| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص ) |
مسلمانو یہ روشن ظاہر واضح قاہر عبارات تمہارے پیش نظرہیں جنہیں چھپے ہوئے دس۱۰ دس ۱۰ اور بعض کو ستر ہ۱۷ او ر تصنیف کوا نیس ۱۹ سال ہوئے (اور ان دشنامیوں کی تکفیرتو ا ب چھ سال یعنی ۱۳۲۰ھ سے ہوئی ہے( جب سے المعتمدالمستند چھپی) ان عبارات کو بغورنظر فرماؤ اور اﷲ و رسول کے خوف کو سامنے رکھ کر انصاف کرو یہ عبارتیں فقط ان مفتریوں کا افتراء ہی رد نہیں کرتیں بلکہ صراحۃً صاف صاف شہادت دے رہی ہیں کہ ایسی عظیم احتیاط والے نےہرگز ان دشنامیوں کوکا فر نہ کہا جب تک یقینی ،قطعی ،واضح، روشن، جلی طور سے ان کا صریح کفرآفتاب سے زیادہ ظاہر نہ ہولیا جس میں اصلاً،اصلاً،ہر گز، ہرگزکوئی گنجائش ،کوئی تأویل نہ نکل سکی کہ آخر یہ بندہ خدا وہی توہے جو انکے اکابر پر ستر/ ۷۰،ستر/ ۷۰ وجہ سے لزوم کفر کاثبوت دے کر یہی کہتا ہے کہ ہمیں ہمارے نبی نے اہل لاالہٰ الااﷲکی تکفیر سے منع فر مایا ہے جب تک کہ وجہ کفر آفتاب سے زیادہ روشن نہ ہوجائے اور حکم اسلام کے لئے اصلاً کوئی ضعیف ساضعیف محمل باقی نہ رہے۲۔
(۲سبحٰن السبوح عن عیب کذب مقبوح دارالاشاعت جامعہ گنج بخش لاہور ص۹۱)
یہ بندہ خدا وہی تو ہے جوخود ان دشنامیوں کی نسبت (جب تک ان کی دشنامیوں پر اطلاع یقینی نہ ہوئی تھی) اٹھتر ۷۸ وجہ سے بحکم فقہائے کرام لزوم کفر کا ثبوت دے کریہی لکھ چکاتھا کہ ہزار ہزاربار حاشﷲ میں ہر گزانکی تکفیر پسند نہیں کرتا۳،
(۳سبحٰن السبوح عن عیب کذب مقبوح دارالاشاعت جامعہ گنج بخش لاہور ص۹۰ و ۹۱)
جب کیاان سے کوئی ملاپ تھا اب رنجش ہوگئی ؟جب ان سے جائدادکی کوئی شرکت نہ تھی اب پیدا ہوئی ؟ حاشاﷲ مسلمانوں کا علاقہ محبت و عداوت ،صرف محبت و عداوت خدا ورسول ہے ،جب تک ان دشنام دہوں سے دشنام صادر(عہ۱) نہ ہوئی یا اﷲ ورسول کی جنا ب میں ان کی دشنام (عہ۲) نہ دیکھی سنی تھی، اس وقت تک کلمہ گوئی کا پاس لازم تھا ، غایت احتیاط سے کام لیا حتٰی کہ فقہائے کرام کے حکم سے طرح طرح ان پر کفر لازم تھا مگر احتیاطاً ان کا ساتھ نہ دیا اورمتکلمین عظام کا مسلک اختیار کیا ۔جب صاف صریح انکار ضروریات دین ودشنام دہی رب العلمین وسید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وعلیہم اجمعین آنکھ سے دیکھی تو اب بے تکفیر چارہ نہ تھاکہ اکابر ائمہ دین کی تصریحیں سن چکے کہ من شک فی عذابہ وکفرہ فقدکفر۱۔ جوایسے کے معذب و کافر ہونے میں شک کرے خود کافر ہے ۔
عہ۱: جیسے تھانوی صاحب کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی جناب میں ان کی سخت گالی ۱۳۱۹ھ میں چھپی اس سے پہلے اپنے آپ کو سنی ظاہر کرتے بلکہ ایک وقت وہ تھا کہ مجلس میلاد مبارک وقیام میں شریک اہل اسلام ہوتے ۱۲کاتب عفی عنہ ۔ عہ۲: جیسے گنگوہی صاحب وانبیٹھی صاحب کہ ان کے اتنے قول کی نسبت میرٹھ سے سوال آیا تھا کہ خدا جھوٹا ہوسکتا ہے اس کے بعد معلوم ہوا کہ شیطان کا علم رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے علم سے زیادہ بتاتے ہیں۔ پھرگنگوہی صاحب کا وہ فتوٰی کہ خدا جھوٹا ہے جو اسے جھوٹا کہے مسلما ن سنی صالح ہے ۔ جب چھپا ہوا نظر سے گزرا کمال احتیاط یہ کہ دوسروں کا چھپوایا ہوا تھا اس پروہ تیقن نہ کیا جس کی بناپرتکفیر ہوجب وہ اصلی فتوی گنگوہی صاحب کا مہری دستخطی خود آنکھ سے دیکھا اوربار بار چھپنے پر بھی گنگوہی صاحب نے سکوت کیا تو اس کے صدق پر اعتبار کافی ہوا۔ یونہی قادیانی دجال کی کتابیں جب تک آپ نہ دیکھیں اس کی تکفیر پر جزم نہ کیا جب تک صرف مہدی یا مثیل مسیح بننے کی خبر سنی تھی جس نے دریافت کیا اتنا ہی کہا کہ کوئی مجنون معلوم ہوتاہے ، پھر جب امرتسر سے ایک فتوٰ ی اس کی تکفیر کا آیا جس میں اس کی کفریہ عبارتیں بحوالہ صفحات منقول تھیں اس پر بھی اتنا لکھا کہ ''اگر یہ اقوال مرزا کی تحریروں میں اسی طرح ہیں تو وہ یقینا کافر۔''دیکھو رسالہ السوء والعقاب علی المسیح الکذاب صفحہ ۱۸، ہاں اب جب اس کی کتابیں بچشم خود دیکھیں اس کے کافر مرتد ہونے کا قطعی حکم دیا۱۲کاتب عفی عنہ
(۱درمختارکتاب الجہاد باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۵۶)
اپنا اور اپنے دینی بھائیوں عوام اہل اسلام کا ایمان بچانا ضروری تھا لاجرم حکم کفر دیا اور شائع کیا
وذٰلک جزاء الظلمین۔
تمہارا رب عزوجل فرماتاہے:
قل جآء الحق وزھق الباطل ان الباطل کان زھوقاً ۱۔
کہدو کہ آ یا حق اورمٹا باطل ، بے شک باطل کوضرور مٹنا ہی تھا۔
(۱القرآن الکریم ۱۷ /۸۱)
اور فر ماتاہے :
لا اکراہ فی الدین قد تبین الرشد من الغی۲
دین میں کچھ جبرنہیں ، حق راہ صاف جدا ہوگئی ہے گمراہی سے ۔
(۲القرآن الکریم ۲ /۲۵۶)
یہاں چار مرحلے تھے : (۱) جو کچھ ان دشنامیوں نے لکھا ،چھاپا ضرور وہ اﷲ ورسول جل وعلا وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی توہین و دشنام تھا۔ ( ۲) اﷲ ورسول جل وعلا وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی توہین کرنےوالا کافرہے ۔ (۳) جو انہیں کافر نہ کہے،جو ان کا پاس لحاظ رکھے جو ان کی استادی یا رشتے یا دوستی کا خیال کرے وہ بھی ان میں سے ہے ، ان ہی کی طرح کافر ہے ، قیامت میں ان کے ساتھ ایک رسی میں باندھا جائے گا۔ (۴) جو عذرومکر ،جہال وضلال یہا ں بیان کرتے ہیں سب باطل و ناروا ا ورپا در ہوا ہیں ۔ یہ چاروں بحمد اﷲتعالی بروجہ اعلٰی واضح روشن ہوگئے جن کے ثبوت قرآن عظیم ہی کی آیات کریمہ نے دیئے ۔اب ایک پہلوپر جنت و سعادت سرمدی ، دوسری طرف شقاوت و جہنم ابدی ہے،جسے جو پسند آئے اختیار کرے مگر اتنا سمجھ لوکہ محمد رسول اﷲ کادامن چھوڑ کر زید و عمر وکا ساتھ دینے والا کبھی فلاح نہ پائے گا ، باقی ہدایت رب العزت کے اختیار میں ہے ۔
بات بحمد اﷲتعالی ہر ذی علم مسلمان کے نزدیک اعلٰی بد یہیات سے تھی مگرہمارے عوام بھائیوں کو مہریں دیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے ، مہریں علمائے کرام حرمین طیبین سے زائد کہاں کی ہوں گی جہاں سے دین کا آغاز ہوا اور بحکم احادیث صحیحہ کبھی وہاں شیطان کا دور دورہ نہ ہوگا لہذا اپنے عام بھائیوں کی زیادت اطمینان کو مکہ معظمہ و مدینہ طیبہ کے علمائے کرام و مفتیان عظام کے حضور فتوی ٰپیش ہوا جس خوبی و خوش اسلوبی و جوش دینی سے ان عمائداسلام نے تصدیقیں فرمائیں بحمداﷲتعالٰی کتاب مستطاب
''حسام الحرمین علٰی منحر الکفر و المین(۱۳۲۴ھ)''
میں گرامی بھائیوں کے پیش نظر اور ہر صفحہ کے مقابل سیلس اردو میں اس کا تر جمہ
"مبین احکام و تصدیقات اعلام(۱۳۲۵ھ)"
جلوہ گر۔
الٰہی ! اسلامی بھائیوں کو قبول حق کی توفیق عطافرمااور ضدو نفسانیت یا تیرے اور تیر ے حبیب کے مقابل، زید وعمر و کی حمایت سے بچاصدقہ محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی وجاہت کا ، آمین، آمین ،آمین ۔
والحمد للٰہ رب العٰلمین وافضل الصلاۃ واکمل السلام علٰی سید نا محمد و اٰلہٖ وصحبہٖ و حزبہٖ اجمعین اٰمین
رسالہ تمہید ایمان بآیات قرآن
ختم ہوا