Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۴(کتاب الطہارۃ)
107 - 2323
اسی طرح تواتر کے یہ معنی کہ اس قدر جماعت کثیر خاص اپنے معاینہ سے بیان کرے نہ یہ کہ کہنے واے تو ہزار ہے مگر جس سے پوچھی سننا بیان کرتا ہے کہ اس صورت میں اگ اصل مخبر کا پتا نہیں تو وہ ہی افواہ بازاری ہے ورنہ انتہائے خبر اُس مخبر پر رہے گی اور ناقلین درمیان سے ساقط ہوجائیں گے صرف نظر اُس اصل کے حال پر اقتصار کرے گی یہ نکتہ بھی یاد رکھنے کا ہے کہ اکثر اس قسم کی خبریں عوام یا کم علموں کے نزدیک متواترات سے ملتبس ہوجاتی ہیں حالانکہ عندالتحقیق تواتر کی بو نہیں۔
قال المولی الناصح سیدی عبدالغنی قدس سرہ فی مبحث اٰفۃ الرقص من شرح الطریقۃ اماخبر التواتر من الناس لبعضھم بعضا بذلک  عــہ فھو ممنوع لاستناد الکل فیہ الی الظن والتوھم والتخمین واستفادۃ الخبر من بعضھم لبعض بحیث لوسألت کل واحد منھم عن رویۃ ذلک ومعاینۃ لقال لم اعاینہ وانما سمعت ومن قال عاینتہ تستکشف عن حالہ فتراہ مستندا الی ظنون وامارات وھمیۃ وعلامات ظنیۃ وربما اذتأملت وتفحصت وجدت خبر ذلک التواتر الذی تزعمہ کلہ مستندا فی الاصل الٰی خبر واحد اواثنین ۱؎ الٰی اٰخر مااطال واطاب رحمہ اللّٰہ تعالٰی۔
نصیحت کرنے والے ہمارے سردا ر مولانا عبدالغنی قدس سرہ، نے الطریقۃ المحمدیہ کی شرح میں رقص کی مصیبت ذکر کرتے ہوئے فرمایا لوگوں کی اس بارے خبر کو متواتر قرار دینا غلط ہے کیونکہ یہ تمام ظن، وہم اور اندازے کی طرف منسوب ہیں، اور یہی حال اس خبر کے مستفید ہونے کا ہے کہ اگر تم ان میں سے ہر ایک سے اس کے دیکھنے کے بارے میں پُوچھو تو کہے گا میں نے اسے نہیں دیکھا میں نے تو سنا ہے۔ اور جو کہے کہ میں نے دیکھا ہے اس کا حال معلوم کرو تو دیکھوگے کہ وہ محض گمان، وہمی نشانیوں اور ظنی علامتوں کی طرف نسبت کرے گا اور جب تم غوروفکر اور چھان بین کرو گے تو جسے تم تواتر سمجھتے ہو اس کو ایک یا دو شخصوں کی طرف منسوب پاؤ گے۔ آخر تک جو آپ نے طویل بحث کی ہے۔ اللہ آپ پر رحم فرمائے۔ (ت)
عــہ: ای بماذکر من معائب المتصوفۃ المدعین لہ بالکذب اذااخبر بذلک عن رجل معین ۱۲ منہ (م)

یعنی تصوف کے جھُوٹے دعویدار حضرت کے مذکورہ عیوب (رقص وغیرہ) کی جب کسی شخص کے بارے خبر دی جائے ۱۲ منہ (ت)
 (۱؎ الحدیقۃ الندیۃ    الصنف التاسع فی آفات البدن الخ مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد        ۲/۵۲۱۹)
الحاصل جب خبر معتبر شرعی سے ثابت ہوجائے کہ شراب اس ترکیب کا جز ہے تو برف کی حرمت ونجاست میں کلام نہیں اور علی العموم اُس کے تمام افراد ممنوع ومحذور اور یہ احتمال کہ شاید اس فرد خاص میں نہ پڑی ہو محض مہمل ومہجور کہ یہ ماہو محذور میں یقین نوعی کلی ہے اور ایسی جگہ یہ احتمالات یک لخت مضمحل وغیر کافی (دیکھو ضابطہ کلیہ کی تحریر اور مقدمہ ۸ کی صدر تقریر) یہاں تک کہ ایسی شے کا دوا میں بھی استعمال ناروا مگر جب اُس کے سوا دوا نہ ہو اور یقین کامل ہوکہ اس سے قطعاً شفا ہوجائے گی جیسے بحالتِ اضطرار پیاسے کو شراب پینا یا بھُوکے کو گوشت مردار کھانا شرع مطہر نے جائز فرمایا کہ اُس سے پیاس اور اس سے بھُوک کا جانا یقینی ہے نہ مجرد قول اطباء کہ ہرگز موجبِ یقین نہیں بارہا اطباّ نسخے تجویز کرتے اور اُن کے موافق آنے پر اعتماد کُلی رکھتے ہیں پھر ہزار دفعہ کا تجربہ ہے کہ ہرگز ٹھیک نہیں اُترتے بلکہ کبھی بجائے نفع مضرت کرتے ہیں اور قرابادین کی بالا خوانیں کون نہیں جانتا یہاں تک کہ اکذب من قرابادین الاطباء (فلاں) اطباء کی قرابادین (دواؤں کی ڈکشنری) سے زیادہ جھُوٹا ہے۔ ت) مثل ہوگئی علی الخصوص اس بارہ میں ڈاکٹروں کا قول تو بدرجہ اولٰی قابل قبول نہیں کہ نہ انہیں دین اسلام کے حلال وحرام کا غم واہتمام نہ اس ملک والوں کی معرفت مزاج وطرق علاج وتدقیق علل وتحقیق علامات میں حذاقت کامل ومہارت تام۔
وھذا الذی اخترناہ فی مسئلۃ التداوی بالمحرم ھو الصواب الواضح الذی بہ یحصل التوفیق قال فی ردالمحتار قولہ اختلف فی التداوی بالمحرم ففی النھایۃ عن الذخیرۃ یجوز ان علم فیہ شفاء ولم یعلم دواء اٰخر وفی الخانیۃ فی معنی قولہ علیہ الصلاۃ والسلام ان اللّٰہ لم یجعل شفاء کم فیما حرم علیکم کمارواہ البخاری ان مافیہ شفاء لابأس بہ کمایحل الخمر للعطشان فی الضرورۃ وکذا اختارہ صاحب الھدایۃ فی التجنیس اھ من البحر۔
حرام چیز کے ساتھ علاج کے مسئلہ میں ہم نے اس بات کو اختیار کیا ہے یہی بہتر اور واضح ہے جس کے ساتھ توفیق حاصل ہوتی ہے تنقید وتحقیق کے ائمہ نے بھی اسے پسند کیا ہے، ردالحتار میں فرمایا: اس (دُرمختار) قول کہ حرام چیز سے علاج کرنے میں اختلاف ہے تو نہایہ میں ذخیرہ سے منقول ہے کہ جائز ہے بشرطیکہ اسے اس میں شفاء کا علم ہو اور کسی دوسری دوا کا علم نہ ہو۔ اور خانیہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی:

''اللہ تعالٰی نے اس چیز میں تمہارے لئے شفا نہیں رکھی جسے تم پر حرام قرار دیا''۔ جیسا کہ اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے، کا مفہوم بیان کرتے ہوئے کہا کہ جس چیز میں شفاء ہو اس (کے استعمال) میں حرج نہیں جیسا کہ ضرورت کے وقت پیاسے کیلئے شراب حلال ہے، صاحبِ ہدایہ نے تجنیس میں اسے پسند کیا ہے اھ (بحرالرائق)۔
وافاد سیدی عبدالغنی انہ لایظھر الاختلاف فی کلامھم لاتفاقھم علی الجواز للضرورۃ واشتراط صاحب النھایۃ العلم لاینافیہ اشتراط من بعدہ الشفاء ولذاقال والدی فی شرح الدرر ان قولہ لاللتداوی محمول علی المظنون والا فجوازہ بالیقینی اتفاقی کماصرح بہ فی المصفی اھ۔
اور سیدی عبدالغنی (نابلسی) رحمہ اللہ نے بتایا کہ ان (فقہاء) کے کلام میں اختلاف ظاہر نہیں ہوتاکیونکہ ضرورت کے تحت جواز پر سب کا اتفاق ہے۔ اور صاحبِ نہایہ نے جو علم کی شرط لگائی ہے بعد والوں کا شفاء کی قید لگانا اس کے منافی نہیں اسی لئے میرے والد ماجد نے الدرر کی شرح میں فرمایا کہ اس کا قول ''نہ دوائی کیلئے'' حالتِ ظن پر محمول ہے ورنہ یقینی صورت میں اس کا جواز متفق علیہ ہے، جیسا کہ المصفٰی میں اس کی تصریح ہے انتہی۔
اقول: وھو ظاھر موافق لمامر فی الاستدلال لقول الامام لکن قدعلمت ان قول الاطباء لایحصل بہ العلم والظاھر ان التجربۃ یحصل بھاغلبۃ الظن دون الیقین الا ان یریدوا بالعلم غلبۃ الظن وھوشائع فی کلامھم تأمل ۱؎ اھ مافی ردالمحتار مع بعض اختصار۔
