Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۴(کتاب الطہارۃ)
116 - 2323
بابُ الاِسْتِنْجَاء

(یہ بات استنجا کے بیان میں ہے)
مسئلہ ۲۱۷ :    کیا فرماتے ہیں علماءِ دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے لوٹے سے وضو کیا اس میں پانی بچ رہا، اُس بچے ہوئے پانی سے چھوٹا بڑا استنجا یا وضو کرنا کیسا ہے اور اُسے پھینک دینا جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا۔
الجواب: پھینک دینا تو تضیعِ مال ہے کہ شرع میں قطعاً ممنوع اور وضو کرنا بیشک جائز، مگر یہ کہ اُس میں مائے مستعمل اس قدر گرگیا ہوکر غیر مستعمل پر غالب ہوگیا۔ رہا استنجا، جواز میں تو اُس کے بھی شُبہہ نہیں، نہ کسی کتاب میں اُس کی ممانعت نظیر فقیر سے گزری۔ ہاں اس قدر ہے کہ بقیہ وضو کیلئے شرعاً عظمت واحترام ہے اور نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے ثابت کہ حضور نے وضو فرماکر بقیہ آب کو کھڑے ہوکر نوش فرمایا اور ایک حدیث میں روایت کیا گیا کہ اس کا پینا ستر۷۰ مرض سے شفا ہے۔ تو وہ ان امور میں آبِ زمزم سے مشابہت رکھتا ہے ایسے پانی سے استنجا مناسب نہیں۔ تنویر کے آدابِ وضو میں ہے:
وان یشرب بعدہ من فضل وضوئہ مستقبل القبلۃ قائما ۱؎۔
وضو کے بعد وضو کا پسماندہ (پانی) قبلہ رُخ کھڑے ہوکر پئے۔ (ت)
 (۱؎ درمختار مع تنویر الابصار    باب مستحبات الوضوء    مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۱/۲۳)
درمختار میں ہے: کماء زمزم ۱؎
(آبِ زمزم کی طرح۔ ت)
 (۱؎ درمختار مع التنویر ، باب مستحبات الوضوء ، مطبوعہ مجتبائی دہلی ، ۱/۲۳)
جامع ترمذی میں سیدنا علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ سے مروی کہ انہوں نے کھڑے ہوکر بقیہ وضو پیا پھر فرمایا:
احببت ان اریکم کیف کان طھور رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم ۲؎۔
میں نے چاہا کہ تمہیں دکھادُوں نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا طریقہ وضو کیونکر تھا۔
 (۲؎ جامع الترمذی    باب وضوء النبی صلی اللہ علیہ وسلم کیف کان    مطبوعہ کتب خانہ رشیدیہ دہلی    ۱/۸)
ردالمحتار میں ہے: ماء زمزم شفاء وکذا فضل الوضوء وفی شرح ھدیۃ ابن العماد لسیدی عبدالغنی النابلسی ومما جربتہ انی اذااصابنی مرض اقصد الاستشفاء بشرب فضل الوضوء فحصل لی الشفاء وھذا دابی اعتماداً علی قول الصادق صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم فی ھذا الطب النبوی الصحیح ۳؎ اھ واللّٰہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم بالصواب۔
آبِ زمزم شفا ہے اور اسی طرح وضو کا بچا ہوا پانی بھی۔ ہدیۃ ابن العماد کی شرح میں علّامہ عبدالغنی نابلسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے تجربہ کیا ہے کہ جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وضو کے بقیہ پانی سے شفا حاصل کرنے کا ارادہ کرتا ہوں پس مجھے شفا حاصل ہوجاتی ہے نبی صادق صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اس صحیح طب نبوی میں پائے جانے والے ارشاد گرامی پر اعتماد کرتے ہوئے میں نے یہ طریقہ اختیار کیا ہے اھ واللہ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم بالصواب (ت)
 (۳؎ ردالمحتار        مطلب فی مباحث الشرب قائما    مطبوعہ مجتبائی دہلی            ۱/۸۸)
