Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
99 - 212
فائدہ زاہرہ
خیر ، یہ تو اجمالاً ان حضرات کی خدمت گزاری تھی ، اوربدعت کی بحث تو علمائے سنت بہت کتب میں غایت قصوٰی تک پہنچا چکے
ومن احسن من فصلہ وحققہ خاتم المحققین سیدناالوالدرضی اللہ عنہ المولٰی الماجد فی کتابہ الجلیل المفاد''اصول الرشاد لقمع مبانی الفساد''
 (خاتم المحققین سیدنا والد ماجد رضی اللہ عنہ نے اپنی جلیل ومفید کتاب ''اصول الرشاد لقمع مبانی الفساد''میں اس کی تحسین وتفصیل وتحقیق کی ہے ۔ت)
فقیر غفراللہ تعالٰی نے بھی اپنے رسالہ ''اقامۃ القیامہ علی طاعن القیام لنبی تھامہ''وغیرہا رسائل میں بقدر کافی نکات چیدہ گزارش کئے اوراپنے رسالہ ''منیر العین فی حکم تقبیل الابھا مین ''(ف) وغیرہا میں خاندان مذکور کے بکثرت ایجادو احداث لکھے کہ اس نو تصنیفی کی صفرا شکنی کو بس ہیں اورحضور دافع البلاء صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے وبا وبلاوقحط ومرض والم کو دفع فرمانے کے جزئیات ووقائع جو احادیث میں مروی ان کے جمع کرنے کی ضرورت نہ حصر کی قدرت، ان میں سے بہت سے بحمدللہ تعالٰی کتب وخطب علماء میں مسلمانوں کے کانوں تک پہنچ چکے اوراب جو چاہے کتب سیر وخصائص ومعجزات مطالعہ کرے ۔
ف :  رسالہ ''منیر العین فی حکم تقبیل الابھا مین ''فتاوی رضویہ مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور جلد پنجم صفحہ ۴۲۹ پر موجود ہے ۔ رسالہ ''اقامۃ القیامۃ ''جلد ۲۶ص۴۹۵ پر موجود ہے ۔
نکتہ جلیلہ کلیہ
مگرفقیر غفراللہ تعالٰی لہ ایک نکتہ جلیلہ کلیہ بغایت مفید القاکرے کہ ان شاء اللہ تعالٰی تمام شرکیات وہابیہ کی بیخ کنی میں کافی ووافی کام دے ، مسلمانو!کچھ خبر بھی ہے ان حضرات کا لفظ دافع البلاء اوراس کے مثال کو شرک بتا نے بلکہ یہ بات بات پرشرک پھیلانے سے اصل مدعا کیا ہے وہ ایک دائے باطنی ومرض خفی ہے کہ اکثر عوام بیچاروں کی نگاہ سے مخفی ہے ان نئے فلسفوں پرانے فیلسوفوں کے نزدیک شرک امور عامہ سے ہے کہ عالم میں کوئی موجود اس سے خالی نہیں یہاں تک کہ معاذاللہ حضرات علیہ انبیائے کرام وملٰئکہ عظام علیہم الصلوٰۃ والسلام تاآنکہ عیاذاًباللہ خود حضرت رب العزۃ وحضور پر نور سلطان رسالت علیہ افضل الصلوٰۃ والتحیۃ ، ولہذا امام الطائفہ نے جابجا وبیجا مسائل جی سے گھڑے کہ یہ ناپاک چھینٹا وہاں تک بڑھے ، جس کی بعض مثالیں مجموعہ فتاوٰی فقیر
''العطایا النبویہ فی الفتاوی الرضویہ ''
کی جلد ششم
''البارقۃ الشارقہ علی مارقۃ المشارقہ ''
میں ملیں گی ، ان کی تفصیل سے تطویل کی حاجت نہیں ، یہ حضرات کہ اس امام کے مقلد ہیں
انا علی اٰثارھم  مقتدون۱؂
 (ہم ان کی لکیر کے پیچھے ہیں۔ت) پڑھتے ہوئے اسی ڈگر ہوئے ، یہ حکم شرک بھی اسی دبی آگ کا دھواں دے رہا ہے، اجمال سے نہ سمجھو تو مجھ سے مفصل سنو۔
 (۱؂القرآن الکریم ۴۳ /۲۳)
اقول : وباللہ التوفیق ،
نسبت واسناد دوقسم ہے : حقیقی کہ مسند الیہ حقیقت سے متصف ہو۔ 

اورمجازی کہ کسی علاقہ سے غیر متصف کی طرف نسبت کردیں جیسے نہر کو جاری یا حابس سفینہ کو متحرک کہتے ہیں ، حالانکہ حقیقۃً آب وکشتی جاری متحرک ہیں۔ 

