Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۴(کتاب الطہارۃ)
118 - 2323
اقول: معلوم ان حدیث حذیفۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ لم یکن فی اٰخر عمرہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم وقدرأتہ ام المؤمنین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا واطلعت علی افعالہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم الی یوم لحق اللّٰہ عزوجل وانما یؤخذ بالاٰخر فالاٰخر من افعالہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم فکون کل اخبربما شاھد لایمنع النسخ اذاعلمنا ان احدی المشاھدتین متأخرۃ مستمرۃ والحاوی علی حکم النسخ ماصح من قولہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم انہ من الجفاء ۳؎ وقدکان صلی اللّٰۃ تعالٰی علیہ وسلم ابعد الناس عنہ۔
اقول: یہ بات معلوم ہے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی روایت نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے آخری دَور کی نہیں جبکہ حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالٰی عنہا نے آپ کو وصال تک دیکھا اور آپ کے افعال مبارکہ پر مطلع رہیں اور آخری عمل کو اپنایا جاتا ہے لہذا آپ کے بھی آخری فعل پر عمل ہوگا۔ بنا بریں ہر ایک کا اپنے مشاہدے کے مطابق خبر دینا نسخ کو منع نہیں کرتا جب ہمیں معلوم ہوجائے کہ دو مشاہدوں میں سے ایک متاخر بھی ہے اور جاری بھی اور حکمِ نسخ پر آپ کا وہ قول حاوی ہوگا جو صحیح طور پر ثابت ہے کہ یہ ظلم ہے اور نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم لوگوں سے بڑھ کر اس سے پرہیز کرتے تھے۔ (ت)
 (۳؎ عمدۃ القاری    باب البول قائماً وقاعداً   ادارۃ الطباعۃ المنیریہ بیروت    ۳/۱۳۵)
دوم: اُس وقت زانوائے مبارک میں زخم تھا بیٹھ نہ سکتے تھے۔ یہ ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہوا، حاکم ودارقطنی وبہیقی اُن سے راوی: ان النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم بال قائما من جرح کان بمابضہ ۱؎ لکن ضعفہ ھذان وابن عساکر فی غرائب مالک وتبعھم الذھبی فقال منکر۔
نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اس زخم کی وجہ سے جو زانو کے اندرونی طرف تھا کھڑے ہوکر پیشاب فرمایا۔ لیکن ان دونوں (دارقطنی اور بہیقی) اور ابن عساکر نے غرائب مالک میں اسے ضعیف قرار دیا اور ذہبی نے بھی ان کی اتباع کرتے ہوئے فرمایا یہ منکر ہے۔ (ت)
 (۱؎ المستدرک علی الصحیحین    البول قائماً اوقاعداً    مطبوعہ دارالفکر بیروت لبنان    ۱/۱۸۲)

(السنن الکبرٰی للبیہقی    باب البول قائما    مطبوعہ دار صادر بیروت        ۱/۱۰۱)
سوم: وہاں نجاسات کے سبب بیٹھنے کی جگہ نہ تھی امام عبدالعظیم زکی الدین منذری نے اس کی ترجی کی۔
قال العینی قال المنذری لعلہ کانت فی السباطۃ نجاسات رطبۃ وھی رخوۃ فخشی ان یتطایر علیہ قال العینی قیل فیہ نظرلان القائم اجدر بھذہ الخشیۃ من القاعد وقال الطحاوی لکون ذلک سھلا ینحدر فیہ البول فلایرتد علی البائل ۲؎ اھ
عینی نے کہا منذری کہتے ہیں شاید ڈھیری میں تر نجاستیں تھیں اور وہ نرم تھیں اور آپ کو ملوث ہونے کا ڈر ہوا۔ امام عینی فرماتے ہیں کہا گیا ہے کہ یہ بات محلِ نظر ہے کیونکہ کھڑا ہونے والا بیٹھنے والے کی نسبت اس ڈر کے زیادہ لائق ہے۔ امام طحاوی فرماتے ہیں زمین کے نرم ہونے کی وجہ سے پیشاب اس میں اُتر جاتا ہے اور پیشاب کرنے والے کی طرف نہیں لَوٹتا اھ (ت)
