Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۴(کتاب الطہارۃ)
117 - 2323
علامہ طحطاوی درحاشیہ ش فرمود لماروی ابوداود والترمذی عن انس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ قال کان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم اذادخل الخلاء نزع خاتمہ ای لان نقشہ محمد رسول اللّٰہ ۱؎ اھ قلت بل رواہ الاربعۃ وابن حبان والحاکم وبعض اسانیدہ صحیح ثم قال اعنی الطحطاوی قال الطیبی فیہ دلیل علی وجوب تنحیۃ المستنجی اسم اللّٰہ تعالٰی واسم رسولہ والقراٰن اھ وقال الابھری وکذا سائر الرسل وقال ابن حجر استفید منہ انہ یندب لمرید التبرز ان ینحی کل ماعلیہ معظم من اسم اللّٰہ تعالٰی اونبی اوملک فان خالف کرہ لترک التعظیم اھ وھوالموافق لمذھبنا کمافی شرح المشکٰوۃ ۲؎ ۔
علامہ طحطاوی نے اس کے حاشیہ میں فرمایا کیونکہ امام ابوداؤد اور ترمذی رحمہما اللہ نے حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء میں جاتے وقت انگوٹھی اتارلیتے کیونکہ اس میں ''محمد رسول اللہ'' کا منقش تھا اھ میں کہتا ہوں بلکہ اسے چاروں محدثیں (امام ترمذی، امام ابوداؤد، امام نسائی، امام ابن ماجہ رحمہم اللہ) ابن حبان اور حاکم نے روایت کیا ہے اور اس کی بعض سندیں صحیح ہیں۔ پھر امام طحطاوی نے فرمایا: طیبی نے کہا ہے کہ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ استنجا کرنے والا اللہ تعالٰی اور رسول اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے اسم گرامی نیز قرآن پاک کو الگ کردے اھ اور ابہری نے کہا اسی طرح باقی تمام رسولوں کے نام الگ کردے۔ ابنِ حجر عسقلانی فرماتے ہیں اس سے معلوم ہواکہ قضائے حاجت کا ارادہ کرنے والے کے لئے مستحب ہے کہ ہر وہ چیز الگ کردے جس میں کوئی قابلِ تعظیم بات مثلاً اللہ تعالٰی، کسی نبی یا فرشتے کا نام ہو اگر اس کے خلاف کرے گا تو ترکِ تعظیم کی وجہ سے مکروہ ہوگا اھ یہی بات ہمارے مذہب کے موافق ہے جیسا کہ شرح مشکوٰۃ میں ہے۔
 (۱؎ حاشیۃ الطحطاوی مع مراقی الفلاح    فصل فی الاستنجاء مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب خانہ کراچی ص۳۰)

(۲؎ حاشیۃ الطحطاوی مع مراقی الفلاح    فصل فی الاستنجاء مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب خانہ کراچی ص۳۰)
در درمختار ست رقیۃ فی غلاف متجاف لم یکرہ دخول الخلاء بہ والاحتراز افضل ۳؎ واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
درمختار میں ہے غلاف میں لپیٹے ہُوئے تعویذ کے ساتھ بیت الخلاء میں داخل ہونا مکروہ نہیں لیکن بچنا افضل ہے، اور اللہ تعالٰی بہتر جانتا ہے۔ (ت)
(۳؎ درمختار    حکم مس المصحف والکتب الشرعیۃ    مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۱/۳۴)
مسئلہ ۲۲۲: از پٹنہ مرسلہ ابوالمساکین مولوی ضیاء الدین صاحب    ۱۶ ذی الحجہ ۱۳۲۰ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہندوستان کے اکثر شہروں میں مثل لکھنؤ وپٹنہ عظیم آباد اکثر لوگ بعد فراغت بول کلوخ سے استنجا نہیں کرتے بلکہ صرف پانی پر اکتفا کرتے ہیں آیا اُن کا پائجامہ یا تہبند نجس ہوتا ہے یا نہیں اور ایسے شخص کی امامت میں کوئی خراب لازم آتی ہے یا نہیں اور بعض آدمیوں کا بیان ہے کہ پانی لینے سے قطرہ رک جاتا ہے یہ صرف اُن کا خیال ہی خیال ہے یا واقعی امر ہے؟ بینوا توجروا۔
