Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۴(کتاب الطہارۃ)
10 - 2323
مسئلہ ۷ : شرح(۱) تعریف رضوی کے افادہ پنجم میں گزرا کہ یہاں اعتبار واقع کا ہے اگر اسے ظن غالب تھا کہ نہ دے گا (یا شک تھا) اور اس نے تیمم سے پڑھ لی بعدہ، اس نے پانی دے دیا (بطور خو دخواہ) اس کے مانگے سے تو نماز (عـہ۱)نہ ہوئی اعادہ کرے اور اگر ظن غالب تھا کہ دے دے گا اور (خلافِ حکم کرکے) اس نے نہ مانگا اور تیمم سے پڑھ لی بعد کو مانگا اور اس نے نہ دیا تو نماز(عـہ۲) ہوگئی شرح وقایہ کی عبارت وہیں گزری اور دیگر عبارات قوانین میں آئیں گی اِن شاء اللہ تعالٰی۔ ہاں اگر اس نے نہ اول مانگا نہ بعد کو کہ منع وعطا کا حال کھلتا۔
 (عـہ۱) ولد عزیز مولوی مصطفی رضا خان سلّمہ ذوالجلال ورقاہ الی مدارج الکمال نے یہاں ایک تقییدد حسن کا مشورہ دیا کہ صاحب آب کے پاس اس وقت کے بعد نیا پانی اور نہ آگیا ہو ورنہ آبِ کثیرمیں سے دے دینا اُس ظن وشک کو کہ قلتِ آب کی حالت میں تھا دفع نہ کرے گا وکان ذلک عند تبییض الرسالۃ للطبع فی ۱۶ من المحرم الحرام ۱۳۳۶؁ وللّٰہ الحمد (اور یہ مشورہ طباعت کیلئے رسالے کی تیاری کے وقت ۱۳۳۶ھ ماہ محرم کی ۱۶ تاریخ کو دیا اور حمداللہ تعالٰی ہی کیلئے ہے۔ ت)
 اقول:  یہ قید ضرور قابلِ لحاظ ہے اگرچہ کتابوں میں نظر سے نہ گزری کہ علما نے اُسی حالتِ موجودہ پر کلام فرمایا اور یہاں یوں تفصیل مناسب کہ اگر وہ(۲) ظنِ منع بر بنائے قلت آب تھا تو بعد کثرت دینااس کا تخطیہ نہ کرے گا اور اگر اور وجوہ سے تھا مثلاً صاحبِ آب سے رنجش یا ناشناسائی یا اس کی نسبت گمانِ بخل تو ضرور اس گمان کی غلطی ظاہر ہوگی کمالایخفی واللّٰہ تعالٰی اعلم فلیراجع ولیحرر ۱۲ منہ (جیسا کہ مخفی نہیں اور اللہ تعالٰی خوب جانتا ہے تو اس کی مراجعت اور وضاحت کرلی جائے۔ ت)	(م)
 (عـہ۲)آیا اسی مشورہ ولد عزیز کے قیاس پر یہاں بھی کہا جائے کہ اگر یہ نہ دینااس بنا پر ہوکہ اتنی دیرمیں پانی اس کے پاس خرچ ہوکر کم رہ گیا تو یہ منع اس ظنِّ عطا کی خطا نہ بتائے گا۔
اقول : یہاں۲ صورتیں ہیں اگر یہ خرچ ہوجانا اس طور پر ہوکہ اس سے پہلے کسی نے مانگا اسے دے دیا اب کم رہ گیا منع کردیاتو بےشک اس ظن کی خطا ثابت نہ ہوگی ظاہراً اعادہ نماز چاہئے اور اگر خود اس نے اپنی حاجت میں خرچ کیا تو اب نہ دینااُس ظن کا رَد کرے گا کہ اتنا تو اُسے خود درکار تھا اور جو باقی رہا اُس سے انکار ہے فلیراجع ولیحرر ۱۲ منہ غفرلہ (تو اس کی مراجعت اور وضاحت کرلی جائے۔ ت)             (م)

اقول:  نہ ظن عطا کی صورت میں اُس نے پانی خرچ کرلیا یا پھینک دیانہ شک یا ظن منع کی حالت میں اس نے بعد نماز بے انکار سابق دے دیا تو البتہ اس کے ظن کا اعتبار ہے اگر ظن عطا تھا نماز نہ ہوئی ورنہ ہوگئی،