مسئلہ ۲۱۸:حاجی اللہ یار خان صاحب    ۲۲ رمضان مبارک ۱۳۰۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مصلی کے بائیں ہاتھ میں ایسی چوٹ لگ گئی ہے کہ حرکت نہیں کرسکتا پانی سے استنجا کرنے سے معذور ہے البتہ داہنے ہاتھ سے ڈھیلوں سے صاف کرسکتا ہے ایسا شخص نماز پڑھ سکتا ہے اور امامت اس کی جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا۔
الجواب: دہنے ہاتھ سے استنجا اگرچہ ممنوع وگناہ ہے صحیح حدیث میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے نہی فرمائی
کمااخرجہ احمد والشیخان عن ابی قتادۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ
 (جیسا کہ امام احمد اور شیخان (امام بخاری ومسلم) رحمہم اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کو نقل کیا ہے۔ ت) مگر جب عذر ہے تو کچھ مواخذہ نہیں
فان الضرورات تبیح المحظورات
 (ضرورتیں ممنوعات کو جائز کردیتی ہیں۔ ت) درمختارمیں ہے:
کرہ تحریما بیمین ولاعذر بیسارہ ۱؎ اھ ملخصا۔
بائیں ہاتھ میں کوئی عذر نہ ہو تو دائیں ہاتھ سے (استنجا) مکروہِ تحریمہ ہے اھ ملخصا (ت)
 (۱؎ درمختار    فصل الاستنجا    مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۱/۵۶)
اور نجاست جب مخرج بَول وبراز سے مقدار درہم سے زیادہ تجاوز نہ کرے تو ڈھیلے کافی ہوتے ہیں اُن کے بعد پانی لینا فقط سنّت ہے درمختار میں ہے:
الغسل بالماء بعد الحجر سنۃ ۲؎ اھ ملخصا۔ علی ماحققہ المحقق علی الاطلاق فی الفتح وتبعہ تلمیذہ المحقق ابن امیرالحاج فی الحلیۃ۔
 (۲؎ درمختار    فصل الاستنجا    مطبوعہ مجتبائی دہلی      ۱/۵۶)
پتھر (استعمال کرنے) کے بعد پانی سے دھونا سنّت ہے اھ ملخصا جیسا کہ محقق علی الاطلاق رحمہ اللہ نے فتح القدیر میں اور ان کی اتباع میں ان کے شاگرد محقق ابن امیرالحاج نے حلیہ میں اس کی تحقیق کی ہے۔ (ت)
یہ سنّت بھی اگرچہ باقی سننِ مؤکدہ کے مثل ہے جس کا ترک بیشک باعثِ کراہت، مگر حالتِ عذر ہمیشہ مستشنیٰ ہوتی ہے اور ترک سنت صحتِ نماز میں خلل انداز نہیں پس صورت مستفسرہ میں بلاتامل نہ اُس شخص کی اپنی نماز میں حرج نہ امامت میں نقصان البتہ اگر نجاست مخرج کے علاوہ قدردرم سے زیادہ ہوتو اُس وقت پانی سے دھوئے بغیر طہارت نہیں ہوتی۔ درمختار میں ہے:
یجب ای غسلہ ان جاوز المخرج نجس مانع ویعتبر القدر مانع للصلاۃ فیما وراء موضع الاستنجاء ۳؎۔
 (۳؎ درمختار    فصل الاستنجا    مطبوعہ مجتبائی دہلی         ۱/۵۶)
اگر (طہارت سے) مانع نجاست مخرج سے تجاوز کرجائے تو اس کا دھونا واجب اور نماز سے مانع نجاست کے اندازے کا اعتبار اس نجاست سے ہوگا جو جائے استنجا کے علاوہ ہے۔ (ت)
ایسی حالت میں اگر پانی پر کسی طرح کسی ہاتھ سے سے قدرت نہ پائے تو اُس کی اپنی نماز ہوجائے گی، درمختار میں ہے:
لوشَلّتا سقط اصلا ۴؎
 (اگر دونوں ہاتھ شَل ہوجائیں تو طہارت بالکل ساقط ہوجائیگی۔ ت) مگر امامت نہیں کرسکتا کمالایخفی واللّٰہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم (جیسا کہ مخفی نہیں، اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔ ت)
 (۴؎ درمختار    فصل الاستنجا    مطبوعہ مجتبائی دہلی        ۱/۵۶)
