Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
98 - 212
اورسنئے یہی نفس ذکیہ فرماتے ہیں :
 ہمچنیں عنایت حضرت خواجہ نقشبند بحال معتقدان خود مصروف است مغلاں درصحرا یاوقت خواب اسباب واسپان خودبحمایت حضرت خواجہ می سپارند وتائیدات از غیب ہمراہ ایشاں می شود ۱؂۔
ایسا ہی حضرت خواجہ نقشبند اپنے معتقدین کے حالات میں ہمیشہ مصروف رہتے ہیں چرواہے اورمسافر جنگل میں یا نیند کے وقت اپنے اسباب اورچوپائے گھوڑے وغیرہ حضور خواجہ نقشبند کے سپر دکردیتے غیبی تائید ان کے ساتھ ہوتی ہے ۔ (ت)
(۱؂کلمات طیبات ملفوظات مرز امظہر جان جاناں مطبع مجتبائی دہلی ص۸۳)
اب تو شرک کا پانی سر سے اوپر ہوگیا ، ایمان سے کہیوتمہارے ایمان پر کتنا بڑا بھاری شرک ہے جس پر مدد غیبی نازل ہوتی اوریہ بات حضرت خواجہ قدس سرہ العزیز کے مدائح میں گنی جاتی ہے ، خدا کرے اس وقت کہیں تمہیں حدیث
اعوذبعظیم ھٰذاالوادی ۲؂۔
(میں اس وادی کے حکمران کی پناہ چاہتاہوں ۔ ت)
 (۲؂المعجم الکبیر حدیث ۴۱۶۶ المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ۴ /۲۲۱) 

(المستدرک للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ ذکر تحریم بن فائک دارالفکر بیروت ۳ /۶۲۱)
یا آیہ کریمہ
کان رجال من الانس یعوذون برجال من الجن ۳؂۔
(آدمیوں میں کچھ مرد جنوں کے کچھ مردوں کے پناہ لیتے تھے ۔ت) یا د آجائے ،
 (۳؂القرآن الکریم ۷۲ /۶)
پھر جناب مرزا صاحب اور ان کے مداح جناب شاہ صاحب کا مزہ دیکھئے ، آخر تمہارا امام بھوت پریت جن پری اوراولیاء شہداء سب کو ایک ہی درجہ میں مان رہا ہے ، مولانا شاہ عبدالعزیز صاحب تفسیر عزیزی میں اکابر اولیاء کا حال بعد انتقال لکھتے ہیں :
 دریں حالت ہم تصرف دردنیا دادہ واستغراق آنہا بجہت کمال وسعت مدارک آنہا مانع توجہ بایں سمت نمی گرددواویسیاں تحصیل مطلب کمالات باطنی از انہامی نمایند وارباب حاجات ومطالب حل مشکلات خود ازانہامی طلبند ومی یابند۱؂۔
اولیاء اللہ بعد انتقال دنیا میں تصرف فرماتے ہیں اوران کے استغراق کا کمال اورمدارج کے رفعت ان کو اس سمت توجہ دینے کی مانع نہیں ہے اویسی اپنے کمالات باطنی کا اظہار فرماتے ہیں اورحاجت مند لوگ اپنی مشکلات کا حل اورحاجت روائی انہیں سے طلب کرتے ہیں اوراپنے مقاصد میں کامیاب ہوتے ہیں ۔ (ت)
(۱؂تفسیر فتح العزیزتحت آیۃ ۸۴ /۱۸ مطبع مسلم بکڈپو لال کنواں دہلی پارہ عم ص۲۰۶)
ذرا یہ ''دنیا میں اولیاء کا تصرف بعد انتقال ''ملحوظ رہے اورحل مشکل ودفع بلا میں کتنا فرق ہے ۔ (یا علی مشکل کشا مشکلکشا)
اورتحفہ اثناعشریہ میں تو ا س سے بھی بڑھ کر جان نجدیت پر قیامت توڑگئے ، فرماتے ہیں :
حضرت امیر وذریۃ طاہرہ او درتمام امت برمثال پیران ومرشد ان می پرستند وامور تکوینیہ را بایشاں وابستہ میدانندوفاتحہ ودرود وصدقات ونذر بنام ایشاں رائج ومعمول گردیدہ چنانچہ جمیع اولیاء اللہ ہمیں معاملہ است ۲؂۔
حضرت امیر یعنی حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم اوران کی اولاد طاہرہ کو تمام افراد امت پیروں مرشدوں کی طرح مانتے ہیں اورتکوینی امور کو ان حضرات کے ساتھ وابستہ جانتے ہیں اورفاتحہ اوردرود وصدقات اورنذورنیاز انکے نام ہمیشہ کرتے ہیں ، چنانچہ تمام اولیاء اللہ کا یہی حال ہے ۔(ت)
 (۲؂تحفہ اثناء عشریہ باب ہفتم درامامت سہیل اکیڈیمی لاہور ص۲۱۴)

