Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۴(کتاب الطہارۃ)
113 - 2323
مسئلہ ۱۹۳:مسئولہ مولوی سلیم اللہ صاحب جنرل سیکریٹری انجمن نعمانیہ لاہور    ۳۰ ربیع الآخر ۱۳۳۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرح متین اس مسئلہ میں کہ کفار کا استعمال کیا ہوا چرس یا ڈول چرمی یا حقّہ چرمی دھوکر اور صاف کرکے مسلمان استعمال کرسکتا ہے۔
الجواب : دھونے نے صاف کرلینے کے بعد کوئی شبہہ نہیں رہتا، استعمال بلاشبہہ جائز ہے۔
صحیحین ومسند امام احمد وسنن ابی داؤد وجامع ترمذی شریف میں ابوثعلبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہے: واللفظ للترمذی قال سئل رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم عن قدور المجوس فقال انقوھا غسلا واطبخوا فیھا ۱؎۔ واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
الفاظ امام ترمذی کے ہیں فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے مجوسیوں کی ہانڈیوں کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: انہیں دھوکر پاک کرلو اور ان میں پکاؤ۔ (ت)
 (۱؎ جامع ترمذی    باب ماجاء فی الاکل فی آنیۃ الکفار    مطبوعہ کتب خانہ رشیدیہ دہلی    ۲/۲)
مسئلہ ۱۹۴ تا ۱۹۷:    از لکھنؤ چوبداری محلہ متصل کوٹھی قدیم عینک سازان مکان نمبر ۱۰۳ مرسلہ حضرت سید محمد میاں صاحب مارہروی    ۵ محرم۳ ۱۳۳ھ

(۱) کپڑے یا بدن پر کوئی حصّہ نجس ہوگیا اُس پر پانی پہلی مرتبہ ڈالا پھر ہاتھ سے اس کے قطرے پونچھ ڈالے، اسی طرح تین مرتبہ پانی ڈالا اور اُسی ہاتھ سے جس سے پہلی مرتبہ قطرے پونچھے تھے اُس کو دھوئے بغیر قطرے پُونچھے تو آیا یہ عضو مغسول اور وہ ہاتھ دونوں پاک ہوجائیں گے بحالیکہ عضو مغسول کو وہ ہاتھ لگا ہے جس نے پہلی اور دوسری تیسری مرتبہ کے غسالہ کو پونچھا تھا اور خود الگ پانی سے دھویا نہ گیا تھا۔

(۲) اگر اس ترکیب سے پاکی نہ ہوسکے تو کیا کِیا جائے؟

(۳) بدن کو دھوکر جھٹک دیا سب قطرے گر گئے ہاں وہ رہ گئے جو بال کی جڑمیں ہیں یا بہت ہی باریک میں جھٹکنے سے بھی نہیں گرتے تو ایسی صورت میں عضو تین بار دھو ڈالے پاک ہوجائیگا یا نہیں، اگر نہیں تو کیا کرے، خاص کر اُس صورت میں جب دونوں ہاتھ نجس ہوں۔

(۴) بدن پاک کرنے میں ہر بار کے دھونے میں تقاطر جاتا رہنا ضرور ہے یا مطلقاً ہر قطرہ کا خواہ وہ چھوٹا ہی ہو اور پونچھنے سے صرف بدن پر پھیل کر رہ جاتا ہو اس کا بھی دُور کرنا یعنی وہی پھیلادینا ضرور ہے۔
