وفیھا ھو ارفق باھل ھذا الزمان لئلا یقعوافی الفسق والعصیان ۱؎ اھ وقد قالت العلماء من کل مذھب کلماضاق امرا تسع ۲؎ ومن القواعد المسلّمۃ المشقّۃ تجلب التیسیر ۳؎۔
اور اسی میں ہے کہ اس میں موجودہ دور کے لوگوں کے لئے زیادہ نرمی ہے تاکہ وہ نافرمانی اور گناہ میں نہ پڑیں اھ۔ ہر مذہب کے علماء فرماتے ہیں جب کوئی معاملہ سختی کا باعث ہو تو اس میں وسعت آجاتی ہے اور مسلّمہ قواعد سے ہے کہ مشقت آسانی کو لاتی ہے۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار فصل فی اللبس مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶/۳۵۳)
(۲؎ الاشباہ والنظائر الفن الاول ، القاعدۃ الرابعہ مطبوعہ ادارۃ القرآن کراچی ۱/۱۱۷)
(۳؎ الاشباہ والنظائر الفن الاول ، القاعدۃ الرابعہ مطبوعہ ادارۃ القرآن کراچی ۱/۱۰۵)
علماء تصریح فرماتے ہیں ہمارا زمانہ اتقائے شبہات کا نہیں غنیمت ہے کہ آدمی آنکھوں دیکھے حرام سے بچے۔
فی فتاوی الامام قاضی خان قالوا لیس زماننا زمان اجتناب الشبھات وانما علی المسلم ان یتقی الحرام المعاین ۴؎ اھ۔
فتاوٰی قاضی خان میں ہے فقہاء فرماتے ہیں ہمارا زمانہ شبہات سے اجتناب کا زمانہ نہیں مسلمان پر لازم ہے کہ آنکھوں دیکھے حرام سے بچے اھ
(۴؎ فتاوی قاضی خان الحظر و الاباحۃ نولکشور لکنھؤ ۴/۷۷)
وفی تجنیس الامام برھان الدین عن ابی بکر ابراھیم لیس ھذا زمان الشبھات ان الحرام اغنانا یعنی ان اجتنبت الحرام کفاک ۵؎ اھ ملخصاً وعنھما فی الاشباھ نحوذلک ۔
امام برہان الدین کی تجنیس میں ابوبکر بن ابراہیم سے منقول ہے کہ یہ شبہات کا زمانہ نہیں ہے بیشک حرام نے ہمیں مستغنی کردیا یعنی اگر تو حرام سے بچے تو کافی ہے اھ۔(تلخیص) اور ان دونوں سے الاشباہ میں اسی کی مثل ہے۔
(۵؎ غمز عیون البصائر مع الاشباہ کتاب الحظرو الاباحۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/۱۰۸)
وفی الطریقۃ وشرحھا بعد النقل علی الامامین المعاصرین رحمھمااللّٰہ تعالٰی زمانھما ای زمان قاضی خان وصاحب الھدایۃ رحمھمااللّٰہ تعالٰی قبل ستمائۃ سنۃ من الھجرۃ النبویۃ وقدبلغ التاریخ الیوم ای فی زمان المصنف لھذا الکتاب رحمہ اللّٰہ تعالٰی تسعمائۃ وثمانین سنۃ من الھجرۃ وبلغ التاریخ الیوم الی الف وثلث وتسعین سنۃ من الھجرۃ ولاخفاء ان الفساد والتغیر یزیدان بزیادۃ الزمان لبعدہ عن عھد النبوۃ ۱؎ اھ ملخصا
الطریقۃ المحمدیہ اور اس کی شرح میں دو معاصر ائمہ رحمہما اللہ سے نقل کرنے کے بعد فرمایا ان دونوں یعنی قاضی خان اور صاحبِ ہدایہ کا زمانہ سن ہجری کے اعتبار سے چھ۶۰۰ سو سال پہلے کا ہے اور آج اس مصنف کے زمانے میں ۹۸۰ھ ہوگئی ہے اور آج (شرح لکھتے وقت) ۱۰۹۳ھ ہے اور یہ بات مخفی نہیں کہ عہدِ نبوت سے دُوری کی وجہ سے جُوں جُوں زمانہ بڑھتا جاتا ہے فساد وتغیر میں بھی اضافہ ہوتا جاتا ہے اھ ملخصاً۔
