| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص ) |
رسالہ الامن والعلٰی لنا عتی المصطفی بدافع البلاء کلمہ دافع البلا کے ساتھ مصطفی علیہ الصلوۃ والسلام کی نعت بیان کرنے والوں کے لئے بلاؤں سے امن اور انکے مرتبے کی بلندی ہے مسمی بہ نام تاریخی اکمال الطامۃ علی شرک سوی بالامور العامۃ پوری قیامت ڈھانا وہابیوں کے اس شرک پر جو امور عامہ کی طرح موجود کی ہر قسم پر صادق ہے بسم اللہ الرحمن الرحیم
مسئلہ ۳۵ : از دہلی باڑہ ہند ورائے مرسلہ مولوی محمد کرامت اللہ خان صاحب (عہ) ۲۱ جمادی الآخرۃ ۱۳۱۱ ھ
عہ: مولانا کرامت اللہ خاں صاحب خلیفہ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہما
علمائے دین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں زید کہتا ہے کہ پڑھنا درود تاج اور دلائل الخیرات کا شرک محض اور بدعت سیئہ ہے اور تعلیم اس کی سم قاتل شرک اس لئے کہ درود تاج میں دافع البلاء والوبا ء والقحط والمرض والالم رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی شان میں مذکور ہے ،اور بدعت سیئہ اس لئے کہ یہ درودبعد صدہا سال کے تصنیف ہوئے ہیں ۔عمر وجواب میں کہتا کہ ورد اس درود مقبول کا موجب خیر وبرکت اور باعث ازدیاد محبت ہے ۔ زید عربیت سے جاہل ہے وہ نہیں سمجھتا کہ حضرت صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سبب ہیں دفع بلا کے ،اگرچہ دافع البلاء حقیقتاً خدائے تعالی ہے ۔مختصرالمعانی میں
انبت الربیع البقل۱۔
(بہار نے سبزہ اگایا ۔ت) کہ بقول مومن مجاز اور بقول کافر حقیقت فرمایا ہے ۔
(۱مختصر المعانی ،احوال اسناد الخبر ، المکتبہ الفاروقیہ ملتان ،ص ۸۵)
علاوہ ازیں و
ما کان اللہ لیعذب بھم وانت فیھم ۲
(اللہ تعالی ان کافروں پر عذاب نہ فرمائے گا جب تک اے محبوب تو ان میں تشریف فرما ہے ۔ت )
(۲القران الکریم ۸ /۳۳)
اور وما ارسلنک الا رحمۃ للعالمین ۳
(ہم نے نہ بھیجا تمھیں مگر رحمت سارے جہان کے لئے ۔ت )
(۳القرآن الکریم ۲۱ /۱۰۷)
ہمارے دعوئے پر دو بزرگ گواہ ہیں ،اور کیا سال ولادت حضرت رحمت عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم میں قحط عام کی وبا دفع نہیں ہوئی ،اس کے سوا جبرائیل خلیل کامقولہ قرآن کریم میں اس طرح درج ہے :
لاھب لک غلما زکیا ۴
(میں عطا کروں تجھے ستھرا بیٹا ۔ت)
(۴القرآن الکریم ۱۹ /۱۹)
یہاں بقول زید حضرت جبرائیل بھی معاذ اللہ مشرک ہوگئے کیونکہ وہ اپنے آپ کو وہاب فرما رہے ہیں ۔پس جو جواب زید کی طرف سے ہوگا وہی ہماری طرف سے ۔پھر چونکہ یہ درود معمول بہ اکثر علماء ومشائخ عظام ہے پس وہ سب بھی زید کے نزدیک مشرک ہوئے اور طرہ یہ کہ خود زید بھی اس خواہ مخواہ کے شرک سے بچ نہیں سکتا کیونکہ وہ بھی سم (عہ)کو قاتل اور ادویہ کو دافع درد رافع عشیاں کہتا ہے ۔
عہ: سم یعنی زہر