لانہ بظن العطاء کان قادرا فی الظاھر علی الماء ولم یتبین غلط ھذا الظن فیعمل بہ لفوت درک الحقیقۃ۔
اس لئے کہ وہ ظنِّ عطا کے باعث پانی پر بظاہر قادر تھا اور اس ظن کی غلطی واضح نہ ہوئی تو اس کو اسی پر عمل کرنا ہے کیوں کہ حقیقت تک رسائی فوت ہوگئی۔ (ت)
حلیہ میں ہے: انما یکون الملحوظ ظنالیس غیرعند عدم الاستکشاف لہ فاذا وجد وظھر الامر بخلاف کان الحال علی ماظھر ۱؎ اھ
ظن ہی ملحوظ ہوتا ہے کچھ اور نہیں جبکہ اس ظن کی حقیقت منکشف نہ کرلی ہو۔ پھر جب تحقیق ہوجائے اور معاملہ اس ظن کے برخلاف ظاہر ہوتو جو ظاہر ہو اسی کے مطابق حال ہوگا اھ
(۱؎ حلیہ)
واستشھد لہ بعبارات البدائع والکافی ثم اطال رحمہ اللّٰہ تعالٰی بابداء سؤال ودفعہ حاصل السؤال قدیکون ظنہ مصیبا ویتبدل رأی صاحب الماء فلایظھر خطاء ظنہ وحاصل الجواب ان الاصل عدم التبدل والظن ربما یخطئ واستشھد فی السؤال بنصوص فی المذھب انہ ان کان بحضرتہ من یسألہ عن الماء فسألہ فلم یخبرہ فتیمم وصلی ثم اخبرہ بہ لااعادۃ علیہ۲؂اھ
اس پر انہوں نے بدائع اور کافی کی عبارتوں سے شہادت پیش کی ہے پھر ایک سوال و جواب لاکر طویل گفتگو کی ہے۔ سوال کا حاصل یہ ہے کہ کبھی ایسا ہوگا کہ اس کا گمان درست ہو اور پانی والے کی رائے بدل جائے تو اس کے گمان کی خطا ظاہر نہ ہوگی جواب کا حاصل یہ ہے کہ اصل نہ بدلنا ہے اور ظن میں کبھی خطا بھی ہوتی ہے۔ سوال میں کچھ نصوصِ مذہب سے استشہاد کیا ہے کہ ''اگر اس کے پاس کوئی ایسا ہو جس سے پانی کے بارے میں دریافت کرسکے تو اس سے دریافت کیا، اس نے نہ بتایا، اِس نے تیمم کیا اور نماز نہ پڑھ لی، پھر اس نے بتایا تو اِس پر اعادہ نہیں'' اھ
 (۲؎ حلیہ )
ای فلم یکن بالاخبار اللاحق عالما فی السابق حین سألہ فلم یخبرہ فکذا الایکون بالعطاء اللاحق قادرا فی السابق حین ظن منعہ وافاد الجواب انہ فعل مافی وسعہ قبل الفعل فیقع جائزادفعا للحرج فلاینقلب غیرجائز قال وبعبارۃ اخری انہ اذا ابی تأکد العجز فلاتعتبر القدرۃ بعد ذلک ذکرہ فی الولوالجیۃ ولانہ متعنت ولاقول للمتعنت بخلاف مانحن فیہ فانہ لم یستفرغ الوسع بالاستکشاف ۱؎ اھ
یعنی بعد میں بتانے سے وہ سابق میں جبکہ اس سے پوچھا تھا اور اس نے نہ بتایا، واقف نہ ہوگیا تو اسی طرح بعد میں دینے سے وہ سابق میں جبکہ اسے نہ دینے کا گمان تھا، قادر نہ ہوگیا۔ اور جواب سے یہ مستفاد ہوا کہ اس نے عمل سے پہلے جو کچھ اس کے بس میں تھا کرلیا تو دفع حرج کے پیش نظر وہ جائز ہی واقع ہوگا پھر ناجائز میں تبدیل نہ ہوگا۔ فرماتے ہیں: بعبارت دیگر ''اس نے جب انکار کردیا تو عجز مؤکد ہوگیا پھر اس کے بعد قدرت ہونے کا اعتبار نہیں۔ اسے ولوالجیہ میں ذکر کیا ہے۔ اور اس لئے کہ وہ تشدّد برتنے والا ہے اور ایسے شخص کی بات کا اعتبار نہیں، بخلاف ہمارے زیربحث صورت کے کہ اس نے دریافت کرنے میں اپنی پوری کوشش صرف نہ کی''۔ اھ (ت)
 (۱؎ حلیہ)