(۲؎ عمدۃ القاری    باب البول قائماً وقاعداً    مطبوعہ  ادارۃ الطباعۃ المنیریہ بیروت    ۳/۱۳۶)
اقول: انما اتجہ ھذا علی المنذری لزیادتہ خشیۃ التطایر ولوقال کماقلت لسلم قفد تکون مجمع نجاسات رطبۃ لایوجد معھا موضع جلوس ثم رأیت فی المرقاۃ قال قال السید جمال الدین قیل فعل ذلک لانہ لم یجد مکانا للقعود لامتلاء الموضع بالنجاسۃ ۱؎ اھ فھذا ماذکرت وھو الصواب فی الجواب۔
اقول :امام منذری اس تاویل کی طرف اس لئے متوجہ ہوئے کہ انہوں نے چھینٹے اُٹھ کر لگنے کا زیادہ ڈر محسوس کیا اور وہ ہمارے والی بات کہتے تو وہ اعتراض سے بچ جاتے کیونکہ جہاں تَر نجاستیں جمع ہوں وہاں بعض اوقات بیٹھنے کی جگہ نہیں ہوتی۔ پھر میں نے مرقاۃ میں دیکھا صاحبِ مرقاۃ فرماتے ہیں سید جمال الدین نے فرمایا کہا گیا ہے آپ نے ایسا اس لئے کیا کہ تمام جگہ نجاست سے بھری ہونے کی وجہ سے آپ کو بیٹھنے کی جگہ نہ ملی اھ پس یہ ہے جو کچھ میں نے ذکر کیا اور جواب میں یہی بہتر ہے۔ (ت)
 (۱؎ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ    باب آداب الخلاء فصل ثانی    مطبوعہ مکتبہ امدادیہ  ملتان ، ۱/۳۶۳)
چہارم: اُس میں ڈھال ایسا تھا کہ بیٹھنے کا موقع نہ تھا اسے ابہری وغیرہ نے نقل کیا۔
قال العینی قال بعضھم لانہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم لم یجد مکانا للقعود لکون الطرف الذی یلیہ من السباطۃ علیا مرتفعا ۲؎ اھ۔
عینی نے فرمايا بعض نے کہا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھنے کے لئے جگہ نہ پائی کیونکہ جس طرف آپ تھے ادھر سے ڈھیر بلند تھا اھ۔
 (۲؎ عمدۃ القاری ، باب البول قائماً وقاعداً ، مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت، ۳/۱۳۶)
وقال القاری فی المرقاۃ قال الابھری قیل کان مایقابلہ من السباطۃ عالیا ومن خلفہ منحدرا مستقلا لوجلس مستقبل السباطۃ سقط الٰی خلفہ ولوجلس مستدبرا لھا بدا عورتہ للناس اھ وقال بعد اسطر قیل فعل ذلک لانہ ان استدبر للسباطۃ تبدو العورۃ للمارۃ وان استقبلھا خیف ان یقع علی ظھرہ مع احتمال ارتداد البول الیہ ۳؎ اھ۔
حضرت ملّا علی قاری رحمہ اللہ نے مرقات میں فرمایا ابہری فرماتے ہیں کہا گیا ہے کہ آپ کے سامنے کی طرف ڈھیر بلند تھا اور پچھلی جانب جھُکا ہوا پست تھا اگر ڈھیر کی طرف منہ کرکے بیٹھتے تو پیچھے کی طرف گرپڑتے اور اُدھر پیٹھ کرکے بیٹھتے تو لوگوں کے سامنے ستر ننگا ہوتا اھ چند سطروں کے بعد فرمایا کہا گیا ہے آپ نے ایسا اس لئے کیا کہ اگر ڈھیر کی طرف پیٹھ کرتے تو گزرنے والوں کے سامنے ستر ننگا ہوتا اور اگر منہ اُدھر کرتے تو پیٹھ کے بل گرنے کا ڈر تھا اور اس کے ساتھ ساتھ آپ کی جانب پیشاب کے لَوٹنے کا احتمال بھی تھا اھ (ت)
 (۳؎ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ    باب آداب الخلاء فصل ثانی    مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان        ۱/۳۶۳)
اقول اولاًّ : فی ھذہ الزیادۃ ماعلمت ان القائم اجدربہ۔
اقول اول: ان تمام اضافوں سے معلوم ہوا کہ کھڑا ہونا زیادہ مناسب تھا۔