میں کہتا ہوں یہ ظاہر ہے اور امام صاحب کے قول کا جو استدلال گزرچکا ہے اس کے موافق ہے لیکن تم جانتے ہوکہ اطباء کے قول سے علم حاصل نہیں ہوتا اور ظاہر ہے کہ تجربہ سے محض غالب گمان حاصل ہوتا ہے یقین نہیں مگر یہ کہ وہ علم سے غالب گمان مراد لیں اور یہ بات ان کے کلام میں عام ہے اس پر غور کرو اھ اختصار ازردالمحتار۔ (ت)
 (۱؎ رد المحتا ر        مطلب فی التداوی بالمحرم    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۱۵۴)
اقول :اماما ذکر من امر التجارب فللعبد الضعیف ھھنا تنقیح شریف وارید ان احقق المسئلۃ فی بعض رسائلی ان یسر المولی سبحنہ وتعالی واما عزوہ الحدیث للبخاری فلم ارہ فی البحر ولافی الخانیۃ وانما رواہ الطبرانی فی المعجم الکبیر بسند صحیح علی اصول عـــہ الحنفیۃ ۔ نعم رأیتہ فی اشربۃ الجامع الصحیح باب شرب الحلواء والعسل عن ابن مسعود رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ من قولہ تعلیقاً فلیتنبہ ۱؎ واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
اقول : وہ تجربات کا ذکر کیا گیا ہے اس کے بارے میں یہاں بندہ ضعیف کی قابلِ قدر تنقیح ہے اور میں چاہتا ہوں کہ اپنے بعض رسائل میں مسئلہ کی تحقیق کروں گا اگر اللہ تعالٰی اسے میرے لئے آسان کردے باقی انہوں نے حدیث امام بخاری کی طرف منسوب کی ہے میں نے اسے بحرالرائق اور خانیہ میں نہیں دیکھا۔ اسے طبرانی نے معجم کبیر میں صحیح سند کے ساتھ حنفی قواعد کے مطابق روایت کیا ہے۔ ہاں میں نے اسے صحیح بخاری کے کتاب الاشربہ کے باب ''شرب الحلواء والعسل'' میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت سے تعلیقاً مروی دیکھا ہے پس اس پر آگاہ ہوجاؤ، واللہ تعالٰی اعلم (ت)
عــہ: قالہ لان رجالہ رجال الصحیح علی مافیہ من انقطاع ۱۲ منہ (م) یہ اس لئے کہا کہ اس حدیث کے سب راوی ثقہ ومعتمد صحیح کے راوی ہیں اس بنا پر کہ اس میں انقطاع ہے ۱۲ منہ (ت)
(۱؎ صحیح البخاری    باب شرب الحلواء والعسل    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲/۸۴۰)
اور اگر ایسی خبر سے ثبوت نہیں تو غایت درجہ اس قدر کہ بحکم تورع واجتنابِ شہادت احتراز کرے مگر تحریم وتنجیس کا حکم بے دلیل شرعی ہرگز روا نہیں قدرے بیان اس کا آگے گزرا اور اِن شاء اللہ تعالٰی خاتمہ رسالہ میں ہم پھر اس طرف عود کریں گے والعود احمد (اور عود زیادہ بہتر ہے۔ ت) یہ تو اصل حکمِ فقہی ہے اور واقع پر نظر کیجئے تو اس خبر کی کچھ حقیقت پایہ ثبوت کو نہیں پہنچتی نہ اُس پانی میں جسے منجمد کرتے ہیں شراب ملانے کی کوئی وجہ معلوم ہوتی ہے تو برف پر حکمِ جواز ہی ہے واللّٰہ تعالٰی اعلم بالصواب (اور اللہ تعالٰی خوب جانتا ہے۔ ت) ہاں انگریزی دواؤں میں جتنی دوائیں رقیق ہوتی ہیں جنہیں ٹنچر کہتے ہیں اُن سب میں یقینا شراب ہوتی ہے وہ سب حرام بھی ہیں اور ناپاک بھی، نہ اُن کا کھانا حلال نہ بدن پر لگانا جائز، نہ خریدنا حلال نہ بیچنا جائز۔
