Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
88 - 212
خامساً :
اصل بات یہ ہے کہ فقہائے کرام پر ان لوگوں نے جتنا افتراء اٹھایا ، انہوں نے ہرگزکہیں ایسا نہیں فرمایا بلکہ انہوں نے بہ خصلت یہود
''یحرفون الکلم عن موا ضعہ''۱؂
یہودی بات کو اس کے ٹھکانوں سے پھیرتے ہیں۔ تحریف تبدیل کرکے کچھ کا کچھ بنالیا،
 (۱؂القرآن الکریم ۴ /۴۶)
فقہا ء نے یہ نہیں فرمایا کہ جس شخص میں ننانوے باتیں کفر کی اور ایک اسلام کی ہو وہ مسلمان ہے۔ حاشاللٰہ ! بلکہ امت کا اجماع ہے کہ جس میں ننانوے ہزار باتیں اسلام کی اور ایک کفر کی ہو وہ یقینًاقطعاًکافرہے۔ ۹۹ قطرے گلاب میں ایک بوند پیشاب کا پڑ جائے ، سب پیشاب ہوجائے گامگر یہ جاہل کہتے ہیں ننانوے قطرے پیشاب میں ایک بوند گلاب کا ڈال دو، سب طیب و طاہر ہوجائے گا۔ حاشا کہ فقہا ء توفقہاء کوئی ادنٰی تمیز والا بھی ایسی جہالت بکے ۔بلکہ فقہاء کرام نے یہ فرمایا ہے کہ'' جس مسلمان سے کوئی لفظ ایسا صادر ہو جس میں سو پہلو نکل سکیں ، ان میں ۹۹ پہلو کفر کی طرف جاتے ہوں اور ایک اسلام کی طرف توجب تک ثابت نہ ہوجائے کہ اس نے خاص کوئی پہلوکفر کا مراد رکھا ہے ہم اسے کافر نہ کہیں گے کہ آخر ایک پہلو اسلام بھی تو ہے ،کیا معلوم شایداس نے یہی پہلومراد رکھا ہو'' اور ساتھ ہی فرماتے ہیں کہ'' اگر واقع میں اس کی مراد کوئی پہلوئے کفر ہے توہماری تاویل سے اسے فائدہ نہ ہوگا۔وہ عنداﷲکافرہی ہوگا ۔ ''اس کی مثال یہ ہے کہ مثلاً زید کہے'' عمر وکو علم قطعی یقینی غیب کا ہے'' ۔ اس کلام میں اتنے پہلوہیں: 

(۱ ) عمر و اپنی ذات سے غیب دان ہے یہ صریح کفر وشرک ہے ۔
قل لا یعلم من فی السمٰوٰات والا رض الغیب الا اللٰہ۲؂۔
تم فرماؤ غیب نہیں جانتے جو کوئی آسمانوں اورزمین میں ہیں مگر اللہ۔(ت)
 (۲؂القرآن الکریم  ۲۷ /۶۵)
 (۲ ) عمر و آپ توغیب دان نہیں مگر جو علم غیب رکھتے ہیں ۔ ان کے بتائے سے اسے غیب کا علم یقینی ہوجاتا ہے،  یہ بھی کفر ہے ۔
تبینت الجن ان لوکا نوا یعلمون الغیب مالبثوا فی العذاب المھین۳؂۔
    جنوں کی حقیقت کھل گئی ، اگر غیب جانتے ہوتے تو اس خواری کے عذاب میں نہ ہوتے ۔(ت)
 (۳؂القرآن الکریم   ۳۴ /۱۴)
 (۳ ) عمر و نجومی ہے۔    

 (۴) رمال ہے۔      

  (۵ ) سامندرک جانتا، ہاتھ دیکھتا ہے ۔ 	

(۶ )کوے وغیرہ کی آواز ۔

 (۷ ) حشرات الارض کے بدن پر گرنے ، 

 (۸ ) کسی پرندے یا وحشی چرندے کے داہنے یا بائیں نکل کرجانے ،

(۹ ) آنکھ یا دیگر اعضاء کے پھڑ کنے سے شگون لیتا ہے۔ 

(۱۰ ) پانسہ پھینکتا ہے۔   

(۱۱ ) فال دیکھتا ہے ۔ 

(۱۲ ) حاضرات سے کسی کو معمول بنا کر اس سے احوال پوچھتا ہے ۔

(۱۳ ) مسمر یزم جانتا ہے۔ 

  (۱۴) جادو کی میز،

(۱۵) روحوں کی تختی سے حال دریافت کرتا ہے۔ 

(۱۶) قیافہ دان ہے۔ 

(۱۷) علم زایرجہ سے واقف ہے ان ذرائع سے اسے غیب کا علم یقینی قطعی ملتا ہے ، یہ سب بھی کفر ہیں(عہ) ۔
عہ: یعنی جبکہ ان کی وجہ سے غیب کے علم قطعی یقینی کا ادعا کیا جائے جیسا کہ نفس کلام میں مذکور ہے ۱۲منہ۔
رسول اﷲ فرماتے ہیں :
من اتٰی عرافًا اوکاھنًافصدقہ بمایقول فقدکفربما انزل علٰی محمد صلی اللہ علیہ وسلم رواہ، احمدوالحاکم بسندٍصحیح عن ابی ھریرۃ رضی ا ﷲ تعالٰی عنہ ولا حمد۱؂ وابی داود عنہ رضی اﷲ تعالی عنہ فقدبرئ مما نزل علٰی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۱؂۔
جو شخص نجومی اور کاہن کے پاس جائے اوراس کے بیان کو سچا جانے تو اس نے اس کا انکار کیا جو محمدصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر نازل ہوا۔ امام حمد وحاکم نے بسند صحیح حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔امام احمدوابوداود نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا : تو وہ قرآن اور دین اسلا م سےالگ ہوگیا۔(ت)
(۱؂المستدرک علی الصحیحین کتاب الایمان التشدید فی اتیان الکاہن مکتب المطبوعات الاسلامیہ ۱ /۸ )

( مسند احمد بن حنبل مسند ابی ہریرہ المکتب الاسلامی بیروت۲ /۴۲۹) 

(۱؂سنن ابی داود کتاب الکہانت والتطیر باب النھی عن اتیان الکہان آفتاب عالم پریس لاہور۲/ ۱۸۹)
Flag Counter