Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
89 - 212
(۱۸) عمرو پر وحی رسالت آتی ہے اس کے سبب غیب کاعلم یقینی پاتاہے جس طرح رسولوں کو ملتا تھا، یہ اشد کفر ہے۔
ولٰکن رسول اﷲ  وخاتم النبیین  وکان اﷲ  بکل شیئ علیمًاo۲؂۔
  ہاں (محمد)اللہ کے رسول ہیں اورسب نبیوں میں پچھلے ، اوراللہ سب کچھ جانتاہے ۔(ت)
 (۲؂القرآن الکریم ۳۳ /۴۰)
 (۱۹) وحی تو نہیں آتی مگر بذریعہ الہام جمیع غیوب ا س پر منکشف ہوگئے ہیں ، اس کا علم تمام معلومات الہٰی کو محیط ہوگیا ۔ یہ یوں کفر ہے اس نے عمرو کو علم میں حضور پر نورسید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر ترجیح دے دی کہ حضور کا علم بھی جمیع معلومات  الہٰی کو محیط نہیں۔
قل ھل یستوی الذین یعلمون والذین لا یعلمون  ''۳؂۔
تم فرماؤ کیا برابر ہیں جاننے والے اورانجان۔(ت)
 (۳؂القرآن الکریم   ۳۹ /۹)
من قال فلان اعلم منہ فقدعابہ فحکمہ حکم الساب نسیم الریاض۴؂۔
جس نے کہا کہ فلاں شخص نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے زیادہ علم والا ہے ، اس نے آپ پر عیب لگایا ، لہذا اس کا حکم شاتم جیسا ہے ۔نسیم الریاض (ت)
(۴؂نسیم الریاض فی شرح الشفاء الباب الاول مرکز اہلسنت گجرات الہند۴ /۳۳۵ )
(۲۰) جمیع کا احاطہ نہ سہی مگر جو علوم غیب اسے الہام سے ملے ان میں ظاہرًا باطنًاکسی طرح کسی رسول انس و ملک کی وساطت وتبعیت نہیں اﷲتعالٰی نے بلاواسطہ رسول اصا لۃً اسے غیوب پر مطلع کیا ، یہ بھی کفر ہے:
وما کان اﷲلیطلعکم علی الغیب ولٰکن اللٰہ یجتبی من رسلہٖ من یشآء ۱؂۔
اور اﷲکی شان یہ نہیں کہ اے عام لوگو تمہیں غیب کاعلم دیدے ہاں اﷲ چن لیتا ہے اپنے رسولوں سے جسے چاہے۔(ت)
 (۱؂القرآن الکریم   ۳ /۱۷۹)
عٰلم الغیب فلا یظھرعلٰی غیبہ احدًا  الامن ارتضٰی من رسولٍ۲؂۔
غیب کا جاننے والا تو اپنے غیب پر کسی کو مسلط نہیں کرتا سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے ۔
(۲؂القرآن الکریم   ۷۲ /۲۵ ۲۶)
( ۲۱) عمروکو رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے واسطہ سے سمعاًیاعیناً یا الہاماً بعض غیوب کاعلم قطعی اﷲ عزوجل نے دیا یا دیتا ہے ، یہ احتمال خالص اسلام ہے تو محققین فقہاء اس قائل کو کافر نہ کہیں گے اگر چہ اس کی با ت کے اکیس پہلوؤں میں بیس کفر ہیں مگر ایک اسلام کا بھی ہے احتیاط و تحسین ظن کے سبب اس کا کلام اسی پہلو پر حمل کر یں گے جب تک ثابت نہ ہو کہ اس نے کوئی پہلوئے کفر ہی مراد لیا ، نہ کہ ایک ملعون کلام، تکذیب  خدا یا تنقیص  شان سید انبیاء علیہ و علیہم الصلٰوۃ والثناء میں صاف ،صریح، ناقابل تاویل و توجیہ ہو،اورپھر بھی حکم کفر نہ ہو ، اب تو اسے کفر نہ کہنا ، کفر کو اسلام ماننا ہوگا، اور جو کفر کو اسلام مانے خود کافر ہے۔اسی شفاء و بزازیہ درر وبحر ونہر و فتاوٰی خیر یہ ومجمع الانھر ودر مختار ودر مختار وغیرہ کتب معتمدہ سے سن چکے کہ جو شخص حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی تنقیص  شان کرے،کافرہے اور جو اس کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر ہے مگر یہود منش لوگ فقہائے کرام پر افترائے سخیف اور ان کے کلام میں تبدیل و تحریف کرتے ہیں ۔
و سیعلم الذین ظلموآ ای منـقلب ینـقلبون۳؂۔
اب جانا چاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔(ت)
 (۳؂القرآن الکریم ۲۶  /۲۲۷)
شرح فقہ اکبر میں ہے:
قد ذکرو ا ان المسالۃ المتعلقۃ بالکفر اذاکان لھا تسع و تسعو ن احتمالًا للکفرو احتمال واحد فی نفیہٖ فالاولٰی للمفتی والقاضی ان یعمل بالاحتمال النافی ۱؂۔
تحقیق مشائخ نے مسئلہ تکفیر کے بارے میں ذکر کیا ہے کہ اگر اس میں ننانوے احتمال کفر کے ہوں اورایک احتمال نفی کفر کا ہوتو اولٰی یہ ہے مفتی اورقاضی اس کو نفی کفر کے احتمال پر محمول کرے۔(ت)
 (۱؂منح الروض الازھر فی شرح فقہ الاکبر مطلب یجب معرفۃ المکفرات الخ دارالبشائر الاسلامیہ ص۴۴۵)
فتاوٰی خلاصہ وجامع الفصولین و محیط و فتاوٰی عالمگیر وغیر ہا میں ہے :
اذا کانت فی المسا لۃ وجوہ تو جب التکفیر و وجہ واحدیمنع التکفیر فعلٰی المفتی و القاضی ان یمیل الٰی ذٰلک الوجہ ولا یفتی بکفرہٖ تحسینًا للظن بالمسلم ثم ان کانت نیۃ القائل الوجہ الذی یمنع التکفیر فھو مسلم وان لم یکن لاینفعہ حمل المفتی کلامہ علٰی وجہٍ لایوجب التکفیر۲؂۔
اگر مسئلہ میں متعدد وجوہ موجب کفر ہوں اورفقط ایک تکفیر سے مانع ہو تو مفتی وقاضی پر لازم ہے کہ اسی وجہ کی طرف میلان کرے اورمسلمان کے بارے میں حسن ظن رکھتے ہوئے اس کے کفر کا فتوٰی نہ دے ۔ پھر اگر درحقیقت قائل کی نیت میں وہی وجہ ہے جو تکفیر سے مانع ہے تو وہ مسلمان ہے ورنہ مفتی وقاضی کا کلام کو اس وجہ پر محمول کرنا جو موجب تکفیر نہیں ہے ، قائل کو کچھ نفع نہ دے گا۔ (ت)
 (۲؂خلاصۃ الفتاوی کتاب الالفاظ الکفر الفصل الثانی مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۴ /۳۸۲)

