Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
82 - 212
مسلمانو ! خدا را انصاف ، ایمان نام کاہے کا تھا تصدیق  الہی کا ، تصدیق کا صریح مخالف کیا ہے ، تکذیب ، تکذیب کے کیا معنی ہیں کسی کی طرف کذب منسوب کرنا ۔ جب صراحۃً خداکو کاذب کہہ کر بھی ایمان باقی رہے تو خدا جانے ایمان کس جانور کا نام ہے ؟خدا جانے مجوس وہنود و نصٰارٰی و یہود کیوں کافر ہوئے ؟ ان میں توکوئی صاف اپنے معبود کو جھوٹا بھی نہیں بتاتا۔ ہاں معبود برحق کی باتوں کویوں نہیں مانتے کہ انہیں اسکی با تیں ہی نہیں جانتے یا تسلیم نہیں کرتے ۔ایسا تو دنیا کے پر دے پرکوئی کافر سا کافربھی شاید نہ نکلے کہ خدا کو خدا مانتا ، اسکے کلام کواسکا کلام جانتا اورپھر بے دھڑک کہتا ہو کہ اس نے جھوٹ کہا، اس سے وقوع کذب کی معنی درست ہوگئے۔غرض کوئی ذی انصاف شک نہیں کرسکتا کہ ان تمام بدگویوں نے منہ بھرکراﷲ ورسول کو گالیاں دی ہیں ، اب یہی وقت امتحان الٰہی ہے، واحد قہار جبار عزجلالہ سے ڈرو اور وہ آیتیں کہ اوپر گزریں، پیش نظر رکھ کر عمل کرو۔آپ تمہارا ایمان تمہارے دلوں میں تمام بدگویوں سے نفرت بھر د ے گا۔ ہرگز اﷲ و رسول اﷲ جل و علا کے مقابل تمہیں انکی حمایت نہ کرنے دے گا۔ تم کو ان سے گھن آئے گی نہ کہ ان کی پچ کرو،اﷲ ورسول کے مقابل انکی گالیوں میں مہمل و بیہودہ تاویل گھڑو ۔

للٰہ انصاف ! اگر کوئی شخص تمہارے ماں ، باپ ،استاد ،پیر کوگالیاں دے اور نہ صرف زبانی بلکہ لکھ لکھ کر چھاپے، شائع کرے۔ کیا تم اس کا ساتھ دوگے یااس کی بات بنانے کو تاویلیں گھڑوگے یا اس کے بکنے سے بے پرواہی کرکے اس سے بدستور صاف رہوگے ؟ نہیں نہیں ! اگر تم میں انسانی غیرت ،انسانی حمیت ، ماں باپ کی عزت حرمت عظمت محبت کانام نشان بھی لگارہ گیا ہے تو اس بدگو دشنامی کی صورت سے نفرت کروگے، اسکے سائے سے دور بھاگوگے،اس کا نام سن کرغیظ لاؤگے جو اس کے لئے بناوٹیں گڑھے ،اسکے بھی دشمن ہوجاؤگے، پھرخدا کے لئے ماں باپ کو ایک پلہ میں رکھو اﷲ واحدقہار و محمد رسول اﷲصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی عزت و عظمت پر ایمان کودوسرے پلے میں ، اگر مسلمان ہو تو ماں باپ کی عزت کو اﷲ و رسو ل صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی عزت سے کچھ نسبت نہ مانوگے ، ماں باپ کی محبت و حمایت کو اﷲ ورسول کی محبت و خدمت کے آگے ناچیز جانو گے۔ تو واجب واجب واجب،لاکھ لاکھ واجب سے بڑھ کر واجب کہ ان بدگو سے وہ نفرت و دوری و غیظ وجدائی ہو کہ ماں باپ کے دشنام دہندہ کے ساتھ اس کا ہزار واں حصہ نہ ہو۔ یہ ہیں وہ لوگ جن کیلئے ان سات نعمتوں کی بشارت ہے۔ مسلمانو! تمہارا یہ ذلیل خیر خواہ امید کرتا ہے ۔کہ اﷲ واحدقہار کی ان آیات اور اس بیان شافی واضح البینا ت کے بعد اس بارے میں آپ سے زیادہ عرض کی حاجت نہ ہوتمہارے ایمان خود ہی ان بدگویوں سے وہی پاک مبارک الفاظ بول اٹھیں گے جو تمہارے رب نے قرآن عظیم میں تمہارے سکھانے کو قوم ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والتسلیم سے نقل فرمائے۔

 تمہارا رب عزوجل فرماتا ہے :
قدکانت لکم اسوۃحسنۃ فی ابرٰھیم والذین معہ  اذقالوا لقومھم انابرء ؤا منکم ومما تعبدون من دون اﷲ  کفرنابکم وبدابینناو بینکم العدا وۃ والبغضآء ابدًا حتٰی تؤمنوا باﷲ و حدہ ۔
 (الی قولہٖ تعالٰی)
لقدکان لکم فیھم اسوۃحسنۃلمن کان یرجوا اﷲ والیوم الاٰخر ط ومن یتول فان اﷲ ھو الغنی الحمید۱؂
بے شک تمہارے لئے ابراہیم اور اس کے ساتھ والے مسلمانوں میں اچھی ریس ہے جب وہ اپنی قوم سے بولے بے شک ہم تم سے بیزار ہیں اور ان سب سے جن کو اﷲکے سوا پوجتے ہو۔ ہم تمہارے منکر ہو ئے اورہم میں اور تم میں دشمنی اور عداوت ہمیشہ کو ظاہر ہوگئی جب تک تم ایک اﷲ پر ایمان نہ لاؤ۔بے شک ضروران میں تمہارے لیے عمدہ ریس تھی۔ اس کیلئے جو اﷲ او ر قیامت کے دن کی امید رکھتا ہو اور جو منہ پھیرے تو بے شک اﷲ ہی بے پرواہ سراہا گیا ہے ۔
 (۱؂القرآن الکریم۶۰ /۴تا۶)
یعنی وہ جوتم سے یہ فرمارہاہے کہ جس طرح میرے خلیل اور ان کے ساتھ والوں نے کیا کہ میرے لئے اپنی قوم کے صاف دشمن ہوگئے او ر تنکا توڑ کر ان سے جدائی کرلی اور کہہ دیا کہ ہم سے تمہارا کچھ علاقہ نہیں ، ہم تم سے قطعی بیزار ہیں ،تمہیں بھی ایسا ہی کرنا چاہیے یہ تمہارے بھلے کو تم سے فرمار ہاہے ، مانوتو تمہاری خیر ہے نہ مانو تو اﷲکو تمہاری کچھ پرواہ نہیں جہاں وہ میرے دشمن ہوئے انکے ساتھ تم بھی سہی ، میں تمام جہان سے غنی ہوں اور تمام خوبیوں سے موصوف ، جل و علاو تبارک وتعالٰی۔ یہ قرآن حکیم کے احکام تھے اﷲ تعالٰی جس سے بھلائی چاہے گا ان پر عمل کی توفیق دے گا مگر یہاں دو فرقے ہیں جن کو ان احکام میں عذر پیش آتے ہیں:
Flag Counter