Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
81 - 212
مسلمانو ! جس کی جرات یہاں تک پہنچی کہ رسول اﷲصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے علم غیب کو پاگلوں اور جانوروں کے علم سے ملا دے اور ایمان و اسلام و انسانیت سے آنکھیں بندکرکے صاف کہہ دے کہ نبی اور جانور میں کیا فرق ہے، اس سے کیا تعجب کہ خدا کے کلاموں کو رد کرے باطل بتائے پس پشت ڈالے زیرپاملے بلکہ جو یہ سب کچھ کلام اﷲکے ساتھ کرچکا وہی رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے ساتھ اس گالی پر جرأت کرسکے گا مگر ہاں اس سے دریافت کرو کہ آپ کی یہ تقریر خو د آپ اور آپ کے اساتذہ میں جاری ہے یا نہیں ؟ اگر نہیں توکیوں ؟ اور اگر ہے توکیا جواب ہے ؟ ہاں ان بدگویوں سے کہو! کیا آپ حضرات اپنی تقریرکے طور پر جو آپ نے محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی شان میں جاری کی ،خود اپنے آپ سے اسے دریافت کی اجازت دے سکتے ہیں کہ آپ صاحبوں کو عالم ، فاضل، مولوی، ملا، چنیں، چناں فلاں فلاں کیوں کہاجاتا ہے اور حیوانات وبہائم مثلاًکتے سورکوکوئی ان الفاظ سے تعبیر نہیں کرتا ۔ 

ان مناصب کے باعث آپ کے اتباع و اذناب آپ کی تعظیم ،تکریم، توقیر کیوں کرتے،دست و پا پر بوسہ دیتے ہیں اور جانوروں مثلاًالو، گدھے کے ساتھ کوئی یہ برتاؤنہیں برتتا اس کی وجہ کیا ہے؟ کل علم توقطعاً آپ صاحبوں کوبھی نہیں اور بعض میں آپ کی کیا تخصیص ؟ ایسا علم تو الو،گدھے، کتے،سور سب کوحاصل ہے توچاہیے کہ ان سب کو عالم و فاضل و چنیں و چناں کہا جائے پھر اگر آپ اس کا التزام کریں کہ ہاں ہم سب کو علماء کہیں گے تو ۔۔۔۔۔۔ پھر علم کو آپ کے کمالات میں کیوں شمار کیا جاتاہے جس امر میں مومن بلکہ انسان کی بھی خصوصیت نہ ہو،گدھے، کتے،سور سب کوحاصل ہو وہ آپ کے کمالات سے کیوں ہوا ؟ اور اگر التزام نہ کیا جا ئے تو آپ ہی کے بیان سے آپ میں اور گدھے ،کتے ،سور میں وجہ فرق بیان کرنا ضرور ہے ۔ فقط۔

 مسلمانو ! یوں دریافت کرتے ہی بعونہٖ تعالی صاف کھل جائے گا کہ ان بدگویوں نے محمد رسول اﷲصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کوکیسی صریح شدیدگالی دی اوران کے رب عزوجل کے قرآن مجید کو جابجاکیساردوباطل کردیا۔

مسلمانو ! خاص اس بدگو اور اس کے ساتھیوں سے پوچھو، ان پر خود ان کے اقرار سے قرآن عظیم کی یہ آیات چسپاں ہو ئیں یانہیں ۔

