مقدمہ ثامنہ:
کسی شے کی نوع وصنف میں بوجہ ملاقات نجس یا اختلاط حرام نجاست وحرمت کا تیقن اُس کے ہر فرد سے منع واحتراز کا موجب اُسی وقت ہوسکتا ہے جب معلوم ومحقق ہوکر یہ ملاقات واختلاط بروجہ عموم وشمول ہے مثلاً جس شے کی نسبت ثابت ہوکہ اس میں شراب یا شحم خنزیر پڑتی ہے اور بنانے والوں کو اس کا التزام ہے تو اس کا استعمال کلیۃً ناجائز وحرام ہے اور وہاں اس احتمال کو گنجائش نہ دیں گے کہ ہم نے یہ فرد خاص مثلاً خود بنتے ہوئے نہ دیکھی نہ خاص اس کی نسبت معتبر خبر پائی ممکن کہ اس میں نہ ڈالی گئی ہوکہ جب علی العموم التزام معلوم تو یہ احتمال اُسی قبیل سے ہے جسے قلب قابل قبول والتفات نہیں جانتا اور بالکل متضائل ومضمحل مانتا ہے اور ہم پہلے کہہ چکے کہ ایسا احتمال کچھ کارآمد نہیں نہ وہ ظن غالب کو مساوات یقین سے نازل کرے تو اصل طہارت کا یقین اس غلبہ ظن سے ذاہب وزائل ہوگیا مگر یہ کہ اس فرد خاص کی محفوظی کسی ایسے ہی یقین سے واضح ہوجائے تو البتہ اس کے جواز کا حکم دیا جائے گا ولہذا علماء نے فرمایا دیبائے فارسی ناپاک اور اُس سے نماز محض ناجائز کہ وہ اس کی چمک بھڑک زیادہ کرنے کو پیشاب کا خلط کرتے ہیں اور پھر دھوتے یوں نہیں کہ رنگ کٹ جائے گا۔
دُرمختار میں ہے کہ اہل فارس کا دیباج (ریشمی کپڑا) ناپاک ہے کیونکہ وہ اس میں چمک پیدا کرنے کیلئے پیشاب استعمال کرتے ہیں اھ،
(۱؎ درمختار فصل الاستنجاء مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱/۵۷)
وفی الحلیۃ عن البدائع قالوا فی الدیباج الذی ینسجہ اھل فارس لا تجوز الصلاۃ فیہ لانھم یستعملون فیہ البول عند النسج ویزعمون انہ یزید فی تزینہ ثم لایغسلونہ فان الغسل یفسدہ ۱؎ الخ
اور حلیہ میں بدائع سے منقول ہے انہوں نے کہا اہل فارس جو دیباج بُنتے ہیں اُس میں نماز جائز نہیں کیونکہ وہ بُنتے وقت اُس میں پیشاب استعمال کرتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ اس سے اس کی زینت میں اضافہ ہوتا ہے پھر وہ اسے دھوتے نہیں کیونکہ دھونے سے وہ خراب ہوجاتا ہے الخ (ت)
(۱؎ بدائع الصنائع فصل فی بیان مقدار مایصیر بہ المحل نجساً الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۸۱)
اور اگر ایسا نہیں بلکہ صرف اتنا محقق کہ ایسا بھی ہوتا ہے نہ کہ خاص ناپاک وحرام میں کوئی خصوصیت ہے جس کے باعث قصداً اس کا التزام کرتے ہیں تو اس بنا پر ہرگز ہرگز حکم تحریم وتنجےیس علی الاطلاق روا نہیں اور یہاں وہ احتمالات قطعاً مسموع ہوں گے کہ جب عموم نہیں تو جس فرد کا ہم استعمال چاہتے ہیں ممکن کہ افراد محفوظ سے ہو اور اصل متیقن طہارت وحُلّت تو شکوک وظنون ناقابلِ عبرت۔ دیکھو کیا ہم کو مطعوم وملبوس وظروف کفار کی نسبت یقینِ کامل نہیں کہ بے شُبہہ اُ ن میں ناپاک بھی ہیں پھر اس یقین نے کیا کام دیا اور اُن اشیاء کا استعمال مطلق حرام کیوں نہ ہُوا تو وجہ وہی ہے کہ اُن کے طعام ولباس وظروف پر عموم نجاست معلوم نہیں اور جب اُن میں طاہر بھی ہیں اگرچہ کم ہوں تو کیا معلوم کہ جس فرد کا ہم استعمال چاہتے ہیں اُن میں سے نہیں۔
