Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
85 - 212
مسلمانو! دیکھو محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی شان میں اتنی گستاخی کرنے سے کہ وہ غیب کیا جانیں ، کلمہ گوئی کام نہ آئی اور اﷲتعالی (عزوجل) نے صاف فرمادیا کہ بہانے نہ بناؤ، تم اسلام کے بعد کا فر ہوگئے۔ یہاں سے وہ حضرات بھی سبق لیں جورسول اﷲصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے علوم غیب سے مطلقاً منکر ہیں۔
دیکھو یہ قول منافق کا ہے اور اس کے قائل کو اﷲ تعالی نے اللہ  و قرآن و رسول سے ٹھٹھاکرنے والا بتایا اور صاف صاف کافر مرتد ٹھہرایا اور کیوں نہ ہو، غیب کی بات جاننی شان نبوت ہے جیسا کہ امام حجۃ الاسلام محمد غزالی واحمد قسطلانی ومولانا علی قاری و علا مہ محمد زرقانی وغیرہم اکابرنے تصریح فرمائی جس کی تفصیل رسائل علم غیب میں بفضلہ تعالٰی بروجہ اعلٰی مذکور ہوئی پھر اس کی سخت شامت کمال ضلالت کا کیا پوچھنا جو غیب کی ایک بات بھی، خدا کے بتائے سے بھی، نبی کو معلوم(عہ۱) ہونا محا ل و نا ممکن بتاتا ہے ،
عہ ۱: اس نئے شاخسانے کے رد میں بفضلہٖ تعالٰی چاررسالے ہیں :
اراحۃ جوانح الغیب ، الجلاء الکامل ، ابرار المجنون ، میل الہداۃ ، جن میں پہلا ان شاء اللہ مع ترجمہ عنقریب شائع ہوگا اورباقی تین بھی بعونہٖ تعالٰی اس کے بعد ، وباللہ التوفیق ۱۲کاتب عفی عنہ۔
اس کے نزدیک اﷲ سے سب چیزیں غائب ہیں اور اﷲکو اتنی قدرت نہیں کہ کسی کو ایک غیب کا علم دے سکے، اﷲتعالٰی شیطان کے دھوکوں سے پناہ دے۔ آمین ۔ ہاں بے خدا کے بتائے، کسی کو ذرہ بھر کاعلم ماننا ،ضرورکفر ہے اور جمیع معلوما ت الٰہیہ کو علم مخلوق کا محیط ہونا بھی باطل اور اکثر علماء(عہ۲)کے خلاف ہے ،
عہ۲: اکثر کی قید کا فائدہ رسالہ
''الفیوض المکیۃ لمحب الدولۃ المکیۃ ''
میں ملاحظہ ہوگا ان شاء اللہ تعالٰی ۱۲کاتب عفی عنہ۔
لیکن روز اول سے روز آخر تک کا ماکان وما یکون،اﷲتعالٰی کے معلومات سے وہ نسبت بھی نہیں رکھتا جوایک ذرے کے لاکھویں ،کروڑویں حصے برابر، تری کو، کروڑہاکروڑسمندروں سے ہو بلکہ یہ خود علوم محمد یہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کاایک چھوٹا سا ٹکڑا ہے ، ان تمام امور کی تفصیل
'' الدولۃ المکیہ''
وغیرہا میں ہے۔ خیر تو یہ جملہ معتر ضہ تھا او ر ان شاء اﷲ العظیم بہت مفید تھا ، اب بحث سابق کی طرف عودکیجئے۔ 

اس فرقہ باطلہ کا
مکر دوم
یہ ہے کہ اما م اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کامذہب ہے کہ
لا نکفراحدًا من اھل القبلۃ۱؂۔
ہم اہل قبلہ میں سے کسی کو کافر نہیں کہتے۔
 (۱؂منح الروض الازھر شرح الفقہ الاکبرعدم جواز تکفیر اہل القبلۃ دارالبشائر الاسلامیۃ بیروت ص۴۲۹)
اور حدیث میں ہے: '' جو ہماری سی نماز پڑھے اور ہمارے قبلہ کو منہ کرے او ر ہماراذبیحہ کھائے ،وہ مسلمان۲؂ ہے۔''
 (۲؂صحیح البخاری کتاب الصلٰوۃ باب فضل استقبال القبلۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۵۶ )

(کنزالعمال حدیث ۳۹۹    مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱ /۹۲)
مسلمانو ! اس مکر  خبیث میں ان لوگوں نے نری کلمہ گوئی سے عدول کرکے صرف قبلہ روئی کانام ایمان رکھ دیا یعنی جوقبلہ رو ہوکر نماز پڑھ لے ، مسلمان ہے اگر چہ اﷲ عزوجل کو جھوٹا کہے ، محمدرسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو گالیاں دے ، کسی صورت کسی طرح ایمان نہیں ٹلتا ع

چوں وضوئے محکم بی بی تمیز
 (بی بی تمیز کے مضبوط وضو کی طرح ۔ت)
اولاً :
ا س مکر کا جو ا ب :