مسئلہ ۲۱۹:۴ جمادی الاخرٰی ۱۳۱۲ھ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ حضرت رسول مقبول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اور اصحابوں نے پیشاب کے بعد اکثر مرتبہ استنجا پانی سے کیا یا ڈھیلوں سے؟ بینوا توجّروا۔
الجواب: صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی عادت اس باب میں مختلف تھی امیر المومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اکثر مٹّی سے استنجا فرماتے اور حذیفہ رضی اللہ عنہ پانی سے۔ کشف الغمہ میں ہے:
کان عمر بن الخطاب رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ یبول کثیرا ثم یمسح بالتراب اوالحائط ثم یقول ھکذا علمنا ولم یبلغنا انہ کان یغسلہ بالماء بعد وکان حذیفۃ لایجمع بین الماء والحجر اذابال وکذلک عائشۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنھما فکانا یغسلان بالماء فقط ۱؎۔
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت زیادہ پیشاب کرتے پھر مٹّی یا دیوار سے خشک کرتے اس کے بعد فرماتے ''ہمیں اس طرح معلوم ہے''۔ اور ہم تک یہ بات نہیں پہنچی کہ اس کے بعد وہ پانی کے ساتھ دھوتے ہوں۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ پیشاب کرتے تو پانی اور پتھّر کو جمع نہیں کرتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بھی یہی طریقہ تھا یہ دونوں صرف پانی سے دھوتے تھے۔ (ت)
 (۱؎ کشف الغمہ    فصل فی کیفیۃ الاستنجاء    مطبوعہ دارالفکر بیروت، لبنان    ۱/۴۸)
اور حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے دونوں صورتیں ثابت ہیں ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے روایت کی کہ سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پیشاب کے بعد پانی سے استنجا فرماتے۔
احمد والترمذی وصححہ والنسائی عنھا رضی اللّٰہ تعالٰی عنھا قالت مرن ازواجکن ان یغسلوا اثر الغائط والبول فان النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم کان یفعلہ ۲؎۔
 (۲؎ جامع الترمذی    باب الاستنجاء بالماء    مطبوعہ  کتب خانہ رشیدیہ دہلی        ۱/۵)
امام احمد، ترمذی اور نسائی رحمہم اللہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا کہ اپنے خاوندوں کو کہو کہ وہ قضائے حاجت اور پیشاب کا اثر پانی سے دھوڈالیں کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بھی یونہی کرتے تھے۔ امام ترمذی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ (ت)

اور وہی (عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا) روایت فرماتی ہیں کہ ایک بار حضور پُرنور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے پیشاب فرمایا امیر المومنین فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ پانی لیکر کھڑے ہوئے۔ فرمایا: کیا ہے؟ عرض کی:استنجے کے لئے پانی۔ فرمایا: مجھ پر واجب نہیں کیا گیا کہ ہر پیشاب کے بعد پانی سے طہارت کروں۔
ابوداؤد وابن ماجۃ بسند حسن عن ام المؤمنین عائشۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنھا قالت بال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم فقام عمر خلفہ بکوزمن ماء فقال ماھذا یاعمر فقال ماء تتوضؤ بہ قال ماامرت کلما بلت ان اتوضأ ولوفعلت لکانت سنۃ ۱؎۔
