Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
92 - 212
مسلمانو! آزمائے کو کیا آزمانا ، بارہاہوچکا ان حضرا ت نے بڑے زورو شور سے یہ دعوے کئے اور جب کسی مسلمان نے ثبوت مانگا،فورًا پیٹھ پھیر گئے اور پھرمنہ نہ دکھاسکے مگر حیااتنی ہے کہ وہ رٹ، جو منہ کو لگ گئی ہے، نہیں چھوڑتے ،اور چھوڑیں کیونکر کہ مرتا کیانہ کرتا، اب خدا اور رسول کو گالیاں دینے والوں کے کفرپر پر دہ ڈالنے کا آخری حیلہ یہی رہ گیا ہے کہ کسی طرح عوام بھائیوں کے ذہن میں جم جائے کہ علمائے اہل سنت یونہی بلاوجہ لوگوں کو کافر کہہ دیا کر تے ہیں ایسا ہی ان دشنامیوں کو بھی کہہ دیا ہوگا۔مسلمانو !ان مفتریوں کے پاس ثبوت کہاں سے آیا؟ کہ من گھڑت کا ثبوت ہی کیا ۔
وان اﷲ لایھدی کیدالخآئنینo۱؂
اوراللہ دغابازوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔(ت)
 (۱؂القرآن الکریم ۱۲ /۵۲)
ان کا ادعائے باطل تو اسی قد ر سے باطل ہوگیا ۔ 

تمہارا رب عزوجل فرماتاہے :
قل ھاتوا برھانکم ان کنتم صٰدقین۲؂۔
 (فرماؤ) لاؤ اپنی برھان اگر سچے ہو۔
 (۲؂القرآن الکریم ۲ /۱۱۱)
اس سے زیادہ کی ہمیں حاجت نہ تھی مگر بفضلہ تعالی ہم ان کی کذابی کا وہ روشن ثبوت دیں کہ ہر مسلمان پران کا مفتری ہونا آفتاب سے زیادہ ظاہر ہوجائے ۔ ثبوت بھی بحمدہ تعالی تحریری ، وہ بھی چھپا ہوا، وہ بھی نہ آج کا ،بلکہ سالہاسال کا، جن جن کی تکفیر کا اتہام علمائے اہل  سنت پر رکھا ان میں سب سے زیادہ گنجائش اگر ان صاحبوں کو ملتی تو اسمعیل دہلوی میں کہ بیشک علمائے اہلسنت نے اس کے کلام میں بکثرت کلمات کفریہ ثابت کئے اور شائع فرمائے بایں ہمہ
اولاً سبحان السبوح عن عیب کذبٍ مقبوحٍ (۱۳۰۷ھ)
دیکھئے کہ بار اول (۱۳۰۹ھ) میں لکھنؤ مطبع انوار محمدی میں چھپا جس میں بد لا ئل قاہر ہ دہلوی مذکوراور اس کے اتباع پر پچھتر /۷۵ وجہ سے لزوم کفرثابت کرکے صفحہ ۹۰ پر حکم اخیر یہی لکھا کہ علمائے محتاطین انہیں کافر نہ کہیں یہی صواب ہے
و ھو الجواب و بہٖ یفتٰی و علیہ الفتوٰی و ھو المذھب و علیہ الاعتماد و فیہ السلامۃ و فیہ السداد۳؂۔
یعنی یہی جواب ہے اور اسی پر فتوی ٰ ہو اور اسی پر فتوٰی ہے اور یہی ہمار ا مذہب اور اسی پر اعتماد اور اسی میں سلامتی اور اسی میں استقامت ۔
 (۳؂سبحٰن السبوح عن عیب کذب مقبوح دارالاشاعت جامعہ گنج بخش داتا دربار لاہور ص۱۰۳)
ثانیاً "الکوکبۃ الشہابیۃ فی کفریات ابی الوہابیۃ(۱۳۱۲ھ)
" دیکھئے جو خاص اسمعیل دہلوی اور اس کے متبعین ہی کے رد میں تصنیف ہوا اوربار اول شعبان ۱۳۱۶ھ میں عظیم آباد مطبع تحفہ حنفیہ میں چھپا۔ جس میں نصوص جلیلہ قرآن مجید واحادیث صحیحہ وتصریحات ائمہ سے بحوالہ صفحات کتب معتمدہ اس پر ستر ۷۰ وجہ بلکہ زائد سے لزوم  کفرثابت کیا اور بالآخر یہی لکھا (ص ۶۲) ہمارے نزدیک مقام احتیاط میں اکفار سے کف لسان ماخوذ و مختار ومناسب واللٰہ سبحانہ و تعالٰی اعلم ۴؂۔
 (۴؂الکوکبۃ الشہابیۃ فی کفریات ابی الوہابیۃ رضا اکیڈمی بمبئی انڈیاص۶۲)
ثالثاً "سل السیوف الھندیۃ علٰی کفریات بابا النجدیۃ(۱۱ ۱۳ھ)"
