Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
87 - 212
رابعاً :
خود مسئلہ بدیہی ہے کیا جو شخص پانچ وقت قبلہ کی طرف نماز پڑ ھتا او ر ایک وقت مہادیو کو سجدہ کرلیتا ہو، کسی عاقل کے نزدیک مسلمان ہوسکتا ہے حالانکہ اﷲ کوجھوٹا کہنا یا محمد رسول اﷲ کی شان اقدس میں گستاخی کرنا ، مہادیو کے سجدے سے کہیں بدترہے اگرچہ کفرہونے میں برابرہے
وذٰلک ان الکفر بعضہ اخبث من بعضٍ
 (اوریہ اس لئے کہ بعض کفر بعض سے خبیث تر ہے ) وجہ یہ کہ بت کو سجدہ علامت  تکذیب  خدا ہے اور علامت تکذیب میں تکذیب کے برابر نہیں ہو سکتی اور سجدہ میں یہ احتمال بھی نکل سکتا ہے کہ محض تحیت و مجرا مقصود ہو نہ عبادت۔اورمحض (عہ) تحیت فی نفسہٖ کفر نہیں و لہذا اگر مثلاً کسی عالم  یا عارف کوتحیۃً سجد ہ کرے ،گنہگار ہوگا، کافر نہ ہوگا امثال بت میں شرع نے مطلقاً حکم کفر بربنائے شعار خاص کفر رکھاہے بخلاف بدگوئی حضورپرنورسیدعالم ، کہ فی نفسہٖ کفر ہے جس میں کوئی احتمال اسلام نہیں۔
عہ: شرح مواقف میں ہے :
سجودہ لھا یدل بظاھرہ انہ لیس بمصدق ونحن نحکم بالظاھر فلذا حکمنا بعدم ایمانہ لالان عدم السجود لغیر اللہ دخل فی حقیقۃ الایمان حتی لو علم انہ لم یسجد لہا علٰی سبیل التعظیم واعتقاد الالٰھیۃ بل سجد لہا وقلبہ مطمئن بالتصدیق لم یحکم بکفرہ فیمابینہ وبین اللہ وان اجری علیہ حکم الکفر فی الظاھر۱؂ ۱۲منہ۔
اس کا سورج کو سجدہ کرنا بظاہر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت کی تصدیق نہیں کرتا ہے اورہم ظاہر پر حکم لگاتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے اس کے عدم ایمان کا حکم لگایاہے ۔ یہ حکم اس وجہ سے نہیں لگایا کہ غیر اللہ کو سجدہ نہ کرنا ایمان کی حقیقت میں داخل ہے یہاں تک کہ اگر معلوم ہوجائے کہ اس نے سورج کو سجدہ بطور تعظیم اوراس کو معبود سمجھ کر نہیں کیا بلکہ اس کو سجدہ کیا درآنحالیکہ اس کا دل تصدیق وایمان کے ساتھ مطمئن تھا تو عنداللہ اس کے کفر کا حکم نہیں لگایا جائے گا اگرچہ بظاہر اس پر کفر کاحکم جاری کیا جائیگا ۔(ت)
 (۱؂شرح المواقف المرصد الثالث المقصد الاول منشورات الشریف الرضی قم ایران    ۸ /۳۲۹)
او ر میں یہاں اس فرق پر بناء نہیں رکھتاکہ ساجد صنم کی توبہ باجماع امت مقبول ہے مگر سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والے کی توبہ ہزارہاائمہ دین کے نزدیک اصلاً قبول نہیں اور اسی کو ہمارے علماء حنفیہ سے اما م بزازی و امام محقق علی الاطلاق ابن الہما م و علامہ مولٰی خسرو صاحب دررو غرر و علامہ زین بن نجیم صاحب بحر الرائق و اشبا ہ و النظائر و علامہ عمربن نجیم صاحب نہر الفائق و علامہ ابو عبد اﷲ محمد بن عبداﷲ غزی صاحب تنویر الابصار  و علا مہ خیر الدین رملی صاحب فتاوٰی خیریہ و علا مہ شیخی زادہ صاحب مجمع الانھروعلامہ مدقق محمد بن علی حصکفی صاحب در مختار وغیرھم عمائد کبار علیہم رحمۃ اﷲ العزیز الغفار نے اختیار فرمایا:
بید ان تحقیق المسئلۃ فی الفتاوٰی الرضویہ
 (علاوہ ازیں مسئلہ کی تحقیق فتاوٰی رضویہ میں ہے ۔ت) اس لئے کہ عدم قبول تو بہ صرف حاکم اسلام کے یہاں ہے کہ وہ اس معاملہ میں بعد توبہ بھی سزائے موت دے ورنہ اگر توبہ صدق دل سے ہے تو عنداﷲ مقبول ہے ، کہیں یہ بدگو، اس مسئلہ کو دستاویز نہ بنالیں کہ آخر توبہ قبول نہیں پھر کیوں تائب ہوں، نہیں نہیں توبہ سے کفر مٹ جائے گا ، مسلمان ہوجاؤگے ، جہنم ابدی سے نجات پاؤگے ، اس قدر پر اجماع ہے۔
کمافی رد المحتار وغیرہ۰
 (جیسا کہ ردالمحتار وغیرہ میں ہے۔ت) واﷲتعالی اعلم۔
اس فرقہ بے دین کا
مکر سوم
