| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۴(کتاب الطہارۃ) |
قلت وحاصلہ ان المحذور ای کون النھی نھیاً عن النھی عن المنکر مبنی علی العلم بکونہ منکرا وھو مبتن علی العلم بالتجنس واذلیس ھذا فلیس ذاک فلیس ذٰلک ولم یکن ان صاحب الحوض ھم بالاخبار فنھاہ عمر حتی یکون نھیا بعد الظن بانہ یعلم شیأ وانما سأل عمرو ولایدری ماعند المسؤل عنہ فاراد سدباب الظنون والتنبیہ علی انالم نؤمر بذلک ولوفتحنا مثل ھذا الباب علی وجوھنا لوقعنا فی الحرج والحرج مدفوع بالنص فتأمل حق التأمل ولاتظنن ان الامر دار بین مصلحۃ التوسیع ومفسدۃ النھی عن النھی عن المنکر بل بین دفع مفسدۃ الوسوسۃ والتعمق والمفسدۃ التی ذکرتُ وتلک حاضرۃ متیقنۃ وھذہ محتملۃ متوھمۃ فترجح الاول فافھم واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
قلت اس کا ماحصل یہ ہے کہ ممنوع یعنی نہی عن المنکر سے روکنے کی ممانعت اس پر مبنی ہے کہ اس کے منکر ہونے کا علم ہو اور وہ اس پر مبنی ہے کہ اس کے نجس ہونے کا علم ہو۔ پس جب یہ بات (اس کا ناپاک ہونا) نہیں تو وہ (یعنی اس کے منکر ہونے کا علم نہیں) لہذا نہی عن المنکر سے روکنے کی ممانعت بھی نہ پائی گئی اور یہ بات بھی نہیں کہ حوض کا مالک خبر دینے کا ارادہ کرچکا تھا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے روک دیا تاکہ اس ظن کے بعد کہ وہ کچھ جانتا تھا یہ نفی کہلائے حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے سوال کیا اور ان کو معلوم نہ تھا کہ مسؤل عنہ کے پاس اس کا کیا جواب ہے، تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے خیالات وگمان کا دروازہ بند کرنیکا ارادہ کیا اور اس بات پر تنبیہ فرمائی کہ ہمیں اس بات کا حکم نہیں دیا گیا اور اگر ہم اپنے سامنے اس قسم کا دروازہ کھول دیں تو حرج میں پڑ جائیں گے اور شرعی طور پر حرج دُور کیا گیا ہے، پس غور کرو جیسے غور کرنے کا حق ہے۔ اور یہ خیال نہ کروکہ یہ معاملہ توسیع کی مصلحت اور نہی عن المنکر سے روکنے کی خرابی کے درمیان دائر ہے بلکہ وسوسہ اور بہت گہرائی میں جانے کے فساد کو دُور کرنے اور اس فساد کے درمیان دائر ہے جس کا میں نے ذکر کیا اور وہ موجود یقینی ہے جبکہ اس میں احتمال اور وہم ہے پس پہلے کو ترجیح حاصل ہوگی۔ سمجھ لو، واللہ تعالٰی اعلم (ت) ہاں اس میں شک نہیں کہ شبہہ کی جگہ تفتیش وسوال بہتر ہے جب اس پر کوئی فائدہ مترتب ہوتا سمجھے،
فی البحر الرائق عن السراج الھندی عن الفقیہ ابی اللیث ان عدم وجوب السؤال من طریق الحکم وان سأل کان احوط لدینہ الخ۔
البحرالرائق میں سراج ہندی سے منقول ہے انہوں نے فقیہ ابواللیث سے نقل کیا کہ سوال کا واجب نہ ہونا شرعی حکم کے طریقے پر ہے اور اگر سوال کرے تو یہ دینی اعتبار سے زیادہ محتاط ہونا ہے الخ (ت)
