Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۴(کتاب الطہارۃ)
102 - 2323
مالک فی مؤطاہ عن یحيٰی بن عبدالرحمٰن ان عمر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ خرج فی رکب فیھم عمرو بن العاص رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ حتی وردوا حوضا فقال عمرو یاصاحب الحوض ھل ترد حوضکالسباع فقال عمربن الخطاب یاصاحب الحوض لاتخبرنا فانا نرد علی السباع وترد علینا ۱؎
امام مالک رحمہ اللہ نے اپنے مؤطا میں حضرت یحیٰی بن عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سواروں کے ایک دستہ میں تشریف لائے ان میں حضرت عمروبن عاص رضی اللہ عنہ بھی تھے ایک حوض پر پہنچے تو حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اے حوض والے! کیا تیرے حوض میں درندے بھی آتے ہیں؟ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے صاحبِ حوض! ہمیں نہ بتانا کیوں کہ ہم درندوں کے پاس اور وہ ہمارے ہاں آتے جاتے ہیں۔
(۱؎ المؤطا امام مالک    الطہور للوضوء            مطبوعہ میر محمد کتب خانہ کراچی    ص۱۷)
قال سیدی عبدالغنی ولعلہ کان حوضاً صغیرا والا لما سأل ۲؎ اھ ملخصًا
سیدی عبدالغنی رحمہ اللہ تعالٰی نے فرمایا: شاید وہ چھوٹا حوض تھا ورنہ وہ نہ پُوچھتے، انتہی تلخیص۔
(۲؎ الحدیقۃ الندیۃ الصنف الاول فیما ورد عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد     ۲/۶۵۶)
وقال تحت قولہ لاتخبرنا ای ولوکنت تعلم انہ تردد السباع لانانحن لانعلم ذلک فالماء طاھر عندنا فلواستعملناہ لاستعملنا ماء طاھرا  عــہ  ولایکلف اللّٰہ نفساً الّا وسعھا ۳؎ اھ
 (۳؎ الحدیقۃ الندیۃ    الصنف الاول فیما ورد عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد  ۲/۶۵۶ )
وہ ''لاتخیرنا'' (ہمیں نہ بتانا) کے تحت فرماتے ہیں یعنی اگرچہ تو جانتا بھی ہو کہ درندے آتے ہیں، کیونکہ ہم اس بات کو نہیں جانتے، پس ہمارے نزدیک پانی پاک ہے پس اگر ہم اسے استعمال کریں گے تو پاک پانی استعمال کریں گے۔ اور ہر نفس کو اللہ تعالٰی اس کی طاقت کے مطابق تکلیف دیتا ہے۔ (ت)
عـــہ ۱ : ای فی حقنا وان کان علٰی خلاف ذلک فی الواقع ۱۲ منہ (م) یعنی ہمارے حق میں پاک ہے اگرچہ وہ حقیقۃً اس کے خلاف ہو ۱۲ منہ (ت)
یقول العبد الضعیف غفرلہ القوی اللطیف جل وعلا قد حمل المولی الفاضل رحمہ اللّٰہ تعالٰی ھذا الحدیث کما تری علی ماقدمنا من ان المطلوب عدم العلم بالنجاسۃ لا العلم بعدم النجاسۃ ولیس علینا ان نبحث فان الشیئ وان کان متنجسا فی الواقع فانہ طاھرلنا مالم نعلم بذٰلک ولذاحمل الحوض علی حوض صغیر یحمل الخبث وقد سبقہ الی ھذا الحمل علّامۃ عصرہ سیدی زین بن نجیم المصری رحمہ اللّٰہ تعالٰیفی البحر حیث قال (فروع) فی الخلاصۃ معزیا الی الاصل یتوضأ من الحوض الذی یخاف فیہ قذر ولایتیقنہ ولایجب ان یسأل اذا لحاجۃ الیہ عند عدم الدلیل والاصل دلیل یطلق الاستعمال وقال عمر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ ۱؎ الخ فذکر الحدیث المذکور بمعناہ وانت تعلم ان کلامہ انما ھو فی الحوض الصغیر کمالا یخفی وقد استشھد بالحدیث علی عدم وجوب السؤال والتفتیش عنہ وان خشی التنجس بناء علی اصابۃ الطھارۃ ۔
