ایھا المسلمون دفع نبیکم عنکم بلاء المجنون وفتنۃ المفتون ۔
اے مسلمانو تمھارے نبی نے تم سے مجنون کی بلاء اور فتنہ انگیز کا فتنہ دور کردیا ہے ۔ت
زید بیقید کے ایسے کلمات کچھ محل تعجب نہیں مذہب وہابیہ کی بنا ہی حتی الامکان حضور سید الانس والجان علیہ وعلی الہ افضل الصلوۃ والسلام کے ذکر شریف مٹانے اور محبوبان خدا جل وعلا وعلیہم الصلوۃ والثناء کی تعظیم قلوب مسلمین سے گھٹانے پر ہے
وسیعلم الذین ظلمو ا ای منقلب ینقلبون۱
(اور اب جانا چاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے ۔ت)
(۱القران الکریم ۲۶ /۲۲۷)
مگر تعجب ان مسلمانان اہلسنت سے کہ ایسے ناپاک اقوال پر کان دھریں ،بہت کان کھانے والے دنیا میں ہوئے اور ہوتے رہیں گے ،مسلمان صحیح العقیدہ ان کی طرف التفات ہی کیوں کریں ،ایسوں کا علاج حضور میں خاموشی اور غیبت میں فراموشی ،اور اٹھتے بیٹھتے ہر وقت ہر حال اپنے محبوب بے مثال صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے ذکر پاک کی زیادہ گرمجوشی کہ مخالف خود ہی اپنی آگ میں جل بجھیں گے
"قل موتوا بغیظکم ان اللہ علیم بذات الصدور" ۲
(تم فرما دو کہ مر جاؤ اپنی گھٹن میں ،اللہ خوب جانتا ہے دلوں کی بات ۔ ت)
(۲القران الکریم ۳ /۱۱۹)
اس تالفہ کے رد میں اقوال ائمہ وعلماء پیش کرنے کا کوئی محل ہی نہیں کہ یہ تم اپنے اعتقاد سے ائمہ وعلماء کہتے ہو ان کے نزدیک وہ بھی تمھاری طرح معاذ اللہ مشرک بدعتی تھے ،درود محمود میں کتب وصیغ کثیرہ کی تصنیف واشاعت انھیں نے کی تمھارے پیارے نبی محمد مصطفی دافع البلاء صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو اللہ عزوجل کا خلیفہ اکبر ومدد بخش ہر خشک وتر وواسطہ ایصال ہر خیر وبرکت ووسیلہ فیضان ہر جود ورحمت وشافی وکافی وقاسم نعمت وکاشف کرب ودافع زحمت وہی لکھ گئے جس کی تصریحات قاہرہ سے ان کی تصنیفات باہر ہ کے آسمان گونج رہے ہیں ۔فقیر غفر اللہ لہ نے کتاب مستطاب سلطنۃ المصطفی فی ملکوت کل الوری ۱۲۹۷ھ میں بکثرت ارشادات جلیلہ ونصوص جزیلہ جمع کئے جن کے دیکھنے سے بحمد اللہ ایمان تازہ ہو اور روئے ایقان پر احسان کا غازہ تو ان کے نزدیک حقیقۃً یہ شرک وبدعت تمھیں وہی سکھاگئے آخر ان کا بانی مذہب شیخ نجدی علیہ ما علیہ ڈنکےکی چوٹ کہتا تھا کہ ۶۰۰برس سےجتنے علماء گزرے سب کافر تھے
کما ذکرہ المحدث العلامۃ الفقیہ الفھامہ شیخ الاسلام زینت المسجد الحرام سیدی احمد بن زین ابن دحلان المکی قدس سرہ الملکی فی الدرر السنیۃ ۱۔
(جیسا کہ حضرت محدث العلامہ الفقیہ الفہامہ شیخ الاسلام زینت المسجد الحرام سیدی احمد بن زین ابن دحلان المکی قدس سرہ الملکی نے اس کو الدرر السنیۃ میں ذکر کیا ۔ت)
(۱الدررالسنیۃ فی الرد علی الوہابیہ مکتبہ حقیقۃ دار الشفعۃ استانبول ترکی ۔ص۵۲)
احادیث دکھانے کا کیا موقع کہ آخر سب کتب حدیث صحاح وسنن ومسانید ومعاجیم وغیرہ حضور والا
صلوات اللہ تعالی وسلامہ علیہ
کے بعد تصنیف ہوئیں تو ان کے طور پر معاذاللہ وہ سب بدعت اور مصنف بدعتی ۔رہی آیت کہ رب العزۃ جل وعلا نے بلا تخصیص لفظ وصیغہ ووقت وعدد مطلقا اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پر درود وسلام کی طرف بلاتا ہے
یا یھا الذین امنو صلوا علیہ وسلموا تسلیما ۲۔
اے ایمان والو ! ان پر درود اور خوب سلام بھیجو ۔
(۲القران الکریم ۳۳ /۵۶)
اللھم صل وسلم وبارک علیہ وعلی اٰلہ وصحبہ اجمعین کلما ولع بذکرہ الفائز ون ومنع من اکثارہ الھالکون۔
اے اللہ !درود وسلام اوربرکت نازل فرما آپ پر اور آپ کی آل اورآپ کے تمام صحابہ پر ، جب بھی آپ کے ذکر پرشیفتہ ہوں کامیاب ہونیوالے اوراس کی کثرت سے انکار کریں ہلاک ہونیوالے (ت)
تو دلائل الخیرات ودرود تاج وغیرہما سب اس حکم جانفزا کے دائرہ میں داخل ، یہ بھی انہیں مقبول ہوتی نظر نہیں آتی کہ ان کتب وصیغ میں حضور والا دافع البلاء صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے اوصاف عظیمہ جلیلہ ونعوت کثیرہ جزیلہ ہیں ۔
اورانکے امام الطائفہ کا حکم ہے کہ ''جو بشر کی سی تعریف ہو اس میں بھی اختصار کرو''۱
(۱تقویۃ الایمان الفصل الخامس فی ردالاشراک الخ مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص۴۴)
علاوہ ازیں وظیفہ درود میں صدہا بار نام اقدس لینا ہوگا اوران کا امام لکھ چکا کہ نام جپنا شرک ہے ۔ اب وہ اپنے امام کی تصریح مانیں یا تمہارے خدا کا اطلاق ۔ ہاں اگر انہیں کے امام الطائفہ اور اس کے آباؤ اجداد واکابر کی تصانیف دکھاؤ تو شاید کچھ کام چلے کہ امام الطائفہ کو کچھ کہیں تو ایمان کی گت بری بنے اوراس کے اکابر سے مکابر رہیں تو اس سے کیونکر گاڑھی چھنے ، ایسی ہی جگہ پر بدلگامی کا قافیہ تنگ ہوتاہے ہے کہ