Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۴(کتاب الطہارۃ)
11 - 2323
اب یہاں چند ضروری تنبیہات ہیں:

تنبیہ اوّل: وہ(۱) وعدہ کہ پانی نہ رہنے کے بعد ہو معتبر نہیں مثلاً نماز میں اس نے کسی کے پاس پانی دیکھا اور دینے کا ظن غالب نہ ہُوا نماز پُوری کی اس کے بعد مانگا اس نے کہا میرے پاس پانی تھا تو مگر خرچ ہوگیا اگر اُس وقت مانگتے میں ضرور دیتا تو اس وعدہ کا اعتبار نہیں نماز ہوگئی(۲) اور اگر نماز سے پہلے دیکھا اور دینے کا ظن غالب نہ ہوا اورتیمم پہلے کرچکا تھا یا اب کرلیا پھر مانگا تو اس نے وہی جواب دیا کہ اب نہ رہا اُس وقت مانگتے تو دے دیتا اس وعدے سے بھی وہ تیمم نہ جائے گا اُسی سے نماز پڑھے یہی اصح ہے کہ نہ رہنے کے بعد وعدہ اس پر دلیل نہیں کہ دے بھی دیتا، شے موجود ہوتے وقت وعدہ سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ دینامنظور ہے اور نہ رہنے کے بعد نہ دینے والا بھی یہ کیوں کہے کہ میں نہ دیتا بلکہ مفت کرم داشتن ہے کہ ہوتا تو ضرور دیتا، بحرالرائق میں ہے:
فی المجتبٰی رأی فی صلاتہ ماء فی ید غیرہ ثم ذھب منہ قبل الفراغ فسألہ فقال لوسألتنی لاعطیتک فلااعادۃ علیہ وان کانت العدۃ قبل الشروع یعید لوقوع الشک فی صحۃ الشروع والاصح انہ لایعید لان العدۃ بعد الذھاب لاتدل علی الاعطاء قبلہ ۱؎ اھ
مجتبٰی میں ہے: ''اپنی نماز کے اندر دوسرے کے ہاتھ میں پانی دیکھا۔ پھر اس کے پاس سے ختم ہوگیا اس سے پہلے کہ فارغ ہو۔ پھر اس سے مانگا۔ تو اس نے کہا: اگر تم نے مجھ سے مانگا ہو تا تو تم کو میں دے دیتا۔ اس صورت میں اس پر اعادہ نہیں۔ اور اگر وعدہ نماز شروع کرنے سے پہلے ہواتو اعادہ کرے۔ اس لئے کہ صحتِ شروع میں شک واقع ہوگیا اور اصح یہ ہے کہ اسے اعادہ نہیں کرنا ہے اس لئے کہ ختم ہونے کے بعد وعدہ اس کی دلیل نہیں کہ وہ پہلے دے دیتا''۔ اھ (ت)
 (۱؎ البحرالرائق        باب التیمم    مکتبہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی     ۱/۱۶۲)
اقول: ھذا الفرع یحتاج لہ الشرح وقد تبین مماصورناہ فقولہ ثم ذھب منہ ای الماء من صاحبہ بانفاقہ مثلا قبل الفراغ لھذا من صلاتہ فسألہ بعد صلاتہ فقال نفد ولوسألتنی قبل لاعطیتک قولہ وان کانت العدۃ قبل الشروع ،
اقول: اس جزئیہ کی شرح کرنے کی ضرورت ہے اور ہم نے جس طرح مسئلہ کی صورت میں پیش کی ہے اس سے واضح ہوجاتا ہے۔ شرح اس طرح ہوگی: قولہ پھر اس کے پاس سے ختم ہوگیا یعنی پانی پانی والے کے پاس سے ختم ہوگیا مثلاً اسے خرچ کردیا اس سے پہلے کہ فارغ ہو یعنی اِس کے اپنی نماز سے فارغ ہونے سے پہلے۔ پھر اس سے مانگا۔ یعنی نماز ادا کرنے کے بعد مانگا۔ تو اس نے کہا: ختم ہوگیا، اور پہلے اگر تم نے مجھ سے مانگا ہوتا، تو تم کو میں دے دیتا۔ قولہ اور اگر وعدہ نماز شروع کرنے سے پہلے ہوا
