Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۴(کتاب الطہارۃ)
105 - 2323
قال الامام حجۃ الاسلام حکیم الامۃ کاشف الغمّۃ ابوحامد محمد بن محمد بن محمد الغزالی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ فی الاحیاء المبارک اقول لیس لہ ان یسألہ بل ان کان یتورع فیتلطف فی الترک و ان کان لابد لہ فلیأکل بغیر سوأل ایذاء وھتک ستر و ایحاش وھو حرام بلاشک فان قلت لعلہ لایتأذی فاقول لعلہ یتأذی فانت تسأل حذرا من ''لعل'' فان قنعت بلعل فلعل مالہ حلال والغالب علی الناس الاستیحاش بالتفتیش ولایجوزلہ ان یسأل عن غیرہ من حیث یدری ھو بہ فان الایذاء فی ذلک اکثر وان سأل من حیث لایدری ھو ففیہ اساء ۃ ظن وھتک ستروفیہ تجس وفیہ تسبیب للغیبۃ وان لم یکن ذلک صریحا وکل ذلک منھی عنہ فی اٰیۃ واحدۃ وکم من زاھد جاھل یوحش القلوب فی التفتیش ویتکلم بالکلام الخشن المؤذی وانما یحسن الشیطان ذلک عندہ طلباً للشھرۃ باکل الحلال ولوکان باعثہ محض الدین لکان خوفہ علی قلب مسلم ان یتأذی اشد من خوفہ علی بطنہ ان یدخلہ مالایدری وھو غیر مؤاخذ بمالایدری اذالم یکن ثم علامۃ توجب الاجتناب فلیعلم ان طریق الورع الترک دون التجسس واذالم یکن بدمن الاکل فالورع الاکل واحسان الظن ھذا ھو المألوف من الصحابہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنھم ومن زاد علیھم فی الورع فھوضال مبتدع ولیس بمتبع ۱؎ اھ ملخصا۔
حجۃ الاسلام، حکیم الاُمہ، کاشف الغمہ امام ابوحامد محمد بن محمد بن محمد غزالی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے احیاء العلوم شریف میں فرمایا: ''میں کہتا ہوں (جس کو دعوت دی گئی) اس کے لئے جائز نہیں کہ وہ اس (داعی) سے سوال کرے بلکہ اگر وہ تقوٰی اختیار کرنا چاہتا ہے تو نرمی کے ساتھ چھوڑ دے اور اگر (دعوت میں) جانا ضروری ہو تو پُوچھے بغیر کھائے کیونکہ سوال کرنے میں ایذار سانی، پردہ دری اور وحشت پیدا کرنا ہے اور یہ بلاشبہہ حرام ہے۔ اگر تم کہو کہ شاید اسے ایذا نہ پہنچے ۔تو میں کہوں گا شاید اسے تکلیف پہنچے اور تم لفظ ''لعل''''شاید'' پر قناعت کرتے تو اچھا تھا کیونکہ ممکن ہے اس کا مال حلال ہو (یعنی اس کو حرام نہ سمجھتے) اور غالب بات یہ ہے کہ تفتیش سے لوگوں کو وحشت ہوتی ہے اور جب وہ جانتا ہو تو اس کے لئے جائز نہیں کہ دوسرے سے سوال کرے کیونکہ اس میں ایذا رسانی زیادہ ہے اور اگر یوں پُوچھتا ہے کہ اُسے معلوم نہیں تو اس میں بدگمانی اور پردہ دری ہے نیز اس میں تجسس ہے جو غیبت کا باعث بنتا ہے اگرچہ یہ صریح نہ ہو اور یہ تمام باتیں ایک آیت (سورہ حجرات آیت ۱۲) میں ممنوع قرار دی گئی ہیں اور کتنے ہی جاہل