Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
97 - 212
ثالثاً:
بھلاحضور اقدس دافع البلاء مانح العطاصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو دافع البلاء کہنا تو معاذاللہ شرک ہوا اب جناب شاہ ولی اللہ صاحب کی خبر لیجئے وہ اپنے قصیدہ نعتیہ اطیب النغم اور اس کے ترجمہ میں کیا بول بو ل رہے ہیں :  بنظر نمی آید مرامگر آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کہ
جائے دست اندوہگین است در ہر شد تے۲؂ ۔
  ہمیں نظر نہیں آتا مگر آں حضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ہر مصیبت کے وقت غمخواری فرماتے ہیں۔(ت)
 (۲؂اطیب النغم فی مدح سید العرب والعجم فصل اول تحت شعر معتصم المکروب فی کل غمرۃ مطبع مجتبائی دہلی ص۴)
پھر کہا :
جائے پناہ گرفتن بندگان وگریزگاہ ایشاں دروقت خوف روزقیامت ۳؂۔
حضور قیامت کے دن خوفزدوں اورخوف سے بھاگنے والوں کی جائے پناہ ہیں۔ (ت)
 (۳؂اطیب النغم فی مدح سید العرب والعجم فصل دوم تحت شعر ملاذعباداللہ ملجاء خوفہم مطبع مجتبائی دہلی ص۴)
پھر کہا:
نافع تیرن ایشانست مردماں را زنز دیک ہجوم حوادث زماں ۴؂۔
زمانہ کے ہجوم کے وقت لوگوں کے لئے سب سے زیادہ نفع بخش ہیں ۔(ت)
 (۴؂اطیب النغم فی مدح سید العرب والعجم فصل چہارم تحت شعر واحسن خلق اللہ خلقاًوخلقہ مطبع مجتبائی دہلی ص۶)
پھر کہا:
 اے بہترین خلق خدا واے بہترین عطا کنندہ واے بہترین کسیکہ امیداودا شتہ شود برائے ازالہ مصیبتے ۱؂۔
اے خلق خد امیں بہترین ! اے بہترین عطاوالے اوراے بہترین شخصیت ، اورمصیبت کے وقت امیدوار کی مصیبت کو ٹالنے والے ۔ (ت)
 (۱؂اطیب النغم فی مدح سید العرب والعجم فصل یازدہم تحت شعر وصلی علیک اللہ یا خیر خلقہ مطبع مجتبائی دہلی ص۲۲)
پھر کہا :
 تو پناہ دہند ہ از ہجوم کردن مصیبتے ۲؂۔
آپ مصیبتوں کے ہجوم سے پناہ دینے والے ہیں ۔ (ت)
 (۲؂اطیب النغم فی مدح سید العرب والعجم فصل یازدہم تحت شعر وانت مجیری من ہجوم ملمۃ الخ مطبع مجتبائی دہلی ص۲۲)
اپنے دوسرے قصیدہ نعتیہ ہمزیہ کے ترجمہ میں لکھتے ہیں :
آخر حالت مادح آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم راوقتیکہ احساس کند نارسائی خود را از حقیقت ثنا آنست کہ ندا کند خوار وزار شدہ باخلاص درمناجات وبہ پناہ گرفتن بایں طریق اے رسول خدا عطائے ترامیخواہم روز حشر (الی قولہ ) توئی پناہ از ہربلا بسوئے تست رو آوردن من وبہ تست پناہ گرفتن من ودرتست امید داشتن من ۳؂اھ ملخصاً۔
حضور کی تعریف کرنے والا جب اپنی نارسائی کا احساس کرے تو حضور کو نہایت عاجزی اور اخلاص سے پکارے اورفریاد کرے اورحضور کی پناہ اس طرح چاہے کہ اے خدا کے رسول قیامت کے دن تیری عطا چاہتاہوں تو ہی میری ہر بلا کی پناہ ہے ۔ جبھی تو میں تیری طرف رجوع کرتاہوں اورتجھ سے پناہ کا طلب گار ہوں اورمیری امیدیں تجھ سے ہی وابستہ ہیں اھ ملخصاً۔(ت)