احیاء العلوم میں ہے وہ غالب چھوڑ دیا جائے جو کسی ایسی علامت کی طرف منسوب نہ ہو جس کا اس معین چیز کے ساتھ تعلق ہے جس میں غور کیا جارہا ہے اھ (ت)
(۲؎ احیاء علوم الدین المثار الثانی للشبہۃ مطبوعہ المشہد الحسینی قاہرہ ۲/۱۰۶)
واضح تر سُنیے مجمع الفتاوٰی وغیرہ میں تصریح کی کہ ہمارے ملک میں جو کھالیں پکائی جاتی ہیں نہ اُن کے گلوں سے خُون دھوئیں نہ پکانے میں نجاستوں سے بچیں پھر ویسے ہی ناپاک زمینوں پر ڈال دیتے ہیں اور بعد کو دھوتے بھی نہیں (دیکھو نوع کی نسبت کس درجہ وضاحت وصراحت کے ساتھ وقوع نجاست بیان فرمایا) بااینہمہ حکم ناطق دیا کہ وہ بے دغدغہ پاک ہیں ان کے خشک وتر سے موزے بناؤ کتابوں کی جلدیں بناؤ پانی پینے کو مشک ڈول بناؤ کچھ مضائقہ نہیں۔
فی الطریقۃ عنہ وفیھا فی الغنیۃ وغیرھا عن القنیۃ الجلود التی تدبغ فی بلادنا ولایغسل مذبحھا ولا تتوقی النجاساتفی دبغھا ویلقونھا علی الارض النجسۃ ولایغلسونھا بعد تمام الدبغ فھی طاھرۃ یجوز اتخاذ الخفاف منھا وغلاف الکتب والقرب والدلاء رطبا ویابسا ۱؎ اھ
الطریقۃ المحمدیۃ میں اس (مجموعۃ الفتاوٰی) سے منقول ہے اور اسی میں ہے کہ غنیہ وغیرہ میں قنیہ سے منقول ہے کہ ہمارے شہروں جن چمڑوں کو دباغتدی جاتی ہے اور ان کے مذبح کو دھویا نہیں جاتا اور نہ ہی دباغت کے دوران نجاستوں سے اجتناب کیا جاتا ہے بلکہ وہ اسے ناپاک زمین پر ڈالتے ہیں اور دباغت مکمل ہونے کے بعد بھی نہیں دھوتے تو وہ پاک ہیں ان سے جُوتا بنانا، کتابوں کی جلدیں مشک اور ڈول بنانا جائز ہے چاہے تر ہوں یا خشک اھ (ت)
(۱؎ الطریقۃ المحمدیۃ مع الحدیقۃ الندیۃ الصنف الثانی من الصنفین الخ مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲/۶۸۲ )
س ایسی صورت میں ائمہ نے یہی حکم عطا فرمایا کہ ہر فرد خاص کو ملاحظہ کریں گے اور نوع کی نسبت جو اجمالی یقین ہو اسے تمام افراد میںمساوی نہ مانیں گے مثلاً کفار خصوصاً اہل حرب کو ہم یقینا جانتے ہیں کہ انہیں پروائے نجاسات نہیں اور بیشک وہ جیسی چیز پاتے ہیں استعمال میں لاتے ہیں پھر وہ پوستین کہ دار الحرب سے پک کر آئے علما فرماتے ہیں اسے دیکھا چاہے کہ اس کا پکنا نجس چیز سے تحقیق ہو تو بے دھوئے نماز ناجائز اور طاہر سے ثابت ہو تو قطعاً جائز اور شک رہے تو دھونا افضل نہ کہ استعمال گناہ وممنوع ٹھہرے۔
فی الدرالمختار مایخرج من دارالحرب کسنجاب ان علم دبغہ بطاھر فطاھر اوبنجس فنجس وان شک فغسلہ افضل اھ ومثلہ فی المنیۃ وغیرھا ۲؎۔
درمختار میں ہے جو کچھ دار الحرب سے نکلے جیسے سنجاب اگر معہوم ہوکہ پاک چیز کے ساتھ اس کی دباغت ہوئی ہے تو پاک ہے اور ناپاک کے ساتھ ہوئی ہے تو ناپاک ہے اگر شک ہو تو دھونا افضل ہے اھ منیہ وغیرہ میں اس کی مثل ہے۔ (ت)
