وضع ضابطہ کلیہ دریں باب وتفرقہ درحکم عظام وشراب
اس باب میں ضابطہ کلیہ کا بیان اور شراب اور ہڈیوں کے حکم میں فرق کا بیان
اقول وباللّٰہ التوفیق
واضح ہوکہ کسی شے حرام خواہ نجس کے دوسری چیز میں خلط ہونے پر یقین دو۲ قسم ہے:
(۱) شخصی یعنی ایک فرد خاص کی نسبت تیقن مثلاً آنکھوں سے دیکھا کہ اس کنویں میں نجاست گری ہے۔
(۲) اورنوعی یعنی عـــہ مطلق نوع کی نسبت یقین۔ اور اس کی پھر دو۲ قسمیں ہیں:
عـــہ: اراد بالنوع مالیس بشخص بدلیل المقابلۃ فیعم الصنف والجنس ۱۲ منہ (م) نوع سے مراد وہ ہے جو شخصی نہ ہو کیونکہ یہاں نوعی، شخصی کے مقابل ہے تو یہ نوع اور جنس دونوں کو عام ہوگی ۱۲ منہ (ت)
ایک اجمالی یعنی اس قدر ثابت کہ اس نوع میں اختلاط واقع ہوتا ہے نہ یہ کہ علی العموم اُس کے ہر فرد کی نسبت علم ہو جیسے کفار کے برتن، کپڑے، کنویں۔
دوسرا کلی یعنی نوع کی نسبت بروجہ شمول وعموم ودوام والتزام اس معنی کا ثبوت ہو مثلاً تحقیق پائے کہ فلاں نجس یا حرام چیز اس ترکیب کا جزوخاص ہے کہ جب بناتے ہیں اُسے شریک کرتے ہیں اور یہ وہیں ہوگا کہ بنانے والوں کو بالخصوص اس کے ڈالنے سے کوئی غرض خاص مقصود ہو ورنہ بلاوجہ التزام متیقن نہیں ہوسکتا جیسے پانی وغیرہ کسی شے کو ہڈیوں سے صاف کریں کہ تصفیہ میں ناپاک یا حرام استخواں کی کوئی خصوصیت نہیں جو مقصود ان سے حاصل پا ک و حلا ل ہڈیوں سے بھی قطعاً متیسر کمالایخفی (جیسا کہ مخفی نہیں۔ ت)
اور وہ اشیاء بھی جن کا کسی ماکول ومشروب یا اور استعمالی چیزوں میں خلط سُنا جانا موجب تردّد وتشویش وباعثِ سوال وتفتیش ہو دو۲ قسم ہیں:
ایک مامنہ محذور یعنی وہ جن میں ہر قسم کے افراد موجود بعض اُن میں حرام ونجس بھی ہیں اور بعض حلال وطاہر جیسے عظام یہاں منشاء تو ہم صرف اُن لوگوں کا بیباک ونامحتاط ہونا ہے جن کے اہتمام سے وہ چیز بنتی ہے کہ جب ان اشیاء میں حرام ونجس بھی موجود اور اُن کو پرواہ واحتیاط مفقود تو کیا خبر کہ یہاں کس قسم کی چیز ڈالی گئی ہے اسی لئے جب وہ کارخانہ ثقہ مسلمانوں کے تعلق ہو تو خاطر پر اصلاً تردّد نہ آئے گا اور صدور محذور کی طرف ذہن سلیم نہ جائے گا۔
دوسرے ماہو محذور یعنی وہ کہ حرام مطلق یا نجس محض ہیں جن کا کوئی فرد حلال وطاہر نہیں جیسے
شراب بجمیع اقسامھا علی مذھب محمد الماخوذ للفتوی
(اپنی تمام اقسام کے ساتھ، امام محمد رحمہ اللہ کے مذہب کے مطابق اسی پر فتوی ہے۔ ت) یہاں باعث احتراز وتنزہ خود اُس شے کی نفس حالت ہے نہ بنانے والوں کو جرأت وجسارت یہاں تک کہ ابتداءً اہل کارخانہ کی وثاقت وعدالت معلوم ہونا اس مقام پر علاج اندیشہ نہ ہوگی بلکہ یہ سُن کر ان کی وثاقت واحتیاط میں شک آسکتا ہے۔ اسی وجہ سے ان دو۲ صورتوں میں ہنگامِ نظر وتنقیح حکم بوجہ فرق واقع ہوتا ہے۔
صُورت اولٰی میں مجرد اُس شَے مثلاً استخواں کے پڑنے پر تیقن عام ازاں کہ شخصی ہو یا نوعی اجمالی ہو یا کلی خواہی نخواہی اس جزئی یا نوع میں مخالطت حرام یا نجس کا یقین نہیں دلاتا۔ ممکن کہ صرف افراد طیبہ ومباحہ استعمال میں آئے ہوں۔ اسی طرح خاص افراد محرمہ ونجسہ کے استعمال پر یقین نوعی اجمالی بھی علی الاطلاق تحریم وتنجیس کا مورث نہیں کہ ہر جزئی خاص میں استعمال فرد طاہر وحلال کا احتمال قائم ولہذا افراد قسمین کا بازار میں اختلاط مانع اشترا وتناول نہیں کہ کسی معین پر حکم بالجزم نہیں کرسکتے