یہ ہے کہ فقہ میں لکھا ہے جس میں ننانوے باتیں کفر کی ہوں اور ایک با ت اسلام کی تو اس کو کافرنہ کہنا چاہیے ۔
اولاً :
یہ مکر خبیث سب مکروں سے بدتر و ضعیف جس کا حاصل یہ کہ جوشخص دن میں ایک بار اذان دے یا دورکعت نماز پڑھ لے اور ننانوے بار بت پوجے ، سنکھ پھونکے، گھنٹی بجائے وہ مسلمان ہے کہ اس میں ننانوے باتیں کفرکی ہیں تو ایک اسلام کی بھی ہے۔ یہی کافی ہے حالانکہ مومن تو مومن کوئی عاقل اسے مسلمان نہیں کہہ سکتا ۔
ثانیاً :
اس کی رو سے سوا دہریے کے کہ سرے سے خدا کے وجود ہی کا منکر ہو، تمام کافر، مشرک مجوس، ہنود و نصاری یہود وغیرہم دنیا بھر کے کفار سب کے سب مسلمان ٹھہر جاتے ہیں کہ اور باتوں کے منکر سہی آخر وجود خدا کے تو قائل ہیں ۔ایک یہی با ت سب سے بڑھ کراسلام کی بات بلکہ تمام اسلامی باتوں کی اصل الاصول ہے خصوصاً کفار فلاسفہ و آر یہ و غیرہم کہ بزعم خود توحید کے بھی قائل ہیں اور یہود و نصارٰی تو بڑے بھاری مسلمان ٹھہریں گے کہ توحید کے ساتھ اﷲ تعالی کے بہت سے کلاموں اور ہزاروں نبیوں اور قیامت و حشروحساب و ثواب و عذاب و جنت ونار وغیرہ بکثرت اسلامی باتوں کے قائل ہیں۔
ثالثاً :
اس کے رد میں قرآن عظیم کی وہ آیتیں کہ اوپر گزریں کافی وافی ہیں جن میں باوصف کلمہ گوئی ونماز خوانی صرف ایک ایک بات پر حکم تکفیر فرمادیا کہیں ارشاد ہوا :
کفروا بعد اسلا مھم ۱؂۔
وہ مسلمان ہوکر اس کلمے کے سبب کافر ہوگئے۔
 (۱؂القرآن الکریم    ۹/ ۷۴)
کہیں فرمایا :
لا تعتذروا قد کفر تم بعد ایمانکم ۱؂۔
بہانے نہ بناؤ تم کافر ہوچکے ایمان کے بعد ۔
(۱؂القرآن الکریم ۹ /۶۶)
حالانکہ اس مکر خبیث کی بنا ء پر جب تک ۹۹ سے زیادہ کفر کی باتیں جمع نہ ہو جاتیں ، صرف ایک کلمہ پر حکم کفر صحیح نہ تھا۔ہاں شاید اس کا یہ جواب دیں کہ خدا کی غلطی یا جلد بازی تھی کہ اس نے دائرہ اسلام کو تنگ کردیا، کلمہ گویوں ، اہل قبلہ کودھکے دے دے کر، صرف ایک ایک لفظ پر ،اسلام سے نکالا اور پھر زبردستی یہ کہ لاتعتذروا عذر بھی نہ کرنے دیا نہ عذر سننے کا قصد کیا ۔افسوس کہ خدا نے پیر نیچر یاندویہ لکچر یا ان کے ہم خیال کسی وسیع الا سلام ر یفار مر سے مشور ہ نہ لیا
الا لعنۃ اﷲ علی الظٰلمین۲؂۔
(ارے ظالموں پر خدا کی لعنت ۔ت)
(۲؂القرآن الکریم    ۱۱ /۱۸)
رابعاً
اس مکر کاجو اب :
تمہارا رب عزوجل فرماتاہے :
افتؤمنون ببعض الکتٰب وتکفرون ببعض فماجزآء من یفعل ذٰلک منکم الا خزیٌ فی الحٰیوۃ  الد نیا  ویوم القٰیمۃ یردون الٰی اشدالعذاب  ومااﷲ  بغافل عماتعملون oاولٰئک الذین اشتروا الحٰیوۃ الد نیا بالاٰخرۃ فلایخفف عنھم العذاب ولا ھم ینصرون o۳؂۔
توکیا اﷲکے کلام کا کچھ حصہ مانتے ہو اور کچھ حصے سے منکر ہو توجوکوئی تم میں سے ایسا کرے اسکا بدلہ نہیں مگر دنیا کی زندگی میں رسوائی اور قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب کی طرف پلٹے جائیں گے اور اﷲ تمہارے کوتکوں سے غافل نہیں یہی لوگ ہیں جنہوں نے عقبٰی بیچ کردنیا خریدی تو ان پر سے کبھی عذاب ہلکا ہو  نہ انکو مدد پہنچے ۔
 (۳؂القرآن الکریم   ۲ /۸۵و۸۶)
کلام  الہٰی میں فرض کیجئے اگر ہزار باتیں ہوں تو ان میں سے ہر ایک با ت کا ماننا ایک اسلامی عقیدہ ہے۔اب اگر کوئی شخص ۹۹۹مانے اور صرف ایک نہ مانے تو قرآن عظیم فرمارہا ہے کہ وہ ان ۹۹۹ کے ماننے سے مسلمان نہیں بلکہ صرف اس ایک کے نہ ماننے سے کافر ہے، دنیا میں اس کی رسوائی ہوگی اور آخرت میں اس پر سخت تر عذاب جو ابدالآ باد تک کبھی موقوف ہونا کیا معنی؟ ایک آن کو ہلکا بھی نہ کیا جائے گا نہ کہ ۹۹۹کا انکار کرے اور ایک کو مان لے تو مسلمان ٹھہرے، یہ مسلمانوں کا عقیدہ نہیں بلکہ بشہادت  قرآن  عظیم خود صریح کفرہے۔
Flag Counter