Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
78 - 212
مسلمانو!کہو محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی تعظیم، مدارِ ایمان و مدارِنجات ومدارِقبولِ اعمال ہوئی یا نہیں ؟ ۔ کہو ہوئے اور ضرورہوئے !
تمہارارب عزوجل فرماتا ہے:
قل ان کا ن  اٰبآؤکم و ابنآؤکم و اخوانکم و ازواجکم وعشیرتکم واموال ن اقترتموھاوتجارۃ  تخشون کسادھاومسٰکن ترضونھآاحب الیکم من اﷲ ورسولہٖ وجھاد فی سبیلہٖ فتربصوا حتٰی یاتی اﷲ  بامرہ ط واﷲ  لا یھدی القوم الفٰسقین ۲؂۔
اے نبی تم فرمادو،کہ اے لوگو! اگرتمہارے باپ ، تمہارے بیٹے ،تمھارے بھائی، تمہاری بیبیاں،تمہارا کنبہ اور تمہاری کمائی کے مال او ر وہ سوداگری جس کے نقصان کا تمہیں اندیشہ ہے اور تمھارے پسند کے مکان، ان میں کوئی چیزبھی اگر تم کو اﷲ اور اﷲ کے رسول اور اسکی راہ میں کوشش کرنے سے زیادہ محبوب ہے، تو انتظار رکھویہاں تک کہ اﷲ اپناعذاب اتارے اور اﷲ بے حکموں کو راہ نہیں دیتا ۔
(۲؂القرآن الکریم   ۹ /۲۴)
اس آیت سے معلوم ہوا کہ جسے دنیا جہان میں کوئی معزز،کوئی عزیزکوئی مال،کوئی چیز، اﷲ و رسول سے زیادہ محبوب ہو، وہ بارگاہِ الہٰی سے مردود ہے ، اﷲ اسے اپنی طرف راہ نہ دے گا ،اسے عذابِ الٰہی کے انتظار میں رہنا چاہیے
والعیاذ باﷲ تعالٰی۔
تمہارے پیارے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
''لایؤمن احدکم حتٰی اکون احب الیہ من والدہٖ وولدہٖ والناس اجمعین''۳؂۔
 (۳؂صحیح البخاری   کتاب الایمان باب حب الرسول صلی اللہ علیہ وسلم من الایمان قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۷  )

(صحیح مسلم کتاب الایمان باب وجوب محبۃ الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من الایمان قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۴۹)
تم میں کوئی مسلمان نہ ہوگا جب تک میں اسے اس کے ماں باپ، او لاد اور سب آدمیوں سے زیادہ پیارانہ ہوجاؤں'' ۔ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم
یہ حدیث بخاری وصحیح مسلم میں انس بن مالک انصاری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے ۔ اس نے تو یہ بات صاف فرمادی کہ جو حضوراقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے زیادہ کسی کوعزیز رکھے، ہرگزمسلمان نہیں۔ 

مسلمانوکہو! محمد، رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو تمام جہانوں سے زیادہ محبوب رکھنا مدارایمان و مدارنجات ہوایانہیں؟ کہو ہوااور ضرورہوا۔یہاں تک توسارے کلمہ گو خوشی خوشی قبول کرلیں گے کہ ہاں ہمارے دل میں محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی عظیم عظمت ہے ۔ ہاں ہاں ماں باپ اولاد سارے جہان سے زیادہ ہمیں حضو ر کی محبت ہے۔ بھائیو!خدا ایسا ہی کرے ،مگرذرا کان لگا کر اپنے رب کا ارشادسنو:-
تمہارا رب عزوجل فرماتا ہے :
الم ط احسب الناس ان یترکوآ ان یقولوا اٰمنا و ھم لایفتنون o ۱؂۔
کیا لوگ اس گھمنڈ میں ہیں، کہ اتناکہہ لینے پر چھوڑدیئے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے اور ان کی آزمائش نہ ہوگی۔
 (۱؂القرآن الکریم  ۲۹ /۱ و۲)
یہ آیت مسلمانوں کو ہوشیار کررہی ہے کہ دیکھوکلمہ گوئی اور زبانی ادعائے مسلمانی پرتمہارا چھٹکارا نہ ہوگا۔ ہاں ہاں سنتے ہو!آزمائے جاؤگے، آزمائش میں پورے نکلے تو مسلمان ٹھہروگے ۔ہر شے کی آزمائش میں یہی دیکھاجاتاہے کہ جو باتیں اس کے حقیقی و واقعی ہونے کو درکار ہیں، وہ ا س میں ہیں یانہیں ؟ ا بھی قرآن و حدیث ارشاد فرماچکے کہ ایمان کے حقیقی و واقعی ہونے کودوباتیں ضرورہیں۔

