Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۴(کتاب الطہارۃ)
101 - 2323
اقول:  وھذا وانکان فی مسئلۃ الجوائز فلیس الحرام للغصب بدون الحرام للنجاسۃ فی حکم الاجتناب کمالایخفی۔
اقول: یہ اگرچہ تحائف کے مسئلہ میں ہے پس اجتناب کے حکم میں غصب کی صورت میں حرام ہونے والا نجاست کی بنیاد پر حرام ہونے والے سے کم نہیں ہے جیسا کہ مخفی نہیں (ت)

بالجملہ ایسی صورت میں حکمِ کُلی یہی ہے کہ نوع کی نسبت غیر کلی یقین منع کلی کا موجب نہیں بلکہ خصوص افراد کا لحاظ کریں گے واللہ تعالٰی اعلم۔
مقدمہ تاسعہ

جب بازار میں حلال وحرام مطلقاً یا کسی جنس خاص میں مختلط ہوں اور کوئی ممیز وعلامت فارقہ نہ ملے تو شریعت مطہرہ خریداری سے اجتناب کا حکم نہیں دیتی کہ آخر ان میں حلال بھی ہے تو ہر شَے میں احتمالِ حلت قائم اور رخصت واباحت کو اسی قدر کافی، یہ دعوٰی بھی ہماری تقریرات سابقہ سے واضح اور خود ملاذ مذہب ابوعبداللہ شیبانی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے مبسوط میں کہ کتب ظاہر الروایۃ سے ہے اُس پر نص فرمایا۔
فی الاشباہ عن الاصل اذاختلط الحلال بالحرام فی البلد تقوم دلالۃ علی انہ من الحرام ۱؎ اھ۔
اشباہ میں اصل (مبسوط) سے نقل کیا گیا ہے کہ جب شہر میں حلال وحرام مخلوط ہوجائے تو اس کا خریدنا اور لینا جائز ہے مگر یہ کہ اس کے حرام ہونے پر کوئی دلالت قائم ہوجائے اھ۔
( ۱؎ الاشباہ والنظائر    القاعدۃ الثانیۃ من الفن الاول    مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم اسلامیہ کراچی، ۱/۱۴۸)
وفی الحمویۃ کون الغالب فی السوق الحرام لایستلزم کون المشتری حراما لجواز کونہ من الحلال المغلوب والاصل الحل ۲؎ اھ۔
 (۲؎ حمویۃ المعروف غمزالعیون مع الاشباہ    مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم اسلامیہ کراچی     ص۱۴۸)
اور حمویہ میں ہے بازار میں حرام کی بکثرت پائے جانے سے لازم نہیں آتا کہ جو کچھ خریدا ہے وہ بھی حرام ہو کیونکہ ہوسکتا ہے کہ یہ چیز حلال مغلوب سے ہو اور اصل بات حلّت ہے اھ (ت)

تنبیہ اقول: وباللّٰہ التوفیق (اور اللہ تعالٰی کی توفیق سے میں کہتا ہوں۔ ت) یہ احتمال حل پر عمل کا قاعدہ نظر بفروع فقہیہ اُس صورت سے مخصوص ہے کہ وہ سب اشیا جن میں وجود حرام کا تیقن اور اُن میں سے ہر فرد کے تناول میں تناول حرام کا احتمال ہے اس تناول کرنے والے کی ملک میں نہ ہوں ورنہ اُن میں سے کسی کا استعمال جائز نہ ہوگا مگر تین صورتوں سے ایک یہ کہ وجہ حرمت جب صالح ازالہ ہو تو اُن میں کسی سے اُسے زائل کردیا جائے کہ اب بقائے مانع میں شک ہوگیا اور یقین مجہول المحل جس کا محل خاص بالتعین معلوم نہ ہو ایسے شک سے زائل ہوجاتا ہے مثلاً چادر کا ایک گوشہ یقینا ناپاک تھا اور تعیےن یاد نہ رہے کوئی سا کونا دھولے پاکی کا حکم دیں گے عــہ۔
عــہ: تنبیہ بعد کو اضافہ فرمائی تھی مگر نامکمل رہی ۱۲ ح (م)
مقدمہ عاشرہ: 

