اس وہم شنیع کو مذہب سید نا امام رضی اللہ تعالٰی عنہ بتانا حضرت اما م پر سخت افترا واتہام جبکہ امام رضی اللہ تعالٰی عنہ اپنے عقائد کریمہ کی کتاب مطہر فقہ اکبر میں فرماتے ہیں :
صفاتہ تعالٰی فی الازل غیرمحدثۃ ولامخلوقۃفمن قال انھامخلوقۃ اومحدثۃ او وقف فیہا اوشک فیہا فھوکافر باﷲ تعالٰی۔۲
اﷲ تعالٰی کی صفتیں قدیم ہیں نہ نوپیدا ہیں نہ کسی کی بنائی ہوئی تو جو انہیں مخلوق یا حادث کہے یا اس با ب میں توقف کرے یا شک لائے وہ کافر ہے اور خدا کا منکر۔
(۲الفقہ الاکبر ملک سراج الدین اینڈ سنز کشمیری بازار لاہور ص۵)
نیز امام ہمام رضی ا للہ تعالٰی عنہ کتاب الوصیۃ میں فرماتے ہیں :
من قال بان کلام اﷲتعالٰی مخلوق فھو کافرباﷲالعظیم۳۔
جو شخص کلام اﷲ کو مخلوق کہے اس نے عظمت والے خدا کے ساتھ کفر کیا ۔
(۳کتاب الوصیۃ (وصیت نامہ) فصل تقربان اللہ تعالٰی علی العرش استوی الخ کشمیری بازار لاہور ص۲۸)
شرح فقہ اکبر میں ہے:۔
قال فخر الاسلام قدصح عن ابی یوسف انہ قال ناظرت ابا حنیفۃ فی مسئلۃ خلق القرٰان فا تفق رأیی ورأیہ علٰی ان من قال بخلق القرٰان فھو کافروصح ھٰذا القول ایضًاعن محمدرحمہ اﷲتعالی ۱۔
امام فخر الاسلام رحمۃ اﷲتعالٰی علیہ فرماتے ہیں امام یوسف رحمۃ اللٰہ تعالٰی علیہ سے صحت کے ساتھ ثابت ہے کہ انھوں نے فرمایا میں نے امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مسئلہ خلق قرآن میں مناظرہ کیا ،میری اور ان کی رائے اس پر متفق ہوئی کہ جو قرآن مجید کومخلوق کہے وہ کافر ہے او ریہ قول امام محمد رحمہ اﷲتعالٰی سے بھی بصحت ثبوت کو پہنچا۔
(۱منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر القرآن کلام اللہ غیر مخلوق دارالبشائر الاسلامیہ بیروت ص۹۵)
یعنی ہمارے ائمہ ثلاثہ رضی اللہ تعالٰی عنہم کا اجماع و اتفاق ہے کہ قرآن عظیم کو مخلوق کہنے والاکافرہے۔کیا معتزلہ و کرامیہ و روافض کہ قرآن کو مخلوق کہتے ہیں اس قبلہ کی طرف نماز نہیں پڑھتے ، نفس مسئلہ کا جزئیہ لیجئے ۔
امام مذہب حنفی سید نا امام ابو یو سف رضی اللہ تعالٰی عنہ ''کتاب الخراج'' میں فرماتے ہیں :
ایمارجل مسلم سب رسول اﷲ اوکذ بہ اوعابہ اوتنقصہ فقدکفر باﷲ تعالٰی و بانت منہ زوجتہ۲ ۔
جو شخص مسلمان ہوکر رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کودشنام دے یا حضو ر کی طرف جھوٹ کی نسبت کرے یا حضور کوکسی طرح کا عیب لگائے یا کسی وجہ سے حضور کی شان گھٹائے وہ یقینا کافر اور خدا کا منکر ہوگیا اور اس کی جورو اس کے نکاح سے نکل گئی ۔
(۲کتاب الخراج للامام ابی یوسف فصل فی الحکم فی المرتد عن الاسلام دارالمعرفۃ بیروت ص۱۸۲)
دیکھو کیسی صاف تصریح ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی تنقیص شان کرنے سے مسلمان کافر ہوجا تا ہے ، اسکی جورو نکاح سے نکل جاتی ہے۔ کیا مسلمان اہل قبلہ نہیں ہوتا یا اہل کلمہ نہیں ہوتا مگر محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کے ساتھ نہ قبلہ قبول نہ کلمہ مقبول ،
