مسئلہ ۱۸۶: از بزریہ عنایت گنج بریلی شہر کہنہ ۲۶ صفر ۱۳۱۸ھ: شِیر خوار بچّے کا پیشاب پاک یا ناپاک؟
الجواب: آدمی کا بچّہ اگرچہ ایک دن کا ہو اُس کا پیشاب ناپاک ہے اگرچہ لڑکا ہو والمسألۃ دوارۃ متونا وشروحا (یہ مسئلہ متن وشرح کی کتب میں اکثر پایا جاتا ہے۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۷: از اٹاوہ کچہری کلکٹری مکان منشی عنایت اللہ ۱۲ شعبان ۱۳۱۸ھ
جسم پر اگر کوئی نجاست بالتحقیق لگ چکی ہو اور وہاں ورم ہو مثلاً شکم پر ہو یا رانوں تک ورم پہنچا ہو تو نجاست دھوئیں یا نہیں؟ بینوا توجروا۔
الجواب: اگر پانی بہانا ضرر کرے تو کسی عرق مثلاً عرق مکوہ وغیرہ سے گُنگنا کرکے دھوئے نجاست حقیقی ان چیزوں سے بھی پاک ہوجاتی ہے، ہاں نہانے یا وضو میں پانی کے سوا دوسری چیز کام نہیں دیتی اور اگر ان سے بھی ضرر ہو تو کپڑا پانی یا عرق میں خوب بھگو کر اس سے موضعِ نجاست کو ملے دوبارہ دوسرا کپڑا سہ بارہ تیسرا بھگوکر ملے طہارت ہوجائے گی اور اگر یہ بھی نقصان دے تو جب تک حالت ضرر کی رہے ویسے ہی نماز پڑھے، معاف ہے، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۸: از فراشی محلہ ۷۔رجب ۱۳۲۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ لحاف تو شک وغیرہ رُوئی دار کپڑے ناپاک ہوجائیں تو وہ مع روئی کے دُھل کر پاک ہوسکتے ہیں یا روئڑ علیحدہ ہوکر کپڑا الگ اور روئڑ الگ دھونے سے پاک ہوگا اور اگر روئڑ کا سُوت کات لیا جائے تو وہ سُوت بغیر اسی کے کہ دری وغیر بنوائی جائے دھونے سے پاک ہوسکتا ہے یا نہیں؟ بینوا تؤجّروا۔
الجواب: جو کپڑے نچوڑنے میں آسکیں جیسے ہلکی تو شک رضائی وغیرہ وہ یوں ہی دھونے سے پاک ہوجائیں گے ورنہ بہتے دریا میں رکھیں یا اُن پر پانی بہائیں یہاں تک کہ نجاست باقی نہ رہنے پر ظن حاصل ہو یا تین بار دھوئیں اور ہر بار اتنا وقفہ کریں کہ پہلا پانی نکل جائے۔
فی الدرالمختار یطھر محل غیر مرئیۃ بغلبۃ ظن غاسل طھارۃ محلھا بلاعدد بہ یفتی وقدر ذلک لموسوس بغسل وعصر ثلثا فیما ینعصر وتثلیث جفاف ای انقطاع تقاطر فی غیرہ ممایتشرب النجاسۃ وھذا کلہ اذاغسل فی اجانۃ اما لوغسل فی غدیر اوصب علیہ ماء کثیرا وجری علیہ الماء طھر مطلقا بلاشرط عصر وتجفیف وتکرار غمس ھو المختار ۱؎ اھ باختصار۔
درمختار میں ہے (نجاست) نہ دکھائی دینے والی جگہ دھونے والے کے غالب گمان کے ساتھ کہ اب جگہ پاک ہوگئی کسی خاص تعداد کے بغیر بھی پاک ہوجاتی ہے اور اسی پر فتوٰی ہے اگر وسوسہ کرنے والا ہو تو تین بار دھوکر ہر بار نچوڑے جبکہ وہ ایسی چیز ہو جو نچوڑی جاسکتی ہے اگر نچوڑی نہ جاسکتی ہو تین بار خشک کرلیا جائے یعنی جو نجاست اس کے اندر جذب ہوئی اس کے قطرے ختم ہوجائیں یہ تمام باتیں اس صورت میں ہیں جب ٹب وغیرہ میں دھوئے اگر بڑے تالاب میں دھوئے یا اس پر بہت سا پانی ڈالے یا اس پر پانی جاری کرے تو نچوڑنے یا خشک کرنے اور بار بار غوطہ دینے کی شرط کے بغیر مطلقاً پاک ہوجائے گی یہی مختار ہے اھ تلخیص (ت)
