واما ثانیاً : فلانا لانسلم ان الکثیر لایحتاج فیہ الی السؤال فلربما ینتن الماء فیتغیر لونہ فیحتمل انہ لطول المکث اوحلول الخبث فیتحقق مثارللسؤال فعلم ان القلیل والکثیر سواء فی حاجۃ السؤال لکشف الحال عند المظنۃ والاحتمال بیدان الکثیر فی الاشربۃ المظنۃ کالامر الحسی اعنی تغیر احد الاوصاف بخلاف القلیل وبھذا القدر لا یستند العلم الی مجرد الحسن لان الذی یدرک بالحس لا یکفی لبتین الامر وزوال اللبس کما لا یخفی۔
دوم: ہم نہیں مانتے کہ زیادہ پانی کے بارے میں سوال کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ بعض اوقات وہ بدبُودار ہوجاتا ہے یا اس کا رنگ بدل جاتا ہے۔ پس اس بات کا احتمال ہے کہ زیادہ دیر ٹھہرنے یا نجاست داخل ہونے کے باعث ایسا ہوا ہو لہذا اس کا مقام سوال ہونا ثابت ہوگیا۔ پس معلوم ہوا کہ جب گمان واحتمال والی صورت ہو تو کشفِ حال کے لئے سوال کی ضرورت میں قلیل وکثیر برابر ہیں۔ علاوہ ازیں کثیر میں (نجاست کا) گمان محض امر حسی کی بنیاد پر ہوتا ہے یعنی اس کا کوئی وصف بدلتا ہے بخلاف قلیل کے۔ اور محض اتنی سی بات سے علم، مجرد حس کی طرف منسوب نہیں ہوگا کیونکہ حس کے ساتھ جس چیز کا ادراک ہوتا ہے وہ بات کو واضح کرنے اور شک کو دُور کرنے کے لئے کافی نہیں جیسا کہ مخفی نہیں۔
وافاض اللّٰہ الجواب عنہ بان ھذا مضر یعود نفعا محضاً فلئن قلتم بہ فی قصۃ الحدیث عـــہ فقد ترکتم ما قصدتم واعترفتم بما نرید اذکان مثار سؤال عمرو ح ھواحتمال الخبث ومبنی جواب عمر ھواتباع الاصل وذلک ماکنا نبغ وانما کنتم تذھبون بالحدیث الی ان الماء کثیر لایحمل الخبث فلا تخبرنا ای اخبارک وعدمہ سواء وعلی ھذا التقریر یصیر الکثیر نظیر الیسیر کما اعترفتم فلم تغن عنکم کثرتکم شیئا واللّٰہ الموفق ھذا۔
فیضانِ الہی: اللہ تعالٰی نے اس کے جواب کا فیضان عطا فرمایا اگرچہ یہ ضرر ہے اللہ تعالٰی اسے نفع بخش فرمائے کہ اگر تم اس حدیث کے ضمن یہ بات کرتے ہوتو تم نے اپنا مقصود چھوڑ کر ہماری مراد کا اعتراف کرلیا کیونکہ اس وقت حضرت عمرو رضی اللہ عنہ کے سوال کا دارومدار، نجاست کو برداشت کرنے پر ہے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے جواب کی بنیاد، اصل کی اتباع ہے اور ہم اسی کی تلاش میں ہیں۔ حدیث کی روشنی میں تمہارا موقف یہ ہے کہ (چونکہ) زیادہ پانی نجاست سے ناپاک نہیں ہوتا لہذا تو ہمیں خبر نہ دے یعنی تیرا خبر دینا اور نہ دینا دونوں برابر ہیں اس تقریر کی بنیاد پر زیادہ، تھوڑے کی مثل ہوجائے گا جیسا کہ تم نے اعتراف کیا۔ پس تمہاری کثرت نے تم کو کوئی فائدہ نہ دیا۔ اور اللہ تعالٰی ہی اس کی توفیق دینے والا ہے۔ (ت)
عـــہ: فان قلت لامساغ لھذا فی قصۃ الحدیث اصلا اذالماء الکثیر لایتغیر بمجرد ولوغ السباع وشرب الماء قلت بلٰی فان لفظ الحدیث ھل ترد لاھل تلغ ویمکن ان ترد جماعات منھن وتقع فی الماء وتبول فیہ وتقضی الحاجۃ فتغلب النجاسۃ علی بعض اوصاف الماء ۱۲ منہ (م)
اگر تو کہے کہ حدیث کے اس واقعہ سے اس کا جواز ہر جگہ ثابت نہیں ہوتا کیونکہ کثیر پانی محض درندوں کے چاٹنے اور پینے سے متغیر نہیں ہوتا۔ میں کہتا ہوں ہاں کیونکہ حدیث کا لفظ ''ھل ترد'' ہے ''ھل تلغ'' نہیں اور ممکن ہے کہ درندوں کے کئی گروہ پانی پر وارد ہوتے ہوں اور پانی میں جاکر بَول وبراز کرتے ہوں تو پانی کے بعض اوصاف پر نجاست غالب آجائے۔ (ت)