(تحفہ مطبوعہ کلکتہ ۱۲۴۳ھ آخر ص۳۹۶واول ۳۹۷)
کیوں صاحبو! یہ کتنے برے شرکہا ئے اکبر واعظم ہیں کہ شاہ صاحب جن پر اجماع امت بتارہے ہیں ، اب تو عجب نہیں کہ روافض کی طرح امت مرحومہ کو معاذاللہ امت ملعونہ لقب دیجئے بھلا دفع بلا بھی امور تکوینیہ میں ہے یا نہیں جو دامن پاک حضرت مولی  علی واہلبیت کرام سے وابستہ ہے صلی اللہ تعالٰی علیہ سید ھم ومولاھم وعلیہم وبارک وسلم۔
طرفہ تر سنئے ، شاہ ولی اللہ صاحب کے انتباہ فی سلاسل اولیاء اللہ سے روشن کہ شاہ صاحب والا مناقب اورانکے بارہ اساتذہ  علم حدیث ومشائخ طریقت جن میں مولانا ابو طاہر مدنی اوان کے والد واستاذ پیر مولانا ابراہیم کردی اوران کے استاد مولانا احمد قشاشی اوران کے استاد مولانا احمد شناوی اورشاہ صاحب کے استاذالاستاذ مولانا احمد نخلی وغیرہم اکابر داخل ہیں کہ شاہ صاحب کے اکثر سلاسل حدیث انہیں علماء سے ہیں جو اہر خمسہ حضرت شاہ محمد غوث گوالیاری علیہ الرحمۃ الباری وخاص دعائے سیفی کی اجازتیں لیتے اور اپنے مریدین ومعتقدین کو اجازت دیتے ۔

اعمال جواہر خمسہ ودعائے سیفی کا زمانہ اقدس حضور دافع البلاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تصنیف ہونے سے بدعت ، اور اس وجہ سے ان صاحبو ں کا بدعتی ومروج بدعت قرار پانا درکنار، اسی جواہر خمسہ کی سیفی میں وہ جوہر دار سیف خونخوار ، جسے دیکھ کر وہابیت بیچاری اپنا جوہرکرنے کو تیار ، وہ کیا کہ نادعلی کہ ایمان طائفہ پر شرک جلی ۔ جواہرخمسہ میں ترکیب دعائے سیفی میں فرمایا:
نادعلی ہفت بار یاسہ بار یا یک بار بخواند و آن ایں ست ناد علیاًمظھر العجائب ، تجدہ عوناً لک فی النوائب ، کل ھم وغم سینجلی بولایتک یا علی یا علی یا علی ۱؂۔
ناد علی سات بار یا تین بار یا ایک بار پڑھنا چاہئے ، اوروہ یہ ہے : علی (رضی ا للہ عنہ )کو پکار جن کی ذات پاک مظہر عجائب ہے ، جب تو انہیں پکارے گا انہیں مصائب وافکار میں اپنا مددگارپائے گا ہر پریشانی وغم فوراً دور ہوجاتاہے آپ کی مدد سے یا علی یا علی یا علی ۔(ت)
 (۱؂جواہر خمسہ مترجم اردو مرزا محمد بیگ نقشبندی دارالاشاعت کراچی ص  ۲۸۲  و۴۵۳)
یعنی پکار علی مرتضٰی (کرم اللہ وجہہ)کو کہ مظہر عجائب ہیں تو انہیں اپنا مددگار پائے گا ۔ مصیبتوں میں ، سب پریشانی وغم اب دورہوتے جاتے ہیں حضور کی ولایت سے یا علی یا علی یا علی ۔
ذرا اب شرک طائفہ کا مول تول کہئے ، اس نفیس سند کی قدرے تفصیل درکار ہوتو فقیر کے رسائل
''انھارالانوار من یم صلٰوۃ الاسرار''(ف۱) و''حیاۃ الموات فی بیان سماع الاموات ''(ف۲) و ''انوار الانتباہ فی حل ندا ء یارسول اللہ ''(ف۳)
ملاحظہ ہوں ۔ ہے یہ کہ ان خاندانی اماموں نے طائفہ کی مٹی اوربھی خراب کی ہے وللہ الحمد۔
ف۱ : رسالہ انہار الانوار من یم صلوٰۃ الاسرار فتاوی رضویہ مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن جامعہ نظامیہ رضویہ ، لاہور جلد ہفتم میں ص ۵۶۹پر موجود ہے ۔

ف۲ :  رسالہ حیاۃ الموات فی بیان سماع الاموات فتاوٰ ی رضویہ مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن جامعہ نظامیہ رضویہ ،لاہور ، جلد نہم میں ص ۶۷۵پر موجود ہے ۔

ف۳ : رسالہ انوار الانتباہ فی حل ندا ء یا رسول اللہ فتاوی رضویہ مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور جلد۲۹میں ص ۵۴۹ پر موجود ہے ۔
کیوں صاحبو!یہ سب حضرات بھی ایمان طائفہ پر مشرک ، بے ایمان ، واجب العذاب، مستحیل الغفران تھے یا تقویۃ الایمان کی آیتیں حدیثیں امام الطائفہ کا کنبہ چھوڑ کر باقی علمائے اہلسنت ہی کو مشرک بدعت بنانے کے لئے اتری ہیں۔ اللہ ایمان وحیابخشے ۔ آمین ۔
غرض ان حضرات کے مقابل شاید ایسے ہی گرم دودھوں سے کچھ کام چلے جنہیں نہ نگلتے بنے نہ اگلتے ۔
وللہ الحجۃ الساطعۃ ۔
Flag Counter