وثانیا:  لوکان مایستقبلہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم منھا عالیا مرتفعا لم یکن ان یختارہ لھذا لارتداد البول ح قطعا بل الصواب فیہماقال ابن حبان کمانقل عنہ فی فتح الباری انہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم لم یجد مکانا یصلح للقعود فقام لکون الطرف الذی یلیہ من السباطۃ کان عالیا فامن ان یرتد الیہ شیئ من بولہ ۱؎ اھ فجعل ماقام علیہ عالیا ومایقابلہ منحدرا وجعلہ سبب الامن من ارتداد البول فانقلب الامر علی من نقل عنہ الابھری فجعل ماقام علیہ منحدرا ومایقابلہ عالیا وجعلہ سبب خوف السقوط فی القعود مع انہ کذلک فی القیام الا نادرا۔
دوم: اگر اس جانب جدھر آپ کا چہرہ مبارکہ تھا بلند جگہ ہوتی پیشاب کے لوٹنے کی وجہ سے آپ اسے قطعاً اختیار نہ فرماتے بلکہ اس میں بہتر بات وہی ہے جو ابنِ حبان نے کہی ہے جیسا کہ فتح الباری میں ان سے نقل کیا گیا کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے بیٹھنے کیلئے مناسب جگہ نہ پائی تو کھڑے ہوئے کیونکہ آپ کے سامنے سے ڈھیر بلند تھا پس آپ پیشاب لوٹنے کے خطرہ سے بے خوف ہوگئے اھ پس انہوں نے کھڑے ہونے کی جگہ کو بلند قرار دیا اور سامنے کی جگہ کو پست قرار دیا اور اسے پیشاب کے لوٹنے سے امن کا باعث خیال کیا تو معاملہ اس شخص کے خلاف ہوگیا جس سے ابہری نے نقل کیا کیونکہ اس نے کھڑے ہونیکی جگہ کو پست اور مقابل کی جگہ کو بلند قرار دیا اور اسے بیٹھنے کی صورت میں گرنے کے ڈر کا باعث قرار دیا حالانکہ اکثر کھڑے ہونے کی صورت میں بھی اسی طرح ہوتا ہے۔
 (۱؎ فتح الباری    باب البول عند سباطۃ قوم    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۳۴۳)؂
فان قلت ھذا یرد علی ابن حبان ایضا اذلایظھر الفرق فی مثلہ بین القیام والقعود لان الصبب اذاکان بحیث لایستقر علیہ القاعد فکذا القائم۔
اگر تم کہو کہ یہ اعتراض ابنِ حبان پر بھی ہوتا ہے کیونکہ ایسی صورت میں کھڑے ہونے اور بیٹھنے میں فرق ظاہر نہیں ہوتا کیونکہ جب نشیبی جگہ ایسی صورت میں ہوکہ وہاں بیٹھنے والا نہ ٹھہر سکے تو کھڑا ہونے والا بھی اسی طرح ہوگا۔
اقول بلی قدتکون کھیأۃ مثلث لہ حرف دقیق یستقر علیہ القائم اذاوضع علیہ وسط قدمیہ لاعتدال الثقل فی الجانبین بخلاف القاعد فانہ لامستقر علیہ الالقدمیہ وساقیہ وثقل سائر جسمہ لاحامل لہ۔
اقول؛  (میں کہتا ہوں) ہاں کبھی وہ تکونی شکل میں ہوتی ہے اس کے کنارے باریک ہوتے ہیں اگر کھڑا ہونے والا اس پر قدم کا درمیانہ حصہ رکھے تو وہ ٹھہر سکتا ہے کیونکہ دونوں طرف بوجھ برابر ہوتا ہے بخلاف بیٹھنے والے کے، کیونکہ اس کے لئے تو صرف پاؤں اور پنڈلیوں کے ٹھہرنے کی جگہ ہے جبکہ باقی جسم کے بوجھ کو اٹھانے والی کوئی چیز نہیں (ت)
پنجم: اُس وقت پشتِ مبارک میں درد تھا اور عرب کے نزدیک یہ فعل اس سے استشفاء ہے۔ یہ جواب امام شافعی وامام احمد رضی اللہ تعالٰی عنہما کا ہے۔ چالیس طبیبوں کا اتفاق ہے کہ حمام میں ایسا کرنا ستّر مرض کی دوا ہے،
ذکرہ القاری عن زین العرب عن حجۃ الاسلام قال العینی قال الشافعی لماسألہ حفص الفرد عن الفائدۃ فی بولہ قائما العرب تستشفی لوجع الصلب بالبول قائما فنری انہ کان بہ اذذاک ۱؎ اھ۔
ملا علی قاری نے زین العرب سے انہوں نے حجۃ الاسلام سے یہ ذکر کیا۔ امام عینی فرماتے ہیں امام شافعی سے جب حفص فرد نے کھڑے ہوکر پیشاب کرنے کا فائدہ پُوچھا تو انہوں نے جواباً فرمایا عربی لوگ کھڑے ہوکر پیشاب کرنے سے پیٹھ کے درد کا علاج کرتے ہیں پس ہمارا خیال ہے کہ حضور علیہ السلام کو اس وقت یہی تکلیف تھی اھ ۔
 (۱؎ عمدۃ القاری    باب البول قائماً وقاعداً    مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت    ۳/۱۳۶)