(۱؎ الحدیقۃ الندیۃ الفصل الثانی من الفصول الثلاثہ مطبع نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲/۷۲۰)
وفی العٰلمگیریۃ عن جواھر الفتاوٰی عن بعض مشایخہ علیک بترک الحرام المحض فی ھذا الزمان فانک لاتجد شیأ لاشبھۃ فیہ ۲؎ اھ۔
فتاوٰی عالمگیری میں بحوالہ جواہر الفتاوٰی بعض مشائخ سے نقل کیا گیا ہے کہ اس زمانے میں تم پر محض حرام کا چھوڑنا واجب ہے کیونکہ آج تم کوئی ایسی چیز نہیں پاؤ گے جس میں شبہہ نہ ہو۔ (ت)
(۲؎ فتاوٰی ھندیۃ کتاب الکراھیۃ باب نمبر۲۵فی البیع الخ نورانی کتب خانہ ۵/۳۶۴)
سبحٰن اللہ جبکہ چھٹی صدی بلکہ اُس سے پہلے سے ائمہ دین یوں ارشاد فرماتے آئے تو ہم پسماندوں کو اس چودھویں صدی میں کیا اُمید ہے فاناللّٰہ وانّا الیہ راجعون ایسی ہی وجوہ ہیں کہ حدیث میں آیا:
انکم فی زمان من ترک منکم عشرما امربہ ھلک ثمّ یاتی زمان من عمل منھم بعشر ماامربہ نجا ۳؎ اخرجہ الترمذی وغیرہ عن ابی ھریرۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم۔
تم (اے صحابہ کرام) اس زمانے میں ہوکہ تم میں سے جو شخص اس چیز کا دسواں حصہ بھی چھوڑ دے جس کا اسے حکم دیا گیا ہے تو ہلاک ہوگا پھر ایک زمانہ آئے گا کہ تم میں سے جو آدمی اس چیز کے دسویں حصّے پر بھی عمل کرے گا جس کا اسے حکم دیا گیا ہے تو وہ نجات پائے گا۔ ترمذی وغیرہ نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کیا۔ (ت)
ہاں جو شخص بحکم قولہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم کیف وقدقیل اخرجہ ۴؎ خ وغیرہ عن عقبۃ بن الحارث النوفلی ۔
رسول اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد جسے امام بخاری وغیرہ نے عقبہ بن حارث نوفلی سے روایت کیا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے (کہ تو اس سے مباشرت کرے) جبکہ کہا گیا ہے (تو اس کا بھائی ہے)
وقولہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم من اتقی الشبھات فقد استبرأ لدینہ وعرضہ ۱؎ اخرجہ الستۃ عن النعمان بن بشیر رضی اللّٰہ تعالٰی عنھم۔
(۱؎ صحیح البخاری باب فضل من استبرألدینہ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۱۳)
اور نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو شخص شبہات سے بچا اس نے اپنا دین اور عزّت بچالی''۔ اس حدیث کو اصحابِ صحاح ستّہ نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہم سے روایت کیا ہے (ت)
بچنا چاہے اور اُن امور کا کہ ہم مقدمہ دہم میں ذکر کر آئے لحاظ رکھے بہتر وافضل اور نہایت محمود عمل مگر اس کے ورع کا حکم صرف اسی کے نفس پر ہے نہ کہ اس کے سبب اصل شے کو ممنوع کہنے لگے یا جو مسلمان اُسے استعمال کرتے ہوں اُن پر طعن واعتراض کرے اُنہیں اپنی نظیر میں حقیر سمجھے اس سے تو اس ورع کا ترک ہزار درجہ بہتر تھا کہ شرح پر افترا اور مسلمانوں کی تشنیع وتحقیر سے تو محفوظ رہتا۔