الجواب: بدن پاک کرنے میں نہ چھوٹے قطرے صاف کرکے دوبارہ دھونا ضرور نہ انقطاع تقاطر کا انتظار درکار بلکہ قطرات وتقاطر درکنار دھار کا موقوف ہونا لازم نہیں نجاست اگر مرئیہ ہو جب تو اُس کے عین کا زوال مطلوب اگرچہ ایک ہی بار میں ہوجائے اور غیر مرئیہ ہے تو زوال کا غلبہ ظن جس کی تقدیر تثلیث سے کی گئی جہاں عصر شرط ہے اور وہ متعذر ہوجیسے مٹّی کا گھڑا یا معتسر ہو جیسے بھاری قالین دری تو شک لحاف وہاں انقطاع تقاطر یا ذہاب تری کو قائم مقام عصر رکھا ہے بدن میں عصر ہی درکار نہیں کہ ان کی حاجت ہو صرف تین بار پانی بَہ جانا چاہئے اگرچہ پہلی دھار ابھی حصّہ زیریں پر باقی ہے مثلاً ساق پر نجاست غیر مرئیہ تھی اوپر سے پانی ایک بار بہایا وہ ابھی ایڑی سے بَہ رہا ہے دوبارہ اوپر سے پھر بہایا ابھی اس کا سیلان نیچے باقی تھا سہ بارہ پھر بہایا جب یہ پانی اُتر گیا تطہیر ہوگئی بلکہ ایک مذہب پر تو انقطاع تقاطر کا انتظار جائز نہیں اگر انتظار کرے گا طہارت نہ ہوگی کہ ان کے نزدیک تطہیر بدن میں عصر کی جگہ توالی غسلات یعنی تینوں غسل پے درپے ہونا ضرور ہے مذہب ارجح میں اگرچہ اس کی بھی ضرورت نہیں مگر خلاف سے بچنے کے لئے اس کی رعایت ضرور مناسب ہے اس تقریر سے تین سوال اخیر کا جواب ہوگیا۔ درمختار میں ہے:
یطھر محل نجاسۃ مرئیۃ بقلعا ای زوال عینھا واثرھا ولوبمرۃ اوبما فوق ثلث فی الاصح ولایضر بقاء اثرلازم ومحل غیر مرئیۃ بغلبۃ ظن غاسل طھارۃ محلھا بلاعدد بہ یفتی وقدر بغسل وعصر ثلثا فیما ینعصر مبالغا بحیث لایقطر وبتثلیث جفاف ای انقطاع تقاطر فی غیر منعصر ممایتشرب النجاسۃ والا فبقلعھا ۱؎۔
اصح مذہب کے مطابق نظر آنے والی نجاست کی جگہ عین نجاست اور اس کے اثر کو دُور کرنے سے پاک ہوجاتی ہے اگرچہ ایک مرتبہ سے ہو یا تین بار سے زیادہ یہ اصح مذہب ہے۔ اس سے لازم ہونے والے (نہ دُور ہونے والے) اثر کا باقی رہنا کچھ نقصان دہ نہیں اور جہاں نجاست نظر نہ آتی ہو اگر دھونے والے کو اس جگہ کے پاک ہونے کا غالب گمان حاصل ہوجائے تو پاک ہوجائیگی۔ اس میں گنتی شرط نہیں اور اسی پر فتویٰ ہے۔ جس چیز کو نچوڑا جاسکتا ہے وہ تین بار دھونے اور خوب نچوڑنے کے ساتھ کہ اب کوئی قطرہ باقی نہ ہو، پاک ہوجاتی ہے۔ اور جس کا نچوڑنا ممکن ہو اور اس میں نجاست جذب ہوتی ہو وہ تین بار خشک کرنے یعنی قطرات کے ختم ہونے سے پاک ہوجاتی ہے ورنہ اسے زائل کیا جائے۔ (ت)
 (۱؎ درمختار    باب الانجاس        مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۱/۵۶)
ردالمحتار میں ہے: بتثلیث جفاف ای جفاف کل غسلۃ من الغسلات الثلاث وھذا شرط فی غیر البدن ونحوہ امافیہ فیقوم مقامہ توالی الغسل ثلثا قال فی الحلیۃ والاظھر ان کلا من التوالی والجفاف لیس بشرط فیہ وقدصرح بہ فی النوازل وفی الذخیرۃ مایوافقہ ۱؎ اھ واقرہ فی البحر۔
