Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۴(کتاب الطہارۃ)
108 - 2323
روسر کی جس شکّر کا حال تحقیقاً معلوم ہوکہ یہ بالخصوص کیونکر بنی ہے اُس کے تفاصیل احکام ہماری اس تقریر سے ظاہر اور استخواں کی طہارت نجاست حلت حرمت کا حکم پہلے معلوم ہوچکا (دیکھو مقدمہ ا)۔

ثانیاً :کیف ماکان ان خیالات پر مطلق شکر روسر کو نجس وحرام کہہ دینا صحیح نہیں بلکہ مقام اطلاق میں طہارت وحلّت ہی پر فتوٰی دیا جائیگا تاوقتیکہ کسی صورت کا خاص حال تحقیق نہ ہوکہ اس قدر سے تمام افراد کی نجاست وحرمت پر یقین نہیں صرف ظنون وخیالات ہیں جنہیں شرع اعتبار نہیں فرماتی (دیکھو مقدمہ ۲)

مانا کہ بنانے والے بے احتیاط ہیں مانا کہ اُنہیں نجس وطاہر وحرام وحلال کی پرواہ نہیں مانا کہ ہڈیوں میں وہ بھی پائی جاتی ہیں جن کے اختلاط سے شے حرام یا نجس ہوجائے مگر نہ سب ہڈیاں ایسی ہی ہیں بلکہ حلال وطاہر بھی بکثرت نہ بنانے والوں کو خواہی نخواہی التزام کہ خاص ایسے ہی طریقہ سے صاف کریں جو موجب تحریم وتنجیس ہو نہ کچھ ناپاک یا حرام ہڈیوں میں کوئی خصوصیت کہ انہیں تصفیہ میں زیادہ دخل ہو جس کے سبب وہ لوگ اُنہیں کو اختیار کریں اور جب ایسا نہیں تو صرف اس قدر پر یقین حاصل ہوا کہ ہڈیوں سے صاف کرتے ہیں کیا ممکن نہیں کہ وہ ہڈیاں طاہر وحلال ہوں دیکھو اگر آدمی کو جنگل میں ایک چھوٹا سا گڑھا پانی سے بھراملے اور اس کے کنارے پر اقدامِ وحوش کا پتا چلے اور پانی بھی جانور کے پینے سے کنارہ پر گرا دیکھے بلکہ فرض کیجئے کہ جانور بھی جاتا ہوا نظر پڑے مگر بوجہ بُعد یا ظلمتِ شب پہچان میں نہ آئے تو اس سے خواہی نخواہی یہ ٹھہرا لینا کہ کوئی درندہ یا خاص خنزیر ہی تھا اور پانی کو ناپاک جان کر ا س سے احتراز کرنا ہرگز حکم شرع نہیں بلکہ وسوسہ ہے۔ مانا کہ جنگل میں سباع وخنزیر بھی ہیں، مانا کہ وہ بھی انہیں پانیوں سے پیتے ہیں، مانا کہ یہ جانور جو جاتے دیکھا ممکن کہ سوئر ہو مگر کیا ممکن نہیں کہ کوئی ماکول اللحم جانور ہو۔
قال فی الحدیقۃ بعدنقل ماقدمنا عنھا عن جامع الفتاوٰی اول المقدمۃ العاشرۃ من ان بمجرد الظن لایمنع التوضئ الخ (مقولۃ قال ۱۲) لکن نقل قبل ذٰلک قال ولورأی (یعنی صاحب المجمع ۱۲ ) اقدام الوحوش  عندالماء القلیل لایتوضأ بہ انتھی وینبغی تقیيد ذلک بما اذاغلب علی ظنہ انھا اقدام الوحوش والا فیحتمل انھا اقدام ماکول اللحم فلا یحکم بالنجاسۃ بالشک ویقید ایضا بانہ رأی رشاش الماء حول ذلک الماء القلیل ونحو ذلک من القرائن الدالۃ علی ان الوحوش شربت منہ و الافلا نجاسۃ بالشک ۱؎ اھ۔
 (۱؎ الحدیقۃ الندیۃ الصنف الثانی من الصنفین فیماورد عن ائمتنا الحنفیۃ    مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد    ۲/۶۶۶)