امام ابوداؤد اور ابن ماجہ رحمہما اللہ نے سندِ حسن کے ساتھ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب فرمایا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے پانی کا لوٹا لے کر کھڑے ہوگئے، حضور علیہ السلام نے فرمایا: اے عمر! یہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا: یہ پانی ہے آپ اس سے وضو فرمائیں۔ آپ نے فرمایا: مجھے اس بات کا حکم نہیں دیا گیا کہ جب بھی پیشاب کروں تو وضو کروں، اگر ایسا کروں تو سنّت بن جائے گا۔ (ت)
(۱؎ سُنن ابوداؤد شریف    کتاب الطہارۃ، باب فی الاستبرائ    مطبوعہ آفتاب عالم پرس لاہور    ۱/۷)
حلیہ میں ہے: المراد بالوضوء ھنا الاستنجاء بالماء کماذکرہ النووی ۲؎۔
یہاں وضو سے استنجا کرنا مراد ہے جیسا کہ امام نووی رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے (ت)
(۲؎ حلیہ)
   (مذکورہ کتاب دستیاب نہ ہوسکی)
اور مسئلہ یہ ہے کہ ڈھیلے اور پانی دونوں سے استنجا جائز ہے جس سے کرے گا کافی ہوگا اور افضل یہ ہے کہ دونوں کو جمع کرے
فی الھندیۃ عن التبیےن الافضل ان یجمع بینھما ۳؎
(فتاویٰ عالمگیری میں التبیين سے منقول ہے کہ دونوں کو جمع کرنا افضل ہے۔ ت)
واللّٰہ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم
 (اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے اور اس بزرگ وبرتر ذات کا علم مکمل ومحکم ہے۔ ت)
 (۳؎ فتاویٰ ہندیۃ    الفصل الثالث فی الاستنجاء        مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/۴۸)
مسئلہ ۲۲۰: از گلگٹ مرسلہ سردار امیر خاں ملازم کپتان اسٹوٹ    ۲۱ ذی الحجہ ۱۳۱۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں اگر کسی جگہ پُرانا کپڑا یا مٹّی کا ڈھیلا یا ریت نہ ہو تو وہاں پتھر سے استنجا سُکھانا کیسا ہے اور اگر تھوڑی دُور پر ہر شَے موجود ہے اور یہ کوتاہی کرگیا اور پتھّر سے سُکھایا تو کیسا ہے بینوا توجروا۔
الجواب : استنجا خشک کرنے میں ہر بے قیمت بیکار پاک چیز کہ رطوبت کو جذب کرکے موضع کو صاف کردے ڈھیلا ہویا پتھّر مٹّی ہویا پُرانا کپڑا زمین ہو یا دیوار سب برابر ہے ہاں ہڈی يا کوئلہ یا پکی اینٹ یا ٹھیکری یا چُونا نہ ہو، دُرمختار میں ہے:
(الاستنجاء سنۃ مؤکدۃ بنحوحجر) مما ھو عین طاھرۃ قالعۃ لاقیمۃ لھاکمدر (منق وکرہ بعظم وورث واٰجر وخزف وزجاج وفحم) وحق غیر وکل ماینتفع بہ ۱؎۔
پتھّر جیسی چیز کے ساتھ استنجا سنّتِ مؤکدہ ہے یعنی وہ چیز جو پاک ہو نجاست کو دُور کرنے والی ہو اور قیمتی نہ ہو جیسا کہ صاف کرنے والا ڈھیلا ہڈّی، گوبر، پکّی اینٹ، ٹھیکری، گچ اور کوئلے کے ساتھ استنجاء مکروہ ہے نیز غیر کی ملکیت اور نفی بخش چیز کے ساتھ بھی مکروہ ہے (ت)
 (۱؎ درمختار،   فصل الاستنجاء ،  مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۱/۵۶)
نورالایضاح میں ہے: یکرہ الاستنجاء بجص ۲؎ اھ ملخصین۔
چُونے کے ساتھ استنجاء مکروہ ہے اھ تلخیص (ت)
 (۲؎ نورالایضاح    فصل فی الاستنجاء    مطبوعہ علیمی کتب خانہ لاہور    ص۶)
ردالمحتار میں ہے: قال فی البدائع السنۃ ھو الاستنجاء بالاشیاء الطاھرۃ من الاحجار والامداد والتراب والخرق البوالی اھ ومثلہ الجدار الاجدار غیرہ کالوقف ونحوہ وللمستأجر الاستنجاء بالحائط ولولدار مسبلۃ ۳؎ اھ ملخصا واللّٰہ تعالٰی اعلم
