نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''آسانی کرو اور دقت میں نہ ڈالو اور خوشخبری دو اور نفرت نہ دلاؤ''
احمد والبخاری ومسلم والنسائی عن انس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ مرفوعاً یسروا ولا تعسروا وبشروا ولاتنفروا ۱؎ ۔
امام احمد، بخاری، مسلم اور نسائی رحمہم اللہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: آسانی پیدا کرو، تنگی نہ کرو، خوشخبری دو، نفرت پیدا نہ کرو۔
(۱؎ صحیح البخاری باب ماکان النبی صلی اللہ علیہ وسلم يتخولہم بالموعظۃ الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۱۶ )
ولمسلم وابی داؤد عن ابی موسٰی الاشعری رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کان صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم اذابعث احداً من اصحابہ فی بعض امرہ قال بشروا ولاتنفروا ویسروا ولاتعسروا ۲؎۔
امام مسلم اور ابوداؤد رحمہما اللہ حضرت ابوموسٰی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی صحابی کو کسی کام کے لئے بھیجتے تو فرماتے خوشخبری دو، متنفر نہ کرو، آسانی پیدا کرو، تنگی میں نہ ڈالو (ت)
(۲؎ الصحیح لمسلم باب تامیر الامام الامراء الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۸۲)
اور فرماتے ہیں صلی اللہ علیہ وسلم تم آسانی کرنے والے بھیجے گئے ہو، نہ دشواری میں ڈالنے والے۔
احمد والستۃ ماخلا مسلما عن ابی ھریرۃرضی اللّٰہ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم انما بعثتم میسرین ولم تبعثوا معسرین ۱؎۔
امام احمد اور اصحابِ صحاح ستہ ماسوائے امام مسلم کے (رحمہم اللہ) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں آسانی پیدا کرنے والا بناکر بھیجا گیا ہے تنگی میں ڈالنے والا بناکر نہیں بھیجا گیا۔ (ت)
(۱؎ صحیح البخاری باب صب الماء علی البول فی المسجد مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۳۵)
اور فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم : ''ہلاک ہوئے غلو وتشدد والے''۔
احمد ومسلم وابوداؤد عن ابن مسعود رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم ھلک المتنطعون ۲؎۔
امام احمد، مسلم اور ابوداؤد رحمہم اللہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: گفتگو میں شدت اختیار کرنے والے ہلاک ہُوئے۔ (ت)
(۲؎ سنن ابی داؤد باب فی لزوم السنۃ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/۲۷۹)
اور وارد ہوا فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں نرم شریعت ہر باطل سے کنارہ کرنے والی لے کر بھیجا گیا جو میرے طریقے کا خلاف کرے میرے گروہ سے نہیں۔
الخطیب فی التاریخ عن جابر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم بعثت بالحنیفیۃ السمحۃ ومن خالف سنّتی فلیس ۳؎ منی الی غیر ذلک من احادیث یطول ذکرھا والتی ذکرنا کافیۃ وافیۃ نسأل اللّٰہ سبحانہ العفو والعافیۃ اٰمین۔
خطیب بغدادی نے اپنی تاریخ میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے آسانی اور ہر باطل سے جُدا شریعت کے ساتھ بھیجا گیا ہے اور جس نے میری سنّت کی مخالفت کی وہ مجھ سے نہیں۔ اس کے علاوہ احادیث ہیں جن کا ذکر باعثِ طوالت ہے جو کچھ ہم نے ذکر کیا وہ کافی ووافی ہے ہم اللہ تعالٰی سے عفو وعافیت کا سوال کرتے ہیں۔ (ت)
فقیر غفرلہ اللّٰہ تعالٰی لہ، نے آج تک اس شکّر کی صورت دیکھی نہ کبھی اپنے یہاں منگائی نہ آگے منگائے جانے کا قصد، مگر بایں ہمہ ہرگز ممانعت نہیں مانتا نہ جو مسلمان استعمال کریں اُنہیں آثم خواہ بیباک جانتا ہے نہ تو ورع و احتیاط کا نام بدنام کرکے عوام مومنین پر طعن کرے نہ اپنے نفس ذلیل مہین رذیل کے لئے اُن پر ترفّع وتعلّی روا رکھے،