تین بار خشک کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہربار دھونے کے بعد خشک کیا جائے یہ شرط غیرِ بدن وغیرہ میں ہے بدن میں تین بار مسلسل دھونا اس کے قائم مقام ہوگا حلیہ میں فرمایا اظہر بات یہ ہے کہ اس میں تسلسل اور اور خشک کرنے (دونوں) میں سے کوئی بات بھی شرط نہیں نوازل میں اس کی تصریح ہے، ذخیرہ میں اس کے موافق ہے اھ بحرالرائق میں اس کو برقرار ررکھا ہے۔ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار    باب الانجاس        مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۱/۲۲۱)
رہا سوال اول یہ تو ظاہر ہوگیا کہ ہر بار قطرات کا پونچھنا فضول تھا بلکہ بلاوجہ ہاتھ ناپاک کرلینا مگر جبکہ اس نے ایسا کیا، مثلاً پاؤں پر نجاست تھی سیدھے ہاتھ میں لوٹا لے کر اُس پر پانی بہایا اور جو قطرات باقی رہے بائیں ہاتھ سے پونچھ لیے تو یہ ہاتھ ناپاک ہوگیا مگر ایسی نجاست سے کہ دوبار دھونے سے پاک ہوجائے گی اس لئے کہ ایک بار دُھل چکی اب پاؤں پر دوبار پانی ڈالنا تھا دوسری بار کے بعد ایک ہی بار ڈالنا تھا لیکن اس نے دوبارہ دھوکر نجس ہاتھ سے پھر اس کے قطرے پونچھے تو اب پاؤں کو وہ نجاست لگ گئی جو دوبار دھونے کی محتاج ہے تو پاؤں کو پھر دوبار دھونے کی ضرورت ہوگئی اور ہاتھ بدستور اُسی نجاست سے نجس رہا اُس میں تخفیف نہ ہُوئی کہ اُس پر سیلان آب نہ ہوا اب پاؤں پر سہ بارہ کا پانی دوبارہ کے حکم میں ہے کہ اس کے بعد ایک بار اور دھونے کی حاجت ہے لیکن اس نے اس کے بعد بھی وہی نجس ہاتھ اس کے قطرات صاف کرنے میں استعمال کیا تو اب پھر پاؤں کو دو۲ بار دھونے کی ضرورت ہوگئی وھکذا (اور اسی طرح ہے۔ ت) لہذا اُسے لازم کہ پاؤں پر دوبار پانی بہائے اور قطرات نہ پونچھے اور وہ ہاتھ جدا دوبار دھولے۔
ردالمحتار میں ہے:قال فی الامداد والمیاہ الثلثۃ متفاوتۃ فی النجاسۃ فالاولی یطھر مااصابتہ بالغسل ثلثا والثانیۃ بالثنتین والثالثۃ بواحدۃ وکذا الاوانی الثلثۃ التی غسل فیھا واحدۃ بعد واحدۃ وقیل یطھر الاناء الثالث بمجرد الاراقۃ والثانی بواحدۃ والاول بثنتین ۲؎ اھ واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
 (۲؎ ردالمحتار	باب الانجاس        مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۱/۲۲۲)
''الامداد'' میں فرمایا نجاست میں تینوں پانی الگ الگ حکم رکھتے ہیں پہلا پانی جس چیز کو لگ جائے وہ تین بار دھونے سے پاک ہے۔ دوسرا پانی جسے پہنچے وہ دو بار، اور تیسرے پانی جسے پہنچے ایک بار دھونے سے پاک ہوجاتی ہے۔ اسی طرح وہ تینوں برتن جو یکے بعد دیگرے اس میں دھوئے گئے۔ اور کہا گیا ہے تیسرا برتن محض پانی بہانے سے پاک ہوجائے گا دوسرا ایک بار دھونے سے اور پہلا دوبار دھونے سے پاک ہوگا اھ واللہ تعالیٰ اعلم (ت)
