یوں پوچھئے کہ حیادارو!صرف اس جرم پر کہ حضرات علمائے دین مصنفین کتب رحمہم اللہ تعالٰی زمانہ اقدس حضور دافع البلاء صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں نہ تھے انہیں کی کتابیں بدعت اوروہ معاذاللہ اہل بدعت قرار پائیں گے یایہ حکم امام الطائفہ اوراس کے عم نسب وپدر شریعت جد طریقت جناب مولانا شاہ عبدالعزیز صاحب اوراس کے جد نسب وجد شریعت وفرجد طریقت شاہ ولی اللہ صاحب اورفرجد نسب وتلمذ وجد الجد بیعت شاہ عبدالرحیم صاحب وغیرہم اکابر وعمائد خاندان دہلی کو بھی شامل ہوگا۔ کیا یہ حضرات زمانہ اقدس میں تھے ، کیا ان کی کتابیں جبھی تصنیف ہوئی تھیں ، کیا انہوں نے اپنی تصانیف کے خطبوں میں بیسیوں مختلف صیغوں سے جو درود لکھے ہیں سب بعینہ حضور دافع البلاء صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے ثابت ہیں ، اگر ہیں تو بتاد و اورنہیں تو کیا ہٹ دھرمی سینہ زوری ہے کہ انکی تصانیف بدعت اوریہ بدعتی نہ ٹھہریں ، کیا وحی باطنی اسمعٰیلی ہمیں یہ حکم تشریعی بھی آچکا ہے کہ
یجوز لاٰبائک مالا یجوز لغیرھم
(تیرے آباء کے لیے جائز ہے جو ان کے علاوہ کسی کے لیے جائز نہیں ۔ ت) ان کا امام صاف صاف لکھ چکا کہ بعض غیر انبیاء پر بھی (جن میں اس نے اپنے پیر اورپر دادا کو بھی داخل کیاہے ۔ ) بے وساطت انبیاء وحی باطنی آتی ہے جس میں احکام تشریعی اترتے ہیں وہ ایک جہت سے انبیاء کے پیرو اورایک جہت سے خو د محقق ہوتے وہ شاگرد انبیاء بھی ہیں اورہم استاد انبیاء بھی ، وہ مثل انبیاء معصوم ہیں۱۔(دیکھو صراط المستقیم مطبع ضیاء میرٹھ ص۳۸دو سطر اخیرتا ص۳۹سطر ۱۰،۱۱دوسطر اخیر ص ۴۱سطر ۵،۶تاص۴۲ سطر ۲و۳،۴)
(۱صراط مستقیم حب ایمانی کا دوسرا ثمرہ کلام کمپنی تیرتھ داس روڈ کراچی ص۶۵)
( صراط مستقیم (فارسی )حب ایمان کا دوسرا ثمرہ المکتبۃ السلفیہ شیش محل روڈ لاہور ص۳۴)
گمراہی بد دینی کا منہ کالا، پھر نبوت کیا کسی پیڑ کا نام ہے ، اللہ کی شان یہ کھلم کھلا اپنے استادوں پیروں کو نبی بنانے والے تو امام اورائمہ شریعت ، اورعلمائے سنت اس جرم پر کہ صیغہائے درود مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی کیوں کثرت کی معاذاللہ بدعتی بدنام ۔
ثانیاً :
یہ قہرمانی حکم صرف حضور دافع البلاء صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر درود میں ہے یا خاندان امام الطائفہ کے ایجادات میں بھی کہ شاہ صاحب کی قول الجمیل جن کے لیے ضامن وکفیل ۔ اسی قول الجمیل میں اپنے اور اپنے پیران ومشائخ کے آداب طریقت واشغال ریاضت کی نسبت صاف لکھا کہ ہماری صحبت وسلوک آمیزی تو نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم تک متصل ہے ۔
وان لم یثبت تعین الاٰداب ولا تلک الاشغال ۲
اگرچہ نہ ان خاص آداب کا نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے ثبوت ہے نہ ان اشغال کا۔