حضرت حق جل وعلا نے ہمیں یہ تکلیف نہ دی کہ ایسی ہی چیز کو استعمال کریں جو واقع ونفس الامر میں طاہر وحلال ہو کہ اس کا علم ہمارے حیطہ قدرت سے ورا۔
قال اللّٰہ تعالٰی لایکلف اللّٰہ نفسا الاوسعھا ۱؎۔
ارشادِ باری تعالٰی ہے ''اللہ تعالٰی کسی نفس کو اسکی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا''۔ (ت)
 (۱؎ القرآن    ۲/۲۸۶  )
نہ یہ تکلیف فرمائی کہ صرف وہی شے برتیں جسے ہم اپنے علم ویقین کی رُو سے طیب وطاہر جانتے ہیں کہ اس میں بھی حرج عظیم اور حرج مدفوع بالنص۔
قال تعالٰی ماجعل علیکم فی الدین من حرج ۲؎ وقال تعالٰی یرید اللّٰہ بکم الیسر ولایرید بکم العسر ۳؎۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا: ''دین کے سلسلے میں تمہیں کسی حرج میں نہییں ڈالا''۔ اور فرمایا: ''اللہ تعالٰی تمہارے لئے آسانی چاہتا ہے اور تنگی نہیں چاہتا''۔ (ت)
 ( ۲؎ القرآن    ۲۲/۷۸        ۳؎ القرآن    ۲/۱۸۵)
اے عزیز! یہ دین بحمداللہ آسانی وسماحت کے ساتھ آیا جو اسے اس کے طور پر لے گا اس کے لئے ہمیشہ رفق ونرمی ہے اور جو تعمق وتشدد کو راہ دے گا یہ دین اُس کے لئے سخت ہوتا جائے گا۔ یہاں تک کہ وہی تھک رہے گا اور اپنی سخت گیری کی آپ ندامت اٹھائے گا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان الدین یسر ولن یشاد الدین احد الاغلبہ فسددوا وقاربوا وابشروا ۴؎ الحدیث اخرجہ البخاری والنسائی عن ابی ھریرۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ وصدرہ عند البھیقی فی شعب الایمان بلفظ الدین یسر ولن یغالب الدین احد الاغلبہ ۵؎
بے شک دین آسان ہے اور ہرگز کوئی شخص دین میں سختی نہ کرے گا مگر وہ اس پر غالب آجائے گا پس ٹھیک ٹھیک چلو، قریب ہوجاؤ اور خوشخبری دو، (الحدیث) اسے بخاری اور نسائی نے حضرت ابُو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا، اور بہیقی شعب الایمان میں ان الفاظ کے ساتھ لائے ہیں ''دین آسان ہے اور کوئی شخص دین پر غالب آنے کی کوشش نہیں کرتا مگر وہ (دین) اس پر غالب آجاتا ہے''
 (۴؎ صحیح البخاری     باب الدین یسر      مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۱۰)

