Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
90 - 212
فائدہِ جلیلہ
اس تحقیق سے یہ بھی روشن ہوگیا کہ بعض فتاوے مثل فتاوی قاضی خان وغیرہ میں جو اس شخص پر کہ اﷲ ورسول کی گواہی سے نکا ح کرے یا کہے ارواح مشائخ حاضر وواقف ہیں یاکہے ملائکہ غیب جانتے ہیں بلکہ کہے مجھے غیب معلوم ہے ،حکم کفردیا ، اس سے مراد وہی صورت کفریہ مثل ادعائے علم ذاتی وغیرہ ہے۔ورنہ ان اقوال میں تو ایک چھوڑمتعدد احتمال اسلام کے ہیں کہ یہاں علم غیب قطعی، یقینی کی تصریح نہیں اور علم کا اطلاق ظن پر شائع وذائع ہے تو علم ظنی کی شق بھی پیدا ہوکر اکیس کی جگہ بیالیس احتمال نکلیں گے اور ان میں بہت سے کفر سے جدا ہوں گے کہ غیب کے علم ظنی کا ادعاء کفر نہیں۔ 

بحر الرائق و ردالمحتار میں ہے :
علم من مسائلھم ھنا ان من استحل ما حرمہ اللٰہ تعالٰی علٰی وجہٖ الظن لا یکفر و انما یکفر اذا اعتقد الحرام حلالاً و نظیرہ ما ذکرہ القرطبی فی شرح مسلمٍ ان ظن الغیب جائز کظن المنجم و الرمال بوقوع شیءٍ فی المستقبل بتجربۃ امرٍ عادی فھو ظن صادق والممنوع ادعاء علم الغیب والظاھر ان ادعاء ظن الغیب حرام لا کفر بخلاف ادعاء العلم  ۱؂ اھ۔
زاد فی البحر الا ترٰی انھم قالوا فی نکاح المحرم لو ظن الحل لا یحد بالاجماع و یعزر کما فی الظھیریۃ و غیرھا و لم یقل احد انہ یکفر و کذا فی نظائرہ ۲؂اھ
ان مسائل سے معلوم ہوگیا کہ جس نے اللہ تعالٰی کے حرام کردہ کو حلال گمان کیا وہ کافر نہ ہو گا کافر توحرام کو حلال اعتقاد کرنے سے ہوگا۔ اس کی نظیر وہ ہے جو قرطبی نے شرح مسلم میں ذکر کیا کہ ظن غیب جائز ہے جیسا نجومی اور رملی کا کسی امر عادی کے تجربہ کی بنیاد پر مستقبل میں کسی امر کے واقع ہونے کا ظن ۔ یہ ظن صادق ہے ۔ اورجو ممنوع ہے وہ علم غیب کا ادعاء ہے ، اورظاہر ہے کہ ظن غیب کا ادعاء حرام ہے کفر نہیں بخلاف علم غیب کے ادعاء کے اھ ۔ بحر میں زائد ہے کہ کیا تم نہیں دیکھتے کہ نکاح محرم کے بارے میں مشائخ نے کہا ہے کہ اگر اس کو حلال کا ظن تھا تو بالاجماع حد نہیں لگائی جائیگی بلکہ تعزیر لگائی جائے گی ، جیسا کہ ظہیریہ وغیرہ میں ہے ۔ا س کی تکفیر کا قول کسی نے نہیں کیا، یونہی اس کی نظائر میں ہے ۔(ت)
(۱؂ردالمحتار کتاب الحدود باب الوط ء الذی یوجب الحدود الخ داراحیاء التراث العربی بیروت  ۳ /۱۵۴)

(۲؂ البحر الرائق کتاب الحدود باب الوطء الذی یوجب الحدودالخ داراحیاء التراث العربی بیروت۵/۱۶)
توکیونکر ممکن ہے کہ علماء باوصف ان تصریحات کے کہ ایک احتمال اسلام بھی نافی کفر ہے جہاں بکثرت احتمالات  اسلام موجودہیں۔حکم کفر لگائیں لاجرم اس سے مرادہی خاص احتمال کفر ہے مثل ادعائے علم ذاتی وغیرہ  ورنہ یہ اقوال آپ ہی باطل اور ائمہ کرام کی اپنی ہی تحقیقات عالیہ کے مخالف ہوکر خود ذاہب و زائل ہوں گے، اس کی تحقیق جامع الفصولین ورد المحتار وحاشیہ علامہ نوح و ملتقط وفتاوٰی حجۃ وتاتار خانیہ مجمع الانھرو حدیقہ ندیہ وسل الحسام وغیر ہا کتب میں ہے ۔نصوص عبارات رسائل علم غیب مثل اللولؤ المکنون وغیرہا میں ملاحظہ ہوں ، وباﷲالتوفیق ،