وقیل عـــہ بل ذھب عمر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ الی طھارۃ سؤر السباع کما تقولہ الائمۃ الثلثۃ علی خلاف بینھم فی الکلب والخنزیر فقولہ لا تخبرنا ای سواء علینا اخبرتنا اولم تخبرنا فانا نطھر ما تفضل السباع۔
اور کہا گیا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ درندوں کے جھُوٹے کو پاک سمجھتے ہیں جیسا کہ ائمہ ثلاثہ کتّے اور خنزیر کے (جھُوٹے کے) بارے میں اس کے قائل ہیں اگرچہ ان میں کچھ اختلاف بھی ہے پس ان کا قول کہ ''ہمیں خبر نہ دینا'' کا مطلب یہ ہے کہ خبر دو یا نہ دو ہمارے لئے برابر ہے کیونکہ ہم درندوں کے جھُوٹے کو پاک سمجھتے ہیں (ت)
عــہ معطوف علی قیل السابق ۱۲ منہ (م) پہلے گزرے ہوئے قیل پر معطوف ہے ۱۲ منہ (ت)
اقول: وقد یلمح الیہ علی مافیہ قولہ فی الحدیث فانا نرد علی السباع وترد علینا ۱؎ وقولہ کمازاد رزین عن بعض الرواۃ وانی سمعت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم یقول لھا مااخذت فی بطونھا ومابقی فھولنا طھور ۲؎۔
اقول: حدیث شریف میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے الفاظ کہ ''ہم درندوں کے پاس جاتے اور وہ ہمارے پاس آتے ہیں'' میں اسی بات کی طرف اشارہ ہے، نیز رزین نے بعض راویوں سے جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ قول زائد نقل کیا ہے کہ میں نے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے فرمایا: ''جو کچھ ان جانوروں نے اپنے پیٹوں میں لے لیا وہ ان کے لئے ہے اور جو باقی رہ گیا ہے وہ ہمارے لئے پاک ہے۔
( ۱؎ المؤطا امام مالک الطہور للوضوء مطبوعہ میر محمد کتب خانہ کراچی ص۱۷)
(۲؎ مشکوٰۃ المصابیح باب احکام المیاہ مطبوعہ مجتبائی دہلی ص۵۱)
ومااخرج الامام الشافعی عن عمربن دینار ان عمربن الخطاب رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ ورد حوض مجنّۃ فقیل انما ولغ الکلب اٰنفا فقال انما ولغ بلسانہ فشرب وتوضأ ۳؎۔
اسی طرح جو امام شافعی رحمہ اللہ نے عمربن دینار رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ مجنّہ کے حوض پر تشریف لے گئے تو کہا گیا ابھی یہاں کتّے نے منہ مارا ہے۔ تو آپ نے فرمایا: اس نے اپنی زبان سے چاٹا ہے۔ پھر آپ نے اس سے پِیا اور وضو فرمایا۔ اس میں بھی اسی بات کی طرف اشارہ ہے۔ (ت)
(۳؎ مصنف عبدالرزاق حدیث ۲۴۹ باب الماء تردہ الکلاب والسباع مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت ۱/۷۶)
ویکدر ھذا والذی قبلہ جمیعا انکم ملتم بالکلام الی خلاف ما یتبادر منہ فان ظاھر النھی کراھۃ الاخبار وماذاک الاخشیۃ ان لواخبر لزمہ التحرج فاراد التوسیع باستصحاب الطھارۃ مالم یعلم ولوکان الامر کما ذکرتم من کثرۃ الماء اوطھارۃ السؤر لما ضر اخبارہ شیأ فعلی ماینھاہ عنہ بل کان حق الکلامح ان یقول لعمروماذا ترید بالاستنخبار الماء کثیر ولوولغت اوسؤرھا طاھر فما فعلت الی ھذا اشار محمد رحمہ اللّٰہ تعالٰی حیث قال بعد روایۃ الحدیث فی