| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص ) |
مسلمان! مسلمان ! اے محمدرسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ! تجھے اپنے دین و ایمان کا واسطہ ، کیا اس ناپاک و ملعون گالی کے صریح ہونے میں تجھے کچھ شبہ گزرسکتا ہے؟ معاذاﷲ! کہ محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی عظمت تیرے دل سے ایسی نکل گئی ہو کہ اس شدید گالی میں بھی ان کی توہین نہ جانے اور اگر اب بھی تجھے اعتبار نہ آئے، توخود ان ہی بدگویوں سے پوچھ دیکھ، کہ آیا تمہیں اور تمہارے استادوں ، پیرجیون کو کہہ سکتے ہیں کہ اے فلاں ! تجھے اتنا ہی علم ہے جتنا سور کو ہے تیرے استاد کو ایسا ہی علم تھا جیسا کتے کو ہے تیرے پیر کو اسی قدرعلم تھاجیسا گدھے کو ہے ،یامختصر طور پراتنا ہی ہوکہ ا و علم میں الو، گدھے ،کتے ،سورکے ہمسرو ! دیکھو تو وہ اس میں اپنی اور اپنے استاد، پیر کی توہین سمجھتے ہیں یا نہیں ؟ قطعاًسمجھیں گے اور قابوپائیں تو سرہوجائیں ، پھرکیا سبب کہ جو کلمہ ان کے حق میں توہین وکسرشان ہو محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی توہین نہ ہو،کیا معاذ اﷲ ان کی عظمت ان سے بھی گئی گزری ہے، کیا اسی کانام ایمان ہے ؟ حاش للٰہ حاشﷲ! کیا جس نے کہا کیونکہ ہر شخص کو کسی نہ کسی ایسی بات کا علم ہوتا ہے جو دوسرے شخص سے مخفی ہے توچاہیے کہ سب کوعالم الغیب کہاجاوے، پھر اگرزید اسکا التزام کرلے کہ ہاں میں سب کوعالم الغیب کہوں گا توپھر علم غیب کو منجملہ کمالات نبویہ شمارکیوں کیا جاتا ہے ؟ جس امر میں مومن بلکہ انسان کی بھی خصوصیت نہ ہو وہ کمالات نبوت سے کب ہوسکتاہے؟ اور اگر التزام نہ کیا جاوے تو نبی وغیرنبی، میں وجہ فرق بیان کرناضرورہے ۲،انتہٰی۔
(۲حفظ الایمان جواب سوال سوم کتب خانہ اعزازیہ دیوبند سہارنپور بھارت ص۸ ) (حفظ الایمان مع تغییر العنوان جواب سوال سوم محمد عثمان تاجر الکتب فی دریبہ کلاں دہلی ص۷و۱۷)
کیارسول اﷲصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اور جانوروں، پاگلوں میں فرق نہ جاننے والاحضور کوگالی نہیں دیتا ؟ کیا اس نے اﷲ کے کلام کا صراحۃً ردوابطال نہ کردیا ۔ دیکھو تمہارا رب عزوجل فرماتاہے :
وعلمک مالم تکن تعلم ط وکان فضل اﷲ علیک عظیماً ط۱۔
اے نبی !اﷲ نے تم کو سکھایا جوتم نہ جانتے تھے اور اﷲکا فضل تم پر بڑاہے۔
(۱القرآن الکریم ۴ /۱۳)
یہاں نامعلوم باتوں کاعلم عطافرمانے کواﷲ عزوجل نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے کمالات ومدائح میں شمار فرمایا ۔ اور فرماتاہے :
''وانہ لذوعلم لما علمنٰہ''۲۔
اور بے شک یعقوب ہمار ے سکھائے سےعلم والاہے۔
(۲القرآن الکریم ۱۲ /۶۸)
اور فرماتا ہے :
وبشروہ بغلٰم علیم۳۔
ملائکہ نے ابراھیم علیہ الصلٰوۃ والتسلیم کو ایک علم والے لڑکے اسحٰق علیہ الصلٰوۃ والسلام کی بشارت دی۔
(۳القرآن الکریم ۵۱ /۲۸)
اور فرماتاہے :
و علمنٰہ من لدنا علمًا''۴۔
اورہم نے خضر کو اپنے پاس سے ایک علم سکھایا ۔
(۴القرآن الکریم ۱۸ /۶۵)
وغیرہا آیات ، جن میں اﷲتعالٰی نے علم کو کمالات انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام وا لثناء میں گنا ۔اب زید کی جگہ اﷲ عزوجل کا نام پاک لیجئے اور علم غیب کی جگہ مطلق علم جس کاہرچوپائے کو ملنا اور بھی ظاہر ہے اور دیکھئے کہ اس بدگوئے مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی تقریر کس طرح کلام اﷲ عزوجل کا رد کررہی ہے یعنی یہ بدگوخدا کے مقابل کھڑا ہوکر کہہ رہا ہے کہ آ پ (یعنی نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اور دیگر انبیاء علیہم الصلٰوۃ السلام) کی ذات مقدسہ پر علم کا اطلاق کیا جانا اگر بقول زید صحیح ہوتو دریافت طلب یہ امر ہے کہ اس علم سے مراد بعض علم ہے یا کل علوم ، اگر بعض علوم مراد ہیں تو اس میں حضور اور دیگر انبیاء علیہم اسلام کی کیا تخصیص ہےایسا علم تو زید و عمرو بلکہ ہرصبی و مجنون بلکہ جمیع حیوانات وبہائم کے لئے بھی حاصل ہے کیونکہ ہرشخص کوکسی نہ کسی بات کا علم ہوتا ہے توچاہیے کہ سب کو عالم کہاجائے ، پھر اگر زید اس کا التزام کرلے کہ ہاں میں سب کو عالم کہوں گا توپھر علم کو منجملہ کمالات نبویہ شمار کیوں کیا جاتا ہے جس امر میں مومن بلکہ انسان کی بھی خصوصیت نہ ہو وہ کمالات نبوت سے کب ہوسکتا ہے اور اگر التزام نہ کیا جائے تونبی اور غیر نبی میں وجہ فرق بیان کرناضرور ہے، اور اگر تمام علوم غیب مراد ہیں ، اس طرح کہ اس کا ایک فردبھی خارج نہ رہے تو اس کا بطلان دلیل نقلی وعقلی سے ثابت ہے ۱۔ انتہٰی ۔ پس ثابت ہوا کہ خدا کے وہ سب اقوال اسکی دلیل سے باطل ہیں ۔
(۱حفظ الایمان جواب سوال سوم کتب خانہ اعزازیہ دیوبند سہارنپور بھارت ص۸ ) حفظ الایمان مع تغییر العنوان محمد عثمان تاجر الکتب فی دریبہ کلاں دہلی ص۷و۱۷)
مسلمانو ! دیکھا کہ اس بدگو نے فقط محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ہی کوگالی نہ دی بلکہ ان کے رب (جل وعلا )کے کلاموں کو بھی باطل ومردودکردیا ۔