وفی فتح الباری روی عن الشافعی واحمد فذکر نحوہ قال العینی قلت یوضح ذلک حدیث ابی ھریرۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ المذکور اٰنفا ۲؎ اھ۔
اور فتح الباری میں امام شافعی اور امام حمد رحمہما اللہ سے اسی طرح مذکور ہے، امام عینی فرماتے ہیں میں کہتا ہوں ابھی گزرنے والی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت اس کی وضاحت کرتی ہے اھ (ت)
 ( ۲؎ عمدۃ القاری    باب البول قائماً وقاعداً    مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت    ۳/۱۳۶)
اقول :لاادری ماھذا فاین فعل شیئ للاستشفاء من مرض قصدا غیر مضطر الیہ من فعلہ مع عدم الاختیار لاجل الاضطرار۔
اقول :میں نہیں جانتا کہ یہ کیا ہے آپ کا کسی عمل کو کسی مجبوری کے بغیر قصداً بیماری سے شفاء کے لئے اختیار کرنا اس کے مقابلے میں کیا حیثیت رکھتا ہے کہ آپ نے اضطرار کے باوجود اسے اختیار نہ کیا۔ (ت)
ششم: زعم المارزی فی کتاب العلم فعل ذلک لانھا حالۃ یؤمن فیھا خروج الحدث من السبیل الاٰخر بخلاف القعود ومنہ قول عمر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ البول قائما احصن للدبر ۳؎ اھ،
ششم: مارزی نے کتاب العلم میں یہ خیال ظاہر کیا کہ آپ کا یہ عمل اس لئے تھا کہ اس صورت میں دوسرے راستے سے حدث (ہوا وغیرہ) نکلنے کا خوف نہیں ہوتا بخلاف بیٹھنے کے۔ اسی سلسلے میں حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کا قول بھی ہے کہ کھڑے ہوکر پیشاب کرنا دُبر کو محفوظ رکھتا ہے اھ ،
 (۳؎ عمدۃ القاری    باب البول قائماً وقاعداً    مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت    ۳/۱۳۶)
نقلہ فی العمدۃ زاد العسقلانی ففعل ذلک لکونہ قریبا من الدیار ۱؎ اھ
اسے العمدۃ میں نقل کیا امام عسقلانی نے اضافہ کیا کہ آپ  نے  یہ اس لئے کیا کہ آپ گھروں کے زیادہ قریب تھے اھ۔ (ت)،
 ( ۱؎ فتح الباری    باب البول عند سباطۃ قوم    مطبوعہ مصطفی البابی مصر ،  ۱/۳۴۳)
اقول: وانا استبشع مثل ھذہ التعلیلات فی افعالہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم وقدعصمہ اللّٰہ تعالٰی من کل مایستھجن۔
اقول :نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے افعال مبارکہ کی ایسی توجیہات کو میں نہایت بدذوقی سمجھتا ہوں اللہ تعالٰی نے آپ کو ہر اس چیز سے محفوظ فرمایا جسے قبیح سمجھا جاتا ہے۔ (ت)
ہفتم: قال العینی تکلموا فی سبب بولہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم قائما فقال القاضی عیاض انما فعل لشغلہ بامور المسلمین فلعلہ طال علیہ المجلس حتی حصرہ البول ولم یمکن التباعد کعادتہ واراد السباطۃ لدمثھا واقام حذیفۃ لیسترہ عن الناس ۲؎ اھ
ہفتم: (محدثین نے) نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے کھڑے ہوکر پیشاب کرنے کے بارے میں گفتگو کی ہے قاضی عیاض رحمہ اللہ نے فرمایا آپ نے ایسا اس لئے کیا کہ آپ مسلمانوں کے کاموں میں مشغول تھے اور ممکن ہے مجلس طویل ہوگئی حتی کہ پیشاب نے آپ کو روک دیا اور عادت کے مطابق آپ کے لئے دُور جانا ممکن نہ ہُوا اور آپ نے (کوڑے کرکٹ کے) ڈھیر کا ارادہ فرمایا کیونکہ وہ جگہ نرم تھی اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کو کھڑا کیا تاکہ لوگوں سے پردہ ہو اھ (ت)
( ۲؎ عمدۃ القاری    باب البول قائماً وقاعداً    مطبوعہ  ادارۃ الطباعۃ المنیریہ بیروت    ۳/۱۳۶)
Flag Counter