اقول: تصویرہ بصورتین ذکرناھما انہ تیمم ثم رأی اورأی ثم تیمم ثم سألہ بعد حین فقال انفقت ولوسألت لاعطیت ولیس المراد انہ رأی فسأل فاجاب فتیمم لانہ تیمم صحیح قطعا لوقوعہ بعد ظھور العجز عن الماء بخلاف تینک الصورتین ففیھما قیل لیس لہ ان یصلی بذلک التیمم بل یتیمم ثانیا ولوصلی بالاول یعید لوقوع الشک فی صحۃ الشروع بہ فی الصلاۃ لانہ ان لم یظھر بوعدہ القدرۃ فلایقعد عن ایراث الشک فی العجز فوقع الشک فی بقاء التیمم فلم یصح لہ الشروع بطھارۃ مشکوکۃ بخلاف مااذا رأی فی الصلاۃ لان الشروع صح بالیقین فلایزول الابمثلہ والاصح انہ لایعید لان العدۃ بعد الذھاب والنفاد لاتدل علی الاعطاء قبلہ،
  اس کی تصویردو۲ صورتوں میں ہے جو ہم نے بیان کیں (۱) اس نے تیمم کرلیا پھر دیکھا (۲) یا دیکھنے کے بعد تیمم کرلیا پھر اس سے کچھ دیربعد مانگا تو اس نے کہا: میں نے خرچ کردیا اگر تم نے مانگا ہوتا تو دے دیتا۔ یہ مراد نہیں کہ اس نے دیکھتے ہی مانگا، اس نے وہ جواب دیا، اِس نے اب تیمم کیا۔ اس لئے کہ یہ تیمم تو قطعاً صحیح ہے اس لئے کہ یہ پانی سے عجز ظاہر ہونے کے بعد ہوا ہے بخلاف اُن دونوں صورتوں کے کہ ان ہی کے بارے میں یہ کہا گیا کہ اس کیلئے اس تیمم سے نماز پڑھنا جائز نہیں بلکہ دوبارہ تیمم کرے گا۔ اور اگر پہلے تیمم سے نماز پڑھ لی تو اعادہ کرے اس لئے کہ اس تیمم سے نماز شروع کرنے کی صحت میں شک واقع ہوگیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر وہ اپنے وعدہ سے قدرت بروئے ظہور نہ لاسکا تو کم ازکم عجز میں شک پیدا کرنے سے قاصر نہ رہا اس طرح بقائے تیمم میں شک واقع ہوگیا تو مشکوک طہارت سے نماز شروع کرنا اس کیلئے جائز نہ ہوا بخلاف اس صورت کے جب اندرونِ نماز پانی دیکھا ہو اس لئے کہ شروع بالیقین صحیح ہوا ہے تو اس کا زوال بھی ویسی ہی چیز سے ہوگا۔ اور اصح یہ ہے کہ اسے اعادہ نہیں کرنا ہے اس لئے کہ ختم ہونے کے بعد وعدہ اس کی دلیل نہیں کہ وہ پہلے دے دیتا
اقول: لماقررنا من ان الشحیح ایضا لایثقل علیہ مثل ھذا الوعد فاذالم یترجح بہ جانب العطاء کان وجودہ وعدمہ سواء فلم یورث شکافی العجز کماقدمنا تحقیقہ اٰخر المسألۃ السادسۃ فھٰذا مایتعلق بشرحہ ولابأس بالتنبیہ علی نکت۔
اقول: اس کی وجہ وہ ہے جس کی ہم نے تقریرکی کہ بخیل کے لئے بھی ایسا وعدہ کرنا کوئی مشکل اور گراں نہیں تو جب اس وعدہ سے جانب عطا کو ترجیح نہ ملی تو اس کا ہونا، نہ ہونابرابر ہے اس لئے یہ عجز میں کوئی شک نہ لاسکا جیسا کہ ہم مسئلہ ششم کے آخر میں اس کی تحقیق کرچکے ہیں۔ یہ کلام تو شرح سے متعلق تھا،اب کچھ نکات پر تنبیہ کردی جائے تو کوئی حرج نہیں۔ (ت)
فاقول اولا: کان تسمیتہ وعد اللمشاکلۃ والا فالوعد للمستقبل۔
فاقول: نکتہ اولٰی: اسے ''وعدہ'' کے نام سے ذکر کرنا مشاکلہ کی وجہ سے ہے ورنہ وعدہ تو مستقبل کیلئے ہوتا ہے۔
وثانیا :التصویربذھاب الماء خرج وفاقا والا(۱) فالحکم کذلک لولم یذھب واحتال بھذا الجواب بل بالاولی لانہ منع اشنع۔