مسئلہ ۱۹۸: از سرنیا ضلع بریلی مسئولہ امیر علی صاحب رضوی     ۱۶ شوال ۱۳۲۲ھ

اگر کپڑوں پر بیلوں کے پیشاب گوبر وغیرہ کی چھینٹیں پڑی ہیں اور کپڑے بدلنے کی فرصت نہیں ہے نماز ایسی حالت میں ہوگی یا نہیں؟
الجواب: اگر چھینٹیں چہارم کپڑے سے کم پر پڑی ہیں نماز ہوجائے گی ورنہ نہیں اور کھیت کے کام سے فرصت نہ ہونے کا کچھ اعتبار نہیں، واللہ تعالیٰ اعلم۔
مسئلہ ۱۹۹:از موضع بھوٹا بھوٹی بسوٹولانڈ ملک افریقہ مرسلہ حاجی اسمٰعیل میاں صاحب صدیقی حنفی قادری ابن امیر میاں    ۲۳ صفر ۱۳۳۶ھ

گھی گرم تھا اس میں مُرغی کا بچّہ گرا اور فوراً مرگیا یہ گھی کھانا جائز ہے یا نہیں؟
الجواب گھی ناپاک ہوگیا، بے پاک کیے اُس کا کھانا حرام ہے۔ پاک کرنے کے تین۳ طریقے ہیں: ایک یہ کہ اُتنا ہی پانی اُس میں ملاکر جنبش دیتے ہیں یہاں تک کہ سب گھی اُوپر آجائے اُسے اتارلیں۔ اور دُوسرا پانی اُسی قدر ملاکر یونہی کریں۔

پھر اتارکر تیسرے پانی سے اُسی طرح دھوئیں۔ اور اگر گھی سرد ہوکر جم گیا ہو تو تینوں بار اُس کے برابر پانی ملاکر جوش دیں یہاں تک کہ گھی اوپر آجائے اتارلیں۔

اقول جوش دینے کی پہلی ہی بار حاجت ہے پھر تو گھی رقیق ہوجائے گا اور پانی ملاکر جنبش دینا کفایت کرے گا۔
ردالمحتار میں ہے: قال فی الدرر لوتنجس الدھن یصب علیہ الماء فیغلی فیعلوا الدھن الماء فیرفع بشیئ ھکذا ثلاث مرات اھ وھذا عند ابی یوسف خلافاً لمحمد وھو اوسع وعلیہ الفتوی کمافی شرح الشیخ اسمٰعیل عن جامع الفتاوٰی وقال فی الفتاوی الخیریۃ لفظۃ فیغلی ذکرت فی بعض الکتب والظاھر انھا من زیادۃ الناسخ فانالم نرمن شرط لتطھیر الدھن الغلیان مع کثرۃ النقل فی المسألۃ والتتبع لھا الا ان یرادبہ التحریک مجازا فقدصرح فی مجمع الروایۃ وشرح القدوری انہ یصب علیہ مثلہ ماء ویحرک فتأمل اھ اویحمل علی مااذاجمد الدھن بعد تنجسہ ثم رأیت الشارح صرح بذلک فی الخزائن فقال والدھن السائل یلقی فیہ الماء والجامد یغلی بہ حتی یعلو ۱؎ الخ۔
الدرر میں فرمایا اگر تیل ناپاک ہوجائے تو اس پر پانی ڈال کر جوش دیا جائے اس طرح تیل پانی پر غالب آکر کچھ اُوپر آجائے گا۔ یوں ہی تین بار کیا جائے اھ یہ امام ابویوسف رحمہ اللہ کے نزدیک ہے امام محمد رحمہ اللہ کا اس میں اختلاف ہے، اس میں زیادہ وسعت ہے اور اسی پر فتویٰ ہے جیسے شرح شیخ اسمٰعیل میں جامع الفتاویٰ سے منقو ل ہے۔ اور فتاویٰ خیریہ میں فرمایا: ''فیغلیٰ'' (جوش دیا جائے) کا لفظ بعض کتب میں مذکور ہے اور ظاہر ہے کہ یہ لکھنے والے کی طرف سے اضافہ ہے کیونکہ ہم نے تیل کو پاک کرنے کیلئے جوش دینے کی شرط نہیں دیکھی حالانکہ یہ مسئلہ بہت زیادہ منقول ہے اور اس کی چھان بین بھی بہت زیادہ کی گئی البتہ یہ کہ اس ''جوش دینے'' سے مجازاً حرکت دینا مراد لیا جائے، مجمع الروایۃ اور شرح قدوری میں اس کی تصریح کی گئی کہ اس پر اُتنا ہی پانی ڈالا جائے اور حرکت دی جائے، پس غور کرو اھ یا اسے اس صورت پر بھی محمول کیا جاسکتا ہے کہ جب وہ ناپاک ہونے کے بعد جم جائے۔ پھر میں نے دیکھا کہ شارح نے الخزائن میں اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا بہنے والے تیل میں پانی ڈالا جائے اور جمے ہوئے کو جوش دیا جائے یہاں تک کہ وہ اُوپر آجائے الخ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار        باب الانجاس        مطبوعہ مجتبائی دہلی        ۱/۲۲۲)
دوم: ناپاک گی جس برتن میں ہے اگر جمنے کی طرف مائل ہوگیا ہو آگ پر پگھلالیں اور ویسا ہی پگھلا ہوا پاک گھی اُس برتن میں ڈالتے جائیں یہاں تک کہ گھی سے بھر کر اُبل جائے سب گھی پاک ہوجائیگا۔ جامع الرموز میں ہے:
المائع کالماء والدبس وغیرھما طھارتہ باجرائہ مع جنسہ مختلطاً بہ ۲؎۔
بہنے والی چیز جیسے پانی اور شیرہ وغیرہ کو اس کے ہم جنس کے ساتھ ملاکر جاری کیا جائے تو پاک ہوجاتی ہے۔ (ت)
 (۲؎ جامع الرموز    فصل یطہر الشیئ    مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران    ۱/۹۵)
سوم دوسرا گھی پاک لیں اور مثلاً تخت پر بیٹھ کر نیچے ایک خالی برتن رکھیں اور پر نالے کی مثل کسی چیز میں وہ پاک گھی ڈالیں اُس کے بعد یہ ناپاک گھی اُسی پر نالے میں ڈالیں یوں کہ دونوں کی دھاریں برتن میں گریں اس طرح پاک وناپاک دونوں گھی ملا کر ڈالیں یہاں تک کہ سب ناپاک گھی پاک گھی سے ایک دھار ہوکر برتن میں پہنچ جائے سب پاک ہوگیا،
خزانہ میں ہے: اناء ان ماء احدھما طاھر والاٰخر نجس فصبا من مکان عال فاختلطا فی الھواء ثم نزلاطھر کلہ ۱
دو۲ برتنوں میں سے ایک کا پانی پاک اور دوسرے کا ناپاک ہو تو ان کو بلند مقام سے گرایا جائے اور وہ فضا میں مل کر اُتریں تو تمام پانی پاک ہوجائیگا۔ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار    باب الانجاس        مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۱/۲۱۷)
پہلے طریقہ میں پانی سے گھی کو تین بار دھونے میں گھی خراب ہونے کا اندیشہ ہے اور دوسرے طریقہ میں اُبل کر تھوڑا گھی ضائع جائے گا۔ تیسرا طریقہ بالکل صاف ہے مگر اس میں احتیاط بہت درکار ہے کہ برتن میں ناپاک گھی کی کوئی بوند نہ پاک گھی سے پہلے نہ بعد کو گرے نہ پرنالے میں بہاتے وقت اُس کی کوئی چھینٹ اُڑ کر پاک گھی سے جدا برتن میں گرے ورنہ جتنا برتن میں پہنچا یا اب پہنچے گا سب ناپاک ہوجائے گا واللہ تعالیٰ اعلم۔
Flag Counter