الجواب: کلوخ وآب میں جمع افضل ہے نفسِ سنّت ہر ایک سے ادا ہوجاتی ہے سب سے اولٰی جمع ہے پھر تنہا آب پھر تنہا کلوخ صرف پانی پر قناعت سے کپڑا نجس نہیں ہوتا، نماز وامامت میں کوئی حرج نہیں والمسائل فی الحلیۃ وردالمحتار وغیرھا (مسائل حلیہ اور ردالمحتار وغیرہ میں ہیں۔ ت) پانی خصوصاً سرد اکثر امزجہ میں بوجہ تکثیف ضرور انسداد قطرہ پر معین ہوتا ہے۔ حدیث میں خروج مذی پر غسلِ مذاکیر کے حکم کو علماء نے اسی پر حکمت پر محمول کیا ہے کماافادہ الامام الطحاوی فی شرح معافی الاثار (جیسا کہ امام طحاوی نے شرح معافی الآثار میں بتایا۔ ت) اور بحال برودتِ مثانہ نزولِ قطرہ کا اور مؤید ہوتا ہے واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۳:۲ رجب مرجب ۱۳۲۱ھ: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہڈی سے استنجا کس وجہ سے ناجائز ہے اور یہ جو کہتے ہیں کہ وہ خوراکِ جن کی ہے اس کی اصل ہے یا نہیں اور اگر خوراک جِن کی ہے تو اُن کے کفاروں کی ہے یا مسلمانوں کی بھی۔ بینوا توجروا۔
الجواب قوم جِنْ کے وفد جوبارگاہِ اقدس حضور پُرنور سید العالمین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں حاضر ہوئے اور اپنے اور اپنے جانوروں کے لئے خوراک طلب کی اُن سے ارشاد ہوا:
لکم کل عظم ذکر اسم اللّٰہ یقع فی ایدیکم اوفرمایکون لحما وکل بعرۃ علف لدوابکم ۱؎۔
 (۱؎ الصحیح لمسلم    باب الجہر بالقرأۃ الخ    مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/۱۸۴)
تمہارے لئے ہر ہڈی ہے جس پر اللہ عزوجل کا نام پاک لیا جائے یعنی حلال مذکّٰی جانور کی ہڈی ہو وہ تمہارے ہاتھ میں اُس حال پر ہوگی جیسی اُس وقت تھی جب اُس پر گوشت پورا اور کامل تھا (یعنی گوشت چھُڑائی ہُوئی ہڈی تمہیں مع گوشت ملے گی) اور ہر مینگنی تمہارے چوپایوں کے لئے چارہ ہے۔ (م)
پھر انسانوں سے ارشاد فرمایا:فلاتستنجوا بھما فانھما طعام اخوانکم ۲؎ رواہ مسلم فی صحیحہ عن ابی مسعود رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ۔ واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
 (۲؎ الصحیح لمسلم    باب الجہر بالقرأۃ الخ    مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/۱۸۴)
ہڈی اور مینگنی سے استنجاء نہ کرو کہ وہ تمہارے بھائیوں کی خوراک ہے۔ (م) اسے امام مسلم رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ اور اللہ تعالٰی بہتر جانتا ہے۔(ت)
مسئلہ ۲۲۴:مسئولہ سید شاہ مہدی حسن میاں صاحب ازسرکار مارَہرہ شریف    ۳ شعبان معظم ۱۳۲۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ رشید احمد گنگوہی کا ایک مرید کہتا ہے کہ کھڑے ہوکر پیشاب کرنے میں کوئی کراہت نہیں وہ حدیث سے ثابت ہے اس باب میں جو حکم ہو حدیث وفقہ سے بیان فرمائیں واجرکم علی اللّٰہ تعالٰی (تمہارے لئے اس کا اجر اللہ تعالٰی کے ذمہ کرم پر ہے۔ ت)
الجواب:  اقول: ھڑے ہوکر پیشاب کرنے میں چار۴ حرج ہیں: اوّل: بدن اور کپڑوں پر چھینٹیں پڑنا جسم ولباس بلاضرورت شرعیہ ناپاک کرنا اور یہ حرام ہے بحرالرائق میں بدائع سے ہے:
اما تنجیس الطاھر فحرام ۱؎ اھ ذکرہ فی بحث الماء المستعمل۔
پاک چیز کو ناپاک کرنا حرام ہے اھ اسے مستعمل پانی کی بحث میں ذکر کیا ہے۔ (ت)
