحیح حدیث سے ثابت ہوا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہوکر پیشاب کرنے کو جفا وبے ادبی فرمایا اور متعدد احادیث میں اس سے نہی وممانعت آئی تو واجب کہ ممنوع ہو اور انہیں احادیث کو اُن پر ترجیح بوجوہ ہو: اولاً : وہ ایک بار کا واقعہ حال ہے کہ صدگونہ احتمال ہے۔ ثانیاً :فعل وقول میں جب تعارض ہو قول واجب العمل ہے کہ فعل احتمال خصوص وغیرہ رکھتا ہے۔ ثالثاً :مبیح وحاظر جب متعارض ہوں حاظر مقدم ہے۔ ثمّ اقول: (پھر میں کہتا ہوں۔ ت) نفسِ حدیث حذیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ ان مقلدانِ نصرانیت پر رَد ہے وہاں کافی بلندی تھی اور نیچے ڈھال اور زمین گھورے کے سبب نرم کہ کسی طرح چھینٹ آنے کا احتمال نہ تھا سامنے دیوار تھی اور گھورا فنائے دار میں تھا نہ کہ گزرگاہ پسِ پشت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کو کھڑاکرلیا تھا اس طرف کا بھی پردہ فرمایا اس حالت میں پشت اقدس پر بھی نظر پڑنا پسند نہ آیا ان احتیاطوں کے ساتھ تمام عمر مبارک میں ایک بار ایسا منقول ہُوا، کیا یہ نئی روشن کے مدعی ایسی ہی صورت کے قائل ہیں سبحان اللہ کہاں یہ اور کہاں ان بے ادبوں کے نامہذب افعال اور اُن پر معاذاللہ حدیث سے استدلال لاحول ولاقوۃ الّا باللّٰہ العلی العظیم ع
کارِ پاکاں راقیاس ازخود مگیر
(پاک لوگوں کے کام کو اپنے اوپر قیاس نہ کرو)
؎ اوگمان بردہ کہ من کروم چواو
فرق راکے بیند آں استیزہ جو
(اس نے گمان کیا کہ میں نے اس جیسا عمل کیا، وہ بڑائی ڈھونڈنے والا فرق کب دیکھ سکتا ہے) واللہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۲۵: از موضع منصورپور متصل ڈاک خانہ قصبہ شیش گڈھ تحصیل بہیڑی ضلع بریلی مرسلہ محمد شاہ خان ۳۰ محرم ۱۳۳۱ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک لوٹا پانی سے استنجاء وضو درست ہے یا نہیں۔ بینوا توجروا۔
الجواب: اگر یہ مطلب ہے کہ استنجا کے بچے ہوئے کہ پانی سے وضو کیا جائے یا نہیں، تو جواب یہ ہے کہ حرج نہیں، اور اگر یہ مطلب ہے کہ اتنے تھوڑے پانی میں استنجا ووضو دونوں کر لینا تو جواب یہ ہے کہ استنجا میں تطہیر شرط ہے اتنا دھونا کہ بدن پر سے چکنائی جاتی رہے اور وضو میں بُنِ مو سے ٹھوڑی کے نیچے اور ایک کان سے دوسرے کان تک سارے منہ اور ناخنوں سے کہنیوں کے اوپر تک دونوں ہاتھ اور گٹّوں تک دونوں پاؤں ایک ایک بار دھونا فرض ہے اور تین تین بار سنّت یوں کہ اتنے جسم کے ایک ایک ذرّہ پر پانی بہتا ہوا گزرے اگر کوئی ذرّہ پانی بہنے سے رہ جائے گا اگرچہ بھیگا ہاتھ اُس پر گزر جائے تو وضو نہ ہوگا نماز نہ ہوگی اور اگر تین بار کامل ہر ہر ذرّہ پر نہ بہا تو سُنّت ادا نہ ہوگی اور ابتدائے وضو میں تین بار کلائیوں تک ہاتھ دھونا تین بار سارا دہن حلق کی جڑ تک دھونا تین بار ساری ناک میں اوپر تک پانی چڑھاناسنّت ہے اور ایک چُلّو پانی مسحِ سرکو چاہے۔ یہ سب باتیں بلاافراط وتفریط جتنے پانی میں ادا ہوجائیں اُسی قدر درکار ہے لوٹے دو لوٹے کی کوئی تخصیص نہیں۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۶: از ضلع ناگپور ڈاکخانہ محلہ نیابازار حافظ محمد اکبر بروزشنبہ ۲۴ رجب ۱۳۳۴ھ
چہ می فرمایند علمائے دینِ متین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دریں مسئلہ کہ بیعت کردن یعنی مرید شدن بدست اشر فعلی دیوبندی بہ کاغذات جائز ست یا نہ۔
اور ان کے رسالوں پر علانیہ عمل کریں یا استنجا کرکے پھینک ڈالیں بقول فقہاء کے
یجوز الاستنجاء باوراق المنطق
(منطق کے مکتوب اوراق سے استننجا جائز ہے۔ ت) اور یہ رسالے منطق سے بھی زیادہ خراب ہیں۔ بینوا توجروا۔
الجواب: اشرفعلی کے ہاتھ پر بیعت حرام قطعی ہے بالمشافہہ ہو خواہ بذریعہ تحریر بلکہ بعیت درکنار علمائے حرمین طیبین نے بالاتفاق تحریر فرمایا: من شک فی عذابہ وکفرہ فقدکفر۔ جو اس کے اقوال پر مطلع ہوکر اُس کے کفر میں شک کرے وہ خود کافر۔ اشرفعلی اور تمام دیوبندی عقیدے والوں کی کتابیں کتب منطق بلکہ ہنود کی پوتھیوں سے بدتر ہیں کہ انہیں دیکھ کر مسلمان کے بگڑنے کی اتنی توقع نہیں جو ان کتابوں سے ہے ان کا دیکھنا بیشک حرام ہے مگر وہ کہ ان کے ورقوں سے استنجا کیا جائے یہ زیادتی ہے اور بعض فقہاء کا وہ لکھ دینا مقبول نہیں حروف کی تعلیم لازم ہے کہ نہ انکی کتابیں کہ ان کی کتابوں میں قال اللہ وقال الرسول بھی ہے جس سے وہ عوام کو دھوکا دیتے ہیں ایک امام کا بعض نوجوانوں پر گزر ہُوا جنہوں نے نشانہ پر ابوجہل کا نام لکھ کر لگایا اور اس پر تیر اندازی کررہے تھے امام نے انہیں منع فرمایا جب اُدھر سے واپس تشریف لائے ملاحظہ فرمایا کہ اُنہوں نے نامِ ابوجہل کے حروف متفرق کردیے اب ان پر تیر لگارہے ہیں فرمایا میں نے تمہیں نامِ ابوجہل کی تعظیم کو نہ کہا تھا بلکہ حروف کی تعظیم کو۔ واللہ تعالٰی اعلم۔