بندہ ضعیف ''قوی ومہربان اور بلندو بالا ذاتِ باری اس کی بخشش فرمائے'' کہتا ہے کہ فاضل مولانا نے اس حدیث کو جیسا کہ تم دیکھتے ہو اس بات پر محمول کیا ہے جس کا ہم نے پہلے ذکر کیا ہے یعنی مطلوب، نجاست کا علم نہ ہونا ہے نہ کہ عدمِ نجاست کا علم ہونا ہے اور ہم پر لازم نہیں کہ ہم بحث کریں کیونکہ کوئی چیز اگرچہ فی الواقع ناپاک بھی ہو تو ہمارے نزدیک پاک ہوگی جب تک ہمیں اس کے نجس ہونے کا علم نہ ہو۔ اسی لئے حوض کو چھوٹے حوض پر محمول کیا گیا ہے جو نجس ہوجاتا ہے۔ اپنے زمانے کے علّامہ سیدی زین بن نجیم مصری رحمہ اللہ تعالٰی نے البحرالرائق میں اس حمل کی طرف سبقت کی ہے جب انہوں نے فرمایا: (فروع) خلاصہ میں مبسوط کی طرف نسبت کرتے ہوئے فرمایا کہ اس حوض سے وضو کرسکتا ہے جس کے گندہ ہونے کا گمان ہو لیکن اس کا یقین نہ ہو اور اس پر سوال کرنا واجب نہیں کیونکہ اس کی ضرورت دلیل نہ ہونے کی صورت میں ہوتی ہے اور اصل (طہارت) دلیل ہے جو استعمال کا اطلاق کرتی ہے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا (آخر تک) انہوں نے حدیث مذکور کو معنوی طور پر ذکر کیا اور تم جانتے ہو کہ ان کا کلام چھوٹے حوض کے بارے میں ہے جیسا کہ مخفی نہیں اور انہوں نے حدیث شریف سے شہادت پیش کی ہے کہ اس کے بارے میں پوچھنا اور تفتیش کرنا واجب نہیں اگرچہ اس کے ناپاک ہونے کا اندیشہ ہو کیونکہ طہارت اصل ہے۔
(۱؎ البحرالرائق        کتاب الطہارۃ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۸۶ )
فالعبد الضعیف تمسک بہ فی ھذا المقام تبعاً لھما لکن الحدیث ذو وجوہ وشجون فقدقیل یعنی ان الماء کثیر فلایحتمل التنجس بولوغ السباع وعلیہ درج الشیخ المحقق الدھلوی رحمہ اللّٰہ تعالٰی فی شرح المشکوٰۃ ویکدرہ سؤال عمروبن العاص رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کما اشار الیہ علی القاری وقال العارف النابلسی لوکان کثیرا مقدار العشر لما سأل لانہ لایتنجس ح الابظھور اثر النجاسۃ فیہ اجماعا وظھور الاثر یعرف بالحس فلایحتاجالی السؤال ۱؎ اھ وماکان عمرو لیخفی علیہ حکم الماء الکثیر ولا کان من الموسوسین فسؤالہ ادل دلیل علی ان الماء کان قلیلا یحمل الخبث وقدکان فی فلاۃ فکان مظنۃ ورود السباع فعن ھذا نشأ السؤال وردہ عمر بطرح الاحتمال ولیتنبہ ان نقلہ الاجماع انما ھو ناظر الی الماء الکثیر مع قطع النظر عن خصوص التفسیر لا الی مقدار العشر بالتخصیص کمالایخفی ھذا تقریر کلامہ علی حسب مرامہ۔