نکتہ دوم: صورتِ مسئلہ میں جو کہا گیا کہ پانی ختم ہوگیا یہ اتفاقاً ہے۔ ورنہ اگر پانی واقع میں ختم نہ ہُوا اور اس نے یہ جواب دے کر بہانہ کیا تو بھی حکم یہی ہے بلکہ درجہ اولٰی یہ حکم ہوگا۔ اس لئے کہ یہ بدتر انکارو منع ہے۔
وثالثا: لابد عندی من التقییدد بعدم ظن العطاء فی الوجھین کمافعلت لان ظن العطاء اذالم یظھر خلافہ یمنع صحۃ التیمم والصلاۃ کمامر ویاتی وبھذا الوعد ان لم یظھر وفاقہ لم یظھر خلافہ ایضا بالاولٰی فتجب اعادۃ الصلاۃ واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
نکتہ سوم: میرے نزدیک دونوں صورتوں میں عدمِ ظنِّ عطا کی قید لگانا ضروری ہے جیسا کہ میں نے تصویرمسئلہ میں کہا۔ اس لئے کہ جب عطا کا گمان ہو اور اس کے خلاف ظاہر نہ ہو تو یہ تیمم اور نماز کی صحت سے مانع ہے جیسا کہ گزرا اور آئندہ بھی آئےگا اور اس وعدہ سے اس گمان کی اگر موافقت ظاہر نہ ہوئی تو اس کی مخالفت بھی بدرجہ اولٰی ظاہر نہ ہوئی اس لئے نماز کا اعادہ واجب ہوگا۔ اور خدائے برتر خُوب جاننے والا ہے۔ (ت)
تنبیہ دوم: اقول(۲) وعدہ آب کہ ہمارے ائمہ رضی اللہ تعالٰی عنہم کے اجماع سے پانی پر قدرت کا موجب سمجھا گیا ظاہراً یہ حکم وقت کے وقت تک ہے کہ کسی موقت حاجت کیلئے ایک وقت میں وعدہ اُسی وقت کا وعدہ سمجھا جاتا ہے نہ یہ کہ کبھی دے دیں گے اگرچہ سال بھر بعد۔ خروج وقت پر خلف وعدہ سمجھا جائے گا کہ دینے کا کہا تھا اور نہ دیا آئندہ اوقات کیلئے بھی وہ وعدہ اور اُس کے سبب اس کا پانی پر قادر ہونا سمجھا جائے تو مہینہ بھر کامل گزر جائے اور اُسے نماز پڑھنے کی اجازت نہ ہو کہ وعدہ باقی ہے تو قدرت باقی ہے تو تیمم ناجائز ہے اور ہمارے ائمہ کا اتفاق ہے کہ انتظار کرے اگرچہ وقت نکل جائے تو ہر وقت یہی حکم رہے گا اور ہفتوں مہینوں نماز سے معطل رہنے کا حکم ہوگا حاشایہ شریعتِ مطہرہ کا مسئلہ نہیں ہوسکتا لاجرم وعدہ کا اثر اُس ایک ہی وقت تک رہے گا وبس،
وھذا ظاہر جدا ومن خدم الفقہ یری تائیدہ فی مسائل کثیرۃ من کتاب الطلاق وکتاب الایمان واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
اور یہ بہت واضح ہے جسے فقہ کی خدمت نصیب ہوئی اسے کتاب الطلاق اور کتاب الایمان کے بہت سے مسائل میں اس کی تائید نظر آئے گی۔ اور خدائے برتر خُوب جاننے والا ہے۔ (ت)
تنبیہ سوم: اقول ظاہر(۱)یہ ہے کہ وعدہ قدرت مقتصرہ ثابت کرے گا یعنی وقت وعد سے نہ مستندہ یعنی وقت علم بہ آب سے
وذلک لانہ ھو سبب ثبوتھا فلاتثبت قبلہ لان المسبب لایتقدم السبب
 (وہ اس لئے کہ یہ وعدہ ہی ثبوت قدرت کا سبب ہے تو قدرت اس سے پہلے ثابت نہ ہوگی، اس لئے کہ مسبَّب، سبب سے مقدّم نہیں ہوتا۔ ت) ظاہر ہے کہ وعدہ آئندہ کیلئے ہوتا ہے تو ماضی پر اس کا کیا اثر بلکہ اگر وعدہ اس کے سوال پر ہو تو یہ بھی دلالت نہ کرے گا اس سے پہلے مانگتا تو دے دیتا کہ اب بھی تو مانگے پر نہ دیا نرا وعدہ ہی کیا تو یہ کیونکر مفہوم ہو کہ پہلے دے ہی دیتا بالجملہ وعدہ حقیقۃً عطا نہیں کہ سب احکام عطا نافذ ہوں بلکہ وہ حقیقۃً عدمِ عطا ہے صرف اس اُمید پر کہ مسلمان کے وعدے میں ظاہر وفا ہے اسے ظاہراً پانی پر قادر مانا گیا ہے،