والعیاذباﷲ رب العالمین ۔
ثالثاً :
ا صل با ت یہ ہے کہ اصطلاح ائمہ میں اہل قبلہ وہ ہے کہ تمام ضروریات دین پر ایما ن رکھتا ہو، ان میں سے ایک بات کا بھی منکر ہوتوقطعاً یقیناً اجماعاً کافر مرتد ہے ایسا کہ جو اسے کا فر نہ کہے خودکافر ہے ۔
اجمع المسلمون ان شاتمہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کافر ومن شک فی عذابہٖ وکفرہٖ کفر۱۔
تمام مسلمانوں کا اجماع ہے کہ جو حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی شان پاک میں گستاخی کر ے وہ کافر ہے اور جو اس کے معذب یا کافر ہونے میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔
(۱الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی القسم الرابع الباب الاول المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ ۲ /۲۰۸)
(الفتاوی الخیریۃ باب المرتدین دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۱۰۳)
مجمع ا لانھرودرمختار میں ہے :
واللفظ لہ الکافر بسب نبی من الانبیاء لاتقبل توبتہ مطلقًا و من شک فی عذابہٖ و کفرہٖ کفر۲۔
جوکسی نبی کی شان میں گستاخی کے سبب کافر ہوااس کی توبہ کسی طرح قبول نہیں اور جو اسکے عذاب یا کفر میں شک کرے خود کافر ہے۔
(۲الدرالمختارکتاب الجہاد باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۵۶ )
( مجمع الانھرکتاب فصل فی احکام الجزیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۶۷۷)
الحمد ﷲ ! یہ نفیس مسئلہ کاو ہ گراں بہاجزئیہ ہے جس میں ان بدگویوں کے کفرپر اجماع تمام امت کی تصریح ہے اور یہ بھی کہ جو انہیں کافر نہ جانے خود کافر ہے ۔
شرح فقہ اکبر میں ہے:
فی المواقف لا یکفر اھل القبلۃ الا فیما فیہ انکار ما علم مجیئہ بالضرورۃ اوالمجمع علیہ کاستحلال المحرمات اھ ولا یخفٰی ان المراد بقول علمائنالا یجوزتکفیر اہل القبلۃ بذنب لیس مجرد التوجہ الٰی القبلۃ فان الغلاۃ من الروافض الذین یدعون ان جبریل علیہ الصلٰوۃ والسلام غلط فی الوحی فان اﷲ تعالٰی ارسلہ الٰی علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ و بعضھم قالوا انہ الٰہ وان صلوا الٰی القبلۃ لیسوا بمؤمنین وھٰذاھوالمراد بقولہٖ من صلی صلٰوتنا واستقبل قبلتنا واکل ذبیحتنا فذٰلک مسلم ۱ اھ مختصراً ۔
یعنی مواقف میں ہے کہ اہل قبلہ کو کافر نہ کہاجاو ے گا مگر جب ضروریات دین یا اجماعی باتوں سے کسی بات کا انکار کریں جیسے حرام کو حلال جاننا اور مخفی نہیں کہ ہمارے علماء جو فرما تے ہیں کہ کسی گناہ کے باعث اہل قبلہ کی تکفیر روا نہیں اس سے نرا قبلہ کومنہ کرنا مراد نہیں کہ غالی رافضی جوبکتے ہیں کہ جبریل علیہ السلام کووحی میں دھوکا ہوا۔ اﷲتعالٰی نے انہیں مولٰی علی کرم اﷲ وجہہ کی طرف بھیجا تھا اور بعض تو مولٰی علی کو خدا کہتے ہیں یہ لوگ اگرچہ قبلہ کی طرف نماز پڑھیں ،مسلمان نہیں اور اس حدیث کی بھی یہی مراد ہے جس میں فرمایا کہ جو ہماری سی نماز پڑھے اور ہمارے قبلہ کو منہ کرے اور ہمارا ذبیحہ کھائے وہ مسلمان ہے۔