تمہارا رب عزوجل فرماتاہے :
لیس البر ان تولوا وجوھکم قبل المشرق و المغرب ولٰکن البرمن اٰمن باﷲ  والیوم الاٰخر والملٰئکۃ والکتٰب والنبیین۳؂۔
اصل نیکی یہ نہیں کہ اپنا منہ نماز میں پورب یا پچھاں کو کروبلکہ اصل نیکی یہ ہے کہ آدمی ایمان لائے اﷲاور قیامت اور فرشتوں اورقرآن اور تمام انبیاء پر۔
 (۳؂القرآن الکریم   ۲ /۱۷۷)
دیکھوصاف فرمادیا کہ ضروریات دین پر ایمان لانا ہی اصل کارہے بغیر اس کے نماز میں قبلہ کو منہ کرنا کوئی چیز نہیں ،
اور فرماتاہے:
ومامنعہم ان تقبل منھم نفقٰتھم الآ انھم کفروا باﷲ وبرسولہٖ ولایاتون الصلٰوۃ الا وھم کسالٰی ولا ینفقون الا وھم کٰرھون o۱؂۔
اور وہ جو خرچ کرتے ہیں اس کا قبول ہونا بندنہ ہوا مگر اس لئے کہ انہوں نے اﷲ ورسول کے ساتھ کفر کیا اور نماز کونہیں آتے مگر جی ہارے اور خرچ نہیں کرتے مگر برے دل سے ۔
 (۱؂القرآن الکریم    ۹ /۵۴)
دیکھو ان کا نماز پڑھنا بیان کیا او ر پھر انہیں کافر فرمایا ، کیا وہ قبلہ کونماز نہیں پڑھتے تھے ؟ فقط قبلہ کیسا ، قبلہ دل وجاں ،کعبہ دین وایمان ،سرور عالمیان صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے پیچھے جانب قبلہ نماز پڑھتے تھے۔

اور فرماتاہے:
فان تابوا واقاموا الصلٰوۃ واٰتوا الزکٰوۃ فاخوانکم فی الدین  ونفصل الاٰیت لقوم یعلمون o وان نکثوآ ایمانہم من  بعد عھدھم وطعنوا فی د ینکم فقاتلواائمۃ الکفر  انھم لآ ایمان لھم لعلھم ینتھونo ۲؂۔
پھر اگر وہ توبہ کریں او ر نماز برپا رکھیں او ر زکٰوۃ دیں تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں اور ہم پتے کی باتیں  صاف بیان کرتے ہیں علم والوں کیلئے اور اگرقول و قرار کرکے پھر اپنی قسمیں توڑیں اور تمہارے دین پر طعن کریں تو کفر کے پیشواؤں سے لڑو، بے شک ان کی قسمیں کچھ نہیں شاید وہ باز آئیں ۔
 (۲؂القرآن الکریم ۹/ ۱۱  ۱۲)
دیکھو نماز ، زکٰوۃ والے اگر د ین پر طعنہ کریں تو انہیں کفر کا پیشوا ، کافروں کا سر غنہ فرمایا۔ کیا خدا اور رسول کی شان میں وہ گستاخیاں دین پر طعنہ نہیں ، اس کا بیان بھی سنئے :
تمہارا رب عزوجل فرماتاہے:
من الذین ھادوا یحرفون الکلم عن موا ضعہٖ ویقولو ن سمعنا وعصینا و اسمع غیرمسمع وراعنا لیا بالسنتہم وطعنًافی الدین  ولوانھم قالوا سمعنا واطعنا واسمع وانظرنا لکا ن خیر ا لھم واقوم  ولٰکن لعنھم اﷲ  بکفرھم فلا یؤمنون الاقلیلاًo۱؂
کچھ یہودی بات کو اس کی جگہ سے بدلتے ہیں اور کہتے ہیں ہم نے سنا او ر نہ مانا اور سنئے آپ سنائے نہ جائیں اور راعنا کہتے ہیں زبا ن پھیرکر اوردین میں طعنہ کرنے کو اور اگر وہ کہتے ہم نے سنا اور مانااورسنئے اور مہلت دیجئے تو انکے لئے بہتراور بہت ٹھیک ہوتا لیکن ان کے کفر کے سبب اﷲ نے ان پر لعنت کی ہے تو ایمان نہیں لاتے مگر کم ۔
(۱؂القرآن الکریم ۴ /۴۶)
کچھ یہودی جب دربار  نبوت میں حاضر آتے اور حضوراقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے کچھ عرض کرنا چاہتے تویوں کہتے سنئے، آپ سنائے نہ جائیں ، جس سے ظاہر تو دعا ہوتی یعنی حضورکوکوئی ناگوار بات نہ سنائے اور دل میں بددعا کا ارادہ کرتے کہ سنائی نہ دے اور جب حضوراقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کچھ ارشاد فرماتے اور یہ بات سمجھ لینے کے لئے مہلت چاہتے تو راعنا کہتے جس کا ایک پہلو ئے ظاہر یہ کہ ہماری رعایت فرمائیں اور مراد خفی رکھتے،یعنی رعونت والا ، اور بعض زبان دبا کر راعینا کہتے یعنی ہمارا چر واہا۔ جب پہلودار با ت دین میں طعنہ ہوئی، تو صریح و صاف کتنا سخت طعنہ ہوگی بلکہ انصاف کیجئے تو ان باتوں کا صریح بھی ان کلمات کی شناعت کو نہ پہنچتا ۔بہرا ہونے کی دعا یا رعونت یا بکریاں چرانے کی طرف نسبت کو ان الفاظ سے کیا نسبت کہ شیطان سے علم میں کمتر یا پاگلوں چوپایوں سے علم میں ہمسراورخداکی نسبت وہ کہ جھوٹا ہے، جھوٹ بولتا ہے جو اسے جھوٹا بتائے مسلمان سنی صالح ہے ،
والعیا ذ باﷲ رب العالمین ۔
Flag Counter