معاندین و دشمنان دین کہ خودانکار ضروریات دین رکھتے ہیں اور صریح کفر کر کے اپنے او پر سے نام کفر کومٹانے کو اسلام و قرآن و خد ا اور رسول و ایمان کے ساتھ تمسخر کرتے ہیں اور برا ہ اغواء و تلبیس و شیوہ ابلیس وہ باتیں بناتے ہیں کہ کسی طرح ضروریات دین ماننے کی قید اٹھ جائے اسلام فقط طوطے کی طرح زبان سے کلمہ رٹ لینے کانام رہ جائے ، بس کلمہ کا نام لیتا ہوپھر چاہے خدا کو جھوٹا کذاب کہے، چاہے رسو ل کو سڑی سڑی گالیاں دے، اسلام کسی طرح نہ جائے ۔
بل لعنہم اﷲ بکفر ھم فقلیلاً مایؤمنونo ۱ ۔
بلکہ اﷲ نے ان پر لعنت فرمادی انکے کفر کے سبب تو ان میں تھوڑے ایمان لاتے ہیں۔(ت)
(۱القرآن الکریم ۲ /۸۸)
یہ مسلمانوں کے دشمن ، اسلام کے عدو، عوام کو چھلنے او ر خدا ئے واحد قہا ر کا دین بدلنے کے لئے چند شیطانی مکرپیش کرتے ہیں ۔
مکر اول :
اسلام نام کلمہ گوئی کا ہے۔ حدیث میں فرمایا :
من قال لاالہ الااﷲ دخل الجنۃ ۲۔
جس نے لاالٰہ الا اﷲ کہہ لیا جنت میں جائے گا۔
(۲المعجم الکبیر حدیث ۶۳۴۸المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت۷/ ۴۸ )
( المستدرک للحاکم کتاب التوبۃ والانابۃ دارالفکر بیروت ۴ /۲۵۱)
پھرکسی قول یا فعل کی وجہ سے کافر کیسے ہوسکتا ہے؟۔ مسلمانو ! ذرا ہوشیار خبردار ،اس مکر ملعون کا حاصل یہ ہے کہ زبان سے لاالہ الا اﷲ کہہ لینا گویا خدا کا بیٹا بن جانا ہے، آدمی کا بیٹا اگر اسے گالیاں دے ، جوتیاں مارے، کچھ کرے اس کے بیٹے ہونے سے نہیں نکل سکتا ، یونہی جس نے لاالہ الا اﷲکہہ لیا اب وہ چاہے خدا کو جھوٹا کذاب کہے ، چاہے رسول کوسڑی سڑی گالیاں دے ، اس کا اسلام نہیں بدل سکتا۔
اس مکر کا جواب اسی آیت کریمہ
الم احسب الناس ۳
میں گزرا ، کیا لوگ اس گھمنڈ میں ہیں کہ نرے ادعائے اسلام پر چھوڑدیئے جائیں گے اور امتحان نہ ہوگا۔
(۳القرآن الکریم ۲۹ /۱و۲)
اسلام (عہ)اگر فقط کلمہ گوئی کانام تھاتو وہ بے شک حاصل تھی پھر لوگوں کا گھمنڈ کیوں غلط تھا جسے قرآن عظیم رد فرمارہاہے،
عہ: حضرت شیخ مجدد الف ثانی مکتوبات میں فرماتے ہیں :
مجرد تفوہ بکلمہ شہادت دراسلام کافی نیست تصدیق جمیع ماعلم بالضرورۃ مجیئہ من الدین باید وتبری از کفروکافرنیز باید تا اسلام صورت بندد۲ ۱۲
محض زبانی کلمہ شہادت کہنا اسلام میں کافی نہیں بلکہ ان تمام امور کی تصدیق ضروری ہے جن کا ضروریات دین سے ہونا بداہتاً معلوم ہے ۔ کفر اورکافر سے براء ت بھی لازمی ہے تاکہ اسلام کی صحیح صورت تشکیل پائے (ت)
(۲مکتوبات مجدد الف ثانی مکتوب دو صدوشصت وششم نولکشور لکھنؤ۱ /۳۲۳)
منافقین جب تمہارے حضور ہوتے ہیں،کہتے ہیں ہم گواہی دیتے ہیں کہ بے شک حضور یقیناً خدا کے رسول ہیں اور اﷲخوب جانتاہے کہ بے شک تم ضروراس کے رسول ہو اور اﷲ گواہی دیتا ہے کہ بے شک یہ منافق ضرور جھوٹے ہیں ۔
(۲القرآن الکریم ۶۳ /۱)
دیکھو کیسی لمبی چوڑی کلمہ گوئی ، کیسی کیسی تاکیدوں سے مؤکد ، کیسی کیسی قسموں سے مؤیدہرگز موجب اسلام نہ ہوئی اور اﷲ واحدقہار نے ان کے جھوٹے کذاب ہونے کی گواہی دی تو
من قال لا الہ الااﷲ دخل الجنۃ
کا یہ مطلب گڑھنا صراحۃً قرآن عظیم کا رد کرنا ہے۔ ہاں جوکلمہ پڑھتا،اپنے آپ کومسلمان کہتا ہو اسے مسلمان جانیں گے جب تک اس سے کوئی کلمہ، کوئی حرکت،کوئی فعل منافی اسلا م صادرنہ ہو ،بعد صدورمنافی ہرگز کلمہ گوئی کام نہ دے گی۔