پس اس ضعیف بندے نے اس مقام پر ان دونوں کی اتباع میں اسی بات کو اختیار کیا لیکن حدیث کی کئی وجوہ اور مفاہیم ہیں کہا گیا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ پانی زیادہ ہے تو درندوں کے منہ ڈالنے سے ناپاک نہیں ہوگا۔حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اللہ نے مشکوٰۃ شریف کی شرح میں یہی بات درج فرمائی لیکن حضرت عمروبن عاص رضی اللہ عنہ کا سوال اس بات کو مکدر کردیتا ہے جیسا کہ اس کی طرف حضرت ملا علی قاری رحمہ اللہ نے اشارہ فرمایا۔ عارف نابلسی رحمہ اللہ نے فرمایا اگر وہ زیادہ دہ در دہ کی مقدار ہوتا تو آپ اس کی نجاست کا سوال نہ فرماتے کیونکہ اس صورت میں وہ بالاجماع اسی وقت ناپاک ہوتا ہے جب اس میں نجاست کا اثر ظاہر ہو اور اثر کا ظاہر ہونا حِس کے ساتھ پہچانا جاتا ہے پس وہ سوال کا محتاج نہ ہوگا اھ یعنی حضرت عمروبن عاص رضی اللہ تعالٰی کی یہ شان نہ تھی کہ آپ پر زیادہ پانی کا حکم مخفی رہتا اور نہ ہی آپ وسوسہ کرنے والوں میں سے تھے لہذا آپ کا سوال اس بات کی بہت بڑی دلیل ہے کہ پانی تھوڑا تھا جو ناپاک ہوجاتا ہے اور وہ جنگل میں تھا لہذا وہاں درندوں کے آنے کا گمان ہوسکتا تھا اس بنیاد پر سوال پیدا ہوا جسے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ترک احتمال کے ساتھ رَد کردیا۔ آگاہ رہنا چاہئے کہ ان کا اجماع نقل کرنا خاص تفسیر سے قطع نظر محض زیادہ پانی کی بنیاد پر تھا دس۱۰ کی مقدار سے تخصیص کرتے ہوئے نہیں جیسا کہ مخفی نہیں یہ ان کے مقصد کے مطابق ان کے کلام کی تقریر ہے۔ (ت)
 (۱؎ الحدیقۃ الندیۃ    فیماور دعن النبی صلی اللہ علیہ وسلم    مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد    ۲/۶۵۶)
اقول: ویظھر لی ان ھٰھنا مجال سؤال بوجھین۔اما اولا فلما قدالقینا علیک ان الاجماع انما ھو علی ان الکثیر لا یتنجس الا بتغییر اما تحدید الکثیر ففیہ نزاع شھیر واختلاف کبیر فی الکتب سطیر فرب کثیر عند قوم قلیل عند اٰخرین وبالعکس واذالامرکما وصفنالک فما یدریک لعل الماء کان قلیلا عند عمرو فبحث وکثیرا عند عمر فمااکتثرت والامر اظھر علی قولاصحابنا ان الکثیر فی حق کل مایستکثرہ۔
اقول: (میں کہتا ہوں۔ ت) مجھ پر یہ بات ظاہر ہوئی ہے کہ یہاں دو طرح سے سوال ہوسکتا ہے۔اوّل: جب ہم نے تمہیں بتایا کہ اجماع اس بات پر ہے کہ کثیر پانی تبدیلی کے بغیر ناپاک نہیں ہوتا لیکن کثیر کی حدبندی میں اختلاف مشہور ہے اور بہت بڑا اختلاف جو کتب میں تحریر ہے اکثر ایک چیز کسی قوم کے نزدیک کثیر ہوتی ہے اور دوسروں کے نزدیک قلیل اور کبھی اس کے خلاف ہوتا ہے اور جب معاملہ ایسا ہو جیسا کہ ہم نے بیان کیا تو تمہیں کیا خبر کہ حضرت عمروبن عاص رضی اللہ تعالٰی عنہ کے نزدیک پانی تھوڑا ہو لہذا انہوں نے بحث کی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے نزدیک زیادہ ہو لہذا انہوں نے اس کی پروانہ کی۔ ہمارے اصحاب کے قول پر بات ظاہر ہے کہ ہر ایک کے حق میں وہی کثیر ہے جس کو وہ کثیر سمجھے۔