 (۳؂اطیب النغم فی مدح سید العرب والعجم فصل ششم تحت اشعار وآخر ما لما دحہ الخ مطبع مجتبائی دہلی ص۳۳ و۳۴)
یہی شاہ صاحب ہمعات میں زیر بیان نسبت اویسیہ لکھتے ہیں :
 ازثمرات ایں نسبت رویت آں جماعت ست درمنام وفائدہا ایشاں یافتن ودرمہالک ومضائق سورت آں جماعت پددید آمدن وحل مشکلات وے بآں صورت منسوب شدن۱؂۔
اس نسبت کے ثمرات یہ ہیں کہ اس جماعت (اویسیہ)کی زیارت خواب میں ہوجاتی ہے اورہلاکت وتنگی کے اوقات میں وہ جماعت ظاہر ہوکر مشکلیں حل فرماتی ہے ۔ (ت)
 (۱؂ہمعات ہمعہ ۱۱ اکادیمیۃ الشاہ ولی اللہ الدہلوی حیدرآباد باکستان ص۵۹)
قاضی ثناء اللہ پانی پتی ان کے شاگرد رشید اورمرزا صاحب موصوف کے مرید تذکرۃ الموتٰی میں ارواح اولیائے کرام قدس اسرارہم کی نسبت لکھتے ہیں :
 ارواح ایشاں از زمین وآسمان وبہشت ہرجا کہ خواہند ومیروند ودوستاں ومعتقداں را دردنیا وآخرت مددگاری میفرما یند ودشمناں راہلاک می سازند۲؂۔
ان کی ارواح زمین وآسمان اوربہشت سے ہر جگہ جہاں چاہتی ہیں جاتی ہیں اپنے دوستوں اورمعتقدوں کی دنیا اورآخرت میں مدد فرماتی ہیں اوردشمنوں کو ہلاک کرتی ہیں ۔(ت)
(۲؂تذکرۃ الموتٰی مطبع مجتبائی دہلی ص ۴۱)
اوردافع البلاء کس چیز کا نام ہے ۔ مرزاصاحب کے ملفوظات میں ہے :
 نسبت مابجناب امیر المومنین علی مرتضٰی کرم اللہ وجہہ میر سند وفقیر رانیاز خاص بآنجناب ثابت ست دروقت عروض عارضہ جسمانی توجہ بآنحضرت واقع می شود وسبب حصول شفا میگردد۳؂۔
امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے میری نسبت خاص وجہ سے ہے کہ فقیر کو آنجناب سے خاص نیاز حاصل ہے اورجس وقت کوئی عارضہ بیماری جسمانی پیش ہوتی ہے میں آنجناب کی طرف توجہ دیتاہوں جو باعث شفا ہوجاتی ہے ۔(ت)
(۳؂کلمات طیبات ملفوظات مرز امظہر جان جاناں مطبع مجتبائی دہلی ص۷۸)
ذرا اس ''نیاز خاص''پر بھی نظر رہے ۔ یہی داعی سنت نبویہ فرماتے ہیں :
التفات غوث الثقلین بحال متوسلان طریقہ علیہ ایشاں بسیار معلوم شد باہیچکس از اہل ایں طریقہ ملاقات نشدہ کہ توجہ مبارک بآنحضرت بحالش مبذول نیست ۴؂۔
حضور غوث الثقلین اپنے تمام متوسلین کے حالات کی طرف توجہ رکھتے ہیں کوئی ان کا مرید ایسا نہیں کہ اس کی طرف آنجناب کی توجہ نہ ہو۔ (ت)
(۴؂کلمات طیبات ملفوظات مرز امظہر جان جاناں مطبع مجتبائی دہلی ص۸۳)
ذرا اس عبارت کے تیور دیکھئے اورلفظ مبارک ''غوث الثقلین ''بھی ملحوظ خاطر رہے اس کے یہی معنی ہے نا کہ انس وجن سب کی فریاد کو پہنچنے والے ۔
Flag Counter