Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
83 - 212
فرقہ اول
بے علم نادان،ان کے عذر دو قسم کے ہیں۔
عذراول :
  فلاں تو ہمارا استاد یا بزرگ یا دوست ہے  ، اس کا جواب تو قرآن عظیم کی متعدد آیات سے سن چکے کہ رب عزوجل نے بار بار بتاکرصراحۃً فرمادیا کہ غضب الہٰی سے بچناچاہتے ہو تو اس باب میں اپنے باپ کی بھی رعایت نہ کرو۔
عذر دوم  :
 صاحب یہ بدگو لوگ بھی تو مولوی ہیں ،بھلا مولویوں کو کیوں کرکافریا برا مانیں ، اس کا جواب تمہارا رب عزوجل فرماتاہے :
افرء یت من اتخذ الٰھہ ھوٰہ و اضلہ اللٰہ علٰی علم وختم علٰی سمعہٖ و قلبہٖ وجعل علٰی بصرہ غِشَاوَۃً ط فمن یھد یہ منم بعد اللٰہ ط افلا تذکرون۱؂۔
بھلا دیکھو تو جس نے اپنی خواہش کو اپنا خدابنا لیا اور اﷲ نے علم ہوتے ساتے ا سے گمراہ کیا اور اس کے کان اور دل پر مہر لگادی اور اس کی آنکھوں پر پٹی چڑھادی تو کون اسے راہ پر لائے اﷲ کے بعد توکیا تم دھیان نہیں کرتے۔
 (۱؂القرآن ۱لکریم  ۴۵ /۲۳)
اور فرماتا ہے:
مثل  الذین حملوا التورٰۃ ثم لم یحملوھا کمثل الحمار یحمل اسفارًا ط بئس مثل القوم الذین کذبوا باٰیٰت اﷲ ط واﷲ لا یھدی القوم الظٰلمین ۲؂۔
وہ جن پر تو ریت کا بوجھ ر کھا گیا پھر انہوں نے اسے نہ اٹھایا ان کا حال اس گدھے کاساہے جس پر کتابیں لدی ہوں ،کیا بری مثال ہے ان کی جنہوں نے خدا کی آیتیں جھٹلائیں اور اﷲظالموں کو ہدایت نہیں کرتا''۔
 (۲؂القرآن الکریم۶۲ /۵)
اور فرماتاہے:
واتل علیھم نبا الذی اٰتینٰہ اٰیتنا فانسلخ منھا فا تبعہ الشیطٰن فکان من الغٰوینo ولوشئنا لرفعنٰہ  بھا ولٰکنہ اخلد الی الارض و اتبع ھوٰہ  فمثلہ کمثل الکلب  ان تحمل علیہ  یلھث اوتتر کہ یلھث ط ذٰلک مثل القوم الذ ین کذ بوا باٰیٰتنا فاقصص القصص لعلھم یتفکرون o سآء مثلان القوم الذین کذبوا باٰیٰتنا وانفسھم کانوا یظلمون o من یھداﷲ  فھو المھتدی  ومن یضلل فاو لٰئک ھم الخٰسرونo۱؂
انہیں پڑھ کر سنا اس کی خبر جسے ہم نے اپنی آیتوں کا علم دیا تھا وہ ان سے صاف نکل گیا تو شیطان اس کے پیچھے لگاکہ گمراہ ہوگیا اور ہم چاہتے تو اس علم کے باعث اسے گرے سے اٹھالیتے مگر وہ تو زمین پکڑ گیا اور اپنی خواہش کا پیرو ہو گیا تواس کا حال کتے کی طرح ہے تو اس پر بوجھ لادے تو زبان نکال کر ہانپے اور چھوڑ دے تو ہانپے یہ انکا حال ہے جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں۔تو ہمارا یہ ارشاد بیان کرو شاید یہ لوگ سوچیں۔ کیا برا حال ہے ان کا جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں وہ اپنی ہی جانوں پر ستم ڈھاتے تھے ۔جسے خدا ہدایت کرے وہی راہ پر ہے اور جسے گمراہ کرے تو وہی سراسر نقصان میں ہیں۔
(۱؂القرآن الکریم۷ / ۱۷۵ تا ۱۷۸)
یعنی ہدایت کچھ علم پر نہیں ،خدا کے اختیار میں ہے ۔ یہ آیتیں ہیں اور حدیثیں جو گمراہ عالموں کی مذمت میں ہیں انکا شمار ہی نہیں یہاں تک کہ ایک حدیث میں ہے۔دوزخ کے فرشتے بت پرستوں سے پہلے انہیں پکڑیں گے ،یہ کہیں گے کیا ہمیں بت پوجنے والوں سے بھی پہلے لیتے ہو؟ جواب ملے گا