دیکھئے کہ صفر ۱۳۱۶ھ کو عظیم آباد میں چھپا ، اس میں اسمعیل دہلوی او ر اس کے متبعین پر بوجوہ قاہرہ لزوم کفر کا ثبوت دے کر صفحہ ۲۱، ۲۲ پر لکھا یہ حکم فقہی متعلق بہ کلمات سفہی تھا مگر اﷲ تعالی کی بے شمار رحمتیں، بے حد بر کتیں ،ہمارے علمائے کرام پر کہ یہ کچھ دیکھتے ۔اس طائفہ کے پیر سے ناروا بات  پر سچے مسلمانوں کی نسبت حکم کفرو شرک سنتے ہیں، بایں ہمہ نہ شدت  غضب دامن احتیاط ان کے ہاتھ سے چھڑاتی ہے ، نہ قوت انتقام حرکت میں آتی ،وہ اب تک یہی تحقیق فرمارہے ہیں کہ لزوم و التزام میں فرق ہے اقوال کاکلمہ کفر ہونا اور بات ،اور قائل کو کافر مان لینا اور بات ، ہم احتیاط برتیں گے ، سکوت کریں گے ،جب تک ضعیف ساضعیف احتمال ملے گا حکم کفر جاری کرتے ڈریں گے ۱؂،اھ مختصرا۔
 (۱؂سل السیوف الہندیۃ علی کفریات بابا النجدیۃ رضا اکیڈمی انڈیا ص۲۱و۲۲)
رابعاً  "ازالۃ العاربحجر الکرائم عن کلاب النار (۱۳۱۶ھ)"
دیکھئے کہ بار اول ۱۳۱۷ھ کو عظیم آباد میں چھپا ، اس میں صفحہ ۱۰ پر لکھا ہم اس با ب میں قول متکلمین اختیار کرتے ہیں ان میں جو کسی ضروری دین کا منکر نہیں نہ ضروری دین کے کسی منکر کو مسلمان کہتاہے اسے کافر نہیں کہتے ۔۲؂
 (۲؂ازلۃ العار بحجر الکرائم من کلاب النار رضا اکیڈمی بمبئی انڈیاص۱۸)
خامساً :
اسمعیل دہلوی کو بھی جانے دیجئے ، یہی دشنامی لوگ جن کے کفر پر اب فتوی دیا ہے جب تک ان کی صریح دشنامیوں پر اطلاع نہ تھی، مسئلہ امکان کذب کے باعث ان پراٹھتر۷۸ وجہ سے لزوم کفر ثابت کرکے'' سبحان السبوح'' میں بالآخر صفحہ ۸۰ طبع اول پر یہی لکھا کہ حاشاﷲ حاشاﷲ ہزار ہز ار بار حاش ﷲ میں ہرگز ان کی تکفیر پسند نہیں کرتا ، ان مقتدیوں یعنی مد عیان جدید(عہ) کو تو ابھی تک مسلمان ہی جانتا ہوں اگر چہ ان کی بدعت و ضلالت میں شک نہیں اور امام الطائفہ (اسمعیل دہلوی) کے کفر پر بھی حکم نہیں کرتا کہ ہمیں ہمارے نبی نے اہل لاالہ  الا اﷲکی تکفیر سے منع فرمایا ہے جب تک وجہ کفر، آفتاب سے زیادہ روشن نہ ہوجائے اور حکم اسلام کے لئے اصلاً کوئی ضعیف سا ضعیف محمل بھی باقی نہ رہے ۔
فان الاسلام یعلو ولا یعلٰی علیہ۳؂۔
 (اس لئے کہ اسلام غالب ہے مغلوب نہیں ہے ۔ ت)
عہ: گنگوہی وانبھٹی اور انکے اذباب دیوبندی ۱۲کاتب عفی عنہ
 (۳؂سبحٰن السبوح عن عیب کذب مقبوح دارالاشاعت جامعہ گنج بخش لاہور ص۹۰ و ۹۱)
مسلمانو ! مسلمانو! تمہیں اپنا دین وایمان اور روز قیامت و حضو ر بارگا ہ رحمن یاددلاکر استفسارہے کہ جس بندہ خدا کی دربارہ تکفیر یہ شدید احتیاط یہ جلیل تصریحات اس پر تکفیر  تکفیرکا افتراء کتنی بے حیائی ، کیسا ظلم ،کتنی گھنونی ،ناپاک با ت ،مگرمحمد رسول اللہ  صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں اور وہ جو کچھ فر ماتے ہیں قطعاً حق فرماتے ہیں
اذا لم تستحی فاصنع ما شئت ۱؂۔
جب تجھے حیا نہ رہے تو جو چاہے کر :
ع				 ___________     بے حیا باش و آنچہ خواہی کن
 (بیحیا ہو جا پھر  جو چاہے کر۔ت)
 (۱؂المجعم الکبیر حدیث۶۵۸المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱۷ /۲۳۷)
Flag Counter