کماحققناہ فی فتاوٰنا ان اسبارتو وھی روح النبیذخمر قطعابل من اخبث الخمور فھی حرام ورجس نجس نجاسۃ غلیظۃ کالبول وما استروح بہ بعض الجھلۃ المتسمین بالعلم من کبراء اراکین الندوۃ المخذولۃ فمن اخبث القول نسأل اللّٰہ العصمۃ فی کل حرکۃ وکلمۃ۔
جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوٰی میں ثابت کیا ہے کہ اسپرٹ، نبیذ کی روح اور قطعی طور پر شراب ہے بلکہ یہ سب سے زیادہ خبیث شراب ہے پس یہ پیشاب کی طرح حرام ہے ناپاک ہے اور نجاست غلیظہ ہے ندوہ کے ذلیل ورسوا اراکین نے جو جاہل ہونے کے باوجود اپنے آپ کو عالم کہلاتے ہیں جس بات سے راحت حاصل کی وہ نہایت خبیث قول ہے ہم بارگاہِ خداوندی میں ہر حرکت اور قول کی حفاظت کا سوال کرتے ہیں۔ (ت)

مسلمان اسے خُوب سمجھ لیں اور ڈاکٹری علاج میں ان ناپاکیوں نجاستوں سے بچیں خصوصاً سخت آفت اس وقت ہے کہ ان علاجوں میں قضا آجائے اور مسلمان اس حالت میں مرے کہ معاذاللہ اس کے پیٹ میں شراب ہووالعیاذ باللّٰہ رب العٰلمین (دو جہانوں کا پروردگار اللہ بچائے۔ ت) اسی طرح بیشک اس شکر کا ہڈیوں سے صاف کیا جانا ایسا یقینی جس کے انکار کی گنجائش نہیں مگر اوّلاً غور واجب کہ اس تصفیہ میں ہڈیوں پر شکّر کا صرف مروروعبور ہوتا ہے بغیر اس کے کہ اُن کے کُچھ اجزا شکّر میں رہ جاتے ہوں جس طرح پانی کو کوئلوں اور ہڈیوں سے متقاطر کرکے صاف کرتے ہیں کہ برتن میں نتھرا پانی شفاف آجاتا ہے اور انکشف واستخواں کا کوئی جُز اس میں شریک نہیں ہونے پاتا جب تو اس شکّر کی حلّت کو صرف اُن ہڈیوں کی طہارت درکار ہے اگرچہ حلال وماکول نہ ہوں۔
کمالایخفی علی عاقل وذٰلک لانہ لم یختلط بالحرام فیتمحض فی الاکل والمرورعلی طاھر ولوحراما لایورث منعاً۔
جیسا کہ یہ کسی بھی عقلمند پر مخفی نہیں اور یہ اس لئے کہ اس میں حرام کی آمیزش نہیں پس اس کا کھانا واضح ہے اور پاک چیز پر گرنے سے اگرچہ وہ حرام ہو ممانعت لازم نہیں آتی۔ (ت)

اور درصورت مرور ظاہر یہی ہے کہ منافذ کو تنگ کرتے اور بطور تقاطر رس کو عبور دیتے ہوں کہ ازالہ کثافت کی ظاہراً یہی صورت ہڈیوں پر صرف بہاؤ میں نکل جانا غالباً باعثِ تصفیہ نہ ہوگا تو اس تقدیر پر درصورت نجاست استخوان نجاست عصیر وحرمت شکّر میں شک نہیں ورنہ عـــہ بلاریب طیب وحلال۔
عــہ یعنی اگر ہڈیاں ناپاک نہ ہوں یا رس اپنے بہاؤ میں اُن پر گزر جاتا ہو ۱۲ منہ (م) اور اگر اجزائے استخوان پیس کر رس میں ملاتے اور وہ مخلوط وغیر متمیز ہوکر اس میں رہ جاتے ہیں تو حلّتِ شکّر کو ان ہڈیوں کی حلت بھی ضرورصرف طہارت کفایت نہ کریگی کہ اگر غیر ماکول یا مردار کے استخواں ہُوئے تو اس تقدیر پر شکّر کے ساتھ اُن کے اجزاء بھی کھانے میں آئیں گے للاختلاط وعدم الامتیاز (اختلاط اور عدمِ امتیاز کی وجہ سے۔ ت) (اور ان کا کھانا گو طاہر ہوں حرام، تو شکّر بھی حرام ہوجائے گی فی الدرالمختار وغیرہ من الاسفار لوتفتت فیہ نحوضفدع جاز الوضوء بہ لاشربہ لحرمۃ لحمہ ۱؎ اھ (درمختار وغیرہ بڑی کتب میں ہے اگر اس پانی میں مینڈک وغیرہ پھُول جائیں تو اس سے وضو جائز ہوگا لیکن اس کا پینا جائز نہ ہوگا کیونکہ اس کا گوشت حرام ہے۔ ت)
 (۱؎ درمختار    باب المیاہ    مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۱/۳۵)
Flag Counter