مؤطاہ اذاکان الحوض عظیما ان حرکت منہ ناحیۃ لم تتحرک بہ الناحیۃ الاخری لم یفسد ذلک الماء ماولغ فیہ من سبع ولاماوقع فیہ من قذر الا ان یغلب علی ریح اوطعم ای اولون فاذاکان حوضا صغیرا ان حرکت منہ ناحیۃ تحرکت الناحیۃ الاخری فولغ فیہ السباع اووقع فیہ القذر لایتوضأ منہ الایری ان عمربن الخطاب رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کرہ ان یخبرہ ونھاہ عن ذلک وھذا کلہ قول ابی حنیفۃ رحمہ اللّٰہ تعالٰی ۱؎ اھ۔
یہ اور اس سے پہلے کی تمام بحث سے یہ بات مکدر ہوجاتی ہے کیونکہ تمہارے کلام کا میلان اس بات کے خلاف ہے جو واضح طور پر ذہن میں آتی ہے کیونکہ نہی سے ظاہر ہوتا ہے کہ خبر دینا مکروہ ہے اور یہ اس ڈر کی بنیاد پر ہے کہ اگر خبر دے گا تو حرج میں پڑنا لازم آئے گا لہذا ان کی مراد یہ تھی کہ جب تک علم نہ ہو حصولِ طہارت میں وسعت ہونی چاہئے۔ اور اگر وہ بات ہوتی جس کا تم نے ذکر کیا پانی زیادہ تھا یا وہ جھوٹے کو پاک سمجھتے تھے تو اس صورت میں ان کا خبر دینا نقصان دہ نہ ہوتا پس انہوں نے کس بنا پر اس سے منع فرمایا بلکہ اس وقت حق کلام یہ تھا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ، حضرت عمرو رضی اللہ عنہ سے فرماتے خبر حاصل کرنے سے تمہارا کیا مقصد ہے پانی زیادہ ہے اگرچہ اس میں (درندہ) منہ ڈالے یا ان کا جھوٹا ہو پاک ہے پس تم کیا کروگے امام محمد رحمہ اللہ نے بھی اسی کی طرف اشارہ کیا ہے جب انہوں نے اپنے مؤطا میں یہ حدیث روایت کرنے کے بعد فرمایا جب حوض اتنا بڑا ہوکر اس کی ایک جانب کو حرکت دی جائے تو دوسری جانب حرکت نہ کرے تو اس میں درندے کے پانی پینے یا نجاست گرنے سے پانی ناپاک نہیں ہوتا مگر یہ کہ اس کی بُو اور ذائقے پر غالب آجائے اور اگر حوض اتنا چھوٹا ہوکہ اس کی ایک طرف کو حرکت دینے سے دوسری جانب متحرک ہو اور اس میں سے درندے نے پانی پیا یا نجاست پڑ گئی تو اس سے وضو نہ کیا جائے۔ کیا نہیں دیکھا گیا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ناپسند کیا کہ وہ ان کو خبر دے اور اس سے منع فرمادیا یہ تمام حضرت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا مسلک ہے۔ (ت)
(۱؎ المؤطالامام محمد باب الوضوء ممایشرب منہ السباع وتلغ فیہ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع آرام باغ کراچی ص۶۶)
اقول: فعلی ھذا معنی قولہ فانانرد الخ وکذا استشھادہ بارشاد النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم ان ثبت انا نعلم ان المیاہ قلما تسلم عن ورد السباع لکن لم نؤمر بالبحث ولابالتکلف وامرنا بالاتکال علی اصل الطھارۃ مالم نعلم بعروض النجاسۃ فلھا ماحملت فی بطونھا لان ماء اللّٰہ مباح علی کل ذات کبد حرّاء ولنا ما غیر طھور لعدم التیقن بعروض المحذور فاٰل الکلام الی ماوصفنا لک من ان الیقین الاجمالی بعروض النجاسۃ لنوع لایقضی بتنجس کل فرد منہ وبالجملۃ فالحدیث ذووجوہ والاوجہ ماذکرنا فصح الاستدلال علی عدم وجوب السؤال لاجل ظن اواحتمال وکان اول قدوۃ لنا فیہ امامنا محمد رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ۔