زاہد ہیں جو تفتیش کے ذریعے دلوں میں وحشت پیدا کرتے ہیں اور نہایت سخت اور ایذا رساں کلام استعمال کرتے ہیں درحقیقت شیطان اس کی نظروں میں اسے اچھا قرار دیتا ہے تاکہ وہ حلال خور مشہور ہو، اور اگر اس کا باعث محض دین ہو تو پھر مسلمانوں کے دل کو اذیت پہنچانے کا خوف ایسی چیز کو پیٹ میں داخل کرنے کے خوف سے زیادہ ہے جس کے بارے میں وہ نہیں جانتا کیونکہ جس بات کو وہ نہیں جانتا اس پر مواخذہ نہیں ہوگا۔ جب وہاں ایسی علامت نہ ہو جس کی وجہ سے اجتناب لازم ہوتا ہے تو جان لو پرہیزگاری ترکِ سوال میں ہے تجسس میں نہیں اور اگر کھانا ضروری ہوتو کھانے اور اچھا گمان کرنے میں پرہیزگاری ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو یہی طریقہ پسند ہے، اور جو شخص پرہیز گاری کے سلسلے میں ان سے آگے بڑھنے کی کوشش کرے وہ گمراہ اور بدعتی ہے، مطیع نہیں ہے تلخیص۔
 (۱؎ احیاء العلوم الباب الثالث فی البحث والسؤال المثار الاول    مطبعۃ المشہد الحسینی قاہرہ۲/۱۱۹)
وفیہ قال الحارث المحاسبی رحمہ اللّٰہ تعالٰی لوکان لہ صدیق اواخ وھو یأمن غضبہ لوسألہ فلاینبغی ان یسألہ لاجل الورع لانہ ربما یبدو لہ ماکان مستور عنہ فیکون قدحملہ علی ھتک الستر ثم یؤدی ذٰلک الی البغضاء وان رابہ منہ شیئ ایضالم یسألہ ویظن بہ انہ یطعمہ من الطیب ویجنبہ الخبیث فان کان لایطمئن قلبہ الیہ فلیحترز متلطفا ولایھتک سترہ بالسؤال لانی لم ار احدا من العلماء فعلہ ۲؎ اھ ملخصا۔
اور اسی سلسلے میں حضرت حارث محاسبی رحمہ اللہ نے فرمایا: ''اگر کسی شخص کا دوست یا بھائی ہو اور سوال کرنے میں اس کی ناراضگی کا ڈر نہ ہو تو بھی پرہیزگاری کے حصول کیلئے سوال کرنا مناسب نہیں کیونکہ بعض اوقات اس کے سامنے وہ بات ظاہر ہوجاتی ہے جو اس سے پوشیدہ رکھی گئی ہے پس وہ اسے پردہ دری پر برانگیختہ کرے گی پھر دشمنی تک پہنچائے گی اور اگر اسے اس میں کچھ شک ہو تب بھی سوال نہ کرے بلکہ اس کے بارے میں یہی گمان رکھے کہ وہ اسے پاکیزہ چیزیں کھلاتا اور خبیث چیزوں سے دُور رکھتا ہے اگر اس پر اس کا دل مطمئن نہ ہو تو نہایت نرم طریقے سے کنارہ کش ہوجائے لیکن سوال کرکے اس کی پردہ دری نہ کرے، کیونکہ میں نے کسی عالم کو ایسا کرتے نہیں دیکھا، تلخیص۔
 (۲؎ احیاء العلوم الباب الثالث فی البحث والسؤال المثار الثانی    مطبعۃ المشہد الحسینی قاہرہ   ۲/۱۲۴)