(۱؎ درمختار باب الانجاس مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱/۵۶)
ناپاک روئڑ کا سُوت دھونے سے بخوبی پاک ہوسکتا ہے بلکہ دری بناکر پاک کرنے سے سُوت کی تطہیر آسان ہے کہ وہ نچوڑنے میں سہل آسکتا ہے کمالایخفی واللہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۹: از شہرکہنہ ۲۷۔رجب ۱۳۲۰ھ: غسل خانہ کے چہ بچہ کا پانی گھڑے سے نکالنا اور پھر اس کو دھوکر استعمال میں لانا مکروہ ہے یا نہیں؟
الجواب: مکروہ نہیں مگر بے ضرورت پینے یا وضو یا کھانا پکانے کے گھڑے سے یہ کام نہ لیا جائے۔
لان الطباع تتنفر عن ھذا وقد قال صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم بشرواولاتنفروا ۱؎۔ واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
کیونکہ طبیعتیں اس سے نفرت کرتی ہیں اور نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: خوشخبری دواور متنفر نہ کرو۔ (ت)
(۱؎ ابوداؤد شریف باب فی کراھیۃ الماء مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/۳۰۹)
مسئلہ ۱۹۰: احمد یار خان موضع ٹھریا نجابت خاں ضلع وتحصیل بریلی
علماءِ دین اتباع شرع متین کیا فرماتے ہیں مسئلہ ہذا میں جنبی شخص پیشتر ہاتھ دھوکر ناف سے نیچے ناپاکی دھولے بعد وہ تہبند پاک باندھ کر میدان میں مسنون غسل اداکرے تو اس حالت میں وہ تہبند پاک رہے گا یا ناپاک اور غسل سے وہ آدمی پاک ہوگیا یا ناپاک رہا اور اُس پانی کی چھینٹ دیگر شخص کے واسطے پاک ہے یا ناپاک؟ بینّوا توجّروا۔
الجواب: تہبند پاک رہے گا غسل کا پانی پاک ہے اُسکی چھینٹ سے کوئی ناپاکی نہ آئے گی رہا غسل ادا ہوجانا اگر تہبند ایسا ہے کہ پانی اس کے نیچے کے تمام بدن پر بھی ذرّہ ذرّہ پر بَہ جائے گا تو غسل ادا ہوجائے گا ورنہ نہیں واللہ تعالیٰ اعلم۔
مسئلہ ۱۹۱: از ضلع گورگانوہ مقام ریواڑی متصل تحصیل حکیم جلال الدین بروز سہ شنبہ بتاریخ ۱۴ صفر المظفر ۱۳۳۲ھ۔
حلوائیوں کی کڑاہیوں کو کُتّے چاٹتے ہیں اُنہی کڑاہیوں میں وہ شیرینی بناتے ہیں اور دُودھ گرم کرتے ہیں اُن کے یہاں کی شیرینی یا دُودھ لے کر کھانا پینا درست ہے یا کہ نہیں؟ بینّوا توجّروا۔
الجواب: طہارت ونجاست ظاہری میں شرع مطہر کا قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ احتمال سے نجاست ثابت نہیں ہوتی جس خاص شے کی نجاست معلوم ہو وہی خاص نجس وحرام ہے وبس۔ امام محمد رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