(جامع الفصولین الفصل الثامن والثلاثون فی مسائل کلمات الکفر اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۹۸)

( المحیط البرہانی فصل فی مسائل المرتدین واحکامہم داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۵۵۰)

(الفتاوی الھندیۃ کتاب السیر الباب التاسع دارالکتب العلمیۃ بیروت ۲ /۳۰۱)

(ردالمحتار کتاب الجہاد باب المرتد داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/۲۸۵)

(الفتاوی البزازیۃ علی ہامش الفتاوی الہندیۃ کتاب الفاظ تکون اسلاماً اوکفراً نورانی کتب خانہ پشاور۶ /۳۲۱)

(بحرالرائق کتاب السیر باب احکام المرتدین ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵ /۱۲۵)

(مجمع الانھر شرح ملتقی الابحر کتاب السیر باب المرتد داراحیاء التراث العربی بیروت۱ /۶۸۸)

(الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیۃ والاستخفاف بالشریعۃ کفر الخ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد   ۱ /۳۰۲)

(الفتاوی التاتارخانیہ کتاب احکام المرتدین ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۵ /۴۵۸)
اسی طرح فتاوٰی بزازیہ وبحر الرائق و مجمع الانہر و حدیقہ ندیہ وغیر ہامیں ہے ، تاتارخانیہ وبحروسل الحسام و تنبیہ الولاۃ وغیر ہا میں ہے:
لایکفر بالمحتمل لان الکفر نھایۃ فی العقوبۃ فیستد عی نہایۃً فی الجنایۃ ومع الاحتمال لانھایۃ۱؂۔
احتمال کے ہوتے ہوئے تکفیر نہیں کی جائے گی کیونکہ کفر انتہائی سزا ہے جو انتہائی جرم کا مقتضی ہے اوراحتمال کی موجودگی میں انتہائی جرم نہ ہوا۔ (ت)
 (۱؂الفتاوی التاتارخانیہ کتاب احکام المرتدین ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۵ /۴۵۹)

(سل الحسام الہندی لنصرۃ مولانا خالدالنقشبندی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۲ /۳۱۶)

(تنبیہ الولاۃ والحکام علی احکام شاتم خیر الانام رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور   ۱ /۳۴۲)

(بحر الرائق کتاب السیر باب احکام المرتدین ایچ ایم سعید کراچی   ۵ /۱۲۵)
بحر االرائق و تنویر الابصار و حدیقہ ندیہ وتنبیہ الولاۃ وسل الحسام وغیرہامیں ہے:
والذی تحررانہ لایفتٰی بکفرمسلمٍ امکن حمل کلامہٖ علٰی محملٍ حسنٍ۲؂ الخ۔
جس نے ایسے مسلمان کی تکفیر کا فتوٰی دینے سے اجتناب کیا جس کے کلام کی تاویل ممکن ہے ، اس نے اچھا کہا۔(ت)
(۲؂الدرالمختار تنویرالابصار کتاب الجہاد باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی   ۱ /۳۵۶)

(بحر الرائق کتاب السیر باب احکام المرتدین ایچ ایم سعید کراچی   ۵ /۱۲۵)

(تنبیہ الولاۃ والحکام علی احکام شاتم خیر الانام رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ /۳۴۲)

(سل الحسام الہندی لنصرۃ مولانا خالدالنقشبندی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۲ /۳۱۶)

(الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیۃ والاستخفاف بالشریعۃ کفر الخ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱ /۳۰۲)
دیکھو ایک لفظ کے چند احتمال میں کلام ہے نہ کہ ایک شخص کے چند اقوال میں، مگر یہودی بات کو تحریف کردیتے ہیں ۔
Flag Counter