انکار ، یعنی جس نے ان بدگویوں کی کتابیں نہ دیکھیں اس کے سامنے صاف مکر جاتے ہیں کہ ان لوگوں نے یہ کلمات کہیں نہ کہے اور جو ان کی چھپی ہوئی کتابیں ،تحریریں دکھادیتا ہے۔اگر ذی علم ہوا توناک چڑھاکر منہ بناکر چل دئے یا آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بکمال بے حیائی صاف کہہ دیا کہ آپ معقول بھی کر دیجئے تومیں وہی کہے جاؤں گااور بیچارہ بے علم ہوا تو اس سے کہہ دیا ان عبارتوں کا یہ مطلب نہیں اورآخر میں ہے کیا یہ در بطن قائل اس کے جواب کو وہی آیت کریمہ کافی ہےکہ :
یحلفون باﷲ ماقالوا ولقد قالوا کلمۃ الکفروکفروابعد اسلامھم ۲۔
خدا کی قسم کھاتے ہیں کہ انہوں نے نہ کہا حالانکہ بے شک ضرور وہ یہ کفر کے بول بو لے اور مسلمان ہوئے پیچھے، کافر ہوگئے۔
(۲القرآن الکریم ۹ /۷۴)
ع ---------ہوتی آئی ہے کہ انکار کیا کرتے ہیں
ان لوگوں کی وہ کتابیں (عہ۱) جن میں کلمات کفریہ ہیں مدتوں سے انہوں نے خود اپنی زندگی میں چھا پ کر شائع کیں اور ان میں بعض دو دوبار(عہ۲) چھپیں مدتہامدت سے علمائے اہلسنت نے ان کے ردچھاپے ،مواخذے کئے وہ فتوے(عہ۳) جس میں اﷲ تعالی کو صاف صاف کا ذب جھوٹا مانا ہے اور جس کی اصل مہری و دستخطی اس وقت تک محفوظ ہے اور اس کے فوٹو بھی لئے گئے جن میں سے ایک فوٹو کہ علمائے حرمین شریفین کو دکھانے کے لئے مع دیگرکتب دشنامیاں گیا تھا سرکار مدینہ طیبہ میں بھی موجودہے۔
عہ۱: یعنی براہین قاطعہ وحفظ الایمان وتحذیرالناس وکتب قادیانی وغیرہ ۱۲کاتب عفی عنہ
عہ۲:جیسے براہین قاطعہ وحفظ الایمان ۱۲کاتب عفی عنہ
عہ۳ : یعنی فتوائے گنگوہی صاحب ۱۲کاتب عفی عنہ
یہ تکذیب خدا کا ناپاک فتوی اٹھارہ برس ہوئے ربیع الاخر ۱۳۰۸ھ میں رسالہ صیان الناس کے ساتھ مطبع حدیقۃ العلوم میرٹھ میں مع رد کے شائع ہوچکا پھر۱۳۱۸ ھ مطبع گلزار حسنی بمبئی میں اس کا اور مفصل رد چھپا، پھر ۱۳۲۰ ھ میں پٹنہ عظیم آباد مطبع تحفہ حنفیہ میں اس کا اور قاہر رد چھپا اور فتوے دینے والاجمادی الآخر ہ ۱۳۲۳ھ میں مرا،اورمرتے دم تک ساکت ر ہا نہ یہ کہا کہ وہ فتوی میرا نہیں حالانکہ خود چھاپی ہوئی کتابو ں سے فتوی کا انکار کردینا سہل تھانہ یہی بتایا کہ مطلب وہ نہیں جو علمائے اہل سنت بتارہے ہیں بلکہ میرا مطلب یہ ہے ،نہ کفر صریح کی نسبت ،کوئی سہل بات تھی جس پر التفات نہ کیا۔ زید سے اس کا ایک مہری فتوٰی اس کی زندگی و تندرستی میں علانیہ نقل کیا جائے اور وہ قطعاً یقینا صریح کفر ہو اور سالہاسال اس کی اشاعت ہوتی رہے ،لوگ اس کا رد،چھاپا کریں ، زید کو اس کی بنا ء پر کافربتایا کریں ،زید اس کے بعد پندرہ برس جئے اور یہ سب کچھ دیکھے سنے اور اس فتوٰی کی اپنی طرف نسبت سے انکار اصلاً شائع نہ کرے بلکہ دم سادھے رہے یہاں تک کہ دم نکل جائے ،کیا کوئی عاقل گما ن کرسکتا ہے کہ اس نسبت سے اسے انکار تھا یا اس کا مطلب کچھ اور تھا اور ان میں کے جو زندہ ہیں آج کے دم تک ساکت ہیں ، نہ اپنی چھاپی کتابوں سے منکرہوسکتے ہیں نہ اپنی دشناموں کااورمطلب گھڑ سکتے ہیں۔ ۱۳۲۰ھ میں ان کے تمام کفریات کا مجموع یکجائی رد شائع ہوا۔ پھر ان دشنامیوں کے متعلق، کچھ عمائد مسلمین علمی سوالات ان میں (عہ)کے سرغنہ کے پاس لے گئے ،
عہ: یعنی تھانوی صاحب ۱۲کاتب عفی عنہ۔
سوالوں پر جو حالت سراسیمگی بے حد پیدا ہوئی، دیکھنے والوں سے اس کی کیفیت پوچھیئے مگر اس وقت بھی نہ ان تحریرات سے انکار ہوسکا نہ کوئی مطلب گڑھنے پر قدرت پائی بلکہ کہاتو یہ کہ'' میں مباحثہ کے واسطے نہیں آیا ، نہ مباحثہ چاہتا ہوں ، میں اس فن میں جاہل ہو ں اور میرے اساتذہ بھی جاہل ہیں معقول بھی کردیجئے میں تو وہی کہے جاؤں گا۔'' وہ سوالات اور اس واقعہ کا مفصل ذکر بھی جبھی ۱۵جمادی الآخرۃ۱۳۲۳ھ کوچھاپ کر سرغنہ و اتباع سب کے ہاتھ میں دے دیاگیا،اسے بھی چوتھا سال ہے صدائے برنخاست۔ ان تمام حالات کے بعد وہ انکاری مکر ایسا ہی ہے کہ سرے سے یہی کہہ دیجئے کہ اﷲ ورسول کو یہ دشنام دہندہ لوگ دنیا میں پیدا ہی نہ ہوئے ،یہ سب بناوٹ ہے ۔اس کا علاج کیا ہوسکتاہے ،اﷲتعالی حیادے۔
مکر پنجم :
جب حضرات کو کچھ بن نہیں پڑتی ، کسی طرف مفر نظر نہیں آتی اور یہ توفیق اﷲ واحدقہار نہیں دیتا کہ توبہ کریں اﷲ تعالی اور محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی شان میں جو گستاخیاں بکیں ، جو گالیاں دیں ، ان سے باز آئیں جیسے گالیاں چھاپیں ان سے رجوع کا بھی اعلان دیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
اذا عملت سیئۃً فاحدث عندھا توبۃ السر بالسر والعلانیۃ بالعلانیۃ۔ رواہ الامام احمد فی الزھد۱ والطبرانی فی الکبیر والبیہقی فی الشعب عن معاذ بن جبل رضی اللہ تعالٰی عنہ بسند حسن جید۔
جب توبدی کرے تو فوراً توبہ کر، خفیہ کی خفیہ اور علانیہ کی علانیہ(اس کو امام احمد نے زہد میں ، طبرانی نے کبیر میں اوربیہقی نے شعب میں معاذ بن جبل رضی اللہ تعالٰی عنہ سے بسند حسن جید روایت کیا۔ت)
(اللہ کی راہ سے روکتے ہیں اور اس سے کجی چاہتے ہیں۔ت)
(۲القراان الکریم ۷ /۴۵)