اقول : اس بنیاد پر ان کے قول ''ہم درندوں کے پاس جاتے اور وہ ہمارے ہاں آتے ہیں'' اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد گرامی سے انکے استدلال، بشرطیکہ وہ ثابت ہو، کا مفہوم یہ ہوگا کہ ہم جانتے ہیں کہ پانی، درندوں کی آمدورفت سے بہت کم محفوظ ہوتے ہیں لیکن ہمیں بحث اور تکلّف کا حکم نہیں دیا گیا ہمیں اصل طہارت پر بھروسا کرنے کا حکم دیا گیا ہے جب تک نجاست کے واقع ہونے کا علم نہ ہو پس جو ان جانوروں نے اپنے پیٹوں میں لے لیا وہ ان کے لئے ہے۔ کیونکہ اللہ تعالٰی کا پانی ہر گرم جگر والی چیز کیلئے مباح ہے اور جو کچھ باقی ہے وہ ہمارے لئے پاک ہے کیونکہ ناپاک چیز کے گرنے کا ہمیں علم نہیں۔ پس ہم نے جو کچھ کہا اس کا نتیجہ یہ ہے کہ کسی نوع کے ناپاک ہونے کا اجمالی یقین اس کے ہر فرد کی نجاست کا تقاضہ نہیں کرتا۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ حدیث (کا مفہوم) کئی وجوہ پر مشتمل ہے لیکن زیادہ مناسب وہ ہے جو ہم نے ذکر کیا، پس ظن یا احتمال کی وجہ سے سوال واجب نہ ہونے پر استدلال صحیح ہے اور اس میں ہمارے پہلے مقتدا امام محمد رضی اللہ تعالٰی عنہ ہیں۔ (ت)
لکن یرتاب فیہ بان النھی عن الاخبار علی ھذا یکون نھیاً عن مناصحۃ المسلمین وصونھم عن تعاطی المنکر فی الدین فان من علم ان فی ثوب المصلی نجاسۃ مثلا وھولایدری وجب علیہ اخبارہ بذٰلک ان ظن قبولہ لان فعلہ علی خلاف امر اللّٰہ سبحٰنہ وتعالٰی فی نفسہ وان ارتفع الاثم لعدم العلم۔
لیکن یہاں شک پیدا ہوتا ہے کہ اس بنیاد پر خبر دینے سے روکنا دین کے سلسلے میں مسلمانوں کی خیر خواہی اور برائی میں مشغول ہونے سے ان کی حفاظت سے روکنا ہو کیونکہ جو شخص جانتا ہے کہ نمازی کے کپڑے پر نجاست لگی ہوئی ہے اور اسے (نمازی کو) معلوم نہیں تو اس پر واجب ہے کہ اسے خبر کردے اگر اس کی قبولیت کا گمان ہو کیونکہ حقیقت میں ا سکا یہ فعل اللہ تعالٰی کے حکم کے خلاف ہے اگرچہ عدمِ علم کی وجہ سے وہ گناہ گار نہ ہوا۔
والجواب عنہ کماافاد العارف النابلسی ان عمر بن الخطاب رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ لایعلم ان صاحب الحوض یعلم ان السباع تردہ حتی یکون قولہ ذلک کفا و منعا من الامر بالمعروف والنھی عن المنکر ومن النصیحۃ فی الدین غایتہ انہ اراد رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نفی الوسواس فی طھارۃ الماء والنھی عن کثرۃ السؤال فی الامور المبنیۃ علی الیقین فی ان الاصل فی الماء الطھارۃ ۱؎ اھ۔
اس کا جواب یہ ہے کہ جیسا کہ عارف نابلسی رحمہ اللہ سے مستفاد ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالٰی عنہ کو معلوم نہ تھا کہ حوض والے کو اس پر درندوں کے آنے جانے کا علم ہے جس کی وجہ سے آپ کا وہ قول ''امر بالمعروف اور نہی عن المنکر'' اور دین میں خیر خواہی سے باز رکھتا اور رکاوٹ بنتا ہو نتیجہ یہ ہوا کہ آپ نے پانی کی طہارت کے سلسلے میں وسوسوں کی نفی فرمائی اور جو امور یقین پر مبنی ہیں ان کے بارے میں کثرتِ سوال سے منع فرمایا کیونکہ پانی میں اصل طہارت ہے اھ۔ (ت)
(۱؎ الحدیقۃ الندیۃ الصنف الثانی من الصنفین فیماور دعن ائمتنا الحنفیۃمطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲/۶۵۶)