تمہارا رب عزوجل فرماتاہے:
یحلفون باﷲ ما قالوا ط ولقدقالوا کلمۃ الکفر وکفروا بعد اسلامھم۳۔
خدا کی قسم کھاتے ہیں کہ انہوں نے نبی کی شان میں گستاخی نہ کی اور البتہ ، بے شک وہ یہ کفر کا بول،بولے اور مسلمان ہوکر کافر ہوگئے ۔
(۳القرآن الکریم ۹ /۷۴)
ابن جریر و طبرانی و ابوالشیخ وابن مر دویہ عبداﷲبن عباس رضی اﷲتعالٰی عہنما سے روایت کرتے ہیں۔رسول اﷲصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ایک پیڑ کے سایہ میں تشریف فرما تھے ارشاد فرمایا عنقریب ایک شخص آئے گا تمہیں شیطان کی آنکھوں سے دیکھے گا وہ آئے تو اس سے بات نہ کرنا ۔ کچھ دیر نہ ہوئی تھی کہ ایک کرنجی آنکھوں والا سامنے سے گزرا ،رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اسے بلاکر فرمایا '' تو اور تیرے رفیق کس بات پرمیری شان میں گستاخی کے لفظ بولتے ہیں؟'' وہ گیا اور اپنے رفیقوں کو بلالایا۔ سب نے آکر قسمیں کھائیں کہ ہم نے کوئی کلمہ حضورکی شان میں بے ادبی کانہ کہا،اس پر اﷲ وعزجل نے یہ آیت اتاری کہ خدا کی قسم کھاتے ہیں کہ انہوں نے گستاخی نہ کی اور بے شک ضرور ،یہ کفر کا کلمہ بولے اور تیری شان میں بے ادبی کر کے اسلام کے بعد کافر ہوگئے ۱۔
(۱الدرالمنثور بحوالہ ابن جریر والطبرانی وابن مردویہ تحت آیۃ ۹/۷۴ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۲۱۹)
دیکھو اﷲ گواہی دیتا ہے کہ نبی کی شان میں بے ادبی کا لفظ ، کلمہ کفر ہے اور اس کا کہنے والا اگر چہ لاکھ مسلمانی کا مدعی کروڑبار کا کلمہ گو ہو، کافر ہوجاتا ہے ۔
اور فرماتاہے۔
ولئن سالتھم لیقولن انما کنانخوض ونلعب طقل اباللٰہ واٰیٰتہ ورسولہٖ کنتم تستھزء ون o لاتعتذروا قد کفرتم بعد ایمانکم ۲۔
اوراگر تم ان سے پوچھو تو بے شک ضرور کہیں گے کہ ہم تو یونہی ہنسی کھیل میں تھے تم فرمادوکیااﷲاور اسکی آیتوں اوراسکے رسول سے ٹھٹھا کرتے تھے؟ بہانے نہ بناؤتم کافر ہو چکے اپنے ایمان کے بعد۔
(۲القرآن الکریم ۹ /۶۵و۶۶)
ابن ابی شیبہ وابن ابی جریرو ابن المنذروابن حاتم الشیخ امام مجاہد تلمیذ خاص سید نا عبداﷲبن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہم سے روایت فرماتے ہیں :
انہ قال فی قولہٖ تعالی
''ولئن سالتھم لیقولن انما کنا نخوض و نلعب'' ط
قال رجل من المنافقین یحد ثنا محمد ان ناقۃ فلان بوادی کذا وکذا وما یدریہ بالغیب۔
یعنی کسی کی اونٹنی گم ہوگئی ، اس کی تلاش تھی ، رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا او نٹنی فلاں جنگل میں فلاں جگہ ہے اس پر ایک منافق بولا '' محمد (صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم)بتاتے ہیں کہ اونٹنی فلاں جگہ ہے ، محمد غیب کیا جانیں ؟ ''اس پر اﷲ عزوجل نے یہ آیت کریمہ اتاری کہ کیا اﷲ ورسول سے ٹھٹھاکرتے ہو ، بہانے نہ بناؤ، تم مسلمان کہلاکر اس لفظ کے کہنے سے کافرہوگئے ۔(دیکھو تفسیر امام ابن جریر مطبع مصر جلد دہم صفحہ ۱۰۵ و تفسیر در منثور۱ اما م جلال الدین سیوطی جلد سوم صفحہ ۲۵۴)
(۱الدرالمنثور بحوالہ ابن ابی شیبہ وابن منذر وابن ابی حاتم وابی الشیخ عن مجاید تحت آیۃ ۹/ ۶۵ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۲۱۰)
(جامع البیان (تفسیر ابن جریر تحت آیۃ ۹/ ۶۵ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۰/ ۱۹۶)