Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۴(کتاب الطہارۃ)
114 - 2323
مسئلہ ۲۰۰: از کٹک بخشی بازار متصل مسجد مولوی صاحب مرسلہ داور علی خان صاحب سہاوری    ۸۔جمادی الاولیٰ ۱۳۳۶ھ

اُنگلی پر نجاست لگ جائے اور اُسے چاٹ لیا جائے تو انگلی پاک ہوجائے اور مُنہ بھی پاک رہے۔
الجواب: انگلی کی نجاست چاٹ کر پاک کرنا کسی سخت گندی ناپاک رُوح کا کام ہے اور اسے جائز جاننا شریعت پر افترا واتہام اور تحلیل حرام اور قاطع اسلام ہے اور یہ کہنا محض جھُوٹ ہے کہ منہ بھی پاک رہے گا نجاست چاٹنے سے قطعاً ناپاک ہوجائے گا اگرچہ بار بار وہ نجس ناپاک تھوک یہاں تک نگلنے سے کہ اثر نجاست کا مُنہ سے دُھل کر سب پیٹ میں چلاجائےگا پاک ہوجائےگا مگر اس چاٹنے نگلنے کو وہی جائز رکھے گا جو نجس کھانے والا ہے۔
الخبیثٰت للخبیثین والخبیثون للخبیثٰت والطیبٰت للطيبین والطيبون للطيبات اولٰئِک مبرؤون ممایقولون ۲؎۔
واللّٰہ تعالٰی اعلم ۔ناپاک عورتیں ناپاک مردوں کے لئے، اور ناپاک مرد ناپاک عورتوں کیلئے۔ پاک عورتیں پاک مردوں کے لئے اور پاک مرد پاک عورتوں کے لئے۔ وہ ان باتوں سے پاک ہیں جو لوگ کہتے ہیں (ت)
( ۲؎ القرآن    ۲۴/۲۶)
مسئلہ ۲۰۱: از بنگلور بازار مرسلہ قاضی عبدالغفار صاحب    مورخہ ۱۱ جمادی الاولیٰ ۱۳۳۶ھ

ہنود سے اشیاء خوردنی جیسے دُودھ دہی گھی ترکاری شیرینی وغیرہ تر یا خشک کا استعمال اہل سنت کے نزدیک درست ہے یا حرام، اور
آیہ انما المشرکون نجس ۳؎
(بے شک مشرکین نجس ہیں۔ ت ، )سے اہل تشیع کا اشیاء مذکورہ میں کیا خیال ہے اور مجدد صاحب کا اس امر میں کیا فتویٰ ہے؟
 (۳؎ القرآن    ۹/۲۸)
الجواب: آیہ کریمہ انما المشرکون نجس اُن کے نجاست قلب ونجاست دین کے بارے میں ہے اجسام اگر ملوّث بہ نجاست ہیں نجس ہیں ورنہ نہیں تمام کتب فقہ متون وشروح وفتاوٰی اس کی تصریحات سے مالامال ہیں ان کے یہاں کا گوشت تو ضرور حرام ہے مگر اُس حالت میں کہ مسلمان نے اللہ عزّوجل کے لئے ذبح کیا اور بنانے پکانے لانے کے وقت مسلمانوں کی نگاہ سے غائب نہ ہوا کوئی نہ کوئی مسلمان اُسے دیکھتا رہا تو اُس وقت حلال ہے ورنہ حرام اور باقی اشیا جن میں نجاست یا حرمت متحقق وثابت ہو نجس وحرام ہیں اور نہ طاہر وحلال کہ اصل اشیا میں طہارت وحلت ہے
قال تعالیٰ:خلق لکم مافی الارض جمیعا ۱؎۔
زمین میں جو کچھ ہے وہ سب تمہارے فائدے کے لئے پیدا فرمایا۔ (ت)
(۱؎ القرآن    ۲/۲۹)
جب تک کسی عارض سے اس اصل کا زوال ثابت نہ ہو حکم اصل ہی کیلئے رہے گا۔ محرر المذہب سیدنا امام محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:
بہ ناخذ مالم نعرف شیئا حراماً بعینہ ۲؎۔
ہم اسی پر عمل کرینگے جب تک کسی معین چیز کے حرام ہونے کا علم نہ ہوجائے۔ (ت)
 (۲؎ فتاویٰ عالمگیری    الباب الثانی عشر فی الہدایا والضیافات    مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور    ۵/۳۴۲)
مگر اس میں شک نہیں کہ ہنود بلکہ تمام کفار اکثر ملوث بہ نجاست رہتے ہیں بلکہ اکثر نجاستیں اُن کے نزدیک پاک ہیں بلکہ بعض نجاستیں ہنود کے خیال میں پاک کنندہ ہیں تو جہاں تک دشواری نہ ہو اُن سے بچنا اولیٰ ہے غرض فتویٰ جواز اور تقوی احتراز روافض کا خیال ضلال ہے اور اس مسئلہ میںحضرت مجدد کا کوئی خیال مجھے اس وقت یاد نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
مسئلہ ۲۰۲: از ڈاکخانہ رامو چکما کول ضلع چٹا گانگ مدرسہ عزیزیہ مرسلہ سید محمد مفیض الرحمان صاحب     ۹۔جمادی الاخرہ ۱۳۳۶ھ۔