اور حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی قصیدہ اطیب النغم میں آنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو دافع فرما رہے ہیں ۔سندیں تو اور بھی ہیں مگر اس مختصر میں گنجائش نہیں ۔ رہا صد ہا سال کے بعد تصنیف ہونے سے بدعت سیئہ ہونا ،یہ بھی زید کی حماقت پر دال ہے ۔خود زید جو مولوی اسمعیل صاحب کے خطبے جمعہ میں بر سر منبر پڑھتا ہے اس کے لئے اس کے پاس کوئی حدیث ہے یا وہ زمانہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ سلم کی تصنیف ہیں ۔سبحان اللہ ان خطبوں کا پڑھنا (جو صد ہا سال بعد کی تصنیف ہیں ) تو زید کے لئے سنت ہو او ر خاصان حق کی تصنیف درود کا پڑھنا بدعت سیئہ ٹھہرے ،ہاں جو صیغے درود کے حضور سرور عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے منقول ہیں ان کا پڑھنا ہمارے نزدیک بھی افضل وبہتر ہے مگرعلمائے راسخین وفقرائے کاملین نے حالت ذوق وشوق میں جو درود شریف بالفاظ بدیعہ تصنیف فرمائے ہیں جن میں جناب غوث الثقلین محبوب سبحانی بھی شامل ہیں اور حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی نے جذب القلوب میں درج فرمائے ہیں ،اور خودحضرت شیخ نے ایک مستقل رسالہ اس بارہ میں تالیف فرمایا ہے ،اور جتنے درود مشائخ عظام نے تصنیف فرمائے ہیں سب اس میں درج ہیں ،اور شرح سفر السعادۃ میں ۳۶صیغے رسول خدا سے منقول ہیں باقی صحابہ وتابعین نے زیادہ کئے ہیں ۔زید جاہل نے ان سب حضرات کو معاذ اللہ مشرک بنایا ہے ۔اب علمائے اعلام سے استفسار ہے کہ قول زید کا صحیح اور موافق عقائد سلف صالح کے ہے یا عمرو کا ؟یہ تشریح وتفصیل ارشاد ہو ،اللہ آپ کو جزائے خیر عنایت فرمائے ۔
الجواب بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ علی ما علم وھدانا للذی اقوم وسلک بنا السبیل الاسلم وصلی ربنا وبارک وسلم علی دافع البلاء والقحط والمرض والالم سیدنا ومولنا ومالکنا وماونا محمد مالک الارض ورقاب الامم و علی الہ وصحبہ اولی الفضل والفیض والعطاء والجود والکرم امین قال الفقیر المستدفع البلاء من فضل نبیہ العلی الاعلی صلی علیہ اللہ تعالی عبد المصطفی احمد رضا المحمدی السنی الحنفی القادری البرکاتی البریلوی دفع نبیہ عنہ البلاء ومنح قلبہ النور والجلاء ۔
تمام تعریفیں اللہ تعالی کے لئے ہیں کہ اس نے ہمیں علم عطا فرمایا اور سب سے سیدھی راہ کی ہدایت فرمائی اور ہمیں سلامتی والے راستے پر چلایا ۔ہمارا پروردگار درود وسلام اور برکت نازل فرمائے بلا ، وبا ،قحط ،بیماری اور دکھوں کو دور کرنیوالے ہمارے آقا ومولی ومالک وماوی محمد پر ، جو زمین اور امتوں کی گردنوں کے مالک ہیں ،اور آپ کی آل اور آپ کے اصحاب پر جو فضل ،فیض ،عطا اور جود وکرم والے ہیں ،آمین ۔کہتا ہے فقیر عبد المصطفی احمد رضا سنی حنفی قادری برکاتی بریلوی جو نبی اعلی کے بلند فضل کے بطفیل مصیبت سے بچنے کا طلب گار ہے ۔نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اس مصیبت کو دور فرمائیں اور اس کے دل کو روشنی اور چمک عطا فرمائیں (ت)
یہ مختصرجواب موضع صواب متضمن مقدمہ ودو باب وخاتمہ ۔مقدمہ اتمام الزام وتمہید مرام میں عائدہ قاہرہ وفائدہ زاہرہ پر مشتمل ۔