کماحققنا کل ذٰلک فی المقدمۃ الثامنۃ والتاسعۃ
(جیسا کہ ہم نے آٹھویں اور نویں مقدمہ میں ان تمام باتوں کی تحقیق کی ہے۔ ت) بخلاف صورتِ ثانیہ کہ وہاں صرف اس کے پڑنے کا یقین شخصی خواہ نوعی کلی اُس جزئی خاص یا تمام نوع کی تنجیس وتحریم میں بس ہے جس کے بعد کچھ کلام باقی نہیں رہتا اور وہ احتمالات کی بوجہ تنوع افراد صورتِ اولٰی میں متحقق ہوتے تھے یہاں قطعاً منقطع کمالایخفی (جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ ت) اسی طرح صورتِ اولٰی میں اگر بالخصوص افراد حرام وناپاک ہی پڑنے کا ایسا ہی یقین یعنی شخص یا نوعی کلی ہو تو اس کا بھی یہی حکم کہ اس تقدیر پر صورتِ اولٰی صورت ثانیہ کی طرف رجوع کر آئی۔
لانتفاء التنوع فی الافراد فان الیقین تعلق بخصوص الافراد المحرمۃ والنجسۃ وھی لاتتنوع الی محذور وغیر محذور۔
کیونکہ افراد میں تنوع کی نفی ہے پس یقین خاص حرام وناپاک افراد سے متعلق ہوگا اور وہ ممنوع وغیر ممنوع میں تقسیم نہیں ہوتا۔ (ت)
البتہ یقین نوعی اجمالی یہاں بھی بکار آمد نہیں کہ جب علٰی وجہ العموم والالتزام تیقن نہیں تو ہر فرد کی محفوظی محتمل جب تک کسی جزئی خاص کا حال تحقیق نہ ہوکہ اس وقت یہ یقین یقین شخصی کی طرف رجوع کرجائے گا وھومانع کماذکرنا (جیسا کہ ہم نے ذکر کیا وہ مانع ہے۔ ت)
بالجملہ خلاصہ ضابطہ یہ ہے کہ مامنہ محذور میں ہر قسم کا یقین بکار آمد نہیں جب تک وہ ماہومحذور کی طرف رجوع نہ کرے اور ماہو محذور میں ہر قسم کا یقین کافی مگر صرف نوعی اجمالی کہ ساقط وغیر مثبت ممانعت ہے جب تک یقین شخصی کی طرف مائل نہ ہو یہ نفیس ضابطہ قابلِ حفظ ہے کہ شاید اس رسالہ عجالہ کے سوا دوسری جگہ نہ ملے اگرچہ جو کچھ ہے کلمات علماء سے مستنبطا اور انہی کی کفش برداری کا تصدق والحمداللّٰہ ربّ العٰلمین۔
الشروع فی الجواب بتوفیق الوہاب
(وہاب (اللہ تعالٰی) کی توفیق سے جواب کا آغاز ہے۔ ت)
کل کی برف میں شراب ملنے کی خبر قابل غور و واجب النظر اب مقدمہ ۴ و ۵ کی تقریر پیشِ نگاہ رکھ کر لحاظ درکار اگر یہ اخبار افواہ بازار یا منتہائے سند بعض مشرکین وکفار تو بالکل مردود ومحض بے اعتبار ہاں صورت اخیرہ میں اگر ان کا صدق دل پر جمے تو احتیاط بہتر تاہم گناہ نہیں اور اتنا بھی نہ ہو تو اصلاً پرواہ نہیں اور اگر فساق بداعمال یا مستور نامعلوم الحال کی خبر تو شہادت قلب کی طرف رجوع معتبر اگر دل اس امر میں اُن کے کذب کی طرف جھُکے تو کُچھ باک نہیں مگر احتراز افضل کہ آخر مسلمان ہیں عجب کیا کہ سچ کہتے ہوں خصوصاً مستور کہ اُس کی عدالت معلوم نہیں تو فسق بھی تو ثابت نہیں اور اگر قلب اُن کے صدق پر گواہی دے تو بیشک احتراز چاہئے کہ ایسے مقام پر تحری حجتِ شرعیہ ہے اگرچہ وہ خبر بنفسہ حجت نہ تھی مگر یہاں ممانعت کا درجہ حرمت قطعیہ تک تجاوز نہ کرے گا۔
لان التحری محتمل للخطاء کمافی الھدایۃ والظنون ربما تکذب کمافی الحدیث۔
کیونکہ سوچ وبچار میں خطاء کا بھی احتمال ہوتا ہے جیسا کہ ہدایہ میں ہے اور گمان بعض اوقات جھوٹے ہوتے ہیں جیسا کہ حدیث شریف میں ہے (ت)
اور وہ بھی اُسی کے حق میں جس کا دل اُن کے صدق کی طرف جائے۔
