مسئلہ ۲۰۸: از شہر بریلی بہاری پور مدرسہ نارمل اسکول مسئولہ خالق داد خان صاحب ۱۶۔ذیقعدہ ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک خاکروب نے ایک سقّہ کی ترمشک چھُودی ہے اس صورت میں وہ مشک پاک رہی یا ناپاک۔ اور اگر ناپاک ہے تو کسی طرح سے وہ پاک ہوسکتی ہے یا نہیں؟
الجواب : تین بار اُس جگہ پر پانی بہادیں تطیيبا للقلب (دل کے اطمینان کے لئے ہے۔ ت) واللہ تعالیٰ اعلم
مسئلہ ۲۰۹: از پیلی بھیت محلہ بھورے خان مرسلہ سید محمد معین صاحب ۱۵ محرم الحرام ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ روغن زر ورقیق دیگچی میں کوٹھری کے اندر رکھا تھا، کتّا اندر گیا اور جاکر کُتّے نے دیگچی کھول کر کھایا ہوگا فوراً کوٹھری میں جاکر کتّے کو ہٹایا تو اس کے منہ سے گھی گرتا نظر آیا مگر کھاتے ہوئے نہیں دیکھا آیا وہ گھی قابل کھانے کے رہا یا نہیں اور رہا تو کس صورت میں۔
الجواب: گھی ناپاک ہوگیا، اگر رقیق ہے تو سب اور جما ہوا ہے تو جہاں سے کھایا وہ جگہ ناپاک ہوئی باقی پاک رہا، یہ جو جاہلوں میں مشہور ہے کہ اس صورت میں ناپاک نہ ہوگا کہ آنکھ سے تو نہ دیکھا محض جہالت ہے واللہ تعالیٰ اعلم۔
مسئلہ ۲۱۰: از سسونہ ڈاک خانہ شیش گڈھ ضلع بریلی مرسلہ علی جان خاں ۱۶ ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک خاکروب نے کِھیلیں دُکاندار سے خریدیں اور اپنے کپڑے میں لے لیں بعد کو کسی حجت پر کھِیلوں کے ڈھیر پر لوٹ دِیں اب وہ کھیلیں پاک ہیں یا ناپاک، علاوہ اس کے شیرینی لڈو پیڑہ جلیبی اگر خاکروب ہاتھ میں یا کپڑے میں لے لے تو وہ پاک رہی یا ناپاک؟ بینوا توجرّوا۔
الجواب: اگر اس کے ہاتھ میں نجاست ہو اور ہاتھ یا جو چیز اُس نے لی تر ہو تو وہ شے ناپاک ہوجائے گی اور خشک چیز خشک ہاتھ یا کپڑے میں لینے سے ناپاک نہ ہوگی مگر بھنگی کی چھُوئی ہوئی چیز سے لوگ تنفر کرتے ہیں لہذا اُس سے بچنا چاہئے۔ رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: بشروا ولاتنفروا ۱؎ (خوش کرو متنفر نہ کرو۔ ت) واللہ تعالیٰ اعلم۔
(۱؎ صحیح البخاری باب ماکان النبی صلی اللہ علیہ وسلم يتخوالہم من المواعظ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۱۶)
مسئلہ ۲۱۱: از امام پور مرسلہ جناب گل احمد صاحب افغان خراسانی ۱۹ شوال المکرم ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص اپنے ہاتھی کو قریب کُنویں کے نہلاتا ہے اور اس کی چھینٹیں کنویں کے اندر جاتی ہیں اور جس ڈول میں ہاتھی پانی پیتا ہے وہی بار بار کنویں میں ڈالتا ہے ایسی صورت میں کنویں کا کیا حکم ہے اس کے پانی کا استعمال غسل، وضو، کھانے، پینے میں کرنا درست ہے یا نہیں اور اگر اُس سے وضو یا غسل کیا ہو تو نمازوں کا اعادہ کیا جائےگا یا نہیں؟ بینّوا توجّروا۔
الجواب: ہاتھی کے بدن کی چھنیٹیں اگرچہ مذہب راجح میں ناپاک نہیں مگر اُس کا پیا ہوا پانی اور وہ ڈول جس میں پانی پیا یقینا ناپاک ہیں جب وہی ڈول کنویں میں ڈالا سب پانی ناپاک ہوگیا اُس کا استعمال وضو ،غسل وخوردونوش میں حرام ہے اور وضو وغسل کیا تو بدن اور کپڑے پاک کیے جائیں اور نمازیں پھیری جائیں اور ہاتھی والے کو اس حرام حرکت سے باز رکھا جائے واللہ تعالیٰ اعلم۔