جو زمین ناپاک دھوپ کی وجہ سے پاک ہوگئی ہو اب اُس زمین پر اگر کوئی گِیلا پَیر رکھ دے اور مٹّی لگ جائے تو کیا پَیر ناپاک ہوگا؟
الجواب : جب زمین کو زوال اثر کے بعد حکم طہارت دے دیا گیا اب وہ پانی پڑنے سے ناپاک نہ ہوگی تر پاؤں اس پر رکھ دينے سے ناپاک نہ ہوگا، واللہ تعالیٰ اعلم۔
مسئلہ ۲۰۳ و ۲۰۴:    از شہر کہنہ    ۱۲۔رمضان ۱۳۳۶ھ

(۱) بچّے زمین پر پیشاب پاخانہ کرتے تھے اس پر راب گرگئی وہ سب اٹھاکر آڑے میں اس کی کھانچی پڑی کھاجر کے سوار پڑا اب وہ کچی شکّر پاک ہُوئی یا پکاکر پاک یا کس طرح پاک ہو؟ (۲) کرسی یا چُوہے کی مینگنی کھانے میں نکل آئے تو کیا کِیا جائے؟
الجواب: (۱) جب بچّے زمین پر پاخانہ پھرتے ہیں وہ اٹھادیا جاتا ہے زمین کھُرچ دی جاتی ہے، پیشاب کرتے ہیں وہ خشک ہوجاتا ہے اُس کا اثر زائل ہوجاتا ہے زمین پاک ہوجاتی ہے شبہہ اور وہم پالنا منع ہے واللہ تعالیٰ اعلم۔