یعنی جب کہ تمام ضروریات دین پر ایمان رکھتا ہو اور کوئی با ت منافی ایمان نہ کرے۔
اسی میں ہے :
اعلم ان المراد باھل القبلۃ الذین اتفقوا علٰی ماھو من ضروریات الدین کحدوث العالم وحشر ا لا جساد وعلم اﷲ تعالٰی بالکلیات والجزئیات وما اشبہ ذٰلک من المسائل المھمات فمن واظب طول عمرہٖ علٰی الطاعات والعبادات مع اعتقاد قدم العالم اونفی الحشر اونفی علمہٖ سبحٰنہ بالجزئیات لایکون من اھل القبلۃ وان المراد بعدم تکفیر احدمن اھل القبلۃ عند اھل السنۃ انہ لایکفر مالم یوجد شیئ من امارات الکفر وعلاماتہٖ ولم یصد رعنہ شیئ من موجباتہٖ۲ ۔
یعنی جان لوکہ اہل قبلہ سے مراد وہ لوگ ہیں جوتمام ضروریات دین میں موافق ہیں جیسے عالم کا حادث ہونا ، اجسام کاحشر ہونا ، اﷲتعالٰی کاعلم تمام کلیات و جزئیات کو محیط ہونا اور جومہم مسئلے ان کی مانندہیں ، توجوتمام عمرطاعتوں اورعبادتوں میں رہے اسکے ساتھ یہ اعتقاد رکھتا ہوکہ عالم قدیم ہے یا حشر نہ ہوگا یا اﷲتعالی جزئیات کونہیں جانتا وہ اہل قبلہ سے نہیں اور اہل سنت کے نزدیک اہل قبلہ سے کسی کو کافر نہ کہنے سے یہ مراد ہے کہ اسے کافر نہ کہیں گے جب تک اس میں کفر کی کوئی علامت و نشانی نہ پائی جائے اور کوئی بات موجب کفر اس سے صادر نہ ہو۔
(۲منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر عدم جواز تکفیر اہل القبلۃ دارالبشائر اسلامیہ بیروت ص۴۲۹)
امام اجل سید ی عبد العزیز بن احمد بن محمد بخاری حنفی رحمۃ اﷲتعالٰی علیہ تحقیق شرح اصول حسامی میں فرماتے ہیں :۔
ان غلافیہ (ای فی ھواہ) حتٰی وجب اکفارہ بہٖ لا یعتبر خلافہ ووفاقہ ایضاًلعدم دخولہٖ فی مسمٰی الامۃ المشھودلھا بالعصمۃ وان صلٰی الٰی القبلۃ واعتقد نفسہ مسلمًالان الامۃ لیست عبارۃً من المصلین الٰی القبلۃ بل عن المؤمنین وھو کافر وان کان لا یدری انہ کافر۱۔
یعنی بدمذہب اگر اپنی بدمذہبی میں غالی ہو جس کے سبب اسے کافر کہنا واجب ہوتو اجماع میں اس کی مخالفت، موافقت کا کچھ اعتبار نہ ہوگاکہ خطا سے معصوم ہونے کی شہادت تو امت کے لئے آئی ہے اور وہ امت ہی سے نہیں اگر چہ قبلہ کی طرف نماز پڑھتا اور اپنے آپ کو مسلمان اعتقاد کرتا ہواس لئے کہ امت قبلہ کیطرف نماز پڑھنے والوں کانام نہیں بلکہ مسلمان کانام ہے اور یہ شخص کافر ہے اگر چہ اپنی جان کو کافرنہ جانے۔
(۱التحقیق شرح السامی باب الاجماع نولکشور لکھنؤ ص۲۰۸)
ردالمحتار میں ہے :
لاخلاف فی کفر المخالف فی ضروریات الاسلام وان کان من اھل القبلۃ المواظب طول عمرہٖ علٰی الطاعات کمافی شرح التحریر۲۔
یعنی ضروریات اسلام سے کسی چیز میں خلاف کرنے والا بالاجماع کافر ہے اگر چہ اہل قبلہ سے ہو اور عمر بھر طاعات میں بسر کرے جیسا کہ شرح تحریر میں امام بن الہمام نے فرمایا ۔
(۲ردالمحتارکتاب الصلٰوۃ باب الامامۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۳۷۷)