بہ نأخذ مالم نعرف شیأ حراما بعینہ ۲؎۔
ہم اسی کو اختیار کرینگے جب تک ہمیں کسی خاص چیز کے حرام ہونے کا علم نہ ہو۔ (ت)
(۲؎ فتاویٰ ہندیہ الباب الثانی عشر فی الہدایا والضیافات مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۵/۳۴۲)
مسئلہ کی تمامتر تحقیق وتفصیل ہمارے رسالہ الاحلی من السکر میں ہے واللہ تعالیٰ اعلم۔
مسئلہ ۱۹۲: از کوٹ ضلع بجنور محلہ کوٹرہ مسئولہ امتیاز حسین صاحب ۱۷ شعبان ۱۳۳۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین کہ اگر مٹی کے برتن مثل پیالے وکونڈے وغیرہ میں نجاست غلیظہ مثل پاخانہ وپیشاب لگ جائے اور اس کو پانی سے دھوکر پاک کریں اور دُھوپ میں خشک کردیں اسی طرح مرتبہ پاک کرلیا جائے تو وہ عندالشرع پاک قابل استعمال رہا یا نجس ہے۔
الجواب: ہاں پاک ہوگیا مٹی کا برتن چکنا استعمالی جس کے مسام بند ہوگئے ہوں جیسے ہانڈی، وہ تو تانبے کے برتن کی طرح صرف تین بار دھو ڈالنے سے پاک ہوجاتا ہے اور جو ایسا نہ ہو جیسے پانی کے گھڑے وغیرہ اُن کو ایک بار دھوکر چھوڑدیں کہ پھر بوند نہ ٹپکے اور تری نہ رہے دوبارہ دھوئیں اور اسی طرح چھوڑدیں سہ بارہ ایسا ہی کریں کہ پاک ہوجائیگا چینی کا برتن جس میں بال ہو وہ بھی یوں ہی خشک کرکے تین بار دھویا جائے گا اور ثابت ہو تو صرف تین بار دھودینا کافی ہے مگر نجاست اگر جرم دار ہے تو اس کا جرم چھڑا دینا بہرحال لازم ہے خشک کرنے کے یہ معنی ہیں کہ اتنی تری نہ رہے کہ ہاتھ لگانے سے ہاتھ بھیگ جائے خالی نم یا سیل کا رہنا مضائقہ نہیں نہ اس کے لئے دھوپ یا سایہ شرط درمختار میں ہے:
قدر بتثلیث جفاف ای انقطاع تقاطر فی غیر منعصر ممایتشرب النجاسۃ والا فبقلعھا ۱؎ کمامر۔
تین بار خشک کرنا مقرر کیا ہے یعنی جو چیز نچوڑی نہ جاسکتی ہو اور نجاست کو جذب کرلے اس کے قطرے ختم ہوجائیں ورنہ اس کی نجاست کو دُور کیا جائے، جیسا کہ گزرا۔ (ت)
(۱؎ درمختار باب الانجاس مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱/۵۶)
ردالمحتار میں ہے: قولہ انقطاع تقاطر زاد القھستانی وذھاب النداوۃ وفی التاترخانیۃ حد التجفیف ان یصیر بحال لاتبتل منہ الید ولایشترط صیرورتہ یابساجدا ۲؎۔ واللّٰہ تعالیٰ اعلم۔
اس (درمختار) کے قول ''انقطاع تقاطر'' میں قہستانی نے اضافہ کیا ہے کہ رطوبت ختم ہوجائے۔ تاتارخانیہ میں ہے خشک کرنے کی حد یہ ہے کہ اب اس سے ہاتھ تر نہ ہو بالکل خشک ہونا شرط نہیں (ت)
(۲؎ ردالمحتار باب الانجاس مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱/۲۲۱)