مسلمانو! خدا لگتی کہنا اگر آدمی کروڑجانیں رکھتا ہو اور سب کی سب ان عظیم دولتوں پر نثار کردے توواﷲ مفت پائیں ، پھرزیدوعمرو سے علاقہ تعظیم و محبت،یک لخت قطع کردینا کتنی بڑی بات ہے؟ جس پر اﷲ تعالٰی ان بے بہانعمتوں کا وعدہ فرمارہاہے اور اس کا وعدہ یقیناً سچا ہے۔ قرآن کریم کی عادت کریمہ ہے کہ جوحکم فرماتاہے جیساکہ اس کے ماننے والوں کو اپنی نعمتوں کی بشارت دیتا ہے، نہ ماننے والوں پر اپنے عذابوں کا تازیانہ بھی رکھتاہے کہ جو پست ہمت نعمتوں کی لالچ میں نہ آئیں ،سزاؤں کے ڈرسے، راہ پائیں ۔ وہ عذاب بھی سن لیجئے:
تمہارا رب عزوجل فرماتاہے:
یا یھا الذین اٰمنوا لا تتخذ وا اٰبآء کم واخوانکم اولیآء ان استحبوا الکفر علی الایمان ط ومن یتولھم منکم فاولٰئک ھم الظٰلمون۱۔
اے ایمان والو! اپنے باپ ،اپنے بھائیوں کودوست نہ بناؤ اگر وہ ایمان پر کفر پسند کریں اور تم میں جوکوئی ان سے رفاقت پسند کرے وہی لوگ ستمگار ہیں۔
لن تنفعکم ارحامکم ولآاولاد کم یوم القٰیمۃ ج یفصل بینکم ط واﷲ بماتعملون بصیر''۲۔
اے ایمان والو! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ۔ تم چھپ کران سے دوستی کرتے ہواور میں خوب جانتا ہوں جوتم چھپاتے اور جو ظاہر کرتے ہو اور تم میں جو ایسا کرے گا وہ ضرور سیدھی راہ سے بہکا۔ تمہارے رشتے اورتمہارے بچے تمہیں کچھ نفع نہ دیں گے۔ قیامت کے دن ۔اللہ تم میں اورتمہارے پیاروں میں جدائی ڈال دیگا کہ تم میں ایک، دوسرے کے کچھ کام نہ آسکے گا اور اﷲ تمہارے اعمال کو دیکھ رہاہے۔
(۲القرآن الکریم ۶۰ /۱تا۳)
اور فرماتاہے:
ومن یتولھم منکم فانہ منھم ط ان اﷲ لا یھدی القوم الظٰلمین ۳۔
تم میں جو ا ن سے دوستی کریگا توبےشک وہ انہیں میں سے ہے۔ بے شک اﷲہدایت نہیں کرتا ظالموں کو۔
(۳القرآن الکریم ۵ /۵۱)
پہلی د و آیتوں میں تو ان سے دوستی کرنے والوں کوظالم و گمراہ ہی فرمایا تھا، اس آیت کریمہ نے بالکل تصفیہ فرمادیا کہ جوان سے دوستی رکھے وہ بھی ان میں سے ہے ، ان ہی کی طرح کافر ہے ، ان کے ساتھ ایک رسی میں باندھا جائے گا اور وہ کوڑا بھی یادرکھیے کہ'' تم چھپ چھپ کر ان سے میل رکھتے ہو اور میں تمہارے چھپے اور ظاہر سب کوجانتا ہوں '' ۔ اب وہ رسی بھی سن لیجئے جس میں رسول اﷲ کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والے باندھے جائیں گے۔
تمہارا رب عزوجل فرماتاہے :
والذین یؤذ ون رسول اﷲ لھم عذاب الیم''۱۔
جو رسول اﷲکو ایذاء دیتے ہیں ان کیلئے دردناک عذاب ہے۔
(۱القرآن الکریم ۹ /۶۱)
اور فرماتا ہے :
ان الذین یؤذون اللٰہ ورسولہ لعنھم اللٰہ فی ا لد نیا و الاٰخرۃ و اعد لھم عذاباً مھیناً۲
بے شک جواﷲ و رسول کو ایذاء دیتے ہیں ان پر اﷲ کی لعنت ہے دنیا و آخرت میں ،اور اﷲ نے ان کیلئے ذلت کا عذاب تیارکر رکھا ہے ۔
(۲القرآن الکریم ۳۳ /۵۷)
اﷲ عزوجل ایذاء سے پاک ہے اسے کون ایذاء دے سکتاہے ۔ مگر حبیب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کو اپنی ایذاء فرمایا۔ ان آیتوں سے اس شخص پر جو رسول اﷲ کے بدگویوں سے محبت کا برتاؤ کرے ، سات کوڑے ثابت ہوئے۔:
(۱) وہ ظالم ہے۔
(۲) گمراہ ہے۔
(۳) کافر ہے۔
(۴) اس کے لئے دردناک عذاب ہے۔
(۵) وہ آخرت میں ذلیل و خوارہوگا۔
(۶) اس نے اﷲ واحد قہار کوایذاء دی۔