اور اللہ ہی توفیق دینے والا ہے، منافقت اور تنگی پیدا کرنے سے اس کی پناہ چاہتا ہوں، اور اس پاک اور بلند ذات کا علم زیادہ ہے اس کی ذات بلند اور اس کا علم نہایت مکمل اور مضبوط ومحکم ہے۔
جان لو اپنے مولٰی سبحانہ، وتعالٰی کی توفیق سے اس مقصد پر ہمارے پاس کچھ اور مباحث بھی ہیں جو نہایت باریک اور اعلٰی ہیں لیکن ان کا حصول نہایت باریک بینی کا کام ہے اور ان کا منبع نہایت گہرائی میں ہے ان کو پانا دشوار ہے اور ان کا دامن نہایت طویل ہے۔ ہم نے راہِ حق کے اظہار اور جواب کی تحقیق میں مقصود حاصل کرلیا ہے ہم نے اس معاملہ میں اسی پر اکتفاء کیا اور اس کا ذکر ختم کردیا کہ جواب عزّت وبزرگی والے بادشاہ کے فضل سے قلیل لیکن زیادہ راہنمائی کرنے والا ہے اگر تیز بارش نہ بھی پہنچے تو اوس کافی ہے ۔
(۱؎ القرآن ۲/۲۶۵)
ومعلوم ان ماقل وکفٰی۔ خیرمماکثر والھی ۲؎۔ قالہ المصطفی علیہ افضل الثنا۔ رواہ ابویعلی والضیاء المقدسی۔ عن ابی سعیدن الخدری رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ وعن کل ولی اٰمین۔
اور یہ بات معلوم ہے کہ جو بات مختصر اور کفایت کرنے والی ہو وہ زیادہ اور غافل کرنے والی سے بہتر ہے حضرت محمد مصطفی علیہ افضل الثناء نے یہی بات فرمائی، اسے ابویعلٰی اور ضیاء مقدسی نے حضرت ابوسعید خدری سے روایت کیا اللہ تعالٰی ان سے اور ہر ولی سے راضی ہو۔ آمین (ت)
(۲؎ مسند ابی یعلی عن مسند ابی سعید الخدری حدیث ۱۰۴۸ مطبوعہ مؤسسۃ علوم القرآن بیروت۲/۱۷)
تنبیہ: فقیر غفراللہ تعالٰی لہ نے ان مقدمات عشرہ میں جو مسائل ودلائل تقریر کیے جو انہیں اچھی طرح سمجھ لیا ہے اس قسم کے تمام جزئیات مثلاً بسکٹ، نان پاؤ رنگت کی پُڑیوں، یورپ کے آئے ہوئے دودھ، مکھن، صابون، مٹھائیوں وغیرہا کا حکم خود جان سکتا ہے۔ غرض ہر جگہ کیفیت خبر وحالت مخبر وحاصل واقعہ وطریقہ مداخلت حرام ونجس وتفرقہ ظن ویقین ومدارج ظنون وملاحظہ ضابطہ کلیہ ومسالک ورع ومدارات خلق وغیرہا امور مذکورہ کی تنقیح ومراعات کرلیں پھر ان شاء اللہ تعالٰی کوئی جزئیہ ایسا نہ نکلے گا جس کا حکم تقاریرسابقہ سے واضح نہ ہوجائے۔
واللّٰہ سبحانہ الموفق والمعین۔ وبہ نستعین فی کل حین۔ وصلی اللّٰۃ تعالٰی علی سیدالمرسلین وخاتم النبین۔ محمد واٰلہ وصحبہٖ اجمعین وعلینا معھم برحمتک یاارحم الراحمین۔ اٰمین اٰمین الٰہ الحق اٰمین۔ استراح القلم من تحریرہ فی ثلٰثۃ ایام من اواخر ذی القعدۃ المحرم۔ اٰخرھا یوم السبت السادس والعشرون من ذاک الشھر المکرم۔ سنۃ ثلٰث بعد الالف ۱۳۰۳ھ وثلٰثمائۃ من ھجرۃ حضرۃ سید العالم۔ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وعلٰی اٰلہٖ وصحبہ وبارک وسلم۔ مع اشتغال البال برد اھل الضلال وشیون اُخر۔ والحمد للّٰہ العلی الاکبر۔ مالذا الملح وحُبّ السُّکّر۔ واللّٰہ تعالٰی اعلم۔ وعلّمہ اتم۔ وحکمہ احکم۔
اللہ سبحٰنہ وتعالٰی ہی توفیق دینے والا اور مدد کرنے والا ہے اور ہر وقت ہم اسی سے مدد مانگتے ہیں۔ رسولوں کے سردار اور آخری نبی حضرت محمد مصطفی اور آپ کے تمام آل واصحاب پر رحمت ہو، اور ان کے ساتھ ہم پر بھی، اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے تیری رحمت کے ساتھ۔ یا اللہ! ہماری دعا قبول فرما، یا اللہ! ہماری دعا قبول فرما، اے سچّے معبود! ہماری دعا قبول فرما۔ حرمت والے ذیقعد کے آخر میں تین دن کے اندر قلم اس کی تحریر سے فارغ ہوگیا۔ ۲۶ ذی القعدۃ ۱۳۰۳ھ بروز ہفتہ آخری دن تھا۔ باوجودیکہ میں گمراہ لوگوں کے رَد اور دوسرے امور میں قلبی طور پر مشغول تھا، اللہ بزرگ وبرتر کے لئے حمد ہے۔ (ت)