لیس من یعلم کمن لا یعلم۲؂۔
جاننے (عہ) والے اور انجان برابر نہیں۔
عہ: یہ حدیث طبرانی نے معجم کبیر اورابو نعیم نے حلیہ میں انس رضی اللہ تعالیی عنہ سے روایت کی نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا ۱۲منہ
 (۲؂شعب الایمان حدیث ۱۹۰۰ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۲ /۳۰۹)
بھائیو! عالم کی عزت تو اس بنا پر تھی کہ وہ نبی کا وارث ہے،نبی کا وارث وہ جو ہدایت پرہواو ر جب گمراہی پر ہے تو نبی کا وارث ہوا یا شیطان کا ؟ اس وقت اس کی تعظیم نبی کی تعظیم ہوتی ۔اب اس کی تعظیم شیطا ن کی تعظیم ہوگی۔ یہ اس صورت میں ہے کہ عالم ،کفر سے نیچے کسی گمراہی میں ہو جیسے بدمذہبوں کے علماء پھر اس کوکیا پوچھنا جو خود کفر شدید میں ہو اسے عالم دین جاننا ہی کفر ہے نہ کہ عالم دین جان کر اس کی تعظیم ۔ 

بھائیو! علم اس وقت نفع دیتا ہے کہ د ین کے ساتھ ہو ورنہ پنڈت یا پادری کیا اپنے یہاں کے عالم نہیں۔ابلیس کتنا بڑا عالم تھا پھرکیا کوئی مسلمان اس کی تعظیم کرے گا؟ اسے تو معلم  الملکوت کہتے ہیں یعنی فرشتوں کو علم سکھاتا ۔ جب سے اس نے محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی تعظیم سے منہ موڑا۔ حضور(عہ)کا نورکہ پیشانی آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام میں رکھاگیا ، اسے سجدہ نہ کیا ، اس وقت سے لعنت ابدی کاطوق اس کے گلے میں پڑا ، دیکھو جب سے اس کے شاگردان  رشید اس کے ساتھ کیا بر تاؤ کرتے ہیں ،ہمیشہ اس پر لعنت بھیجتے ہیں ۔ ہر رمضان میں مہینہ بھر اسے زنجیروں میں جکڑتے ہیں ، قیامت کے دن کھینچ کر جہنم میں دھکیلیں گے۔ یہاں سے علم کا جواب بھی واضح ہوگیا اور استاذی کا بھی ۔
عہ: تفسیر کبیر امام فخر الدین رازی ج۲ص۴۵۵ پر زیر قولہٖ تعالٰی
تلک الرسل فضلنا :
ان الملٰئکۃ امروا بالسجود لاٰدم لاجل ان نور محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فی جبھۃ اٰدم۱؂ ۔
 (۱؂مفاتیح الغیب (التفسیر الکبیر) تحت الآیۃ ۲/۲۵۳دارالکتب العلمیۃ بیروت ۶/ ۱۶۹)
تفسیر نیشاپوری ج۲ ص۷:
سجود الملٰئکۃ لاٰدم انما کان لاجل نور محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم الذی کان فی جبھتہ ۲؂۔
 (۲؂غرائب القرآن ورغائب الفرقان تحت الایۃ ۲/۲۵۳مصطفی البابی مصر ۳ /۷)
دونوں عبارتوں کا حاصل یہ ہے کہ فرشتوں کا آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام کو سجدہ کرنا اس لئے تھا کہ ان کی پیشانی میں نور محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم تھا۔۱۲منہ
بھائیو! کروڑ افسوس ہے اس اد عائے مسلمانی پرکہ اﷲ واحدقہار اور محمد رسول اﷲ سید الابر ارصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے زیادہ استاد کی وقعت ہو، اﷲ و رسول سے بڑ ھ کر بھائی یا دوست ، یا دنیا میں کسی کی محبت ہو۔اے رب! ہمیں سچا ایما ن دے صدقہ اپنے حبیب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی سچی رحمت کا ،آمین ۔
Flag Counter