بدائع میں فرمایا پاک چیز مثلاً پتھّروں، ڈھیلوں، مٹی، پرانے کپڑے کے ٹکڑوں سے استنجا کرنا سنت ہے اھ دیوار بھی اسی طرح ہے لیکن کسی دوسرے کی دیوار نہ ہو مثلاً وقف شدہ وغیرہ۔ کرایہ دار دیوار سے استنجا کرسکتا ہے اگرچہ دیوار تر ہو۔ اھ تلخیص (ت)
 (۳؎ ردالمحتار        فصل الاستنجاء       مطبوعہ  مجتبائی دہلی        ۱/۲۲۴)
مسئلہ ۲۲۱:    ۲۷ صفر از کھنڈوا ضلع نماڑ ملک متوسط مرسلہ مولوی اللہ یار خاں صاحب    ازمکان منشی حبیب اللہ تحصیلدار
باحسن آداب زانوائے ادب تہ کردہ بعرض مستفیضان باریابان حضور فیض معمور میر ساند دیرنوالا ضرورتے درمسئلہ کتاب منیۃ المصلی واقع ست لہذا بخدمت فیض درجت عالی منقبت محی مراسم شریعت ماحی لوازم بدعت مظہر حسنات ملت بیضا مصدر برکات شریعت غرا جناب مولوی احمد رضا خان صاحب ادام اللہ فیضہم وظلمہم وبرکاتہم استفتا مع عبارت یکرہ دخول المخرج لمن فی اصبعہ خاتم فیہ شیئ من القراٰن لمافیہ من ترک التعظیم ۱؎ ارسال می نمایند معنی دخول المخرج بتصریح ترجمہ اردو ارشاد فرمایند کہ چہ مراد مؤلف ست ومعنی لغوی واصطلاحی صیغہ مخرج درینجا چیست۔ بینوا توجروا۔
 (۱؎ منیۃ المصلی        قبیل فصل فی التمیم    مطبوعہ مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ لاہور    ص۴۵)
عمدہ آداب کے ساتھ زانوائے ادب تَہ کرتے ہوئے آنحضور کے فیوض وبرکات سے مستفیض ہونے والے حضرات کی ایک عرض جو اس علاقے میں منیۃ المصلی کے ایک مسئلہ کے سلسلے میں ہے فیضدرجت، عالی مرتبت، شریعت کے رسوم کو زندہ کرنے والے، بدعت کے لوازم کو مٹانے والے روشن ملّت کی اچھائیوں کو ظاہر کرنے والے، چمکتی ہوئی شریعت کی برکات کے منبع حضرت مولانا محمد احمد رضا خان اللہ تعالٰی ان کے فیوض، سایہ عاطفت اور برکات کو ہمیشہ باقی رکھے، کے حضور عبارت کے ساتھ استفتأ پیش کرتے ہیں، عبارت یہ ہے ''جس آدمی کے ہاتھ میں ایسی انگوٹھی ہو جس میں قرآن پاک سے کچھ لکھا ہو اس کا مخرج میں داخل ہونا مکروہ ہے کیونکہ اس میں تعظیم کو چھوڑنا ہے''۔ جواباً وضاحت کے ساتھ اردو زبان میں دخولِ مخرج کا معنٰی لکھیں اور بتائیں کہ مؤلّف کی کیا مراد ہے اور اس جگہ لفظ مخرج کا لغوی اور اصطلاحی معنٰی کیا ہے، بیان فرمائیں اجر پائیں۔ (ت)
الجواب: مولانا المکرم اکرمکم اللہ تعالٰی وکرّم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، مخرج جائے خروج واینجا مراد بیت الخلاست کہ محل خروج خارج ست خارج بول وبراز را نامند چنانکہ در ردالمحتار اور آداب استنجا فرمود ویدفن الخارج ۲؎ وحلق مُوئے دُبررا تعلیل نمود وکیلا یتعلق بہ شیئ من الخارج وتواند کہ خلارا مخرج گفتن ازاں عالم باشد کہ بیابان مہلکہ رامفازہ یعنی جائے فوز ونجات خوانند زیراکہ دخول خلامحض بضرورت ست وداخل درعین دخول برقصد تعجیل خروج پس گویا اومدخل نیست مخرج ست ۔
مولانا المکرم، اللہ تعالٰی آپ کو عزت بخشے، السلامُ علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، ''مخرج'' نکلنے کی جگہ کو کہتے ہیں یہاں بیت الخلا مراد ہے کہ نجاست خارج کرنے کی جگہ ہے بول وبراز کو خارج کہتے ہیں جیسا کہ ردالمحتار کے آدابِ استنجاء میں فرمایا: ''اور خارج (پیشاب وپاخانہ) کو (زمین میں) دبادے''۔ اور دُبر کے بال مونڈنے کی علّت یہ بیان کی کہ ان کے ساتھ خارج (پیشاب وپاخانہ) نہ لگ جائے اور ممکن ہے کہ خلا کو مخرج کہنا یوں ہو جیسے بیابانِ مہلکہ کو مفازہ یعنی جائے فوزوفلاح کہتے ہیں کیونکہ دخولِ خلا محض ضرورت کے پیشِ نظر ہوتا ہے۔ اور داخل ہونے والا دخول کے وقت فوراً نکلنے کے ارادے پر ہوتا ہے تو گویا وہ مدخل نہیں مخرج ہے۔