(۲؎ دُرمختار کتاب الطہارۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱/۳۸)
یونہی خود منقح مذہب سیدنا امام محمد رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں بچّہ جب پانی میں اپنا ہاتھ یا پاؤں ڈال دے تو خاص اُس بچّہ کو رکھ پاؤں دیکھیں اگر ڈالتے وقت نجاست ثابت ہو تو ناپاک اور پاکی ظاہر ہو تو طاہر اور کچھ نہ کھلے تو صرف مستحب ہے کہ اور پانی استعمال کریں اور اگر اسی سے وضو کرلے نماز پڑھ لے تاہم بے شبہہ جائز۔
فی سیرۃ الاحمدیۃ للعلامۃ محمد الرومی احمدی عن التاترخانیۃ عن اصل الامام محمد رحمہ اللّٰہ تعالٰی الصبی اذادخل یدہ فی کوز ماء اورجلہ فان علم ان یدہ طاھرۃبیقین (بان غسلھا لہ اوغسلت عندہ اھ نابلسی) یجوز التوضی بھٰذا الماء وان علم ان یدہ نجسۃ بیقین (بان رأی علیھا عین النجاسۃ اواثرھا اھ حدیقۃ) لایجوز التوضی بہ وان کان لایعلم انہ طاھرا ونجس فالمستحب ان یتوضأ بغیرہ لان الصبی لایتوقی عن النجاسات عادۃ ومع ھذا لوتوضأبہ اجزأہ ۱؎ اھ۔
محمد رومی آفندی کی کتاب سیرت احمدیہ میں تتارخانیہ کے حوالے سے امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی کی اصل (مبسوط) سے منقول ہے کہ جب بچّہ اپنا ہاتھ یا پاؤں پانی کے کُوزے (لوٹے وغیرہ) میں ڈالے اگر یقین کے ساتھ معلوم ہوا کہ اس کا ہاتھ پاک تھا (یعنی اس نے خود اسے دھویا ےیا اس کے سامنے دھویا گیا اھ نابلسی) تو اس پانی کے ساتھ وضو جائز ہے اگر یقین کے ساتھ معلوم ہوکہ وہ ناپاک تھا (مثلاً اس پر عینِ نجاست یا اس کا نشان دیکھا اھ حدیقہ) تو اس سے وضو جائز نہیں اور اگر معلوم نہ ہوکہ وہ پاک ہے یا ناپاک، تو مستحب ہے کہ اس کے غیر سے وضو کرے کیونکہ بچّہ عام طور پر نجاستوں سے پرہیز نہیں کرتا اس کے باوجود اگر اس کے ساتھ وضو کرے تو کافی ہوگا اھ۔ (ت)
خاص ضابطہ کی تصریح لیجئے سیدنا امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی فرماتے ہیں: بہ نأخذ مالم نعرف شیأ حراما بعینہ وھو قول ابی حنیفۃ واصحابہ ۲؎ اھ نقلہ الامام الاجل ظہیر الدین فی فتاواہ وغیرہ فی غیرھا۔
ہم اسی کو اختیار کریں گے جب تک ہمیں بعینہ کسی چیز کے حرام ہونے کا علم نہ ہوجائے امام ابوحنیفہ اور آپ کے اصحاب (شاگردوں) رحمہم اللہ کا یہی قول ہے اھ اسے امام اجل ظہیر الدین نے اپنے فتاوٰی میں اور دوسروں نے اپنی کتب میں ذکر کیا ہے۔ (ت)
حدیقہ میں ہے: الحرمۃ بالیقین والعلم وھو لم یتیقن ولم یعلم ان عین مااخذہ حرام ولایکلف اللّٰہ نفسا الاوسعھا ۳؎ اھ
حرمت، یقین اور علم کے ساتھ ہوتی ہے اور وہ نہیں جانتا اور نہ اسے یقین ہے کہ جو کچھ اس نے لیا ہے وہ بعینہٖ حرام ہے اور اللہ تعالٰی کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا اھ (ت)
(۳؎ الحدیقۃ الندیۃ الفصل الثانی من الفصول الثلاثہ فی بیان حکم التورع الخ مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد۲/۷۲۱)