راہ خدا سے روکنا ضرور۔نا چار عوام مسلمین کو بھڑ کانے اور د ن دہاڑے ان پر اندھیر ی ڈالنے کو یہ چال چلتے ہیں کہ علمائے اہل سنت کے فتوائے تکفیر کا کیا اعتبار ؟یہ لوگ ذرہ ذرہ سی با ت پر کافر کہہ دیتے ہیں ،ان کی مشین میں ہمیشہ کفر ہی کے فتوے چھپا کرتے ہیں ۔اسمعیل دہلوی کو کافر کہہ دیا، مولوی اسحٰق صاحب کو کہہ دیا ،مولوی عبدالحی صاحب کو کہہ دیا،،پھرجن کی حیا اور بڑ ھی ہوئی ہے وہ اتنا اور ملاتے ہیں کہ معاذ اﷲ حضرت شاہ عبدالعزیزصاحب کو کہہ دیا ، شاہ ولی اﷲ صاحب کو کہہ دیا،حاجی امداد اﷲصاحب کو کہہ دیا، مولانا شاہ فضل الرحمن صاحب کو کہہ دیا، پھر جو پورے ہی حد حیا سے اونچا گزرگئے وہ یہاں تک بڑھتے ہیں کہ عیاذاﷲ عیاذًاباﷲ حضرت شیخ مجدد الف ثانی رحمۃ اﷲ علیہ کو کہہ دیا۔ غرض جسے جس کا ز یادہ معتقد پایا اس کے سامنے اسی کا نام لے دیا کہ انہوں نے اسے کافر کہہ دیا یہاں تک کہ ان میں کے بعض بزرگواروں نے مولانا مولوی شاہ محمد حسین صاحب ا لہٰ آبادی مرحوم و مغفور سے جاکر جڑدی کہ معاذ اﷲ معاذ اﷲ معاذ اﷲ حضر ت سید ناشیخ اکبر محی الدین ابن عربی قدس سرہ کو کافر کہہ دیا ۔ مولانا کو اﷲتعالی جنت عالیہ عطافر مائے۔انہوں نے آیت کریمہ
ان جآء کم فاسق بنباءٍ فتبینوا ۱۔
(اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبرلائے تو تحقیق کرلو۔ت) پر عمل فرمایا۔
(۱القرآن الکریم ۱۲ /۵۲)
خط لکھ کر دریافت کیا جس پر یہاں سے رسالہ انجاء البری عن وسواس المفتری لکھ کر ارسال ہو ا اور مولانا نے مفتری کذاب پر لاحو ل شریف کا تحفہ بھیجا غرض ہمیشہ ایسے ہی افتراء اٹھایاکرتے ہیں جس کا جواب وہ ہے جو تمہارا رب عزوجل فرماتاہے :
انما یفتری الکذب الذ ین لایؤمنون۔۲۔
جھوٹے افتراء وہی باندھتے ہیں جو ایمان نہیں رکھتے ۔
(۲القرآن الکریم ۱۶ /۱۰۵)
اور فر ماتا ہے:
فنجعل لعنت ا ﷲ علی الکٰذبین ۳۔
ہم اﷲکی لعنت ڈالیں جھوٹوں پر ۔
(۳ القرآن الکریم ۳/ ۶۱)
مسلمانو! اس مکر سخیف وکید ضعیف کا فیصلہ کچھ دشوار نہیں ، ان صاحبو ں سے ثبو ت مانگوکہ کہہ دیا کہہ دیافرماتے ہو، کچھ ثبوت بھی رکھتے ہو ، کہاں کہہ دیا؟ کس کتاب ،کس رسالے،کس فتوے،کس پرچے میں کہہ دیا؟ہاں ہاں ثبوت رکھتے ہو تو کس دن کے لئے اٹھا رکھاہے دکھاؤ اور نہیں دکھاسکتے اور اﷲجانتا ہے کہ نہیں دکھاسکتے تو دیکھو قرآن عظیم تمہارے کذاب ہونے کی گواہی دیتا ہے۔
مسلمانو! تمہارا رب عزوجل فرماتاہے:
فاذ لم یاتو ا بالشھدآء فا و لئک عنداﷲ ھم الکٰذ بون ۴۔