اقول:  اغفل السؤال نصوصا فی المذھب ثمہ موافقۃ فی الصورۃ لماھنا وھی انہ ان کان(۱) عندہ من یسألہ فلم یسألہ وصلی ثم سألہ فاخبرہ بماء قریب بطلت صلاتہ کماقدمنا فی نمرۃ ۱۵۹ عن الحلیۃ عن المحیط ومثلہ فی البدائع والتبین والدر وغیرھا فعلمہ ان ھذا ممن یسأل ھنا عن حال الماء کظنہ العطاء فی ھذہ المسألۃ وترک السؤال کمثلہ فیھا والاخبار اللاحق کالعطاء اللاحق فتبطل صلاتہ کمابطلت ثم ھذا۔
اقول: وہاں کچھ نصوصِ مذہب اور تھے جو یہاں والی صورت کے موافق تھے انہیں سوال میں چھوڑ دیا وہ یہ کہ اگر اس کے پاس ایسا شخص ہو جس سے دریافت کرسکے اور دریافت نہ کیا، نماز پڑھ لی، پھر اس سے پُوچھا۔ اس نے قریب میں پانی بتایا تو اس کی نماز باطل ہوگئی۔ جیسا کہ ہم نے نمبر۱۵۹ میں محیط سے نقل کردہ حلیہ کی عبارت پیش کی۔ اسی کے مثل بدائع، تبیین، درمختار وغیرہا میں بھی ہے تو اسے یہ علم ہونا کہ یہ شخص ایسا ہے جس سے پانی کے بارے میں یہاں دریافت کیا جاسکتا ہے ایسا ہی ہے جیسے اس مسئلہ میں عطا کا ظن ہے اور سوال نہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے یہاں سوال نہ کرنا اور بعد میں بتانا ایسا ہی ہے جیسے یہاں بعد میں دیناتو یہاں بھی اس کی نماز باطل ہوگئی جیسے وہاں باطل ہُوئی۔ (ت)
وقولہ اذا ابٰی ای عن الاخبار  اقول  یشمل(۲) مااذا سألہ فسمع وسکت لانہ صادق علیہ قولھم لم یخبرہ وانما عبرہ عنہ فی الحلیۃ بالاباء لان السکوت عند الحاجۃ اباء عرفا وقد صرحوا بمسألۃ الاباء ھھنا ایضا انہ ان سألہ قبل الصلاۃ فابی ثم اعطاہ بعدھا فقد تمت ولاعبرۃ بالمنح بعد المنع۔
صاحبِ حلیہ کی عبارت ''اذاابٰی'' (جب انکار کرے) یعنی بتانے سے انکار کرے اقول یہ اس صورت کو بھی شامل ہے جب اس سے سوال کرے اور وہ سُن کر خاموش رہے۔ کیونکہ اس پر علماء کا یہ قول صادق ہے کہ ''اس نے نہ بتایا'' اسے حلیہ میں انکار سے اس لئے تعبیرکیا کہ ضرورت کے وقت سکوت عرفاً انکار ہی ہے۔ اور علما نے یہاں بھی مسئلہ انکار کی صراحت فرمائی ہے کہ اگر اس نے قبل نماز اس سے مانگا، اس نے انکار کیا پھر بعد نماز اسے دے دیا تو اس کی نماز پُوری ہوگئی۔ اور انکار کے بعد دینے کا کوئی اعتبار نہیں۔ (ت)
وماقال انہ متعنت وقد اخذہ عن البدائع فاقول ھذا(۱) غیرمتعین ولاثابت فقدینسی ثم یتذکر وحال المسلم تحمل علی الصلاح مھما امکن واللّٰہ تعالٰی اعلم قال ثم بعد برھۃ من ظھور ھذا للعبد الضعیف وتسطیرہ رأیت صدر الشریعۃ قدصرح بماذکرنا من الحکم فی ھاتین المسألتین وبعلتہ فیما لواتم الصلاۃ مع ظن العطاء ثم سألہ فاعطاہ فتواردنا علی ذلک ۱؎ اھ۔