ویترا أی لی فی الجواب عنہ ان المجتہد لیس لہ ان یحمل المجتھد الاٰخر علی تقلید نفسہ ویصدہ عن العمل بمذھبہ ولذا انکر عالم المدینۃ علی ھارون الرشید اذاستأذنہ ان یعلق المؤطا علی الکعبۃ ویحمل الناس علی مافیہ فقال لا تفعل فان اصحاب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم اختلفوا فی الفروع وتفرقوا فی البلدان وکل مصیب ابونعیم عنہ فی الحلیۃ وعلی المنصور اذ ھم ان یبعث بکتبہ الی الامصار ویأمر المسلمین ان لایتعدوھا فقال لا تفعل ھذا فان الناس قد سبقت الیھم الاقاویل وسمعوا احادیث و رووا روایات واخذ کل قوم بما سبق الیھم ودانوا بہ فدع الناس وما اختار کل اھل بلد منھم لانفسھم ابن سعد عنہ فی الطبقات ففکذا لایجبر مجتھد بل عامی علی تقلید ظن الغیر فیما یفوض الی رأی المبتلی کما نص علیہ فی البحر وغیرہ فعلی ھذا قول عمر لاتخبرنا لاینبغی حملہ علی ان الماء کثیر عندی وان کان قلیلا عندک فبرأیی فاعمل ولاتسأل بل المعنی علی ھذا ایضاً ھو المنع عن اتباع الظنون ای ان الماء وان تستقلہ لکن لست علی یقین من نجاستہ فانصرف الکلام الی مااردنا۔
اس کا جواب مجھ پر یوں ظاہر ہوا کہ کسی مجتہد کو حق نہیں پہنچتا کہ کسی دوسرے مجتہد کو اپنی تقلید کی ترغیب دے اور اسے اس کے اپنے مذہب پر عمل کرنے سے روکے یہی وجہ ہے کہ مدینہ کے عالم نے ہارون الرشید کی بات ماننے سے انکار کردیا جب اس نے مؤطا کو کعبۃ اللہ کی دیوار پر لٹکانے اور لوگوں کو اس پر عمل کی ترغیب دینے کی اجازت طلب کی۔ عالم نے فرمایا: ایسا نہ کرو رسول اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے صحابہ نے فروع میں اختلاف کیا اور مختلف شہروں میں پھیل گئے اور ہر ایک حق پر ہے۔ یہ بات حلیہ میں ابونعیم سے مروی ہے۔ اورجب منصور نے مختلف شہروں میں انکی کتابیں بھیجنے اور مسلمانوں کو حکم دینے کا ارادہ کیا کہ وہ ان سے تجاوز نہ کریں، تو اس کا انکار کرتے ہوئے عالمِ مدینہ نے فرمایا: ''ایسا مت کرو لوگوں تک باتیں پہنچ چکی ہیں انہوں نے احادیث سُنی ہیں روایات نقل کی ہیں اور جس قوم تک جو پہنچا انہوں نے اسے اختیار کرکے اس پر عمل پیرا ہوگئے پس لوگوں کو اسی چیز پر چھوڑ دیجئے جو ہر شہر والوں نے اپنے لئے اختیار کرلی''۔ اسے ابنِ سعد نے طبقات میں نقل کیا۔ اسی طرح کسی مجتہد اور کسی عامی کو بھی اس چیز میں جو مبتلا کی رائے پر چھوڑی گئی ہے دوسرے کے گمان کی تقلید پر مجبور نہ کیا جائے جیسا کہ بحرالرائق وغیرہ میں بیان کیا ہے۔ اس بنیاد پرحضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے قول ''لاتخبرنا'' (ہمیں خبر نہ دینا) کو اس بات پر محمول کرنا مناسب نہیں کہ میرے نزدیک پانی زیادہ ہے اگر تمہارے نزدیک تھوڑا بھی ہو تب بھی تم میری رائے پر عمل کرو اور سوال نہ کرو، بلکہ اس بنیاد پر بھی مفہوم یہ ہوگا کہ گمان کی اتباع سے روکا گیا مطلب یہ کہ اگرچہ تم پانی کو تھوڑا سمجھتے ہو لیکن تمہیں اس کی نجاست کا یقین نہیں پس ان کے کلام کو اس کی طرف پھیرا جائے گا جو ہماری مراد ہے۔
Flag Counter