(۷) اس پر دونوں جہان میں خدا کی لعنت ہے۔
والعیاذباﷲتعالٰی۔
اے مسلمان ! اے مسلمان! اے امتی سیدالانس والجان صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ! خدارا، ذرا انصاف کر، وہ سات بہتر ہیں جو ان لوگوں سے یک لخت علاقہ ترک کردینے پر ملتے ہیں کہ دل میں ایمان جم جائے اﷲ مددگار ہو، جنت مقام ہو، اﷲ والوں میں شمار ہو ، مرادیں ملیں ، خدا تجھ سے راضی ہو، توخدا سے راضی ہو یایہ سات بھلے ہیں جو ان لوگوں سے تعلق لگارہنے پر پڑیں گے کہ ظالم، گمراہ ، کافر، جہنمی ہو، آخرت میں خوارہو،خدا کوایذا دے، خدا دونوں جہان میں لعنت کرے۔ ہیھات، ہیھات کو ن کہہ سکتا ہے ۔ کہ یہ سات اچھے ہیں ، کون کہہ سکتا ہے کہ وہ سات چھوڑنے کے ہیں ،مگرجان برادر ! خالی یہ کہہ دینا تو کام نہیں دیتا، وہاں تو امتحان کی ٹھہری ہے ابھی آیت سن چکے الم احسب الناس ،کیا اس بھلاوے میں ہوکہ بس زبان سے کہہ کر چھوٹ جاؤگے امتحان نہ ہوگا ۔ ہاں یہی امتحان کا وقت ہے!دیکھویہ اﷲ واحد قہار کی طرف سے تمہاری جانچ ہے۔ دیکھو! وہ فر ما رہا ہے کہ تمہارے رشتے، علاقے قیامت میں کام نہ آئیں گے ، مجھ سے توڑ کر کس سے جوڑتے ہو۔ دیکھو ! وہ فرمارہاہے کہ میں غافل نہیں،میں بے خبر نہیں ،تمہارے اعمال دیکھ رہا ہوں، تمہارے اقوال سن رہا ہوں تمہارے دلوں کی حالت سے خبردار ہوں، دیکھو !بے پروائی نہ کرو، پرائے پیچھے، اپنی عاقبت نہ بگاڑو ، اﷲ ورسول کے مقابل ضد سے کام نہ لو، دیکھو وہ تمہیں اپنے سخت عذاب سے ڈراتا ہے۔ اس کے عذاب سے کہیں پناہ نہیں ،دیکھو ! وہ تمہیں اپنی رحمت کی طرف بلاتا ہے ، بے اس کی رحمت کے کہیں نباہ نہیں دیکھو اور گناہ، تو نرے گناہ ہوتے ہیں جن پر عذاب کا استحقاق ہو،مگر ایمان نہیں جاتا،عذاب ہوکر خواہ رب کی رحمت، حبیب کی شفاعت سے ،بے عذاب ہی چھٹکاراہوجائے گا یا ہوسکتاہے ۔مگر یہ محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی تعظیم کامقام ہے انکی عظمت، ان کی محبت، مدارایمان ہے، قرآن مجید کی آیتیں سن چکے کہ جو اس معاملہ میں کمی کرے اس پر دونوں جہان میں خدا کی لعنت ہے۔ دیکھو جب ایمان گیا، پھر اصلاً، ابدالآ باد تک کبھی، کسی طرح ہر گز، اصلاً، عذاب شدید سے رہائی نہ ہوگی۔ گستاخی کرنے والے، جن کا تم یہاں کچھ پاس لحاظ کرو، وہاں اپنی بھگت رہے ہونگے تمہیں بچانے نہ آئیں گے اور آئیں تو کیا کرسکتے ہیں ؟ پھر ایسوں کا لحاظ کرکے، اپنی جان کو ہمیشہ ہمیشہ غضب جبارو عذاب نار میں پھنسادینا، کیا عقل کی بات ہے ؟۔ للٰہ للٰہ ذرا دیر کو اﷲ ورسول کے سوا سب ایں وآں سے نظر اٹھاکرآنکھیں بند کرو اور گردن جھکا کر اپنے آپ کو اﷲ واحدقہار کے سامنے حاضر سمجھواور نرے خالص سچے اسلامی دل کے ساتھ محمد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظیم عظمت ،بلند عزت ،رفیع وجاھت ، جو ان کے رب نے انہیں بخشی اور ان کی تعظیم ، ان کی توقیر پر ایمان و اسلام کی بناء ر کھی اسے دل میں جماکر انصاف و ایمان سے کہو،کیا جس نے کہاکہ شیطان کویہ وسعت، نص سے ثابت ہوئی ، فخرعالم کی وسعت علم کی کونسی نص قطعی ہے۱۔
(۱البراہین القاطعۃ بحث علم غیب مطبع لے بلا ساڈھور ص۵۱)