پھر حقیقی بھی دو قسم ہے : ذاتی کہ خود اپنی ذات سے بے عطائے غیر ہو، اورعطائی کہ دوسرے نے اسے حقیقۃً متصف کردیا ہو خواہ وہ دوسرا خود بھی اس وصف سے متصف ہو جیسے واسطہ فی الثبوت میں ، یانہیں جیسے واسطہ فی الاثبات میں ۔ ان سب صورتوں کی اسنادیں تمام محاورات عقلائے جہاں واہل ہر مذہب وملت وخود قرآن وحدیث میں شائع وذائع ، مثلاً انسان عالم کو عالم کہتے ہیں ، قرآن مجید میں جابجا اولوالعلم وعلمؤابنی اسرائیل اورانبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی نسبت لفظ علیم وارد ، یہ حقیقت عطائیہ ہے یعنی بعطائے الہٰی وہ حقیقۃً متصف بعلم ہیں، اورمولٰی عزوجل نے اپنے نفس کریم کو علیم فرمایا یہ حقیقت ذاتیہ ہے کہ وہ بے کسی کی عطا کے اپنی ذات سے عالم ہے ۔ سخت احمق وہ کہ ان اطلاقات میں فرق نہ کرے۔ وہابیہ کے مسائل شرکیہ استعانت وامداد وعلم غیب وتصرفات ونداوسماع فریاد وغیرہا ایسے فرق نہ کرنے پر مبنی ہیں ۔ فقیر غفراللہ تعالٰی لہ نے اس بحث شریف میں ایک نفیس رسالہ کی طرح ڈالی ہے اس میں متعلق نزاعات وہابیہ صدہا اطلاقات کو آیات واحادیث سے ثابت اوراحکام اسنادات کو مفصل بیان کرنے کا قصد ہے
ان شاء اللہ تبارک وتعالٰی حضور پر نور ، معطی البہار والسرور ، دافع البلاء والشرور، شافع یوم النشور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم
کو دافع البلاء کہنا بھی بمعنی حقیقی عطائی ہے مخالف متعسف کو یوں توفیق تصدیق نہ ہو تو فقیر کا رسالہ
''سلطنۃ المصطفٰی فی ملکوت کل الورٰی ''
مطالعہ کرے کہ بعونہٖ تعالٰی تحقیق وتوثیق کے باغ لہکتے نظر آئیں اورایمان وایقان کے پھول مہکتے ، خیر یہاں اس بحث کی تکمیل کا وقت نہیں تنزیلاً یہی سہی کہ احد الامرین سے خالی نہیں نسبت حقیقی عطائی ہے یا ازانجاکہ حضور سبب ووسیلہ وواسطہ دفع البلاء ہیں لہذا نسبت مجازی ، رہی حقیقی ذاتی حاشا کہ کسی مسلمان کے قلب میں کسی غیر خدا کی نسبت اس کا خطرہ گزرے۔
امام علامہ سیدی تقی الملۃ والدین علی بن عبدالکافی سبکی قدس سرہ الملکی
 (جن کی امامت وجلالت محل خلاف وشبہت نہیں ، یہاں تک کہ میاں نذیر حسین دہلوی اپنے ایک مہری مصدق فتوٰی میں انہیں بالاتفاق امام مجتہد مانتے ہیں )کتاب مستطاب شفاء السقام شریف میں ارشاد فرماتے ہیں :
لیس المراد نسبۃ النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم الی الخلق والاستقلال بالافعال ھذا لایقصدہ مسلم فصرف الکلام الیہ ومنعہ من باب التلبیس فی الدین والتشویش علی عوام المؤحدین۱؂۔
یعنی نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے مدد مانگنے کا یہ مطلب نہیں کہ حضور خالق وفاعل مستقل ہیں یہ تو کوئی مسلمان ارادہ نہیں کرتا، تو اس معنی پرکلام کو ڈھالنا اورحضور سے مدد مانگنے کو منع کرنا دین میں مغالطہ دینا اورعوام مسلمانوں کو پریشانی میں ڈالنا ہے۔
 (۱؂شفاء السقام الباب الثامن فی التوسل والاستغاثہ الخ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ص۱۷۵)
صدقت یا سید ی جزاک اللہ عن الاسلام والمسلمین خیراً، اٰمین
 (اے میرے آقا!آپ نے سچ فرمایا ، اللہ تعالٰی آپ کو اسلام اورمسلمانوں کی طرف سے جزاء خیر عطافرمائے ۔ت)
Flag Counter