(۲) کَرسی تر کھانے جیسے شوربے کو ناپاک کردے گی اور جس میں ایسی تری نہ ہو جیسے چاول، اگر پک جانے کے بعد گری تو اس کے پاس کے دانے جُدا کردیے جائیں اور اگر جس وقت پانی تھا اُس وقت گری تو سب ناپاک ہے جانور کو کھلا دے۔ اور مینگنی اگر بکری کی ہے تو اس کا یہی حکم ہے اور چُوہے کی ہے اور ناج مثلاً روٹی یا دلیے یا دال پلاؤ کھچڑی میں نکلی تو معاف ہے جبکہ اتنی نہ ہوکہ اس کا مزہ کھانے میں آگیا ہو اور اگر شوربے دار سالن میں نکلی تو اسے نہ کھانا چاہئے واللہ تعالیٰ اعلم۔
مسئلہ ۲۰۵: از ضلع بلیا مسئولہ سید محمد رضا: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے غسل خانہ مسجد میں غسل کیا گھڑا پانی کا اتفاقاً ایک منٹ زمین پر رکھ دیا اب وہ گھڑے کا پیندا تین مرتبہ آب طاہر سے غوطہ دینے سے پاک وطاہر ہوا قابل استعمال کے ہوگیا یا نہیں اگر پاک ہوگیا تو کیوں قیمت اُس کی مثل ہنود کے اُس شخص گھڑا زمین پر رکھنے والے سے طلب کی جاتی ہے کیا وہ غوطہ دینے سے پاک نہیں ہوا نجس کا نجس رہا اگر ایسا رہا تو متابعت ہنود کی کی گئی اور دوسرا امر یہ ہے کہ اگر کوئی جاہل شخص اپنے تئیں مولوی کہلائے تو شرع میں اس کے لئے کیا حکم ہے صورتہائے مذکورہ بالا میں صاف صاف جواب مزین بدستخط ومہر مرحمت ہو۔
الجواب: فقط تین غوطے دینے سے پاک نہیں ہوسکتا نہ زمین پر رکھ دینا ناپاک کرے جب تک زمین کی ناپاکی قابلِ سرایت بوجہ تری سبو یا زمین ثابت نہ ہو نہ قیمت مانگنے کی ضرورت بلکہ ناپاک ہوا ہو تو اُس سے پاک کرایا جائے جو نہ صرف غوطے بلکہ تین بار دھونے اور ہر بار خشک کرنے سے ہوگا۔ لوگ مولوی کہیں تو اُس پر الزام نہیں، ہاں وہ خود کہے کہ مجھے مولوی کہو تو الزام ہے واللہ تعالیٰ اعلم۔
مسئلہ ۲۰۶: از بریلی محلہ گندانالہ مسئولہ محمد جان صاحب    ۱۱ شوال ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کھانا پلنگ پر کسی برتن میں رکھا تھا اور قریب ہی ایک کُتّے کو کھڑا دیکھا کسی نے منہ ڈالتے نہیں دیکھا البتہ کچھ نشانات کھانے کے گرنے کے اور برتن میں بھی اُس طرف جس طرف کتّا کھڑا تھا کچھ جگہ خالی دیکھی اس صورت میں کیا حکم ہے؟
الجواب: جبکہ اُس طرف برتن خالی ہونے اور کھانا گرنے کی اور کوئی وجہ ظاہر نہ ہو اور کُتّا موجود ہے تو ضرور اُس نے کھایا اور کھانا ناپاک ہوگیا اگر تر مثل شیر وشوربا ہے تو سب اور خشک مثل برنچ ہے تو جہاں مُنہ لگا ہے وہاں سے اُتار کر پھینک دیں باقی پاک ہے واللہ تعالیٰ اعلم۔
مسئلہ ۲۰۷: از بریلی شہر کہنہ مسئولہ سید گوہر علی حسین صاحب قائم مقام معتمد انجمن خادم المسلمین بریلی ۴ ذیقعدہ ۱۳۳۷ھ۔

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ سڑکوں پر چھڑکاؤ کرنے کی غرض سے پانی حوضوں میں بھرا جاتا ہے اور اُس میں اکثر ہاتھ مُنہ اور کپڑے وغیرہ دھوئے جاتے ہیں چھڑکاؤ کرنے والے بہشتی اُنہی حوضوں سے پانی لے کر اور مشکوں میں بھرکر چھڑکاؤ کرتے ہیں اور بعدہ مشکوں کو ایک دفعہ پانی سے دھوکر اہلِ محلہ کے یہاں پانی بھرتے ہیں آیا یہ پانی خوردونوش میں استعمال کرنے کے قابل ہے اور پاک ہے واضح رائے عالی رہے کہ غیر مسلم بھی بہشتیوں کی ان حرکات پر نفرین کرتے ہیں۔
الجواب: صورتِ مسئولہ میں حکم جواز ہے جب تک کسی خاص حالت میں نجاست ثابت نہ ہو۔
نص علیہ فی کتب المذھب قاطبۃ ومن احسن من بینہ مصنّف الطریقۃ المحدیۃ وشارحھا قدس سرھما وقدفصلناہ فی الاحلی من السکر۔
کتب مذہب میں اس کی تصریح موجود ہے طریقہ محمدیہ کے مصنّف اور شارح نے اسے بہت ہی اچھا بیان کیا، ہم نے ''الاحلی من السکر'' میں اسے تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ (ت)
کفار کی نفرین وآفرین کچھ ملحوظ نہیں حلوائیوں کی کڑاہیاں جن کو شب بھر کُتّے چاٹیں صبح وہ اپنے مظنون النجاسۃ پانی سے دھوئیں اور سال بھر کے باندھے ہوئے انگوچھے سے پُوچھیں جس میں تقریباً چھٹانک بھر پیشاب ہوگا یہ کچھ قابل نفریں نہیں اور ان کا دُودھ مٹھائی طیب اور وہ پانی نجس۔ شریعت ایسے مہمل فرق نہیں فرماتی۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
Flag Counter