ہم نے دسویں مقدمہ کے شروع میں بحوالہ حدیقۃ الندیۃ جامع الفتاوٰی سے نقل کیا کہ محض گمان وضو میں رکاوٹ نہیں بنتا الخ اسے نقل کرنے کے بعد صاحب حدیقہ فرماتے ہیں لیکن صاحب مجمع نے اس سے پہلے نقل کیا کہ کوئی شخص تھوڑے پانی کے پاس درندوں کے قدم دیکھے تو اس سے وضو نہ کرے انتہی، اسے اس بات سے مقید کرنا مناسب ہے کہ جب اسے غالب گمان ہوکہ یہ درندوں کے قدم ہیں ورنہ یہ بھی احتمال ہوگاکہ ان جانوروں کے قدم ہوں جن کا گوشت کھایا جاتا ہے لہذا شک کی بنیاد پر نجاست کا حکم نہیں لگایا جائے گا اور یہ قید بھی ہونی چاہے کہ جب وہ اس قلیل پانی کے گرد پانی کے چھینٹے دیکھے اور اس طرح کے دُوسرے قرائن جو اس بات پر دلالت کرتے ہوں کہ درندوں نے اس سے پیا ہے ورنہ محض شک کی بنیاد پر نجاست ثابت نہ ہوگی اھ (ت)
قلت فقدسبقہ بھذا الحمل البحر فی البحر حیث قال وفی المبتغٰی بالغین المعجمۃ وبرؤیۃ اثر اقدام الوحوش عند الماء القلیل لایتوضأ بہ سبع مر بالرکیۃ وغلب علی ظنہ شربہ منھا تنجس والافلا اھ وینبغی ان یحمل الاول علی مااذا غلب علی ظنہ ان الوحوش شربت منہ بدلیل الفرع الثانی والا فمجرد الشک لایمنع الوضوء بہ بدلیل ماقدمنا عــہ نقلہ عن الاصل ۱؎ الخ۔
قلت اس بات پر (کہ پانی تھوڑا ہو) محمول کرنے میں بحرالرائق کے مصنّف نے ان سے سبقت کرتے ہوئے بحر میں کہا المبتغٰی میں ہے کہ تھوڑے پانی کے پاس درندوں کے قدموں کے نشانات دیکھے تو اس سے وضو نہ کرے۔ ایک درندہ کُنویں کے پاس سے گزرا، اگر غالب گمان ہو کہ اس نے اس سے پیا ہے تو وہ ناپاک ہوجائے گا ورنہ نہیں اھ اور مناسب ہے کہ پہلے کو اس بات پر محمول کیا جائے کہ جب اسے گمان غالب ہوکہ درندوں نے اس سے پیا ہے کیونکہ اس (مفہوم) پر فرع ثانی (درندے کا گزرنا) دلیل ہے ورنہ محض شک اس کے ساتھ وضو کو منع نہیں کرتا اس کی دلیل وہ ہے جسے ہم (صاحبِ بحرالرائق) نے اس سے پہلے اصل (مبسوط) سے نقل کیا ہے الخ (کہ اس حوض سے وضو کیا جاسکتا ہے جس میں نجاست گرنے کا خوف ہو لیکن یقین نہ ہو)۔ (ت)
عـــہ ھو ماقدمناہ عنہ عن الخلاصۃ عن الاصل اول المقدمۃ العاشرۃ ۱۲ منہ (م) یہ وہ ہے جو ہم نے دسویں مقدمہ کے شروع میں اصل سے خلاصہ سے البحرالرائق سے بیان کیا ہے ۱۲ منہ (ت)
 (۱؎ البحرالرائق    کتاب الطہارۃ    مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۸۷)
یا اتنا یقین ہوا کہ وہ بے پرواہ ہیں پھر نفس شکر میں سوا ظنون کے کیا حاصل اس سے بدر جہا زیادہ ہیں وہ بے احتیاطیاں اور خیالات جو بعض مسائل سابقۃ الذکر میں متحقق (دیکھو مقدمہ ۶) بلکہ جہاں بوجہ غلبہ وکثرت وفور وشدت بے احتیاطی غلبہ ظن غیر ملتحق بالیقین حاصل ہو وہاں بھی علما تنجیس وتحریم کا حکم نہیں دیتے صرف کراہت تنزیہی فرماتے ہیں (دیکھو مقدمہ ۷) پھر ما نحن فیہ تو اس حالت کا وجود بھی محل نظر کون کہہ سکتا ہے کہ اکثر ناپاک وحرام ہڈیاں ہی ڈالتے ہوں گے اور طیب وطاہر شاذونادر۔