صاحبِ حلیہ نے فرمایا وہ تشدد برتنے والا ہے اسے انہوں نے بدائع سے لیا ہے۔ اس پر مجھے کلام ہے فاقول یہ متعین اور ثابت نہیں۔ ہوسکتا ہے اس وقت بھُول گیا ہو پھر اسے یاد آیا ہو جہاں تک ہوسکے مسلمان کی حالت کو صلاح ودرستی ہی پر محمول کیا جائےگا۔ اور خدائے برتر خوب جاننے والا ہے۔ صاحبِ حلیہ لکھتے ہیں: بندہ ضعیف کے ذہن میں یہ آیا اور اُسے رقم کیا پھر کچھ عرصہ بعد دیکھا کہ صدر الشریعۃ اس کی تصریح کرچکے ہیں جو ہم نے ان دونوں مسئلوں میں حکم بیان کیا اور اس کی علت بھی بتاچکے ہیں اس صورت میں جب کہ ظنِّ عطا کے باوجود نماز پُوری کرلی پھر مانگا اور اس نے دے دیا۔ تو اِس پر ہمارا ان کا توارد ہوگیا اھ۔ (ت)
 (۱؎ حلیہ)
اقول:(۲)ھوسبق قلم بل انما ذکر العلۃ فیما اذاسألہ فابی قال لانہ ظھر ان ظنہ کان خطأ ۱؎ اھ وھذا نظیرماسبق ان الحاق الشک بغلبۃ الظن للعطاء ارجح وانما صوابہ المنع کمامر۔
اقول:  یہ سبقتِ قلم ہے۔ صدر الشریعۃ نے علت صرف اس صورت میں بیان کی ہے جب اس نے مانگا اور اس نے انکار کردیا۔ فرماتے ہیں: اس لئے کہ ظاہر ہوگیا کہ اس کا گمان غلط تھا اھ (تو عبارت حلیہ میں ''ثم سألہ فاعطاہ'' کی جگہ ''ثم سألہ فابی'' ہونا چاہئے) اور یہ اسی کی نظیرہے جو عبارت حلیہ میں گزرا کہ شک کو ''عطا'' کے غلبہ ظن سے لاحق کرنا زیادہ راجح ہے۔ صحیح''منع'' ہے جیسا کہ بیان ہوا۔ (ت)
 (۱؂ شرح الوقایہ ،باب التیمم	۱۰۳/۱)
تنبیہ: نماز کے بعد وہ دیناجس سے مطلقاً نماز اعادہ کرنی ہوتی ہے اگرچہ مصلی کو ظن منع ہو کونسا ہے اور وقت نماز گزر جانے کے بعد دینابھی یہ اثر رکھتا ہے یا نہیں، اس کا بیان مسئلہ نہم میں آتا ہے وباللہ التوفیق۔
مسئلہ ۸: امام(۱) محقق علی الاطلاق سے مسئلہ ششم میں گزرا کہ پانی پر قدرت تین۳ طرح ہوتی ہے:

اوّل: خود اپنی ملک میں ہو۔ اقول: یعنی حاجتِ ضروریہسے فارغ اور استعمال پر قدرت تو ہر جگہ شرط ہے۔ 

دوم: اگر بکتا ہے تو قیمت پر قادر ہو۔ اقول: یعنی اُنہیں وجوہ پر کہ گزریں کہ قیمت مثل سے بہت زیادہ نہ مانگے اور قیمت اس کے پاس حاضر نہیں تو اُدھار دینے پر راضی ہو۔

سوم: اباحت۔ اقول: یہ مصدر مبنی للمفعول ہے یعنی پانی کا مباح ہونا خواہ باباحتِ اصلیہ جیسے بارش ودریا کا پانی یا کسی کے وقف کیے سے یا بلاوقف عام لوگوں یا کسی خاص قوم کیلئے جن میں یہ داخل ہے مالک نے طہارت کیلئے مباح کیا ہو اگر اسے طہارت درکار ہے یا مالک خاص اس شخص کو مباح کرے۔
ثمّ اقول: دو۲ صورتیں قدرت کی اور ہیں: 

چہارم: ہبہ کہ تملیک بلاعوض ہے بخلاف اباحت کہ شَے ملک مالک ہی پر رہتی ہے اُس کی اجازت سے صرف کی جاتی ہے۔

 پنجم: مالک کا وعدہ کرنا کہ میں تجھے پانی دوں گا یہاں تک کہ ائمہ ثلٰثہ رضی اللہ تعالٰی عنہم کے مذہب میں انتظار لازم ہے اگرچہ وقت نکل جائے کہ وعدہ میں ظاہر وفا ہے اور پانی پر قدرت اباحت سے بھی حاصل تو ظاہراً قادر ہے لہذا تیمم جائز نہیں اس کا ذکر نمبر ۹۰ میں گزرا اور باتباع امام زفر حکم یہ ہے کہ جب وقت جاتا دیکھے تیمم کرکے پڑھ لے جیسا کہ نمبر ۹۱ میں گزرا۔
Flag Counter