مسئلہ ۲۱۲:مسئولہ ننھے خاں کانکرٹولہ شہرکہنہ ۱۴ محرم ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں جو کہ نطفہ آدمی کی پیدائش کا قرار پاتا ہے وہ پاک ہے یا ناپاک؟
الجواب: منی مطلق ناپاک ہی ہے سوا اُن پاک نطفوں کے جن سے تخلیق حضراتِ انبیا علیہم الصّلوٰۃ والسلام ہُوئی اور خواہ انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کے نطفے کہ اُن کا پیشاب بھی پاک ہے یونہی تمام فضلات واللہ تعالیٰ اعلم۔
مسئلہ ۲۱۲ از بلڈانہ براربسوہ اسٹیشن متعلق ملکہ پور مدرسہ اسلامیہ مسئولہ سراج الدین صاحب ۱۳ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بیل گاڑی ہانکنے والا جس کے پاس ایک کُرتا اور ایک ہی پاجامہ ہے یہی پیشہ ہے گاڑی کے کرائے سے شکم سیری کرتا ہے بیلوں کو ہانکنے کے وقت بیلوں کے پیشاب وگوبر کی چھینٹ دُم بیل کے ہلانے سے سب جگہ لگی بڑے بڑے داغ کپڑوں پر آئے دھونے کی فرصت نہیں ملی اس حالت میں نماز پنجگانہ ادا کرنے کی شرح شریف میں کیا تعلیم ہے، بینوا توجروا۔
الجواب بیلوں کاگوبر پیشاب نجاست خفیہ ہے جب تک چہارم کپڑا نہ بھر جائے یا متفرق اتنی پڑی ہوں کہ جمع کرنے سے چہارم کپڑے کی مقدار ہوجائے کپڑے کو نجاست کا حکم نہ دیں گے اور اس سے نماز جائز ہوگی اور بالفرض اگر اس سے زائد بھی دھبّے ہوں اور دھونے سے سچّی معذوری یعنی حرج شدید ہو تو نماز جائز ہے۔
امام محمد رحمہ اللہ نے عموم بلوٰی کے پیش نظر اسے پاک قرار دیا ہے جیسا کہ دُرمختار میں ہے۔ (ت)
(۱؎ درمختار باب الانجاس مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱/۵۵)
عـــہ: مسخہ الناسخ وصوابہ اٰخرا ای فی اٰخر امرہ حین دخل الری مع الخلیفۃ ورأی بلوی الناس من امتلاء الطرق والخانات وقاس المشایخ علی قولہ ھذا طین بخاری فتح واختارہ مجدد المائۃ الحاضرۃ سیدی ووالدی اعلٰحضرت قدس سرہ دفعا للحرج عن الفلاحین ومن حذا حذوھم ھذا ولذا اختار ھھنا فی الخشی قولھما انھا مخففۃ واستظھرہ فی الشرنبلالیۃ وعزاہ الی مواھب الرحمٰن لکن فی النکت للعلامۃ قاسم ان قول الامام بالتغلیظ رجحہ فی المبسوط وغیرہ ولذا جری علیہ اصحاب المتون اھ ۱۲
کاتب نے اس کو مسخ کردیا ہے، اس کا درست بیان آخر میں یعنی آپ کے آخری حکم میں ہے جب آپ خلیفہ کے ساتھ ری میں داخل ہوئے اور راستوں اور دکانوں کے گوبر سے بھرے ہونے کی وجہ سے لوگوں کو ابتلاءِ عام میں دیکھا اور مشائخ نے امام محمد کے اسی قول پر بخاریٰ کی مٹی کو قیاس کیا ہے فتح اور مجدد مائۃ حاضرہ میرے آقا ووالد اعلیٰ حضرت قدس سرہ نے کسانوں اور ان جیسا کام کرنے والوں سے حرج کو دور کرنے کے لئے اسی کو اختیار فرمایا ہے اسے محفوظ کرلو، اسی لئے یہاں مینگنی کے بارے میں شیخین کا قول اختیار فرمایا۔ شرنبلالیہ میں اسی کو ظاہر فرمایا ہے اور اس کو مواہب الرحمن کی طرف منسوب کیا ہے۔ لیکن علّامہ قاسم کی نکت میں یہ ہے کہ امام کا قول نجاستِ غلیظہ کے ساتھ ہے مبسوط وغیرہ میں اسی کو ترجیح دی ہے اسی لئے اصحابِ متون نے اسے اختیار فرمایا اھ ۱۲ (ت)