یا اتنا یقین ہوا کہ وہ اپنی بے پرواہی کو وقوع میں لاتے اور ہرطرح کی ہڈیاں ڈالتے ہی ہیں پھر یہ تو نہیں کہ دائماً صرف وہی طریقہ برتتے ہیں جو نجس وحرام کردے اور جب یوں بھی ہے اور یوں بھی تو ہر شکّر میں احتمال محفوظی تو ہرگز حکم نجاست وحرمت نہیں دے سکتے (دیکھو مقدمہ ۸) بلکہ جب تک کسی جگہ کوئی وجہ وجیہ رَیب وشبہہ کی نہ پائی جائے تحقیقات کی بھی حاجت نہیں بلکہ جہاں تحقیق پر کوئی فتنہ یا ایذائے اہل ایمان یا ترک ادب بزرگان یا پردہ دری مسلمان یا اور کوئی محذور سمجھے وہاں تو ہرگز ان خیالات وظنون کی پابندی نہ کرے (دیکھو مقدمہ ۱۰)ہاں بے شک جو شخص اپنی آنکھ سے دیکھ لے کہ خاص مردار یا حرام ہڈیاں لی گئیں اور اس کے سامنے شکّر میں اس طور پر ملادی گئیں کہ اب جُدا نہیں ہوسکتیں یا بچشم خود معاینہ کرے کہ بالخصوص ناپاک استخواں لائے گئے اور اس کے رُوبرو اس میں بے حالت جریان شامل ہُوئے اور وہی رس منعقد ہوکر شکّر بناتو بالخصوص یہی شکّر جو اس کے پیشِ نظر یوں بنی اس پر حرام جس کا کھانا جائز نہ کھلانا جائز نہ لینا جائز نہ دینا جائز۔ یوہیں جس خاص شکّر کی نسبت خبر معتبر شرعی سے جس کا بیان مقدمہ ۵ میں گزرا ایسا برتاؤ درجہ ثبوت کو پہنچے اور معتمد بیان کرنے والا کہے میں پہچانتا ہوں یہ خاص وہی شکّر ہے جس میں ایسا عمل کیا گیا تو اس کا استعمال بھی روانہ رہے گا بغیر ان صورتوں کے ہرگز ممانعت نہیں اور اگر اس نے خود دیکھا یا معتبر سے سنا مگر جب بازار میں شکر بِکنے آئی مخلوط ہوگئی اور کچھ تمیز نہ رہی تو پھر حکمِ جواز سے اور خریداری واستعمال میں مضائقہ نہیں جب تک کسی خاص شکّر پر پھر دلیل شرعی قائم نہ ہو (دیکھئے مقدمہ ۹) یہ ہے حکمِ شرع اور حکم نہیں مگر شرع کے لئے، صلی اللہ تعالٰی علی صاحبہ وبارک وسلم آمین!

خاتمہ رزقنا اللہ حسنہا آمین
بحمداللہ تعالٰی ہم نے اس شکّر کے بارے میں ہر صورت پر وہ واضح وبین کلام کیا کہ کسی پہلو پر حکمِ شرع مخفی نہ رہا اب اہلِ اسلام نظر کریں اگر یہاں اُن صورتوں میں سے کوئی شکل موجود جن پر ہم نے حکمِ حرمت ونجاست دیا تو وہی حکم ہے ورنہ مجرد ظنون واوہام کی پابندی محض تشدّد وناواقفی نہ بے تحقیق کسی شے کو حرام وممنوع کہہ دینے میں کچھ احتیاط بلکہ احتیاط اباحت ہی ماننے میں ہے جب تک دلیل خلاف واضح نہ ہو (دیکھو مقدمہ ۳) ہم یقین کرتے ہیں کہ ان خیالات وتصوّرات کا دروازہ کھولا جائے گا تو مبتدیوں پر دائرہ نہایت تنگ ہوجائے گا ایک روسرکی شکّر کیا ہزارہا چیزیں چھوڑنی پڑیں گی گھوسیوں کا گھی، تیلیوں کا تیل، حلوائیوں کا دُودھ، ہرقسم کی مٹھائی، کافر عطاروں کا عرق شربت کیا بلا ہے اور اُن کی طہارت پر بے تمسک باصل کونسا بینہ قاطعہ ملا ہے اس دائرہ کی توسیع میں امت پر تضییق اور ہزاروں مسلمانوں کی تاثیم وتفسیق جسے شرع مطہر کہ کمال یسروسماحت ہے ہرگز گوارا نہیں فرماتی صلی اللہ تعالٰی علٰی صاحبہ وبارک وسلم۔
فی الحاشیۃ الشامیۃ فیہ حرج عظیم لانہ یلزم منہ تاثیم الامۃ ۱؎ اھ
  حاشیہ شامی میں ہے کہ اس میں بہت بڑا حرج ہے کیونکہ اس میں اُمت کی طرف گناہ کی نسبت لازم آتی ہے اھ
(۱؎ ردالمحتار    مطلب فیمن وطء من زفت الیہ    مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۴/۲۶)
Flag Counter