 (۱؎ البحرالرائق        کتاب الطہارۃ        مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۹۴)
ردالمحتار میں ہے: مافی شرح المنیۃ فی الانجاس من ان التلوث بالنجاسۃ مکروہ فالظاھر حملہ علی مااذاکان بلاعذر والوط ۲؎ عذر۔
 (۲؎ ردالمحتار ، مطلب الفرق بین الفرض العملی والقطعی والواجب    مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۱/۱۹۸)
شرح منیۃ المصلی میں انجاس کی بحث میں ہے کہ نجاست سے ملوث ہونا مکروہ ہے ظاہر یہ ہے کہ اسے غیر عذر کی صورت پر محمول کیا جائے گا اور وطی عذر ہے۔ (ت)
اُسی میں ہے:افتی بعض الشافعیۃ بحرمۃ جماع من تنجس ذکرہ قبل غسلہ الا اذاکان بہ سلس فیحل کوطء المستحاضۃ مع الجریان ویظھر انہ عندنا کذلک لمافیہ من التضمخ بالنجاسۃ بلاضرورۃ لامکان غسلہ بخلاف وطء المستحاضۃ ووطء السلس تأمل ۳؎۔
 (۳؎ ردالمحتار        فی حکم وطء المستحاضۃ ومن بذکرہ نجاسۃ        مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۱/۱۹۸)
بعض شوافع نے فتوٰی دیا ہے کہ جس آدمی کا آلہ تناسل ناپاک ہو اس کے لئے اسے دھونے سے پہلے جماع کرنا حرام ہے مگر یہ کہ سلسل البول کا مریض ہوتو جائز ہے جیسے مستحاضہ سے خُون جاری ہونے کے باوجود جماع کرنا جائز ہے ظاہر یہ ہے کہ ہمارے نزدیک بھی اسی طرح ہے کیونکہ اس میں بلاضرورت نجاست سے ملوث ہونا ہے اس لئے کہ دھونا ممکن ہے بخلاف مستحاضہ اور سلسل البول والے کی وطی کرنے کے۔ غور کرو۔ (ت)
دوم: ان چھینٹوں کے باعث عذابِ قبر کا استحقاق اپنے سر پر لینا رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
تنزھوا من البول فان عامۃ عذاب القبرمنہ ۱؎رواہ الدارقطنی عن انس رضی اللہ تعالٰی عنہ بسند صحیح وللحاکم بلفظ استنزھوا وقال صحیح علی شرطھما۲؂ ۔
پیشاب سے بہت بچوکہ اکثر عذاب قبر اُسی سے ہے (م)ا سے دارقطنی نے حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے بسند صحیح روایت کیا۔ حاکم لفظ ''استنزھوا'' لائے ہیں اور فرمایا کہ یہ ان (بخاری ومسلم) کی شرط پر صحیح ہے۔ (ت)
 (۱؎ الدار قطنی        باب نجاسۃ البول    مطبوعہ دار المحاسن للطباعۃ قاہرہ    ۱/۱۲۷)

(۲؎ نصب الرایۃ    کتاب الطہارۃ حدیث ۴۳    مطبوعہ المکتبۃ الاسلامیہ بیروت        ۱/۱۲۸)
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے دو۲ شخصوں پر عذابِ قبر ہوتے دیکھا۔ فرمایا:
کان احدھما لایستر من بولہ وکان الاٰخر یمشی بالنمیمۃ ۳؎ رواہ الستۃ عن ابن عباس رضی اللّٰہ تعالٰی عنھا۔
ان میں ایک تو اپنے پیشاب سے آڑ نہ کرتا تھا اور دُوسرا چغلخوری کرتا۔ (م)اسے چھ۶ محدثین (اصحابِ ستہ) نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے (ت)
 (۳؎ ترمذی شریف    باب التشدید فی البول    مطبوعہ کتب خانہ رشیدیہ امین کمپنی دہلی    ۱/۱۱)
سوم: رہگزر پر ہویا جہاں لوگ موجود ہوں تو باعثِ بے پردگی ہوگا بیٹھنے میں رانوں اور زانوؤں کی آڑ جاتی ہے اور کھڑے ہونے میں بالکل بے ستری اور یہ باعثِ لعنتِ الٰہی ہے۔
حدیث میں ہے: لعن اللّٰہ الناظر والمنظور الیہ ۴؎ ھکذا فی حفظی ولایحضرنی الاٰن من خرجہ واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