وفی الطریقۃ والحدیقۃ مالا یدرک کلہ وھو الاحتراز عن الشبھات کلھا فی جمیع المعاملات لایترک کلہ فالاولی والاحوط الاحتراز ممافیہ امارۃ ظاھرۃ للحرمۃ وھی الشبھۃ القویۃ وممن لہ شھرۃ تامۃ بالظلم والغصب اوالسرقۃاوالخانیۃ اوالتزویر اونحوھا من الربٰو والمکس فی الاموال وقطع الطریق ممایمکن الاحتراز عنہ من غیر ترک مافعلہ اولی منہ ای من ترکہ اوفعل ما ترکہ کذلک ای اولی من فعلہ وھذا احتراز عما اذا ترتب علی اجتنابہ عن اموال من ذکروترک الاحترام لھم اذاکانوا ممایجب احترامھم اوینبغی لہ کاسلاطین والحکام وقضاۃ الشرع والابوین والاستاذ والمعلم عہ۱ والکبیر فی السن وشیخ المحلۃ والصدیق ولاینبغی بل لایجوز اساء ۃ الظن بھم ومتی ادی ذلک الی شیئ من ھذا لم یکن الاولی ولا الاحتیاط الاحتراز عن تلک الشبھات لما یعارضھا من ترک الاحترام اواساء ۃ الظن بمن یجب اوینبغی احترامہ ولایحسن عہ  ۲ اساء ۃ الظن بہ وھذا من اصعب الامور یرید المستحب فیقع فی الحرام ۱؎ اھ ملخصا۔
اور الطریقۃ المحمدیہ اور الحدیقۃ الندیہ میں ہے ''جس چیز کو مکمل طور پر نہ پایا جاسکے اور وہ تمام معاملات میں ہر قسم کے شبہے سے بچنا ہے تو سب کو نہ چھوڑا جائے پس زیادہ بہتر اور مناسب یہ ہے کہ ان چیزوں سے احتراز کیا جائے جن میں حرمت کی نشانی واضح ہے اور وہ قوی شبہ ہے اور اسی طرح اس سے بھی اجتناب کیا جائے جو ظلم، غصب، چوری، خیانت اور دھوکادہی وغیرہ مثلاً سُود کھانے، مالی نقصان پہنچانے اور ڈاکہ زنی میں مشہور ہو یہ وہ چیزیں ہیں کہ اولٰی کو چھوڑے بغیر بھی ان سے اجتناب ممکن ہے مراد یہ ہے کہ اس پر عمل اسے چھوڑنے سے اولٰی ہے اسی طرح جس چیز کا چھوڑنا اسے بجالانے سے بہتر ہے اسے کئے بغیر بھی ان چیزوں سے اجتناب ہوسکتا ہے۔ یہ بات کہ جن لوگوں کا ذکر کیا گیا ان کے مال سے بچنے کی بنا پر ان کے احترام کو چھوڑنا لازم آتا ہے یہ اس بات سے احتراز ہے کہ جب وہ ایسے لوگ ہوں جن کا احترام واجب یا مناسب ہے جیسے بادشاہ، حکام، قاضیِ شرع، ماں باپ، استاذ، معلم، عمر رسیدہ، محلہ کے بزرگ اور دوست تو ان کے بارے میں بدگمانی نامناسب بلکہ ناجائز ہے اور جب یہ بات (ان کی دعوت سے احتراز) ایسی بات کی طرف پہنچائے تو ان شبہات سے بچنا نہ تو اولٰی ہے اور نہ ہی زیادہ محتاط، کیونکہ اس صورت میں ان لوگوں کا احترام چھوڑنا پڑتا ہے اور ان کے بارے میں بدگمانی پیدا ہوتی ہے جن کا احترام واجب یا مناسب ہے اور ان کے بارے میں بدگمانی (جائز) نہیں یہ نہایت مشکل کام ہے وہ مستحب کا ارادہ کرتے کرتے حرام میں پڑ جائے گا، تلخیص (ت)
عہ ۱ :ای ولولحرفۃ من الحرف کماذکرہ العارف النابلسی بنفسہ فی بعض المواضع من ھذا الشرح ۱۲ منہ (م)

یعنی پیشوں میں سے اگرچہ وہ کسی بھی پیشے کا معلم ہو جیسا کہ خود عارف نابلسی نے اسی شرح کے بعض مواضع پر اس کا ذکر کیا ہے ۱۲ منہ (ت)

عہ ۲ :ای لایجوز کماسبق ۱۲ (م) یعنی لایجوز (ناجائز ہے) جیسا کہ گزرا ۲۱ (ت)؂