 (۲؎ ردالمحتار   آداب استنجاء  مطبوعہ  مجتبائی دہلی ،  ۱/۲۳۰)
فافہم بالجملہ معنی دخول المخرج پاخانے میں جانا وحاصل مسئلہ آنکہ ہرکہ دردست اوخاتمی ست کہ بروچیزے ازقرآن یا ازاسمائے معظمہ مثل نامِ الہی یانام قرآن عظیم یااسما انبیاء یاملائکہ علیہم الصلاۃ والثنا نوشتہ است اومامورست کہ چوںبخلارود خاتم ازدست کشیدہ بیرون نہد افضل ہمین ست واگر خوف ضیاع باشدد رجیب انداز دیا بچیزے دگربپوشد کہ اینہم رواست اگرچہ بے ضرورت احترازو اولٰی ست اگر ازینہا ہیچ نکرد وہمچناں درخلا رفت مکروہ باشد علامہ ابراہیم حلبی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ درغنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی زیرہمیں عبارت مذکور فرماید یکرہ دخول المخرج ای الخلاء وفی اصبعہ خاتم فیہ شیئ من القراٰن اومن اسمائہ تعالٰی لمافیہ من ترک التعظیم وقیل لایکرہ ان جعل فصلہ الی باطن الکف ولوکان مافیہ شیئ من القراٰن اومن اسمائہ تعالٰی فی جیبہ لاباس بہ وکذا لوکان ملفوفا فی شیئ والتحرز اولٰی ۱؎ درمراقی الفلاح ست یکرہ دخول الخلاء ومعہ شیئ مکتوب فیہ اسم اللّٰہ اوقراٰن ۲؎
 (۱؎ غنیۃ المستملی        سنن الغسل        مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور    ص۶۰)

(۲؎ مراقی الفلاح    فصل فی الاستنجاء    مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی    ص۳۰)
اسے سمجھو بالجملہ دخول مخرج کا معنی پاخانے نے میں جانا ہے اور حاصل مسئلہ یہ ہے کہ جس کے ہاتھ میں ایسی انگوٹھی ہو جس پر قرآن پاک میں سے کچھ (کلمات) یا متبرک نام جیسے اللہ تعالٰی کا اسم مبارک یا قرآن حکیم کا نام یا اسمائے انبیاء وملائکہ علیہم الصّلوۃ والثناء (لکھے) ہوں تو اسے حکم ہے کہ جب وہ بیت الخلاء میں جائے تو اپنے ہاتھ سے انگوٹھی نکال کر باہر رکھ لے بہتر یہی ہے اور اس کے ضائئع ہونے کا خوف ہو تو جیب میں ڈال لے یا کسی دوسری چیز میں لپیٹ لے کہ یہ بھی جائز ہے اگر چہ بے ضرورت اس سے بچنا بہتر ہے اگر ان صورتوں میں کوئی بھی بجانہ لائے اور یوں ہی بیت الخلاء میں چلاجائے تو ایسا کرنا مکروہ ہے علامہ ابراہیم حلبی رحمۃ اللہ علیہ نے غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی میں اسی عبارت مذکور کے تحت فرمایا مخرج یعنی بیت الخلا میں داخل ہونا مکروہ ہے جب اسکی انگلی میں ایسی انگوٹھی ہو جس پر قرآن میں سے کچھ (کلمات) یا اللہ تعالٰی کا کوئی اسم مبارک (لکھا ہوا) ہو کیونکہ اس میں ترکِ تعظیم ہے اور کہا گیا ہے کہ اگر اس کا نگینہ ہتھیلی کی طرف کرے تو مکروہ نہیں اور اگر اس کی جیب میں کوئی ایسی چیز (کاپی وغیرہ) ہو جس میں قرآن پاک کا کچھ حصہ اللہ تعالٰی کا اسم گرامی ہو تو کوئی حرج نہیں اسی طرح اگر کسی لفافے میں بند ہو تو بھی حرج نہیں لیکن بچنا زیادہ بہتر ہے۔ مراقی الفلاح میں ہے جس آدمی کے پاس کوئی ایسی چیز ہو جس میں اللہ تعالٰی کا نام مبارک یا قرآن پاک کی کوئی آیت لکھی ہو تو اس کے لئے بیت الخلاء میں داخل ہونا مکروہ ہے۔
Flag Counter