تمہارا رب عزوجل فرماتاہے :
ولقدذرانا لجھنم کثیرًا من الجن والانس لھم قلوب لا یفقھون بھا  ولھم اعین لا یبصرون بھا ولھم اٰذان لا یسمعون بھا ط اولئک کالانعام بل ھم اضل ط اولئک ھم ا لغٰفلون۱؂۔
اور بے شک ضرور ہم نے جہنم کیلئے پھیلارکھے ہیں بہت سے جن اور آدمی ان کے وہ دل ہیں جن سے حق کو نہیں سمجھتے اور وہ آنکھیں جن سے حق کا راستہ نہیں سوجھتے اور وہ کان جن سے حق بات نہیں سنتے ۔ وہ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی بڑھ کربہکے ہوئے۔ وہی گمر اہ وہی لوگ غفلت میں پڑے ہیں''۔
 (۱؂القرآن الکریم۷/۱۷۹)
اور فرماتاہے:
ارأیت من اتخذ الٰھہ ھوٰہ ط افانت تکون علیہ وکیلاً  ام تحسب ان اکثرھم یسمعون اویعقلون ط ان ھم الا کالانعام بل ھم اضل سبیلاً ۲؂۔
بھلادیکھ تو ،جس نے اپنی خواہش کو اپناخدا بنالیا توکیا تواس کا ذمہ لے گا ،یاتجھے گمان ہے ان میں بہت کچھ سنتے یاعقل رکھتے ہیں سووہ نہیں مگرجیسے چوپائے بلکہ وہ تو ان سے بھی بڑھ کرگمراہ ہیں۔
 (۲؂القرآن الکریم   ۲۵ /۴۳و۴۴)
ان بدگویوں نے چوپایوں کا علم تو انبیاء علیہم  الصلٰوۃ والسلام کے علم کے برابرمانا ۔ اب ان سے پوچھئے کیا تمہارا علم انبیاء یا خود حضور سید الانبیاء علیہ و علیہم الصلٰوۃ والثنا ء کے برابر ہے، ظاہر اً اسکا دعوٰی نہ کریں گے اور اگر کہہ بھی دیں کہ جب چوپایوں سے برابر ی کردی، آپ تو دوپائے ہیں برابر ی مانتے کیامشکل ہے ؟ تو یوں پوچھئے تمہارے استادوں ،پیروں ،ملاؤں میں کوئی بھی ایسا گزرا جو تم سے علم میں زیادہ ہو یا سب ایک برابر ہو۔آخر کہیں تو فرق نکالیں گے توان کے وہ استاد وغیرہ تو ان کے اقرار سے علم میں چوپایوں کے برابر ہوئے اور یہ ان سے علم میں کم ہیں ، جب تو انکی شاگردی کی، اور جو ایک مساوی سے کم ہو دوسرے سے بھی ضرور کم ہوگا تو یہ حضرات خود اپنی تقریر کی رو سے چوپایوں سے بڑ ھ کر گمراہ ہوئے اور ان آیتوں کے مصداق ٹھہرے ۔
کذٰلک العذاب ط ولعذا ب الاٰخرۃ اکبر  لوکانوا یعلمون۱؂۔
مار ایسی ہوتی ہے او ر بے شک آخرت کی مار سب سے بڑی ،کیا اچھاتھا ا گر وہ جانتے ۔
 (۱؂القرآن الکریم ۶۸ /۳۳)
مسلمانو ! یہ حالتیں تو ان کلمات کی تھیں جن میں انبیائے کرام و حضور پر نورسید الانام علیہ الصلٰوۃ والسلام پر ہاتھ صاف کئے گئے پھر ا ن عبارات کا کیا پوچھنا جن میں اصالۃً بالقصد رب العزت عز جلالہ کی عزت پر حملہ کیا گیا ہو۔خدارا انصاف ! کیا جس نے کہا ''میں نے کب کہا ہے کہ میں و قوع کذب باری کا قائل نہیں ہوں ۲؂،یعنی وہ شخص اس کا قائل ہے کہ خدا بالفعل جھو ٹا ہے جھوٹ بولا، جھوٹ بولتاہے۔ اس کی نسبت یہ فتوٰی دینے والا کہ'' اگر چہ اس نے تاویل آیات میں خطاکی مگر تاہم اس کو کافر یا بدعتی خیال کہنانہیں چاہئے، جس نے کہا کہ'' اس کو کوئی سخت کلمہ نہ کہنا چاہیے ۳؂'' 

جس نے کہا کہ'' اس میں تکفیر علمائے سلف کی لازم آتی ہے ۔حنفی، شافعی پر طعن و تضلیل نہیں کرسکتا ''۴؂۔

یعنی خدا کو معاذاﷲ جھوٹا کہنا بہت سے علمائے سلف کا بھی مذہب تھا۔ یہ اختلاف حنفی شافعی کاسا ہے۔ 

کسی نے ہاتھ ناف سے اوپر باندھے ، کسی نے نیچے ، ایساہی اسے بھی سمجھو کہ کسی نے خدا کو سچا کہاکسی نے جھوٹا ،لہذا ''ایسے کو تضلیل و تفسیق سے مامون کرنا چاہیے ''۵؂۔

یعنی جو خدا کو جھوٹا کہے اسے گمراہ کیا معنی ؟گنہگار نہ کہو ۔
(۲؂)

(۳؂)

(۴؂)
کیا جس نے یہ سب تو اس مکذب خدا کی نسبت بتایا اور یہیں خود اپنی طرف سے باوصف اس بے معنٰی اقرار کہ
'' قدرۃ علٰی الکذب مع امتناع الوقوع مسئلہ اتفاقیہ ہے''۱؂۔
صاف صریح کہہ دیاکہ وقوع کذب کے معنٰی درست ہوگئے ۲؂۔
 (۱؂) (۲؂امطار الحق  رشید احمد گنگوہی کا عقیدہ وقوع کذب باری تعالی  مطبع دت پرشاد بمبئی انڈیا  ص ۳۱)
یعنی یہ بات ٹھیک ہوگئی کہ خدا سے کذب واقع ہوا، کیا یہ شخص مسلمان رہ سکتاہے ؟ کیا جوایسے کو مسلمان سمجھے خودمسلمان ہوسکتاہے؟
Flag Counter