(۵؎ شعب الایمان     القصد فی العبادۃ     حدیث۳۸۸۱ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت ۳/۴۰۱)
واخرج احمد والنسائی وابن ماجۃ والحاکم باسناد صحیح عن ابن عباس رضی اللّٰہ تعالٰی عن النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم ایاکم والغلوفی الدین فانما ھلک من کان قبلکم بالغلوفی الدین ۱؎۔
امام احمد، نسائی، ابن ماجہ اور حاکم نے صحیح سند کے ساتھ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ''دین میں زیادتی کرنے سے بچو تم سے پہلے لوگ دین میں زیادتی کی وجہ سے ہلاک ہوئے'' ۔
(۱؎ سنن نسائی        باب التقاط الحصی    مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی    ۲/۴۸)
واخرج احمد برجال الصحیح والبھیقی فی الشعب وابن سعد فی الطبقات عن ابن الادرع رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم انکم لن تدرکوا ھذا الامر بالمغالبۃ ۲؎۔
(۲؎ مسند اما م احمد    حدیث ابن الادرع    مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت    ۴/۳۳۷)
امام احمد نے صحیح روایوں کے ساتھ، بہیقی نے شعب الایمان میں اور ابن سعد نے طبقات میں حضرت ابن الادرع رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ''تم اس دین کو مغالبہ کے ساتھ ہرگز نہیں پاسکتے''۔ (یعنی جو حکم ملے اس پر عمل کرو خود مباح امور کو واجب قرار نہ دو) ۔
واخرج احمد فی المسند والبخاری فی الادب المفرد والطبرانی فی الکبیر بسند حسن عن ابن عباس رضی اللّٰہ تعالٰی عنھما عن النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم احب الدین الی اللّٰہ الحنیفۃ السمحۃ ۳؎ واخرج ایضا ھؤلاء فیھا بسند جید عن محجن بن ادرع الاسلمی والطبرانی ایضا فی الکبیر عن عمران بن حصین وفی الاوسط وابن عدی والضیاء وابن عبدالبر فی العلم عن انس رضی اللّٰہ تعالٰی عنھم عن النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم خیر دینکم الیسرہ ۴؎
امام احمد نے اپنی مسند میں امام بخاری نے الادب المفرو میں اور طبرانی نے معجم کبیر میں سند حسن کے ساتھ حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''اللہ تعالٰی کے ہاں پسندیدہ دین کامل وابستگی اور نرمی اختیار کرنا ہے'' نیز انہوں نے اپنی کتب میں عمدہ سند کے ساتھ حضرت محجن بن ادر ع اسلمی سے اور طبرانی نے کبیر میں عمران بن حصین سے اور اوسط میں نیز ابن عدی، ضیاء اور ابن عبدالبر نے علم کے بیان میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''تمہارا بہترین دین وہ ہے جو سب سے زیادہ آسان ہو''۔
 (۳؎ بخاری شریف    باب الدین یسر    مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی        ۱/۱۰)

(۴؎ مسند امام احمد بن حنبل    حدیث محجن بن الادرع     مطبوعہ دارالفکر بیروت        ۴/۳۳۸)
واخرج ابوالقاسم بن بشران فی امالیہ عن امیر المؤمنین عمر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم ایاکم والتعمق فی الدین فان اللّٰہ قدجعلہ سھلا ۱؎ الحدیث۔
ابو القاسم بن بشران نے اپنی امالی میں امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ سے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ نے فرمایا: دین کی گہرائی (باریکیوں) میں جانے سے پرہیز کرو اللہ تعالٰی نے اسے آسان بنایا ہے۔ الحدیث (ت)
(۱؎ الجامع الصغیر مع فیض القدیر    حدیث ۲۹۳۳    مطبوعہ دارالمعرفت بیروت        ۳/۱۳۴)
بلکہ صرف اس قدر حکم ہے کہ وہ چیز تصرف میں لائیں جو اپنی اصل میں حلال وطیب ہو اور اُسے مانع ونجاست کا عارض ہونا ہمارے علم میں نہ ہو لہذا جب تک خاص اس شَے میں جسے استعمال کرنا چاہتا ہے کوئی مظنہ قویہ حظر وممانعت کا نہ پایا جائے تفتیش وتحقیقات کی بھی حاجت نہیں مسلمان کو رواکہ اصل حل وطہارت پر عمل کرے اور یمکن ویحتمل وشاید ولعل کو جگہ نہ دے۔
فی الحدیقۃ لاحرمۃ الامع العلم لان الاصل الحل  ولایلزمہ السؤال عن شیئ حتی یطلع علی حرمتہ ویتحقق بھا فیحرم  علیہ۲؎ ح اھ ملخصا وفیھا عن جامع الفتاوی لایلزم السؤال عن طھارۃ الحوض مالم یغلب علی ظنہ نجاستہ وبمجرد الظن لایمنع من التوضئ لان الاصل فی الاشیاء الطھارۃ ۳؎ اھ
حدیقہ میں ہے علم کے بغیر حُرمت نہیں کیونکہ اصل حلّت ہے اور انسان پر لازم نہیں کہ وہ کسی چیز کے بارے میں سوال کرے حتی کہ اس کی حرمت پر مطلع ہوجائے اور یوں وہ اس کی تحقیق کرکے اب اپنے اوپر حرام کرلے، حدیقہ ملخصاً اور اسی میں جامع الفتاوٰی سے منقول ہے جب تک اس کو نجاست کا غالب گمان نہ ہوجائے حوض کی طہارت کے بارے میں سوال نہ کرے اور محض گمان کی بنیاد پر وضو کرنے سے نہ روکے کیونکہ اشیاء میں اصل طہارت ہے۔ (ت)
بلکہ خود سیدالمرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے مروی جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی مسلمان کے یہاں جائے اور وہ اسے اپنے کھانے میں سے کھلائے تو کھالے اور کچھ نہ پُوچھے اور اپنے پینے کی چیز سے پلائے تو پی لے اور کچھ دریافت نہ کرے۔
اخرج الحاکم فی المستدرک والطبرانی فی الاوسط والبھیقی فی الشعب باسناد لابأس بہ عن ابی ھریرۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم اذادخل احدکم علی اخیہ المسلم فاطعمہ من طعامہ فلیأکل ولایسأل عنہ وان سقاہ من شرابہ فلیشرب ولایسأل عنہ ۱؎۔
حاکم نے مستدرک، طبرانی نے اوسط اور بہیقی نے شعب الایمان میں ایسی سند کے ساتھ جس میں کوئی حرج نہیں، حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیاکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے مسلمان بھائی کے پاس جائے اور وہ اسے اپنے کھانے سے کھلائے تو کھالے اور اس کے بارے میں سوال نہ کرے اور اگر وہ اپنے مشروب سے پلائے تو پی لے اور اس کے بارے میں کچھ نہ پُوچھے۔ (ت)
 (۱؎ شعب الایمان    باب فی المطاعم حدیث ۵۸۰۱    مطبوعہ دار الکتب علمیہ بیروت لبنان    ۵/۶۷)