(۱)محمدرسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی تعظیم 

(۲) اور محمد رسول اﷲ کی محبت کو تمام جہان پر تقدیم

 تو اس کی آزمائش کا یہ صریح طریقہ ہے کہ تم کو جن لوگوں سے کیسی ہی تعظیم، کتنی ہی عقیدت ، کتنی ہی دوستی ،کیسی ہی محبت کا علاقہ ہو۔ جیسے تمہارے باپ ،تمہارے استاد،تمہارے پیر ،تمہارے بھائی ، تمہارے احباب، تمہارے اصحاب،تمہارے مولوی ،تمہارے حافظ،تمہارے مفتی ،تمہارے واعظ وغیر ہ وغیرہ کسے باشد ،جب وہ محمدرسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کریں اصلاً تمہارے قلب میں ان کی عظمت ان کی محبت کا نام ونشان نہ ر ہے فورًا ان سے الگ ہوجاؤ ،  دودھ سے مکھی کی طرح نکال کر پھینک دو، ان کی صورت ،ان کے نام سے نفرت کھاؤ پھرنہ تم اپنے رشتے، علاقے، دوستی، الفت کا پاس کرو نہ اس کی مولویت، مشیخیت ، بزرگی ، فضیلت، کو خطرے میں لاؤ آخر یہ جو کچھ تھا ، محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی غلامی کی بنا ء پر تھا جب یہ شخص ان ہی کی شان میں گستاخ ہوا پھرہمیں اس سے کیا علاقہ رہا ؟ اس کے جبے عمامے پر کیا جائیں ، کیا بہتیرے یہودی جبے ،نہیں پہنتے؟کیا عمامے نہیں باندھتے ؟ اس کے نام و علم و ظاہری فضل کولے کر کیا کریں؟ کیا بہتیر ے پادری ، بکثرت فلسفی بڑے بڑے علوم وفنون نہیں جانتے اوراگر یہ نہیں بلکہ محمد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابل تم نے اس کی بات بنانی چاہی اس نے حضور سے گستاخی کی اور تم نے اس سے دوستی نباہی یا اسے ہربرے سے بدتر برانہ جانا یااسے براکہنے پر برامانایا اسی قد ر کہ تم نے اس امر میں بے پروائی منائی یا تمہارے دل میں اس کی طرف سے سخت نفرت نہ آئی ،تو ﷲ اب تم ہی انصاف کرلو کہ تم ایمان کے امتحان میں کہاں پاس ہوئے ،قرآن و حدیث نے جس پر حصول ایمان کا مدار رکھا تھا اس سے کتنے دورنکل گئے۔
مسلمانو!کیا جس کے دل میں محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی تعظیم ہوگی وہ ان کے بدگو وقعت کرسکے گا اگر چہ اس کا پیر یا استادیا پدرہی کیوں نہ ہو ، کیا جسے محمد رسول اﷲصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم تمام جہان سے زیادہ پیارے ہوں وہ ان کے گستاخ سے فورًاسخت شدید نفرت نہ کرے گااگر چہ اسکا دوست یابرادر یا پسر ہی کیوں نہ ہو ، ﷲ اپنے حال پر رحم کرو اپنے رب کی بات سنو، دیکھو وہ کیوں کر تمہیں اپنی رحمت کی طرف بلاتا ہے،
دیکھو رب عزوجل فرماتاہے :