 (۱؎ الحدیقۃ الندیۃ    بیان حکم التورع والتوقی من طعام اہل الوظائف    مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد    ۲/۷۴۰)
اقول: وھو کماتری صریح اوکالصریح فی ترک السؤال ولوکان اکثر مالہ من الحرام فانہ ذکر المشھورین بالسرقۃ وقطع الطریق والغصب والربٰو ولم یفصل مطلقا اما الامام حجۃ الاسلام فجنح عند کثرۃ الحرام الٰی ایجاب السؤال وقال انما اوجبنا السؤال اذا تحقق ان اکثر مالہ حرام وعند ذلک لایبالی بغضب مثلہ بل یجب ایذاء الظالم باکثر من ذلک والغالب ان مثل ھذا لایغضب من السؤال ۱؎ اھ
اقول :یہ ترکِ سوال میں صریح یا صریح کی طرح ہے جیسا کہ دیکھ رہے ہو اور اگر اس کا زیادہ مال حرام (کی کمائی) سے ہوتو وہ چوری، ڈاکے، غصب اور سود میں مشہور لوگوں کا ذکر کرے لیکن تفصیل میں مطلقاً نہ جائے، امام حجۃ الاسلام کا میلان حرام مال زیادہ ہونے کی صورت میں وجوب سوال کی طرف ہے انہوں نے فرمایا ہم نے اس صورت میں سوال کرنا واجب قرار دیا ہے جب ثابت ہوجائے کہ اس کا زیادہ مال حرام ہے اس حالت میں اس کے غصّہ وغیرہ کی پروانہ کی جائے بلکہ ظالم کو اس سے بھی زیادہ ایذا پہنچانا واجب ہے اور غالب یہ ہے کہ اس قسم کا آدمی ایسے سوال پر غصہ نہیں کرتا اھ (ت)
 (۱؎ احیاء العلوم         الباب الثالث فی البحث والسؤال    المثار الثانی    مطبعۃ المشہد الحسینی القاہرہ ۲/۱۲۴)
قلت ومبنی ذلک تحریمہ الاکل عند من غالب مالہ حرام فیدخل فی القسم الاول الذی ذکرنا انہ لایبالی فیہ بسخط احد ولا لومۃ لائم وھذا وجہ عند مشایخنا وبہ افتی الفقیہ السمرقندی وغیرہ وصححہ فی الذخیرۃ والصحیح المختار فی المذھب المعول علیہ المفتی بہ اطلاق الرخصۃ مالم یعرف شیأ حراما بعینہ وھو مذھب ابراھیم النخعی وابی حنیفۃ واصحابہ قال محمد وبہ ناخذ فانی یعارض فتوی ابی اللیث فتوی ابی حنیفۃ وتصحیح الذخیرۃ ترجیح محمد ۔
قلت اس کی بنیاد یہ ہے کہ جس کا اکثر مال حرام ہو اس کے ہاں کھانا حرام ہے، یہ پہلی قسم میں داخل ہوگا جس کا ہم نے ذکر کیا کہ اس سلسلے میں کسی کی ناراضگی کی پروانہ کرے اور نہ ہی کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے ڈرے ہمارے مشایخ کے نزدیک یہ زیادہ مناسب ہے فقیہ سمرقندی وغیرہ نے اسی پر فتوٰی دیا ہے ذخیرہ میں اسے صحیح قرار دیا اور قابل اعتماد مذہب اور مفتی بہ قول میں صحیح اور مختار بات مطلق رخصت ہے جب تک کسی معین چیز کا حرام ہونا معلوم نہ ہو ابراہیم نخعی، امام ابوحنیفہ اور آپ کے اصحاب کا یہی مذہب ہے۔ امام محمد فرماتے ہیں ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں پس ابواللیث کا فتوٰی امام ابوحنیفہ کے فتوی کا اور تصحیحِ ذخیرہ امام محمد کی ترجیح کا معارض کیسے ہوگا