لمامر فی الظفر لقول زفر عن البحر عن البدائع عن محمد ان الظاھر الوفاء بالوعد فکان قادرا علی الاستعمال ظاھرا ۱؎۔
اس کی وجہ رسالہ ''الظفر لقول زفر'' میں بحر کے حوالہ سے بیان ہوئی۔ بحر نے بدائع سے انہوں نے امام محمد سے نقل کیا کہ ظاہر وفائے وعدہ ہے تو وہ ظاہراً استعمال پرقادر ہُوا۔ (ت)
 (۱؎ بدائع الصنائع    فصل ماشرائط الرکن فانواع    مکتبہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی    ۱/۴۹)
تو پیش ازوعدہ نہ قدرت ہوگی نہ مانگے پر وعدے سے یہی ظاہر ہوکہ پہلے مانگتا تو دے دیتا۔
ھذا ماظھر فلیراجع ولیحرر والعلم بالحق عند العلی الاکبر۔
یہ وہ ہے جو میرے ذہن میں آیا تو اس کی مراجعت اور وضاحت کرلی جائے۔ اور حق کا علم خدائے برتر وبزرگ ہی کو ہے۔ (ت)

اقول : مگر اس میں یہ قوی شک ہے کہ علما نے بعد نماز مانگنے پر پانی دے دینے کو اس پر دلیل ٹھہرایا ہے کہ پہلے مانگتا جب بھی دے دیتا۔
کمایاتی فی المسألۃ الاٰتیۃ عن الزیادات وجامع الکرخی والبدائع والحلیۃ ان البذل بعد الفراغ دلیل البذل قبلہ ۱؎۔
جیساکہ اگلے مسئلہ میں زیادات، جامع کرخی، بدائع اور حلیہ کے حوالے سے آرہا ہے کہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد دے دینااس کی دلیل ہے کہ پہلے بھی دے دیتا۔ (ت)
 (۱؎ بدائع الصنائع    فصل ماشرائط الرکن فانواع        مکتبہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی    ۱/۴۹)
تو یوں ہی کیوں نہ کہا جائے کہ بعد نماز مانگنے پر وعدہ اس کی دلیل ہے کہ پہلے مانگتا جب بھی وعدہ کرلیتا اور نفس وعدہ کو موجب قدرت مانا ہے تو جس طرح بعد کو پانی دے دینے سے قدرت سابقہ ثابت ہوئی کہ پہلے مانگتا تو مل جاتا تو پانی زیرقدرت تھا یونہی بعد کے وعدے سے ثابت ہوگی کہ پہلے مانگتا تو وعدہ ہوجاتا اور وعدہ موجبِ قدرت تھا تو قدرت مل جاتی تو پانی زیرقدرت تھا اور جب مانگے پر نِرے وعدے سے یہ حکم ہو تو بے مانگے وعدے سے بدرجہ اولٰی کہ یہاں تو یہ احتمال ہے کہ جب بے مانگے وعدہ کرلیا عجب نہیں کہ پہلے مانگے پر دے ہی دیتا اگرچہ اس اولویت میں یہ کلام واضح ہے کہ شاید اور کیا عجب مفید نہیں ظہور درکار ہے کلام امام محمد سے ابھی گزرا فکان قادرا ظاھرا (تو  ظاہراً قادر ہوا۔ ت)
اقول: مگر بذل ووعدہ میں فرق بیّن ہے بذل حال سے بذل سابق مظنون ہوا اور بذل قطعاً موجب قدرت ہے تو قدرت مظنون ہوئی بخلاف وعدہ کہ قدرت کا موجب قطعی نہیں خلف بھی ممکن ہے دینے والے کو کوئی عذر پیش آنا بھی ممکن ہے
الاتری ان محمدا انما یقول ان الظاھر الوفاء