اس نے محمد رسول اﷲ کی شان میں گستاخی نہ کی ؟ کیا اس نے ابلیس لعین کے علم کو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے علم اقدس پر نہ بڑھایا ؟کیاوہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم کی وسعت علم سے کافر ہو کر شیطان کی وسعت علم پر ایمان نہ لایا؟
مسلمانو! خود اس بد گو سے اتنا ہی کہہ دیکھو کہ او علم میں شیطان کے ہمسردیکھو! تو وہ برا مانتا ہے یا نہیں حالانکہ اسے تو علم میں شیطان سے کم بھی نہ کہا بلکہ شیطان کے برابر ہی بتایا، پھر کم کہنا کیا توہین نہ ہوگی ؟ اور اگر وہ اپنی بات پالنے کو اس پر ناگواری ظاہر نہ کرے اگر چہ دل میں قطعًا ناگوار مانے گا، تو اسے چھوڑیئے اور کسی معظم سے کہہ دیجئے اور پورا ہی امتحان مقصود ہوتوکیا کچہری میں جاکر آپ کسی حاکم کو ان ہی لفظوں سے تعبیر کر سکتے ہیں؟دیکھئے ! ابھی ابھی کھلا جاتا ہے کہ توہین ہوئی اور بے شک ہوئی پھرکیا رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی توہین کرنا کفر نہیں؟ ضرور ہے اور بالیقین ہے۔ کیا جس نے شیطان کی وسعت علم کو نص سے ثابت مان کرحضور اقدس کے لئے وسعت علم ماننے والے کوکہا'' تمام نصوص کو رد کرکے ایک شرک ثابت کرتا ہے''۲۔
(۲البراہین القاطعۃ بحث علم غیب مطبع لے بلا ساڈھورص۵۱)
او ر کہا'' شرک نہیں تو کونسا ایمان کا حصہ ہے'' ۳۔
(۳البراہین القاطعۃ بحث علم غیب مطبع لے بلا ساڈھورص۵۱)
اس نے ابلیس لعین کو خدا کا شریک مانا یانہیں ؟ ضرور مانا، کہ جوبا ت مخلوق میں ایک کے لئے ثابت کرنا شرک ہوگی ، وہ جس کسی کے لئے ثابت کی جائے، قطعاً شرک ہی رہے گی کہ خدا کا شریک کوئی نہیں ہوسکتا ، جب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے یہ وسعت علم ماننی شرک ٹھہرائی، جس میں کوئی حصہ ایمان کا نہیں توضرور اتنی وسعت خدا کی وہ خاص صفت ہوئی جس کو خدائی لازم ہے جب تو نبی کے لئے اس کا ماننے والا کا فر مشرک ہوا اور اس نے وہی وسعت ، وہی صفت خود اپنے منہ، ابلیس کے لئے ثابت مانی تو صاف صاف شیطان کو خدا کا شریک ٹھہرایا۔
مسلمانو !کیا یہ اﷲاور اس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم دونوں کی توہین نہ ہوئی ؟ ضرور ہوئی ، اﷲ کی توہین توظاہر ہے کہ اس کا شریک بنایا اور وہ بھی کسے؟ ابلیس لعین کو اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین یوں ،کہ ابلیس کا مرتبہ اتنا بڑھا دیا، کہ وہ تو خدا کی خاص صفت میں حصہ دار ہے، اور یہ اس سے ایسے محروم، کہ ان کے لئے ثابت مانو، تو مشرک ہوجاؤ۔
مسلمانو ! کیا خدا اور رسول اﷲ کی توہین کرنے والا کافر نہیں ؟ ضرور ہے۔ کیا جس نے کہا کہ'' بعض علوم غیبیہ مرا د ہیں تو اس میں حضور (یعنی نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم )کی کیا تخصیص ہے ایسا علم غیب تو زید وعمرو بلکہ ہر صبی و مجنون بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کے لئے بھی حاصل ہے''۱۔
(۱حفظ الایمان جواب سوال سوم کتب خانہ اعزازیہ دیوبند سہارنپور بھارت ص۸ )
(حفظ الایمان مع تغییر العنوان جواب سوال سوم محمد عثمان تاجر الکتب فی دریبہ کلاں دہلی ص۷و۱۷)
کیا اس نے محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو صریح گالی نہ دی ؟ کیانبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنا ہی علم غیب دیا گیا تھا، جتنا ہر پاگل اور ہرچوپائے کو حاصل ہے؟