وابوحنیفۃ ھوالامام الاعظم ومحمد ھو المحرر للمذھب فلذا اطلق العلامۃ البرکلی القول وتبعناہ فی ذلک لکن یظھرلی ان التورع محمود فی نفسہ وقدمدح فی احادیث متواترۃ المعنی فصلنا جملۃ منھا فی کتابنا المبارک ان شاء اللّٰہ تعالٰی مطلع القمرین فی ابانۃ سبقۃ العمرین'' وانما یترک حیث یترک لاجل عارضۃ اقوی مالی اقول یترک کلا لایترک ولکن ح یکون الورع فی ترک مایظنہ المتقشف ورعاً فحیث لا توجد العوارض کالایذاء وھتک الستر واثارۃ الفتنۃ کماوصفنا لک من شان ذاک الجرئ المجاھر فلامعنی لترک الرعۃ ح مع وجود المقتضی وعدم المانع فلذا ذھبنا الی استثنائہ واللّٰہ الموفق ھذا وفی عین العلم والاسرار بالمساعدۃ فیما لم ینہ عنہ وصار معتادا فی عصرھم حسن وان کان بدعۃ ۱؎ اھ ای حسنۃ اوفی العادات کمایفیدہ التقیےد بمالم ینہ عنہ ومثلہ فی الاحیاء واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
حالانکہ امام ابوحنیفہ جو امام اعظم ہیں۔اور امام محمد ان کے مذہب کو تحریر کرنے والے ہیں اسی لئے علامہ برکلی کا قول مطلق ہے اور ہم نے اس سلسلے میں اس کی اتباع کی لیکن مجھ پر ظاہر ہوا کہ ذاتی طور پر پرہیزگاری قابلِ تعریف ہے احادیث متواتر المعنی میں اس کی تعریف آئی ہے ہم ان میں سے کچھ (احادیث) اپنی مبارک کتاب ''مطلع القمرین فی ابانۃ سبقۃ العمرین'' میں تفصیل سے نقل کریں گے اِن شاء اللہ تعالٰی، جہاں چھوڑا جاتا ہے وہاں کسی نہایت مضبوط عارضہ کی وجہ سے چھوڑا جاتا ہے، مجھے کیا ہے کہ میں کہوں کہ چھوڑا جائے، ہرگز نہیں چھوڑا جائے لیکن اس وقت پرہیزگاری اس چیز کو چھوڑنے میں ہوگی جس کو حقیقتِ حال معلوم کرنے والا پرہیزگاری خیال کرتا ہے پس جہاں ایذاء رسانی، پردہ دری اور فتنہ پروری جیسے عوارض نہیں پائے جائیں گے جیسا کہ ہم نے تمہارے لئے اس جرأت مند اعلانیہ روکنے والے کی شان بیان کی وہاں پرہیزگاری چھوڑنے کا کوئی مطلب نہیں کیونکہ وہاں اس سے (پُوچھ گچھ) کا مقتضٰی بھی موجود ہے اور کوئی مانع بھی نہیں اسی لئے ہم نے اس کے استشناء کا راستہ اپنایا ہے واللہ الموفق ہذا۔ اور ''عین العلم والاسرار بالمساعدۃ'' میں ہے کہ جس چیز سے روکا نہیں گیا اور وہ ان کے زمانے میں عادت بن گئی ہو وہ اچھی چیز ہے اگرچہ وہ بدعتِ حسنہ ہی ہو یا وہ عادات ہوں جیسا کہ ''اس سے نہ روکا گیا ہو'' کی قید سے فائدہ حاصل ہوتا ہے احیاء العلوم میں بھی اسی کی مثل ہے واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
 (۱؎ عین العلم    باب فی الصمت واٰفۃ اللسان    مطبوعہ مطبع اسلامیہ لاہور    ص۲۰۶)
تمّت المقدمات

(مقدمات پورے ہوگئے۔ ت)
Flag Counter