جو دیکھے اس پر بھی لعنت اور دکھائے اس پر بھی لعنت۔ (م) میرے ذہن میں اسی طرح ہے لیکن اس وقت مجھے یاد نہیں کہ اس کی تخریج کس نے کی ہے۔ اللہ تعالٰی بہتر جانتا ہے۔ (ت)
 (۴؎ مشکوٰہ شریف    باب النظر الی المخطوبۃ ، مطبوعہ مجتبائی دہلی  ص۲۷۰)
چہارم: یہ نصارٰی سے تشبّہ اور ان کی سنّتِ مذمومہ میں اُن کا اتباع ہے آج کل جن کو یہاں یہ شوق جاگا ہے اس کی یہی علّت اور یہ موجبِ عذاب وعقوبت ہے۔ اللہ عزوجل فرماتا ہے:
لاتتبعوا خطوٰت الشیطٰن ۵؎۔
شیطان کے قدموں پر نہ چلو۔ (ت)
 (۵؎ القرآن الحکیم    ۲/۱۶۸)
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: من تشبّہ بقوم فھو منھم ۶؎۔
جو شخص جس قوم سے مشابہت اختیار کرے وہ انہی میں سے ہے۔ (ت)
 (۶؎ مسند امام احمد بن حنبل ، حدیث ابن عمر  ، مطبوعہ  المکتب الاسلامی بیروت لبنان    ۲/۵۰)
اس حرکت سے نہی اور اس کے بے ادبی وجفا وخلافِ سنّتِ مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ہونے میں احادیثِ صحیحہ معتمدہ وارد ہیں۔
حدیث اوّل: امام احمد وترمذی ونسائی وابن حبان صحیح میں اُمّ المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے راوی: من حدثکم ان النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم کان یبول قائما فلاتصدقوہ ماکان یبول الاقاعدا ۱؎۔
جو تم سے کہے کہ حضور اقدس اطہر صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کھڑے ہوکر پیشاب فرماتے اُس سچّا نہ جاننا حضور پیشاب نہ فرماتے تھے مگر بیٹھ کر۔ (م)
 (۱؎ جامع الترمذی شریف    باب النہی عن البول قائماً، مطبوعہ کتب خانہ رشیدیہ دہلی، ۱/۴)
امام ترمذی فرماتے ہیں: حدیث عائشۃ احسن شیئ فی ھذا الباب واصح ۲؎۔
جتنی حدیثیں اس مسئلہ میں آئیں ان  سب سے یہ حدیث بہتر وصحیح تر ہے۔ (م)
 (۲؎ جامع الترمذی شریف ، باب النہی عن البول قائماً ، مطبوعہ کتب خانہ رشیدیہ دہلی    ۱/۴)
یہی حدیث صحیح ابوعوانہ ومستدرکِ حاکم میں ان لفظوں سے ہے: مابال قائما منذانزل علیہ القراٰن ۳؎۔
جب سے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر قرآن مجید اُترا کبھی کھڑے ہوکر پیشاب نہ فرمایا۔ (م)
 (۳؎ المستدرک للحاکم    البول قائماً وقاعداً    مطبوعہ دارالفکر بیروت        ۱/۱۸۱)
اقول : وبہ اندفع ماوقع للامامین الشھاب ابن حجر العسقلانی فی فتح الباری والبدر محمود العینی فی عمدۃ القاری حیث قالا واللفظ للعینی الجواب عن حدیث عائشۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنھا انہ مستند الی علمھا فیحمل علی ماوقع منہ فی البیوت وامافی غیر البیوت فلاتطلع ھی علیہ وقدحفظہ حذیفۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ وھو من کبار الصحابۃ ۱؎ اھ ۔
اقول: اس سے وہ شُبہہ دُور ہوگیا جو دو۲ اماموں الشہاب ابنِ حجر عسقلانی کو فتح الباری میں اور البدر محمود عینی کو عمدۃ القاری میں پیش آیا کہ انہوں نے فرمایا (الفاظ عینی کے ہیں) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کا جواب یہ ہے کہ یہ ان کی معلومات سے منسوب ہے پس اسے اس صورت پر محمول کیا جائیگا جو آپ سے گھروں میں وقوع پذیر ہوئیں۔ لیکن گھروں کے علاوہ پر ام المومنین مطلع نہیں ہوئیں اسے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے یاد رکھا اور وہ جلیل القدر صحابہ کرام میں سے تھے اھ۔