اور یہ بھی اسی وقت تک ہے جب اس احتیاط وورع میں کسی امراہم وآکد کا خلاف نہ لازم آئے کہ شرع مطہر میں مصلحت کی تحصیل سے مفسدہ کا ازالہ مقدم تر ہے مثلاً مسلمان نے دعوت کی یہ اس کے مال وطعام کی تحقیقات کررہے ہیں کہاں سے لایا، کیونکر پیدا کیا، حلال ہے یا حرام، کوئی نجاست تو اس میں نہیں ملی ہے کہ بیشک یہ باتیں وحشت دینے والی ہیں اور مسلمان پر بدگمانی کرکے ایسی تحقیقات میں اُسے ایذا دینا ہے خصوصاً اگر وہ شخص شرعاً معظم ومحترم ہو، جیسے عالمِ دین یا سچّا مرشد یا ماں باپ یا استاذ یا ذی عزت مسلمان سردار قوم تو اس نے اور بے جا کیا ایک تو بدگمانی دوسرے موحش باتیں تیسرے بزرگوں کا ترکِ ادب، اور یہ گمان نہ کرے کہ خفیہ تحقیقات کر لُوں گا حاشا وکلّا اگر اسے خبر پہنچی اور نہ پہنچنا تعجب ہے کہ آج کل بہت لوگ پرچہ نویس ہیں تو اس میں تنہا برر وپوچھنے سے زیادہ رنج کی صورت ہے کماھو مجرب معلوم (جیسا کہ تجربہ سے معلوم ہے۔ ت) نہ یہ خیال کرے کہ احباب کے ساتھ ایسا برتاؤ برتوں گا ''ہیہات'' احبا کو رنج دینا کب روا ہے۔ اور یہ گمان کہ شاید ایذا نہ پائے ہم کہتے ہیں شاید ایذا پائے اگر ایسا ہی شاید پر عمل ہے تو اُس کے مال وطعام کی حلت وطہارت میں شاید پر کیوں نہیں عمل کرتا۔ معہذا اگر ایذا نہ بھی ہُوئی اور اُس نے براہِ بے تکلفی بتادیا تو ایک مسلمان کی پردہ دری ہوئی کہ شرعاً ناجائز۔ غرض ایسے مقامات میں ورع واحتیاط کی دو۲ ہی صورتیں ہیں یا تو اس طور پر بچ جائے کہ اُسے اجتناب ودامن کشی پر اطلاع نہ ہو یا سوال وتحقیق کرے تو اُن امور میں جن کی تفتیش موجب ایذا نہیں ہوتی مثلاً کسی کا جُوتا پہنے ہے وضو کرکے اُس میں پاؤں رکھنا چاہتا ہے دریافت کرلے کہ پاؤں تر ہیں یوں ہی پہن لوں وعلٰی ہذا القیاس یا کوئی فاسق بیباک مجاہر معلن اس درجہ وقاحت وبیحیائی کو پہنچا ہواہوکہ اُسے نہ بتادینے میں باک ہو نہ دریافت سے صدمہ گزرے نہ اُس سے کوئی فتنہ متوقع ہو نہ اظہار ظاہر میں پردہ دردی ہو تو عندالتحقیق اُس سے تفتیش میں بھی جرح نہیں ورنہ ہرگز بنام ورع واحتیاط مسلمانوں کی نفرت ووحشت یا اُن کی رُسوائی وفضیحت یا تجسّس عیوب ومعصیت کا باعث نہ ہو کہ یہ سب امور ناجائز ہیں اور شکوک وشبہات میں ورع نہ برتنا ناجائز نہیں عجب کہ امر جائز سے بچنے کے لئے چند نارواباتوں کا ارتکاب کرے یہ بھی شیطان کا ایک دھوکا ہے کہ اسے محتاط بننے کے پردے میں محض غیر محتاط کردیا اے عزیز! مدارات خلق والفت وموانست اہم امور سے ہے۔
عن النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم بعثت بمدارۃ الناس ۱؎ الطبرانی فی الکبیر عن جابر وقال صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم رأس العقل بعد الایمان باللّٰہ التحبب الی الناس ۲؎ الطبرانی فی الاوسط عن علی والبزار فی المسند عن ابی ھریرۃ والشیرازی فی الالقاب عن انس والبھیقی فی الشعب عنھم جمیعا رضی اللّٰہ تعالٰی عنھم۔
نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے مروی ہے، فرمایا: ''مجھے لوگوں سے خاطر مدارات کے لئے بھیجا گیا ہے''۔ اسے طبرانی نے کبیر میں حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے بیان کیا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: ''اللہ تعالٰی پر ایمان لانے کے بعد کمالِ عقل انسانوں سے محبت کرنا ہے''۔ اس کو طبرانی نے اوسط میں حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ اور بزار نے مسند میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور شیرازی نے القاب میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اور بہیقی نے شعب الایمان میں ان تمام سے روایت کیا رضی اللہ تعالٰی عنہم (ت)