یہاں صرف حدیقہ ندیہ شریف کے یہ کلمات شریفہ بس ہیں :
جمیع ما وقع فی کتب الفتاوٰی من کلماتٍ الکفر التی صرح المصنفون فیھا بالجزم بالکفریکون الکفر فیھا محمولاًعلٰی ارادۃ قائلھامعنیً عللوا بہٖ الکفر و اذا لم تکن ارادۃ قائلھا ذٰلک فلا کفر ۱؂ اھ مختصراً۔
یعنی کتب فتاوٰی میں جتنے الفاظ پر حکم کفر کاجزم کیا ہے ان سے مراد وہ صورت ہے کہ قائل نے ان سے پہلوئے کفر مراد لیا ہوورنہ ہرگز کفر نہیں۔ ''
 (۱؂الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیۃ والاستخفاف بالشریعۃ کفر الخ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد  ۱ /۳۰۴)
ضروری تنبیہ
احتمال وہ معتبر ہے جس کی گنجائش ہو صریح بات میں تاویل نہیں سنی جاتی ور نہ کوئی بات بھی کفر نہ رہے ۔ مثلاً زید نے کہا خدا دو(۲) ہیں ، اس میں یہ تأویل ہوجائے کہ لفظ خدا سے بحذف  مضاف حکم خدا مراد ہے یعنی قضاء دو ہیں ،مبرم و معلق ۔ جیسے قرآن عظیم میں فرمایا :
  الا ان یاتیھم اﷲ ۲؂ ای امر اللٰہ۔
مگر یہ کہ انکے پاس آئے اللہ تعالٰی یعنی اللہ تعالٰی کا امر ۔(ت)
 (۲؂القرآن الکریم   ۲ /۲۱۰)
عمرو کہے میں رسول اﷲ ہوں ، اس میں یہ تاویل گڑھ لی جائے کہ لغوی معنی مراد ہیں یعنی خدا ہی نے اس کی روح بدن میں بھیجی ، ایسی تاویلیں زنہار مسموع نہیں ۔
شفاء شریف میں ہے  :
ادعاؤہ التاویل فی لفظٍ صراحٍ لا یقبل ۳؂۔
صریح لفظ میں تاویل کا دعوٰی نہیں سنا جاتا۔
 (۳؂الشفاء بتعریف حقو ق المصطفی القسم الرابع الباب الاول المکتبۃ الشرکۃ الصحافیۃ ۲ /۲۰۹و۲۱۰)
شرح شفاء قاری میں ہے :
ھو مردود عند القواعد الشرعیۃ۴؂۔
ایسا دعوٰی شریعت میں مردو د ہے۔
 (۴؂شرح الشفاء لمنلا علی القاری القسم الرابع الباب الاول دارالکتب العلمیۃ بیروت ۲ /۳۹۶)
نسیم الریاض میں ہے :
لایلتفت لمثلہٖ و یعد ھذیانًا۵؂۔
ایسی تاویل کی طرف التفات نہ ہوگااور ہذیان سمجھی جائے گی ۔
 (۵؂نسیم الریاض القسم الرابع الباب الاول مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات الہند ۴ /۳۴۳)
فتاوٰی خلاصہ و فصول  عمادیہ جامع الفصولین و فتاوٰی ہندیہ وغیر ہا میں ہے :
واللفظ للعمادی قال انا رسول اللٰہ او قال بالفارسیۃ من پیغمبرم یرید بہٖ من پیغام می برم یکفر۱؂۔
عمادی کے الفاظ ہیں کوئی شخص کہے ''میں اللہ کا رسول ہوں ''یافارسی میں کہے ''میں پیغمبرہوں''اورمراد یہ لے کہ میں پیغام لے جاتا ہوں قاصد ہوں تو وہ کافر ہوجائے گا۔(ت)
 (۱؂الفتاوی الھندیۃ بحوالۃ الفصول العمادیۃ کتاب السیر الباب التاسع نورانی کتب خانہ پشاور  ۲ /۲۶۳)
یہ تاویل نہ سنی جائے گی
فاحفظ
(تواسے حفظ کرلیجئے۔)
Flag Counter