لاتجد قوماًیؤمنون باللٰہ والیوم الاٰخر یوآ دون من حآد اللٰہ ورسولہ، ولوکانوۤا اٰبآئھم اوابنآئھم اواخوانھم اوعشیرتھم ط اولئک کتب فی قلوبھم الایمان وا ید ھم بروح منہ ط ویدخلھم جنٰت تجری من تحتھا الانھٰرخٰلد ین فیھا ط رضی اللٰہ عنہم ورضوا عنہ ط اولئک حزب اللٰہ ط الاۤ ان حزب اللٰہ ھم المفلحون ۱؂۔
تو نہ پائے گا انہیں جو ایمان لاتے ہیں اﷲ اورقیامت پر کہ ان کے دل میں ان کی محبت آنے پائے جنہوں نے خدااو ر رسول سے مخالفت کی، چاہے وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یاعزیزہی کیوں نہ ہوں۔ یہ ہیں وہ لوگ جن کے دلوں میں اﷲ نے ایمان نقش کردیا اور اپنی طرف کی روح سے ان کی مددفرمائی اور انہیں باغوں میں لے جائے گا ،جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ہمیشہ رہیں گے ان میں اﷲ ان سے راضی اور وہ اﷲ سے راضی، یہی لوگ اﷲ والے ہیں ۔ سنتا ہے اﷲ والے ہی مراد کو پہنچے ۔
(۱؂القرآن الکریم   ۵۹ /۲۲)
اس آیت کریمہ میں صاف فرمادیا کہ جو اﷲ یا رسول اﷲکی جناب میں گستاخی کرے،مسلمان اس سے دوستی نہ کرے گا ، جس کا صریح  مفاد ہوا کہ جو اس سے دوستی کرے وہ مسلمان نہ ہوگا۔ پھر اس حکم کا قطعاً عام ہونا بالتصریح ارشاد فرمایا کہ باپ ،بیٹے ،بھائی ،عزیز سب کوگنا یا، یعنی کوئی کیسا ہی تمہارے زعم میں معظم یا کیسا ہی تمہیں بالطبع محبوب ہو، ایمان ہے تو گستاخی کے بعد اس سے محبت نہیں رکھ سکتے، اس کی وقعت نہیں مان سکتے ورنہ مسلمان نہ رہوگے۔ مولٰی سبحانہ و تعالٰی کا اتنا فرمانا ہی مسلمان کے لئے بس تھا مگردیکھو وہ تمہیں اپنی رحمت کی طرف بلاتا،اپنی عظیم نعمتوں کا لالچ دلاتا ہے کہ اگر اﷲ ورسول کی عظمت کے آگے تم نے کسی کا پاس نہ کیا کسی سے علاقہ نہ رکھا تو تمہیں کیا کیا فائدے حاصل ہوں گے۔
(۱) اﷲتعالٰی تمہارے دلوں میں ایمان نقش کردے گا جس میں ان شاء ا ﷲ تعالٰی حسن خاتمہ کی بشارت جلیلہ ہے کہ اﷲ کا لکھا نہیں مٹتا۔

(۲) اﷲتعالٰی روح القدس سے تمہاری مددفرمائے گا۔

(۳) تمہیں ہمیشگی کی جنتوں میں لے جائے گاجن کے نیچے نہریں رواں ہیں ۔

(۴) تم خدا کے گروہ کہلاؤگے ، خدا والے ہوجاؤگے۔

(۵) منہ مانگی مرادیں پاؤگے بلکہ امید و خیال و گمان سے کروڑوں درجے افزوں۔

(۶) سب سے زیادہ یہ کہ اﷲتم سے راضی ہوگا۔

(۷) یہ کہ فرماتاہے ''میں تم سے راضی تم مجھ سے راضی ''بندے کیلئے اس سے زائد او رکیا نعمت ہوتی کہ اس کا رب اس سے راضی ہومگر انتہائے بندہ نوازی یہ کہ فرمایا اﷲ ان سے راضی وہ اﷲ سے راضی ۔
Flag Counter