مسئلہ ۲۱۳ : از شہر گیا محلہ نذرگنج مسئولہ شمس الدین واحمداللہ خان صاحبان شوال ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ سُوئر اور کتّا اور ہاتھی کس وجہ خاص سے نجس کیے گئے ہیں، مدلل بدلائل آیاتِ قرآن مجید۔ بینوا توجروا۔
الجواب: جس وجہ خاص سے تم طاہر کیے گئے ہو، واللہ تعالیٰ اعلم
مسئلہ ۲۱۴: از نگینہ ضلع بجنور محلہ شیخ کی سرائے تکیہ منہاران مسئولہ حافظ بشیر احمد صاحب ۱۰ شوال ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص کہتا ہے کہ کورا کپڑا بازار کا خریدا ہوا دیسی ہو یا انگریزی جبکہ قیمت دے کر خریدا گیا ہو وہ بلادھوئے ہوئے پہننا جائز ہے اور نماز اس پر درست ہے، دوسرا کہتا ہے بغیر دھوئے نماز جائز نہیں کہ اس کے طاہر ہونے کا یقین نہیں، کس کا قول صحیح ہے بینوا توجروا۔
الجواب: طاہر ہونے پر یقین کی اصلاً حاجت نہیں آدمی جو کپڑے پہنے سوتا ہے جاگنے پر کیا یقین ہے کہ انہیں کوئی نجاست نہ پہنچی۔ کپڑے کے استعمال اور اس سے نماز پڑھنے کے لئے صرف اتنا درکار ہے کہ اس کا نجس ہونا معلوم نہ ہو دیسی یا انگریزی جتنے کپڑے خریدے جائیں یا بے خریدے ملیں جب تک اُن کی نجاست معلوم نہ ہو پاک ہیں یہ خیال بےاصل ہے کہ قیمت دینے سے پاک ہوں گے، واللہ تعالیٰ اعلم۔
مسئلہ ۲۱۵: از موضع خورد مؤ ڈاکخانہ بدوسرائے ضلع بارہ بنکی مرسلہ صفدر علی صاحب۶ ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ صابون دیسی یا ولایتی مروجہ کا استعمال زندہ اور مُردہ کے لئے جائز ہے یا ناجائز۔ قطعی فیصل ہونا چاہئے۔
الجواب: مسلمان کا بنایا ہوا صابون جائز ہے اور ہندو یا مجوسی یا نصرانی کا بنایا ہوا صابون جس میں چربی پڑتی ہو اگرچہ گائے یا بکری کی، ناپاک وحرام ہے دیسی ہو یا ولایتی اور جس میں چربی نہ ہو جائز ہے واللہ تعالیٰ اعلم۔
مسئلہ ۲۱۶:مرسلہ حاجی اسمٰعیل بن حاجی امیر میاں قادری کاٹھیاواڑی ازجنوبی افریقہ بمقام بھوٹابھوٹی برٹش باسوٹولینڈ۔
اگر تیل یا گھی گرم ہویا سرد اُس میں حرام جانور مثلاً چُوہا، بلّی یا کتّا یا خنزیر وغیرہ جانور اندر مرگیا یا جھُوٹا کر گیا اب وہ گھی وتیل وغیرہ کیسے پاک ہوگا اور ہو کھانا درست ہوگا یا نہیں؟
الجواب: گھی اگر رقیق پتلا ہے تو اُس کے پاک کرنے کا طریقہ مسئلہ پنجم عہ میں گزرا اور اگر جما ہوا ہے تو اُس جانور یا اُس کے مُنہ لگنے کی جگہ سے تھوڑا سا گھی کھُرچ کر پھینک دیں باقی پاک ہے،
احمد وابوداؤد ابوہریرہ اور دارمی عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے راوی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:اذاوقعت الفارۃ فی السمن فان کان جامدا فا لقوھا وماحولھا ۱؎۔
(۱؎ سنن ابی داؤد شریف باب فی الفارۃ تقع فی السمن مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/۱۸۱)
اگر جمے ہوئے گھی میں چُوہا گرجائے تو چوہا اور اس کے آس پاس کا گھی نکال کر پھینک دو۔
عہ: حاجی اسمٰعیل میاں صاحب کے ایک سوگیارہ سوالات میں سے سوال پنجم کے جواب میں وہ طریقہ ذکر فرمایا کہ اس کتاب کے صفحہ ۵۶۳ پر مسئلہ ۱۹۹ میں مذکور ہے ۱۲ (م)