 (یہ دیکھئے امام محمد فرماتے ہیں کہ ظاہر وفائے وعدہ ہے۔ ت) تو وعدہ صرف مورث ظن قدرت ہے اور وعدہ حال سے سابقہ بھی یقینی نہیں صرف مظنون ہے تو اس وقت کے وعدے سے سابق میں ظنِّ قدرت نہ ہوا بلکہ ظن ظن ہوا اور ظن ظن شیئ ظن شیئ نہیں توسابق کیلئے ظنِ قدرت ثابت نہ ہوا تو عجز ظاہر کا معارض نہ پایا گیااور تیمم ونماز صحیح رہے اور یہ تقریراُس صورت کو بھی شامل کہ بعد کو بے مانگے وعدہ کرے کمالایخفی (جیسا کہ مخفی نہیں۔ ت) بالجملہ مقام مشکل ہے اور ظاہر وہ ہے جو فقیرنے گزارش کیا واللہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
ثم اقول بلکہ حقیقت امر یہ ہے کہ مسئلہ وعدہ خود ہی مشکل ہے بلکہ اُس سے بھی صاف تر مسئلہ رجا اور اُس کا اور مسئلہ ظن قرب کا فرق اکابر محققین امام اجل عبدالعزیز بخاری اور امام قوام کاکی وامام اکمل بابرتی وامام کمال ابن الہام وغیرہم رحمۃاللہ تعالٰی علیہم نے مشکل سمجھا اور لاحل چھوڑدیا،
واللّٰہ المسئول لحل کل اشکال÷ودفع کل اعضال÷ولاحول ولاقوۃ الا باللّٰہ العلی العظیم المتعال÷
اور خدا ہی سے ہر اشکال کے حل،اور ہر پیچیدگی کے دفعیہ کا سوال ہے۔ اور کوئی طاقت وقوت نہیں مگر بلند باعظمت برتر خدا ہی سے۔ (ت)
اما مسالۃ الوعد فلم ازل استشکلھا لان الوعد لایورث الارجاء فی الماٰل والرجاء فی القابل لایرفع العجز المتحقق فی الحال فکیف یقال انہ بمجرد الوعد صار قادرا علی الماء قال فی التبین راجی(۱) الماء یستحب لہ التاخیرولایجب لان العدم ثابت حقیقۃ فلایزول حکمہ بالشک (عـہ) ۱؎ اھ
مسئلہ وعدہ کو تو میں ہمیشہ مشکل سمجھتا رہا۔ اس لئے کہ وعدہ صرف زمانہ آئندہ میں امید پیدا کرتا ہے اور مستقبل میں امید حال میں متحقق عجز کو ختم نہیں کرتی پھر یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ وہ محض وعدہ سے پانی پر قادر ہوگیا۔ تبین میں ہے: پانی کی امید رکھنے والے کیلئے نماز کو مؤخر کرنا مستحب ہے،واجب نہیں۔ اس لئے کہ پانی کانہ ہونا حقیقۃً ثابت ہے تو شک سے اس کا حکم زائل نہ ہوگا'' اھ۔
 (۱؎ تبیین الحقائق    باب التیمم    مطبعۃ امیریہ بولاق مصر    ۴۱۱)
 (عـہ)اقول اراد بالشک مایقابل الیقین بدلیل مایتلوہ من نص الھدایۃ وقد قال فی البنایۃ وفی الشلبیۃ عن الدرایۃ کلیھما عن الایضاح المراد بالرجاء غلبۃ الظن ای یغلب علی ظنہ انہ یجد الماء فی اٰخر الوقت ۳ ؎ اھ ومثلہ فی البحر وغیرہ ۱۲ منہ غفرلہ (م)

شک سے وہ مراد لیا ہے جو یقین کا مقابل ہو اس کی دلیل ہدایہ کی عبارت ہے جو اس کے بعد آرہی ہے۔ بنایہ میں ہے اور شلبیہ میں درایہ کے حوالہ سے پھر بنایہ ودرایہ دونوں ہی ایضاح سے ناقل ہیں کہ امید سے مراد غلبہ ظن ہے یعنی اس کا غالب گمان یہ ہو کہ آخر وقت میں پانی مل جائے گا اور اسی کے مثل بحر وغیرہ میں ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
 (۳؎حاشیہ شلبی علی تبیین الحقائق     باب التیمم         امیریہ بولاق مصر     ۱/۴۱)
Flag Counter