(۲القول الجمیل گیارہویں فصل ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۷۳)
شاہ عبدالعزیز صاحب حاشیہ میں فرماتے ہیں : ''اسی طرح پیشوا یان طریقت نے جلسات اور ہیأت واسطے اذکار مخصوصہ کے ایجا کئے ''۳۔
(۳شفاء العلیل مع القول الجمیل چوتھی فصل ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۵۱)
مولوی خرمعلی مصنف نصحیۃ المسلمین نے اسکے ترجمہ شفاء العلیل میں شاہ صاحب کا یہ قول نقل کر کے لکھا ہے : ''یعنی ایسے امور کو مخالف شرع یا داخل بدعات سیئہ نہ سمجھنا چاہیے جیسا کہ بعض کم فہم سمجھتے ہیں''۴۔
(۴شفاء العلیل مع القول الجمیل چوتھی فصل ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۵۲)
اورسنئے اسی قول الجمیل میں اشغال مشائخ نقشبندیہ قدست اسرارہم تصور شیخ کی ترکیب لکھی ہے کہ :
شفاء العلیل میں مولانا شاہ عبدالعزیز صاحب نے نقل کیا: ''حق یہ ہے کہ سب راہوں سے یہ راہ زیادہ تر قریب ہے"۲۔
(۲شفاء العلیل مع قول الجمیل چھٹی فصل ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۸۰)
مکتوبات مرز ا صاحب جانجاناں میں ہے (جنہیں شاہ ولی اللہ صاحب اپنے مکتوبات میں نفس ذکیہ قیم طریقہ احمدیہ داعی سنت نبویہ لکھتے ہیں ) :
دعائے حز ب البحر وظیفہ صبح وشام وختم حضرات خواجگان قدس اللہ اسرارہم ہر روز بجہت حل مشکلا ت باید خواند۳۔
دعائے حزب البحر صبح وشام کا وظیفہ اورحضرات خواجگان قدس اللہ اسرارہم کا ختم شریف مشکلات کے حل کے لیے ہر روز پڑھنا چاہیے ۔ (ت)
(۳کلمات طیبات ملفوظات مظہر جان جاناں مطبع مجتبائی دہلی ص۷۴)
ذرا اس صبح وشام وہر روز کے الفاظ پر بھی نظر رہے کہ وہی التزام ومداومت ہے جسے ارباب طائفہ وجہ ممانعت قرار دیتے ہیں یہ ان داعی سنت نے بدعت اوربدعت کا حکم دیا بلکہ اس ختم اور ختم مجددی کی نسبت انہیں مکتوبات میں ہے :
سب جانے دو خود امام الطائفہ صراط مستقیم میں لکھتاہے :
اشغال مناسبہ ہر وقت و ریاضات ملائمہ ہر قرن جدا جدا می باشد ولہذا محققان ہر وقت ازاکابر ہر طریق در تجدید اشغال کو ششہاکہ دہ اندبناء علیہ مصلحت دید وقت چناں اقتضاء کرد کہ یک باب ازیں کتاب برائے بیان اشغال جدیدہ کہ مناسب ایں وقت ست تعیین کرد شود ۱الخ۔
ہر وقت کے مناسب اعمال اورہرزمانے کے مطابق ریاضتیں مختلف ہوتی ہیں یہی وجہ ہے کہ اکابر میں سے ہر طریقے کے محققین نے اشغال واعمال میں تبدیلی کرنے کی کوشش کی بایں وجہ جو مصلحت دیکھی یا حالات کا تقاضا ہوا اسی لئے اس کتاب کا ایک باب ایسے جدید اشغال کے لیے جو اپنے اپنے وقت کی مناسبت سے شروع کئے گئے متعین کیا گیا ہے ۔ (ت)
للہ انصاف! یہ لوگ کیوں نہ بدعتی ہوئے ۔اورذرا تصور شیخ کی توخبریں کہئے جسے جناب شاہ صاحب مرحوم سب راہوں سے قریب تر راہ بتارہے ہیں، یہ ایمان تقویۃ الایمان پر ٹھیٹ بت پرستی تو نہیں یا یہ حضرات شریعت باطنہ اسمٰعیلی سے مستثنٰی ہیں۔