کیونکہ تمہارے دل کی گواہی تو تمہارے خلاف ہی جائیگی اور وہ قطعی چیز وجدان کی طرح ہے تو گمان کی صورت میں کیا کیفیت ہوگی۔ (ت)
پس اگر دوسرے کے دل پر اُن کا کذب جمے اُس کے حق میں وہی پہلا حکم ہے کہ احتراز بہتر ورنہ اجازت۔
فی صلاۃ ردالمحتار استفید مماذکر انہ بعد العجز عن الادلۃ المارۃ علیہ ان یتحری ولایقلد مثلہ لان المجتھد لایقلد مجتھدا ۱؎ الخ
ردالمحتار میں نماز کی بحث میں ہے مذکورہ کلام سے مستفید ہوا کہ گزشتہ دلائل سے عجز کے بعد اس پر لازم ہے کہ غوروفکر کرے اور اپنے جیسے کی تقلید نہ کرے کیونکہ مجتہد، مجتہد کی تقلید نہیں کرتا الخ (ت)
ہاں اگر اس قدر جماعت کثیر کی خبر ہو جن کا کذب پر اتفاق عقل تجویز نہ کرے تو بیشک علی الاطلاق حرمت قطعی کا حکم دیا جائیگا اور اس کے سوا کسی امر پر لحاظ نہ کیا جائے گا اگرچہ وہ سب مخبر فساق وفجار بلکہ مشرکین وکفار ہوں۔
فان العدالۃ بل والاسلام ایضا لایشترط فی التواتر عند الجمھور خلافا للامام فخرالاسلام علٰی مااشتھر مع ان کلامہ قدس سرہ، ایضا غیر نص فی الاشتراط ۱؎ کماافادہ المولی بحرالعلوم فی الفواتح واللّٰہ اعلم۔
کیونکہ جمہور کے نزدیک تواتر میں عدالت بلکہ اسلام کی شرطبھی نہیں البتہ اس میں امام فخرالاسلام کا اختلاف ہے جیسا کہ مشہور ہے لیکن اس کے باوجود ان کا کلام بھی شرط رکھنے میں صریح نہیں جیسا کہ بحرالعلوم نے فواتح میں اس بات کا فائدہ دیا واللہ تعالٰی اعلم (ت)
(۱؎ فواتح الرحموت بحث العلم بالتواتر حق مطبوعہ المطبعۃ الامیریہ بولاق مصر ۲/۱۱۸)
اسی طرح اگر منتہائے سند مسلمان عادل اگرچہ ایک ہی ہو جب بھی احتراز واجب اور برف حرام ونجس۔
فان فی الدیانات لایشترط العدد ویقبل خبر الواحد العدل بلاتردد۔
کیونکہ دیانتوں میں گنتی شرط نہیں اور ایک عادل آدمی کی خبر کسی تردّد کے بغیر قبول کی جاتی ہے۔ (ت)
مگر یہ ضرور ہے کہ وہ خود اپنے معاینہ سے خبر دے ورنہ سُنی سنائی کہنے میں اُس کا قول خود اُس کا قول نہیں یہاں تک کہ جب اکابر علما نے دیبائے فارسی کی نسبت لکھا اس میں پیشاب پڑتا ہے۔ امام علّامہ ملک العلماء ابوبکر بن مسعود کاشانی قدس سرہ الربانی وغیرہ ائمہ نے فرمایا: اگر یہ بات تحقیق ہوجائے تو اُس سے نماز ناجائز ہوگی تو کیا وجہ کہ اُن علماء کا خود مشاہدہ نہ تھا لہذا ہنوز معاملہ تحقیق طلب رہا۔
فی البدائع ثم الحلیۃ بعدذکر مانقلنا عنھما فی المقدمۃ الثامنۃ فان صح انھم یفعلون ذلک فلاشک انہ لاتجوز الصلاۃ معہ ۲؎ اھ وفی ردالمحتار علی ما اثرنا عن الدرالمختار ثمہ ان کان کذلک لاشک انہ نجس تاترخانیۃ ۳؎ اھ
بدائع پھر حلیہ میں اس کے بعد جس کو ہم نے ان دونوں سے آٹھویں مقدمہ میں نقل کیا ہے کہا ہے کہ ''اگر صحیح طور پر ثابت ہوجائے کہ وہ ایسا کرتے ہیں تو اس میں شک نہیں کہ اس کے ساتھ نماز جائز نہیں (انتہی) اور ردالمحتار میں اس بات پر جو ہم نے وہاں درمختار سے نقل کی ہے، یہ ہے کہ اگر اسی طرح ہے تو اس کے نجس ہونے میں کوئی شک نہیں، تاترخانیہ اھ (ت)
(۲؎ بدائع الصنائع فصل فی بیان مقدار مایصیربہ المحل نجسا الخ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۸۱)
(۳؎ ردالمحتار قبیل کتاب الصّلوٰۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/۲۵۷)