(۱؎ شعب الایمان فصل فی الحلم والتورۃ الخ حدیث ۸۴۷۵ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت۶/۳۵۱) (۲؎ شعب الایمان فصل فی الحلم والتورۃ الخ حدیث ۸۴۴۷ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت ۶/۳۴۴)
مگر جب تک نہ دین میں مداہنت نہ اُس کے لئے کسی گناہِ شرعی میں ابتلا ہو۔
قال اللّٰہ تعالٰی لایخافون فی اللّٰہ لومۃ لائم ۳؎
اللہ تعالٰی ارشاد فرماتا ہے: ''وہ اللہ تعالٰی کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتے''۔
(۳؎ القرآن ۵/۵۴)
وقال تعالٰی لاتأخذکم بھما رأفۃ فی دین اللّٰہ ۴؎
اور ارشادِ خداوندی ہے: ''ان دونوں (زانی اور زانیہ) کے بارے میں تمہیں دینِ خداوندی میں نرمی نہیں کرنی چاہئے''۔
(۴؎ القرآن ۲۴/۲)
وقال تعالٰی واللّٰہ ورسولہ احق ان یرضوہ ان کانوا مؤمنین ۵؎۔
ارشادِ باری تعالٰی ہے: ''اور اللہ تعالٰی اور اس کا رسول اس بات کا زیادہ حق رکھتے ہیں کہ وہ (لوگ) انہیں راضی کریں اگر وہ ایمان دار ہیں''۔
(۵؎ القرآن ۹/۶۲)
وقال صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم لاطاعۃ لاحد فی معصیۃ اللّٰہ انما الطاعۃ فی المعروف ۶؎ الشیخان ووابوداود والنسائی عن علی کرم اللّٰہ تعالٰی وجھہ۔
( ۶؎ صحیح البخاری کتاب اخبار الآحاد مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۱۰۷۸)
نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: ''اللہ تعالٰی کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں فرمانبرداری صرف نیک امور میں ہے'' اس حدیث کو امام بخاری، مسلم، ابوداؤد اور نسائی نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت کیا ہے۔
وقال صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم لاطاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق ۱؎ احمد الامام ومحمد الحاکم عن عمران والحکم بن عمرو الغفاری رضی اللّٰہ تعالٰی عنھم۔
اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''خالق کی نافرمانی میں مخلوق کی اطاعت جائز نہیں''۔ اسے امام احمد اور محمد حاکم نے حضرت عمران اور حکم بن عمرو غفاری رضی اللہ تعالٰی عنہم سے روایت کیا۔ (ت)
(۱؎ مسند امام احمد بن حنبل عن علی مطبوعہ دارالکتب الاسلامی بیروت ۱/۱۲۹)
پس ان امور میں ضابطہ کلیہ واجبۃ الحفظ یہ ہے کہ فعل فرائض وترک محرمات کو ارضائے خلق پر مقدم رکھے اور ان امور میں کسی کی مطلقاً پروانہ کرے اور اتیان مستحب وترک غیر اولٰی پر مدارات خلق ومراعات قلوب کو اہم جانے اور فتنہ ونفرت وایذا ووحشت کا باعث ہونے سے بہت بچے۔ اسی طرح جو عادات ورسوم خلق میں جاری ہوں اور شرع مطہر سے اُن کی حُرمت وشناعت نہ ثابت ہو اُن میں اپنے ترفع وتنزہ کے لئے خلاف وجُدائی نہ کرے کہ یہ سب امور ایتلاف وموانست کے معارض اور مراد ومحبوب شارع کے مناقض ہیں ہاں وہاں ہوشیار وگوش دار کہ یہ وہ نکتہ جمیلہ وحکمتِ جلیلہ وکُوچہ سلامت وجادہ کرامت ہے جس سے بہت زاہدان خشک واہلِ تکشف غافل وجاہل ہوتے ہیں وہ اپنے زعم میں محتاط ودین پرور بنتے ہیں اور فی الواقع مغز حکمت ومقصود شریعت سے دور پڑتے ہیں خبردار ومحکم گیر یہ چند سطروں میں علم غزیر وباللّٰہ التوفیق والیہ المصیر (یہ سب اللہ تعالٰی کی توفیق سے ہے اور اسی کی طرف رجوع کرنا ہے۔ ت)