(المستدرک        کتاب الاطعمہ        مطبوعہ دارالفکر بیروت        ۴/۱۲۶)
امیر المومنین عـــہ۱ عمررضی اللہ عنہ ایک حوض پر گزرے عمروبن عاص رضی اللہ تعالٰی عنہ ساتھ تھے حوض والے سے پُوچھنے لگے کیا تیرے حوض میں درندے بھی پانی پیتے ہیں؟ امیر المومنین نے فرمایا: اے حوض والے! ہمیں نہ بتا،
عـــہ۱ : ویروی مثل ذلک عن النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم من حدیث ابن عمر رضی اللّٰہ تعالٰی عنھما قال خرج رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم فی بعض اسفارہ فسار لیلا فمروا علی رجل عند مقراۃلہ عـــہ۲  فقال عمر یا صاحب المقراۃ اولغت السباع اللیلۃ فی مقراتک فقال صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم یا صاحب المقراۃ لاتخبرہ ھذا مکلف لھا 

احملت فی بطونھا ولنا ما بقی شراب وطھور ۲؂     ۱۲منہ۔ اسی طرح کی نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے وہ حدیث مروی ہے جو ابن عمر نے روایت کی ہے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اپنے بعض سفروں میں تشریف لے گئے ایک دفعہ رات کو سفر شروع کیا تو ایک ایسے شخص پر گزر ہوا جس کے پاس اس کا اپنا تالاب تھا تو حضرت عمر نے کہا اے تالاب والے! کیا رات کو تیرے تالاب سے درندوں نے پانی پیا ہے؟ سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے تالاب والے! اسے اس بات کی خبر نہ دو یہ مکلف ہے جو ان کے پیٹوں میں ہے وہ ان کے لئے ہے اور باقی ہے وہ ہمارے پینے اور طہارت کے لئے ہے۔ (ت)

عـــہ ۲ : المقراۃ بالکسر مجتمع الماء ۱۲ (م) ''المقراۃ'' کسرہ کے ساتھ وہ جگہ جہاں بارش کا پانی جمع ہو۔ (ت)
 (۲؂  سنن دار قطنی 	کتاب الطھارۃ ، ۱/ ۲۶ )
Flag Counter