 (۱؎ عمدۃ القاری    باب البول قائماً وقاعداً    مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت    ۳/۱۵۳)
وذلک انھا رضی اللّٰہ تعالٰی عنھا انما ولدت بعد نزول القراٰن بخمس سنین فکیف یحمل علی مارأت من فعلہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم فی البیوت وانما تقولہ عن توقیف وبہ یترجح ان حدیث حذیفۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کان لعذر والاعذار مستشناۃ عقلا وشرعا ثم اذاثبتت ھذہ سنتہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم مختلیافی بیتہ الکریم تثبت دلالۃ فی الخارج فان خارج البیوت احوج الی الستر والتزام الادب قال العینی وایضا یمکن ان یکون قول عائشۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنھا مابال قائما یعنی فی منزلہ والا اطلاع لھا علی مافی الخارج ۲؎ اھ۔
نیز ام المومنین نزولِ قرآن کے پانچ سال بعد پیدا ہوئیں لہذا اسے کیسے اس پر محمول کیا جائے جو ام المومنین نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا علم گھروں میں دیکھا آپ تو بتانے سے بیان فرمارہی ہیں (یعنی یہ حدیث موقوف ہے) اس سے اس بات کو ترجیح حاصل ہوگئی ک حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی روایت ایک عذر کی بنیاد ہے اور عذر عقلی اور شرعی طور پر مستشنٰی ہوتے ہیں۔ پھر جب آپ کی یہ سنّت خانہ اقدس کی خلوت میں ثابت ہوگئی تو بطور دلالت باہر بھی ثابت ہوگئی کیونکہ گھروں سے باہر ستر اور آداب کا خیال رکھنے کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے، امام عینی فرماتے ہیں نیز ممکن ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول کہ ''آپ نے کھڑے ہوکر پیشاب نہیں فرمایا'' سے مراد یہ ہوکہ آپ نے گھر میں کھڑے ہوکر پیشاب نہیں فرمایا آپ کو باہر کے بارے میں اطلاع نہیں تھی اھ (ت)
 (۲؎ عمدۃ القاری    باب البول قائماً وقاعداً    مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت    ۳/۱۵۳)
اقول: ماھو الاالاول وقدعلمت ردہ فلاادری مامعنی قولہ وایضا۔
اقول: بات تو وہی پہلی ہے اور تمہیں اس کا رد معلوم ہوچکا ہے پس مجھے معلوم نہیں کہ ان کے قول ''ایضاً'' کا کیا مطلب ہے۔ (ت)
حدیث دوم: بزار اپنی مسند میں بسندِ صحیح بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ثلاث من الجفاء ان یبول الرجل قائما اویمسح جبھتہ قبل ان یفرغ من صلاتہ اوینفخ فی سجودہ ۱؎۔
تین۳ باتیں جفا وبے ادبی سے ہیں یہ کہ آدمی کھڑے ہوکر پیشاب کرے یا نماز میں اپنی پیشانی سے (مثلاًمٹی یا پسینہ) پُونچھنے یا سجدہ کرتے وقت (زمین پر مثلاً غبار صاف کرنے کو) پھُونکے۔ (م)
 (۱؎ کشف الاستار عن زوائد البزار    باب مانہی عنہ فی الصّلوٰۃ    مطبوعہ موسسۃ الرسالۃ بیروت    ۱/۲۶۶)
تیسیر میں ہے: رجالہ رجال الصحیح ۲؎
(اس حدیث کے سبب راوی ثقہ معتمد صحیح کے راوی ہیں۔ م)
 (۲؎ فیض القدیر شرح الجامع الصغیر    زیر حدیث مذکور    مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت        ۳/۲۹۳)
عمدۃ القاری میں ہے: رواہ البزار بسند صحیح ۳؎
 (اسے بزار نے بسند صحیح روایت کیا۔ م)
 (۳؎ عمدۃ القاری        باب البول قائماً وقاعداً    الطباعۃ المنیریہ بیروت        ۳/۱۳۵)