وقال اللّٰہ تبارک وتعالٰی لاتقولوا لماتصف السنتکم الکذب ھذا حلٰل وھذا حرام لتفتروا علی اللّٰہ الکذب ان الذین یفترون علی اللّٰہ الکذب لایفلحون ۲؎ ۔
اور اللہ تعالٰی نے فرمایا: ''اور نہ کہو اسے جو تمہاری زبانیں جھُوٹ بیان کرتی ہیں یہ حلال ہے اور یہ حرام کہ اللہ پر جھُوٹ باندھو، بیشک جو اللہ تعالٰی پر جھوٹ باندھتے ہیں ان کا بھلا نہ ہوگا''
( ۲؎ القرآن ۱۶/۱۱۶)
وقال جل مجدہ ولاتلمزوا انفسکم ۳؎
اور اللہ بزرگ وبرتر نے فرمایا: اپنے آپ پر طعن نہ کرو ۔
(۳؎ القرآن ۴۹/۱۱)
ای لایعب بعضکم بعضاً واللمزھو الطعن باللسان ۴؎
یعنی ایک دوسرے پر طعن نہ کرو۔ زبان سے طعنہ زنی کو ''اللمز'' کہتے ہیں۔
(۴؎ تعلیقات جدیدۃ من التفاسیر المعتبرۃ لحل الجلالین مع الجلالین مطبوعہ اصح المطالع دہلی ۲/۴۲۸)
ولابی داؤد وابن ماجۃ عن ابی ھریرۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم کل المسلم علی المسلم حرام مالہ وعرصہ ودمہ حسب امریئ من الشران یحتقر اخاہ المسلم ۵؎۔
ابوداؤد اور ابن ماجہ نے بروایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا آپ نے فرمایا: ''مسلمان کا مال، عزّت اور جان دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔ کسی انسان کے بُرا ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر جانے۔ (ت)
عجب اس سے کہ ورع کا قصد کرے اور محرمات قطعیہ میں پڑے یہ صرف تشدد وتعمق کا نتیجہ ہے اور واقعی دین وسنّت صراطِ مستقیم ہیں ان میں جس طرح تفریط سے آدمی مداہن ہوجاتا ہے یونہی افراط سے اس قسم کے آفات میں ابتلا پاتا ہے لم یجعل لہ عوجا (اس میں اصلاً کجی نہ رکھی ت) دونوں مذموم۔ بھلا عوام بیچاروں کی کیا شکایت آج کل بہت جہال منتسب بنام علم وکمال یہی روش چلتے ہیں مکروہات کہ مباحات بلکہ مستحبات جنہیں بزعمِ خود ممنوع سمجھ لیں اُن سے تحذیر وتنفیر کو کیا کچھ نہیں لکھ دیتے حتی کہ نوبت تابہ اطلاق شرک وکفر پہنچانے میں باک نہیں رکھتے۔ پھر یہ نہیں کہ شاید ایک آدھ جگہ قلم سے نکل جائے تو دس جگہ اس کا تدارک عمل میں آئے۔ نہیں نہیں بلکہ اُسے طرح طرح سے جمائیں، اُلٹی سیدھی دلیلیں لائیں۔ پھر جب مؤاخذہ کیجئے تو ہوا خواہ بفحواے عذر گناہ بدتر ازگناہ تاویل کریں کہ بنظر تخویف وترہیب تشدد مقصود ہے۔ سبحٰن اللہ اچھا تشدد ہے کہ اُن سے زیادہ بدتر گناہوں کا خود ارتکاب کر بیٹھے کیا نہیں جانتے کہ مسلمان کو کافر ومشرک بتانا بلکہ براہِ اصرار اُسے عقیدہ ٹھہرانا کتنا شدید وعظیم اور دین حنیف سہل لطیف سمح نظیف میں یہ سخت گیری کیسی بدعت شنیع ووخیم ولاحول ولاقوۃ الّا باللّٰہ العزیز الحکیم