قال وقال الترمذی حیث بریدۃ فی ھذا غیر محفوظ وقول الترمذی یردُّ بہ ۴؎
(اور کہا کہ امام ترمذی نے فرمایا: اس سلسلے میں حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کی روایت غیر محفوظ ہے۔ اور امام ترمذی کا قول اس کے ساتھ رَد کیا جاتا ہے۔ ت)
 (۴؎ عمدۃ القاری        باب البول قائماً وقاعداً    الطباعۃ المنیریہ بیروت        ۳/۱۳۵)
حدیث سوم: ترمذی عہ۱ وابن ماجہ وبہیقی امیر المومنین فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی: قال راٰنی النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم ابول قائما فقال یاعمر لاتبل قائما فمابلت قائما بعد ۵؎۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے مجھے کھڑے ہوکر پیشاب کرتے دیکھا تو فرمایا: ''اے عمر! کھڑے ہوکر پیشاب نہ کرو''۔ اس دن سے میں نے کبھی کھڑے ہوکر پیشاب نہ کیا۔ (م)
(۵؎ جامع الترمذی ، باب النہی عن البول قائما، مطبوعہ کتب خانہ رشیدیہ امین کمپنی دہلی ، ۱/۴)
عہ ۱ : اقتصر فی عمدۃ القاری علی عزوہ للبھیقی وھو ممالاینبغی ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م) عمدۃ القاری میں اس حدیث کو بہیقی کی طرف منسوب کرنے پر اقتصار کیا ہے حالانکہ ایسا کرنا مناسب نہیں۔ (ت)
حدیثِ چہارم: ابن ماجہ عہ ۲ وبہیقی جابر رضی اللہ عنہ سے راوی: نھی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم ان یبول الرجل قائما ۶؎۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے کھڑے ہوکر پیشاب کرنے سے منع فرمایا۔ (م)
عہ ۲ : کذا اقتصر ھھنا علی عزوہ للبھیقی ۱۲ منہ غفرلہ (م)اسی طرح یہاں بھی اس حدیث کو بہیقی کی طرف منسوب کرنے پر اقتصار کیا ہے۔ (ت)
 (۶؎ سنن ابن ماجہ        باب فی البول قائماً وقاعداً    مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی        ص۲۷)
امام خاتم الحفاظ فرماتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔ رہی حدیثِ حذیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ: اتی النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم سباطۃ قوم فبال قائما ۱؎۔
رواہ الشیخان۔ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ایک گھُورے پر تشریف لے گئے اور وہاں کھڑے ہوکر پیشاب فرمایا۔ (رواہ الشیخان) (ت)
 (۱؎ جامع البخاری ،  باب البول قائماً وقاعداً ،  مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی، ۱/۳۵۹)
ائمہ کرو علمائے اعلام نے اس سے بہت جواب دیے: اوّل: یہ حدیث ام المؤمنین صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہما سے منسوخ ہے۔ یہ امام ابوعوانہ نے اپنی صحیح اور ابن شاہین نے کتابُ السُّنّہ میں اختیار کیا،
وتعقبھما العسقلانی والعینی فقالا الصواب انہ غیر منسوخ زاد العینی لان کلامن عائشۃ وحذیفۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنھما اخبربما شاھدۃ ۲؎ اھ۔
امام عسقلانی اور عینی نے ان دونوں کا تعاقب کرتے ہوئے فرمایا: صحیح بات یہ ہے کہ یہ غیر منسوخ ہے کیونکہ حضرت عائشہ اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہما دونوں نے جو کچھ دیکھا اس کی خبر دی اھ (ت)
 (۲؎ عمدۃ القاری    باب البول قائماً وقاعداً   ادارۃ الطباعۃ المنیریہ بیروت    ۳/۱۳۵)
Flag Counter